میرے مطابق

موجودہ سیکولر انڈیا میں اقلیتیں

mahmood khan manchester

بھارت اپنے آئین میں خود کو ایک سیکولر ریاست قرار دیتا ہے، جہاں مذہب، نسل، زبان اور ذات کی بنیاد پر کسی کے ساتھ امتیاز نہیں برتا جانا چاہیے۔ مگر زمینی حقائق اس دعوے سے مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ آج کا سیکولر انڈیا اپنی اقلیتوں خصوصاً مسلمان، عیسائی، سکھ اور دلت کمیونٹی کے لیے ایک پیچیدہ اور آزمائش بھرا منظرنامہ بن چکا ہے۔

سب سے نمایاں مسئلہ مسلمانوں کی سماجی و سیاسی حاشیہ بندی ہے۔ شہریت ترمیمی قانون (CAA)، این آر سی اور یکساں سول کوڈ جیسے مباحث نے مسلمانوں میں عدم تحفظ کو بڑھایا ہے۔ گائے کے نام پر ہجومی تشدد، نفرت انگیز تقاریر اور مذہبی شناخت کی بنیاد پر گرفتاریاں روزمرہ خبروں کا حصہ بن چکی ہیں۔ معاشی سطح پر بھی مسلمان کاروبار، رہائش اور ملازمت میں امتیازی رویوں کا سامنا کرتے ہیں۔

عیسائی برادری کو بھی مذہبی آزادی کے حوالے سے دباؤ کا سامنا ہے۔ کئی ریاستوں میں تبدیلیِ مذہب کے قوانین کے تحت گرجا گھروں پر چھاپے، پادریوں کی گرفتاریاں اور عبادات میں مداخلت رپورٹ ہوتی رہتی ہیں۔ اس سے مذہبی آزادی جو سیکولر ازم کی بنیاد ہے پر سوال اٹھتے ہیں۔

سکھوں کے لیے حالیہ برسوں میں اظہارِ رائے اور سیاسی اختلاف کے مواقع محدود ہوتے دکھائی دیے ہیں، جبکہ دلت برادری ذات پات کے تاریخی جبر سے نکلنے کے باوجود آج بھی تشدد، زمین اور روزگار کے مسائل سے دوچار ہے۔ خواتین اقلیتوں کے اندر دوہری محرومی، صنف اور شناخت کا سامنا کرتی ہیں۔

میڈیا اور سوشل میڈیا میں نفرت انگیز بیانیہ اور غلط معلومات نے خلیج کو مزید گہرا کیا ہے۔ عدالتی تحفظ اگرچہ موجود ہے، مگر انصاف کی رفتار اور عمل درآمد پر سوالات اٹھتے ہیں۔ اپوزیشن، سول سوسائٹی اور آزاد صحافت کی کمزوری نے بھی اقلیتوں کے لیے آواز اٹھانا مشکل بنایا ہے۔

اس کے باوجود بھارت کی تاریخ گواہ ہے کہ سیکولر اقدار نے ہی اس کثیر الثقافتی معاشرے کو جوڑے رکھا۔ آئین کی روح، عدلیہ کی خودمختاری، اور عوامی ہم آہنگی ہی وہ ستون ہیں جن پر حقیقی سیکولر ازم کھڑا ہو سکتا ہے۔ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کسی ایک طبقے کا نہیں، بلکہ پورے سماج کے جمہوری مستقبل کا سوال ہے۔

آخر میں، اگر سیکولر انڈیا کو واقعی سیکولر رہنا ہے تو قانون کی یکساں عمل داری، نفرت کے خلاف موثر کارروائی، اور سماجی انصاف کو ترجیح دینا ہوگی ورنہ سیکولر ازم محض ایک آئینی لفظ بن کر رہ جائے گا۔ آئے دن مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کو پرتشدد کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہیں بے گھر اور ان کی عبادت گاہوں پر نہ صرف حملے بلکہ جلاؤ و گھیراؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اقلیتوں کے حقوق کی ضمانت دینی پڑے گی۔ ان کے دکھوں کا مداوا کرنا پڑے گا۔ ورنہ انڈیا ایک کٹر ہندو ریاست بن جائے گی۔ جس میں اقلیتوں کا جینا محال ہو گا۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW