میرے مطابق

قبائلی لڑکی: اور ان تمام خطوط کا جواب

abdul ghaffar bugti

سرہانے کے قریب پڑھے موبائل کی سکرین پر رات گئے اچانک روشنی بڑھی۔ سوچا کسی کمپنی کا کوئی اشتہار ہوگا، کیونکہ انٹرنیٹ تو میں بند کر چکا تھا اور وائی فائی کا آپشن بھی بند تھا۔ پھر یہ اچانک کس کو میری یاد آ گئی ہے؟ تھوڑی دیر کشمکش میں گزری۔ پھر خیال آیا دیکھ لوں، شاید کسی کو میری ضرورت ہے، کیونکہ اکثر لوگ رات گئے فون یا مسیجز کے ذریعے ایمرجنسی میں مدد مانگتے ہیں۔اتنی ہی دیر میں دوبارہ میسج کی گھنٹی بجی اور میرے موبائل کی روشنی پھر سے بڑھ گئی۔

ہمت کر کے موبائل فون اٹھا لیا۔دو میسجزپڑے ہوئے تھے۔ ان دو میسجز میں یہ لکھا تھا کہ "میں ایک خط بھیج رہی ہوں۔ میرے اس خط کو پڑھ کر اس پر سوشل میڈیا پر ایک ویلاگ بنائیں، کیونکہ آپ اکثر لوگوں کے مسائل پر بولتے ہیں تو براہ کرم ہمارے حوالے سے بھی کچھ بولیں۔” کچھ دیر انتظار میں گزری، پھر اچانک آنکھ لگ گئی۔ اگلی صبح اٹھ کر دیکھا تو خط موجود تھا۔ ناشتے سے فارغ ہو کر وہ خط پڑھنے لگا تو مجھے اس خط کو پڑھتے ہوئے یہ لگ رہا تھا کہ یہ کسی قبائلی عورت کا خط نہیں، بلکہ یہ خط اٹھارہویں صدی کی خواتین پر ہونے والے مظالم کے حوالے سے لکھنے والی ایلس واکر، مایا اینجلو یا کرسٹینا روسیٹی کی کوئی تحریر ہے۔ اور وہ خط اس سماج میں رہنے والے ہر مرد کو ان تمام خطوط کے جواب میں لکھا گیا ہے، جو خواتین کی مجبوری اور خاموشی سے روز فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کو خطوط لکھتے رہتے ہیں اور ان خطوط کے ذریعے ان کو ہراساں کرتے رہتے ہیں۔

وہ خط کچھ یوں تھا:

میری ہراسانی کی کہانی کسی ایک دن یا کسی ایک راستے سے شروع نہیں ہوئی۔ یہ کہانی اس خوف سے شروع ہوئی جو آہستہ آہستہ میری سانسوں میں بس گیا۔ میں آٹھویں جماعت میں تھی، عمر تقریباً چودہ سال، اور اسکول جانا میرے لیے علم کا نہیں بلکہ ڈر کا سفر بن چکا تھا۔ہر صبح گھر سے نکلتے وقت دل کانپتا تھا۔ راستے میں ایک شخص روز میرا پیچھا کرتا۔ اس کی نظریں، قدموں کی آہٹ، سب کچھ میرے دل میں زہر گھول دیتے۔ میں جتنی تیز چلتی، وہ اتنا ہی قریب محسوس ہوتا۔ کچھ دنوں بعد اس نے راستے میں میرے سامنے خط پھینکنے شروع کر دیے۔ میں نظریں چرا کر راستہ بدلتی تو وہ ہاتھ کے اشاروں سے کہتا کہ خط اٹھاوں۔ میں نے سکول میں بھی خود کو سمیٹنا شروع کر دیا، آہستہ آہستہ سب سے بات کم کر دی، جیسے خاموشی مجھے بچا لے گی۔

سکول جانا میرے لیے عذاب بن چکا تھا۔ صبح سکول جانے کا خوف اور چھٹی کے وقت واپسی کا ڈر—یہ دونوں مل کر میری ہمت توڑ دیتے تھے۔ کئی بار راستے میں ہی مجھے رونا آ جاتا، مگر میں اپنے آنسو بھی چھپا لیتی۔ دل میں یہی خیال آتا کہ کاش کوئی ایسا ہوتا جسے میں یہ سب بتا سکتی، جو میری مدد کرتا اور مجھے ذہنی سکون دیتا۔ یہ مسلسل خوف مجھے ذہنی طور پر بری طرح توڑ رہا تھا۔

میں اساتذہ کو بھی کچھ نہ بتا سکی۔ مجھے ڈر تھا کہ بدنامی میرا مقدر بن جائے گی۔ ہمارے معاشرے میں سوال ہمیشہ لڑکی سے ہی کیا جاتا ہے۔ میں جانتی تھی کہ ہم قبائلی لوگ ہیں۔ اگر میں ابو کو بتاتی تو وہ اور میرے بھائی اس شخص سے لڑ پڑتے، بات بڑھ جاتی، بڑا فساد ہوتا، اور آخرکار سزا مجھے ہی ملتی—مجھے سکول سے نکال دیا جاتا۔ میں اپنی تعلیم کے خواب کو بچانے کے لیے یہ سب خاموشی سے برداشت کرتی رہی۔

ہمارے ہاں پہلے بھی کئی واقعات ہو چکے تھے جہاں لڑکیوں کو صرف اس لیے سکول اور کالج سے نکال دیا گیا کہ کچھ آوارہ لڑکے ان کا پیچھا کرتے تھے۔ میری سہلیاں اور کزنز بھی اسی اذیت ناک انجام سے گزر چکی تھیں۔ میں نے یہ سب اپنی امی کو بھی بتایا، مگر وہ خوفزدہ ہو کر یہی کہتیں کہ اگر ابو کو بتایا تو تمہیں بھی سکول سے نکال دیا جائے گا۔ یوں ہم ماں بیٹی خاموشی سے یہ ظلم سہتی رہیں، کیونکہ ہمارے معاشرے میں اکثر قصوروار لڑکی ہی ٹھہرائی جاتی ہے۔

میں نے اسی خوف کے سائے میں میٹرک مکمل کیا۔ مگر کالج میں قدم رکھتے ہی اندازہ ہو گیا کہ راستے بدل جاتے ہیں، رویے نہیں۔ کالج جاتے ہوئے وہی لڑکا جو سکول کے زمانے میں میرا پیچھا کرتا تھا، دوبارہ سامنے آ گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اور بھی کئی لڑکے تھے جو کالج کے راستے میں، وین کے آس پاس اور کالج کے باہر دوسری لڑکیوں کا بھی پیچھا کرتے تھے، اور میرا بھی۔ کسی دن کوئی محفوظ نہیں ہوتا تھا۔

میں یہ سمجھتی تھی کہ کالج میں زیادہ تر اساتذہ اچھے ہیں، مگر ایک دن میرا یہ وہم حقیقت بن گیا۔ جب میں کلاس میں اکیلی تھی تو ایک استاد نے مجھ سے شادی کی پیشکش کر دی۔ اس لمحے مجھے لگا جیسے زمین میرے پیروں کے نیچے سے نکل گئی ہو۔ میں بول نہ سکی۔ مجھے ڈر تھا کہ اگر میں نے آواز اٹھائی تو اس کا نقصان مجھ سمیت دوسری لڑکیوں کو بھی ہوگا۔

سکول کے زمانے میں ایک چپڑاسی صفائی کے بہانے لڑکیوں کے بہت قریب آ جاتا تھا۔ میں نے اس پر اعتراض کیا تو اس نے میرے قریب آنا چھوڑ دیا، مگر باقی لڑکیوں کے لیے کوئی آواز نہ اٹھا سکی۔ جس شخص نے میرا پیچھا کیا تھا، میں نے اسے خود بھی سختی سے منع کیا، مگر وہ باز نہ آیا۔

تعلیم کے بعد مجھے صحت کی شعبے میں عارضی ملازمت ملی۔ میں نے سوچا تھا کہ شاید اب زندگی بدلے گی، مگر یہاں بھی خوف میرا پیچھا کرتا رہا۔ دفتر جاتے ہوئے کئی دفعہ رکشہ ڈرائیور کی نازیبا حرکات برداشت کرنی پڑیں۔ ایک دن اس نے پردے کے پیچھے سے نامناسب حرکت کی۔ میں نے ڈانٹا اور دھمکی دی تو وہ ڈر گیا، مگر یہ بات بھی میں کسی کو نہ بتا سکی، کیونکہ مجھے خدشہ تھا کہ مجھے ہی نوکری کرنے سے روک دیا جائے گا۔

دفتر میں مرد عملے نے میرا نمبر اپنے دوستوں اور رشتہ داروں میں پھیلا دیے۔ اجنبی نمبروں سے کالز اور پیغامات آنے لگے۔ بعض اعلیٰ افسران نے دباو¿ ڈالا اور دھمکیاں دیں کہ اگر میں نے ان سے دوستی سے انکار کیا تو مجھے نوکری سے نکال دیا جائے گا۔ میں نے نہ ملاقات کی، نہ بات چیت، اور کچھ عرصے بعد میرا کنٹریکٹ ختم کر دیا گیا۔ کنٹریکٹ ختم ہونے کے بعد میں نے دوبارہ ایک سرکاری نوکری کے لیے درخواست دی، مگر وہاں بھی حالات مختلف نہ تھے۔ انٹرویو کے اگلے روز ہی وہاں کے ایک کلرک نے میرے گھر رشتہ بھجوایا۔ مجھے ایسے لگا جیسے ہر دروازے پر میرا امتحان میری قابلیت نہیں بلکہ میری خاموشی اور برداشت تھی۔

مزید اذیت اس وقت ہوئی جب میں حال میں ہی کسی اور نوکری کے انٹرویو کے لیے گئی۔ وہاں کئی افسران اور کلرک نے رشتے بھیجنے شروع کر دیے، جیسے میری قابلیت اور تعلیم کی بجائے صرف میری جنس کی اہمیت تھی۔ میں خوفزدہ ہو گئی،اورپھر سے خاموشی اختیار کرلی، کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ آواز اٹھانے کا نتیجہ صرف میرا نقصان ہوگا۔اب ہمارے ہاں لڑکیاں حتیٰ کہ نوکری کے انٹرویو دینے کی ہمت بھی نہیں کر سکتیں، صرف اس خوف سے کہ انہیں ہراساں کیا جائے گا یا ان کے ساتھ کوئی نازیبا رویہ برتا جائے گا۔

دفتر کی سینئر خواتین کہتی تھیں کہ ہم یہ سب برسوں سے برداشت کرتی آ رہی ہیں، تم تو پھر بھی جوان ہو، تمہیں یہ لوگ کیسے چھوڑ دیں گے۔ مرد کولیگ حضرات جھوٹے قصے پھیلاتے، کردار کشی کرتے، اور حقیقت کہیں دفن ہو جاتی۔ حتیٰ کہ ایک خاتون ملازمہ کے شوہر نے بھی اس کے فون سے میرا نمبر لے کر مجھے پیغام بھیجا۔

ان تمام تجربات کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ یہ نوکری کرنا میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی۔ میں نے فیصلہ کر لیا کہ نہ میں کبھی کسی این جی او میں کام کروں گی اور نہ ہی ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ میں، کیونکہ وہاں ایک لڑکی کو نہ صرف شدید ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتاہے بلکہ اس کو آسانی سے بدنام بھی کر دیا جاتا ہے ۔

آخر قصور کس کا ہے؟ اس لڑکی کا جو تعلیم اور روزگار کے لیے نکلتی ہے، یا اس معاشرے کا جو اسے محفوظ راستہ نہیں دے سکتا؟ کیوں ہر بار غیرت، بدنامی اور خاموشی کا بوجھ لڑکی کے حصے میں آتا ہے؟ کیوں آوارہ لڑکوں کا مستقبل تباہ نہیں ہوتا، مگر ایک لڑکی کی تعلیم، عزت اور خواب قربان کر دیے جاتے ہیں؟ یہ کہانی صرف میری نہیں، یہ ان بے شمار لڑکیوں کی ہے جن کی زندگی خاموش جسموں کی قبروں میں بدل دی جاتی ہے….صرف اس لیے کہ وہ لڑکی ہیں۔

مگر اس اندھیرے کے باوجود امید اب بھی زندہ ہے۔ ہر وہ لڑکی جو خاموشی کے باوجود ہار نہیں مانتی، وہ خود ایک چراغ ہے۔ تعلیم چھوڑنے کے بجائے برداشت کر کے آگے بڑھنا کمزوری نہیں، حوصلہ ہے۔ ایک دن یہی خاموش کہانیاں آواز بنیں گی، اور یہی ڈری ہوئی لڑکیاں مضبوط عورتوں میں بدلیں گی۔

والدین سے گزارش ہے کہ اپنی بیٹی کی خاموشی کو اس کی رضامندی نہ سمجھیں۔ اسے الزام نہیں، سہارا چاہیے۔ اور میری بہنوں…. اپنے خواب، اپنی تعلیم اور اپنی عزت کو معمولی مت سمجھو۔ اگر آج بول نہیں سکتیں تو کل ضرور بول سکو گی۔ ہمت کو مرنے مت دینا، کیونکہ ایک دن یہی تکلیف تمہیں اتنا مضبوط بنا دے گی کہ تم صرف اپنی نہیں، بہت سی اور لڑکیوں کی آواز بن جاو گی۔

قبائلی لڑکی

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW