میرے مطابق

مئیر کراچی کے نام خط

omair iqbal

محترم مئیر صاحب السلام علیکم

گل پلازہ میں پیش آنے والا المناک آتشزدگی کا واقعہ پورے شہر کے لیے ایک بڑا المیہ ہے، جس میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں، تاجروں کا کروڑوں روپے کا نقصان ہوا اور عوام کے دلوں میں خوف و عدم تحفظ نے جنم لیا۔ یہ حادثہ محض ایک عمارت کا جل جانا نہیں بلکہ ہمارے شہری نظام، حفاظتی انتظامات اور بلدیاتی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

یہ حقیقت اب مزید نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں فائر سیفٹی کے نظام انتہائی کمزور ہیں۔ فائر بریگیڈ کی تاخیر، پانی اور ایندھن کی کمی، پرانے آلات اور ناقص منصوبہ بندی نے اس سانحے کو مزید ہولناک بنا دیا۔ ایسے واقعات اس بات کے متقاضی ہیں کہ محض بیانات کے بجائے عملی اور دیرپا اقدامات کیے جائیں۔

بلدیاتی اداروں کے لیے تجاویز و مطالبات:

1۔ تمام کمرشل عمارتوں، پلازوں اور مارکیٹس کا فوری فائر سیفٹی آڈٹ کرایا جائے اور ناقص انتظامات پر جرمانے و سیلنگ کی کارروائی کی جائے۔

2۔ فائر بریگیڈ کے نظام کو جدید بنایا جائے، ہر ضلع میں مکمل ساز و سامان، پانی کی مستقل سپلائی اور ایمرجنسی ریزرو ڈیزل یقینی بنایا جائے۔

3۔ بلند عمارتوں کے لیے خصوصی اسنارکل گاڑیوں اور تربیت یافتہ عملے کی دستیابی ہر وقت ممکن بنائی جائے۔

4۔ نئی عمارتوں کے نقشے فائر سیفٹی قوانین سے مشروط کیے جائیں اور پرانی عمارتوں کو مرحلہ وار ان قوانین کے مطابق اپ گریڈ کروایا جائے۔

5۔ فائر ایمرجنسی رسپانس کا وقت کم کرنے کے لیے فائر اسٹیشنز کی تعداد اور ان کی جغرافیائی تقسیم بہتر بنائی جائے۔

6۔ ذمہ دار افسران اور اداروں کا تعین کر کے غفلت پر سخت احتساب کیا جائے تاکہ آئندہ کوئی ادارہ اپنی ذمہ داری سے غافل نہ ہو۔

عوام اور تاجروں کے لیے ہدایات:

1۔ اپنی دکانوں، دفاتر اور گھروں میں فائر ایکسٹنگوشر لازمی رکھیں اور اس کے استعمال کی تربیت حاصل کریں۔

2۔ بجلی کے ناقص وائرنگ سسٹم، اوور لوڈنگ اور غیر معیاری آلات کے استعمال سے فوری اجتناب کریں۔
3۔ عمارت میں ہنگامی اخراج کے راستے (Emergency Exits) ہر صورت کھلے اور واضح رکھیں۔
4۔ کسی بھی مشتبہ صورتحال یا آگ کے خدشے کی صورت میں فوری متعلقہ اداروں کو اطلاع دیں۔
5۔ مارکیٹ ایسوسی ایشنز اپنے طور پر فائر سیفٹی کمیٹیاں قائم کریں اور باقاعدہ آگاہی سیشن منعقد کریں۔
محترم مئیر صاحب!

کراچی کے شہری اب مزید ایسے سانحات کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس واقعے کو ایک ویک اپ کال سمجھا جائے اور شہری جان و مال کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جائے۔ اگر آج سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو کل اس سے بھی بڑے سانحات ہمارا انتظار کر رہے ہوں گے۔

ہم امید کرتے ہیں کہ آپ اس خط کو محض ایک تحریر نہیں بلکہ عوام کی آواز سمجھتے ہوئے فوری اور عملی اقدامات کریں گے۔

والسلام
ایک ذمہ دار شہری عمیر اقبال
کراچی

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments
Back to top button
HumSub

FREE
VIEW