میرے مطابق

مکتبہ حیدر بڈہ لس، ضلع نگر۔ ایک تعارف

iqbal hussain iqbal

کچھ شخصیات شور سے نہیں چراغ کی طرح خاموشی سے روشنی پھیلاتی ہیں۔ ان کے کردار کی گونج نعروں میں نہیں بلکہ عمل کی گہرائی میں سنائی دیتی ہے۔ استاد حیدر خان حیدر بھی انہی خاموش چراغوں میں سے ایک ہیں جن کی زندگی علم سے محبت اور مطالعے سے وابستگی کی دل نشین مثال ہے۔ میں یہ بتاتے ہوئے نہایت ہی مسرت اور شادمانی محسوس کر رہا ہوں کہ حیدر خان حیدر جیسی علمی شخصیت نہ صرف میرے استاد رہے ہیں بلکہ گورنمنٹ بوائز ہائی سکول چھلت نگر میں بطور ہیڈ ماسٹر انہوں نے تعلیم و تربیت کی شمع کو پورے وقار کے ساتھ روشن کیے رکھا۔آج بھی میں آپ کو ایک معلم ہی نہیں بلکہ ایک مربی اور رہنما کے طور پر تسلیم کرتا ہوں۔

حیدر خان حیدر کا آبائی گھر ضلع نگر کی خوبصورت وادی بڈہ لس میں واقع ہے۔ان کا گھر ایک عام رہائش گاہ نہیں بلکہ علم و ادب اور تہذیب و ثقافت کا مرکز بن چکا ہے جہاں مکتبئہ حیدر کے نام سے قائم شاندار ذاتی لائبریری خاموشی سے ایک فکری انقلاب برپا کیے ہوئے ہے۔ آج استادِ محترم کی جانب سے مجھے اس لائبریری کے باضابطہ وزٹ کی دعوت ملی۔میں دل کی گہرائیوں سے استاد کا شکر گزار ہوں کہ انھوں نے مجھے مکتبئہ حیدر جیسی بابرکت لائبریری کی زیارت کا موقع فراہم کیا۔سال 2026ءاور جنوری کی سات تاریخ تھی، سردی اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود تھی، مگر سورج کی نرم اور سنہری کرنیں چاروں سمت بکھر کر فضا میں ایک دلنشیں حرارت گھول رہی تھیں۔معروف مبلغِ اسلام اور مدرس، علی حیدر صاحب کی رفاقت میں ہم استادِ محترم حیدر خان حیدر کے دولت کدے کی جانب پا بہ رکاب ہوئے۔جونہی بڈہ لس پل پر پہنچے تو موبائل اسکرین پر استادِ محترم کی کال نمودار ہوئی وہ بے قراری کے ساتھ ہماری آمد کے منتظر تھے۔گھر کے مرکزی دروازے پر پہنچتے ہی وہ خود باہر تشریف لائے اور رسمی طور پر انتہائی وقار اور شان کے ساتھ ہمارا استقبال کیا۔اس لمحے مجھے شدت سے احساس ہوا کہ ایک معمولی طالب علم کے لیے بھی ا±ن کے دل میں احترام کا کس قدر گہرا سمندر موجزن ہے۔

استاد محترم کی مشیت میں جب ہم ان کی لائبریری کے پہلے کمرے میں داخل ہوئے تو نہایت نظم و نسق سے رکھی گئی کتابوں کی الماری دیکھ کر میری حیرت کی انتہا نہ رہی کیونکہ اس لائبریری کو مجھے پہلی بار دیکھنے کا موقعہ ملا تھا۔اس سے قبل کسی گھر میں’ میں نے اتنی کتابیں منظم انداز میں نہیں دیکھا تھا۔علاوہ ازیں جب میں نے اس علمی خزانے کا مشاہدہ کیا تو اندازہ ہوا کہ شاید نگر کی سطح پر اس معیار اور وسعت کی اتنی بڑی منظم ذاتی لائبریری کم ہی دیکھنے کو ملے۔

کمرے کے تین اطراف میں الماریوں کے اندر علم و ادب کے موتی جگما رہے تھے۔ہمارے دائیں طرف الماری میں علم تفسیر، حدیث اور علم فقہ سے متعلق کتابیں مزین تھیں۔بائیں جانب کی الماری میں شعر و شاعری، اردو اور فارسی ادب کی کتابوں سے بھری ہوئی تھی۔سامنے کی الماری اقبالیات سے متعلق کتب تھی۔ اس کے اوپر لائبریری کی افتتاحی تختی آویزاں تھی۔جس کے مطابق اس کتب خانے کا باقاعدہ افتتاح پبلک لائبریری کے گلگت کے چیف لائبریرین جناب شیرباز علی برچہ کے ہاتھوں 2 ستمبر 2018ء کو ہوا ہے۔جس کی تقریب میں ممتاز علمی و فکری شخصیات نے شرکت کر کے اس علمی مرکز کی اہمیت کو دوچند کر دیا۔

جب ہم لائبریری کے مرکزی ہال میں داخل ہوئے تو یہاں بھی ہال کے دو اطراف میں موجود الماریوں میں جنرل اسلامی کتب کا قیمتی ذخیرہ دیکھنے کی سعادت حاصل ہوئی۔یہ ہال استاد محترم کا مہمان خانہ بھی ہے اور جائے مطالعہ و تحقیق بھی۔یہاں عام مہمانوں اور مطالعے کے شائقین کے بیٹھنے کے لیے فرشی اہتمام ہے۔

لائبریری میں موجود کتب نہایت نفاست اور دیدہ زیب انداز میں موضوعات کے لحاظ سے ترتیب دی گئی ہیں، جو استادِ محترم کے مطالعے سے گہری وابستگی کی روشن دلیل ہے۔اس لائبریری میں موجود تمام کتب موضوعات کے اعتبار سے اس خوبصورتی اور قرینے سے رکھی گئی ہیں کہ دیکھنے والا خود بخود استادِ محترم کے علمی نظم و ضبط اور فکری وسعت کا قائل ہو جاتا ہے۔لائبریری ریکارڈ کے مطابق "مکتبہ¿ حیدر” میں مجموعی طور پر 2105 کتابیں موجود ہیں، جن میں 1091 اسلامی موضوعات پر مبنی کتب شامل ہیں جو دین مبین سے لگاو¿ کی عکاس ہیں جبکہ 1014 جنرل کتب ادب، تاریخ، فلسفہ اور دیگر عصری علوم پر مشتمل ہیں۔خاص بات یہ ہے کہ اقبالیات پر 208 کتابوں کا ذخیرہ اس لائبریری کی علمی انفرادیت کو دوچند کر دیتا ہے، جو فکرِ اقبال سے گہری وابستگی کا مظہر ہے۔اس کے علاوہ 615 مختلف رسائل و جرائد علمی و ادبی ذوق کی تازگی اور عصری شعور کو زندہ رکھتے ہیں۔ مجموعی طور پر یہ لائبریری استادِ محترم کی علم سے بے لوث محبت کی روشن مثال ہے۔

حیدر لائبریری محض کتابوں کی الماریوں پر مشتمل نہیں بلکہ استاد محترم کی عمر بھر کی رفاقتِ علم کا حاصل ہے۔ جب انسان اس لائبریری میں قدم رکھتا ہے تو اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ لفظوں کے کسی منظم اور باوقار شہر میں داخل ہو گیا ہو۔ہر الماری ایک الگ جہان کی نمائندگی کرتی ہے اور ہر کتاب علم کی ایک نئی کھڑکی کھولتی محسوس ہوتی ہے۔

استاد حیدر خان حیدر کو کتابوں سے عشق کا یہ سفر اچانک شروع نہیں ہوا۔ اس کی بنیاد جماعت ہفتم میں رکھی گئی، جب ان کے ایک شفیق استاد نے نہ صرف انہیں مطالعے کی طرف متوجہ کیا بلکہ کتاب کو محض نصابی ضرورت کے بجائے زندگی کا رفیق بنا کر پیش کیا۔ وہ ایک استاد کا ایک دی ہوئی کتاب یا مطالعے کی ایک نشست تھی جس نے کم عمر طالب علم کے دل میں کتاب کی محبت کا بیج بو دیا۔ وہ بیج وقت کے ساتھ ایک تناور درخت بن گیا جس کی شاخیں آج مکتبئہ حیدر کی صورت میں سایہ فراہم کر رہی ہیں۔جیسے کہ خود وہ "جمال فرش و فلک” میں فرماتے ہیں۔

مری جنت کتابیں ہیں، مری دولت کتابیں ہیں
بہت نازاں ہوں قسمت پر مری قسمت کتابیں ہیں
کتابیں دوست ہیں میری کتب بینی مری خصلت
سکونِ قلب کا سامان مری صحبت کتابیں ہیں

کتابوں سے ان کی وابستگی کا عالم یہ ہے کہ وہ ہر سال سو سے زائد کتابیں خریدتے ہیں۔ یہ خرید محض اتفاق یا وقتی شوق کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک باقاعدہ فکری نظم کا حصہ ہے۔ان کی آمدنی کا بڑا حصہ کتابوں کی خرید پر صرف ہوتا ہے، گویا ان کے نزدیک کتاب محض خرچ نہیں بلکہ سرمایہ ہے۔ایسا سرمایہ جو ذہن کو مالا مال اور روح کو آسودہ کرتا ہے۔مزید فرماتے ہیں۔

کتابیں جمع کرنے کی ہے عادت مجھ کو بچپن سے
بنا ہے مکتبہ¿ حیدر مری جنت کتابیں ہیں

لائبریری کے مشاہدے کے دوران استادِ محترم نے ہمیں ہاتھ سے لکھے ہوئے قدیم اور قیمتی نسخے بھی دکھائے جن کی ورق گردانی کرتے ہوئے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ماضی خود ہمارے سامنے سانس لے رہا ہو۔ان نادر مخطوطات کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنے زمانہ طالب علمی کی ہوم ورک کی کاپیاں بھی دکھائیں جنہیں انہوں نے غیر معمولی احتیاط اور محبت کے ساتھ آج تک محفوظ رکھا ہے۔یہ کاپیاں اس بات کی زندہ دلیل تھیں کہ استاد حیدر خان حیدر کے نزدیک علم صرف پڑھنے کا نام نہیں بلکہ اسے سنبھال کر رکھنا بھی ایک ذمہ داری ہے۔اس لائبریری کی ایک نمایاں خصوصیت قرآنِ مجید کا وہ نادر اور نایاب قلمی نسخہ ہے جو اپنی منفرد اور دل آویز خطاطی کے باعث دیدہ و دل کو مسحور کرتا ہے اور لائبریری کے حسن و وقار میں غیر معمولی اضافہ کرتا ہے۔ استاد حیدر خان کے مطابق یہ بیش قیمت قلمی نسخہ سکردو کے ایک صاحبِ ذوق دوست کی جانب سے بطورِ ہدیہ انہیں موصول ہوا تھا۔

ہمارے لیے باعث افتخار اور موجبِ مسرت تھا کہ استادِ محترم حیدر خان نے نہایت خلوص، محبت اور دل سوزی کے ساتھ ضیافت کا اعلیٰ اہتمام فرمایا جو ان کی وسیع القلبی، مہمان نوازی اور شاگردوں سے دلی وابستگی کا حسین مظہر تھا۔ اس کے بعد استادِ محترم نے شفقت و عنایت کے ساتھ چند قیمتی ادبی کتابیں بطورِ تحفہ پیش کیں، جو ان کے علمی ذوق اور علم کی فیاضی کی روشن دلیل ہیں۔ یہ تمام لمحے ہماری یادوں میں ہمیشہ ایک قیمتی اثاثے کے طور پر محفوظ رہیں گے۔

حیدر لائبریری نہ صرف ایک فرد کے شوقِ مطالعہ کی علامت ہے بلکہ آئندہ نسلوں کے لیے علم و آگہی کا ایک قیمتی مرکز بھی ہے۔مکتبئہ حیدر یقیناً علم سے محبت کرنے والوں کے لیے ایک روشن مثال اور قابلِ تقلید نمونہ ہے۔آج بھی بے شمار طلبا، لیکچررز، پروفیسرز اور تشنگانِ علم حضرات استادِ محترم کی اس لائبریری سے فیض یاب ہو رہے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ استادِ محترم نہایت خلوص سے صاحب ذوق افراد تک کتابیں خود پہنچاتے ہیں۔دعا ہے کہ استاد حیدر خان حیدر کی یہ علمی کاوش سلامت رہے اور مکتبہ حیدر علم کے متلاشیوں کے لیے ہمیشہ روشنی کا مینار بنی رہے۔استاد محترم کی شعری گلدستہ "دشتِ سخن” میں ایک نظم "کتابوں کی دنیا” سے چند اشعار کے ساتھ اجازت چاہیں گے:

کتابوں کی دنیا کا درویش ہوں میں
بھرا ہے کتابوں سے سب آشیانہ
کتابوں کے دم سے میں منبر نشیں ہوں
وگرنہ کہاں زیست تھی زاہدانہ
لکھاری بنا ہوں کتابوں سے ہی میں
شعوری خزانے ملے قائدانہ
کتابوں سے مل جائے سب دین و دنیا
کتابوں میں ملتا ہے سارا زمانہ
کتابیں خریدو اب تم خوب حیدر
یہی شغل ہے شغلِ عارفانہ

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments
Back to top button
✕
HumSub

FREE
VIEW