میری استاد کی چند یادیں
زندگی ایک سفر ہے۔ جس میں ہم مختلف لوگوں سے روشناس ہوتے ہیں۔ مختلف کرداروں سے ملتے ہیں۔ بعض ایسے جن سے بار بار تبادلہ خیال کرنے کا دل چاہتا ہے۔ ان کی گفتگو ایسی ہوتی ہے کہ گویا لبوں سے گلاب برستے ہوں اور ان کی ہر بات چاہے وہ عام ہی ہو خاص لگتی ہے مگر افسوس زندگی میں نہ وقت ٹھہرتا ہے اور نہ ہی لوگ بلکہ ہر گزرتا لمحہ اس ساتھ کو کم کر دیتا ہے۔ آخر کار ہم جدا ہو جاتے ہیں۔ ”وقت تو ریت کی مانند گزرتا جاتا ہے اگر کچھ باقی رہتا ہے تو محض یادیں، باتیں اور ساتھ گزارے گئے لمحات“ ۔
زندگی کے سفر میں جس میں ہر کوئی بس منزل کو پانے کے لیے دوسروں کو استعمال کر رہا ہے۔ مخلصی کو کمزوری سمجھا جا رہا ہے۔ جہاں خون کے رشتے مفاد پرستی کی بنیاد پر مشتمل ہوں۔ ایک ایسے استاد کے زیر سایہ تعلیم و تربیت کا فیض حاصل ہوا۔ جن کو میں نے بطور عملی نمونہ زندگی کا حصہ بنا لیا۔ ان کے میرے لیے کہے گئے الفاظ ہمیشہ یاد گار رہیں گے۔ اگر انھیں ”ہیرے“ سے تشبیہ دی جائے تو غلط نہ ہو گا۔
میری اردو کی پروفیسر جن کو اللہ نے علم، خوبصورتی کے ساتھ ساتھ عاجزی کی نعمت سے بھی نوازا تھا۔ خوش قسمتی سے وہ ہم دونوں بہنوں کی پروفیسر تھیں۔ ہم دونوں ان کے علم کے سمندر سے فیض یاب ہوئیں۔ میرے کردار کو نکھار نے میں پچاس فیصد ان کا ہاتھ ہے۔ میری بہن حد درجے کی لائق اور قابل تھی مگر میں نہ تو لائق تھی اور نہ ہی قابل۔ میں نہ تو ہار مانتی اور مسلسل محنت کے بل پر فتح یاب ہوتی۔ ان کے یہ الفاظ ہمیشہ مجھے تقویت دیتے رہیں گے ”میری یہ اسٹوڈنٹ جتنی محنت اور لگن سے پڑھتی ہے۔ میری دعا ہے کہ اس کی بورڈ میں پوزیشن آئے۔ اس کے اندر جو قابلیت کا دریا ہے لوگ اس سے فیض حاصل کریں“
وہ اس دنیائے آب و گل سے اب رحلت فرما گئیں ہیں مگر جو ہیرے انھوں نے تراشے آج وہ دنیا بھر میں اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہیں ہیں۔ ”زندگی میں کچھ معاملات میں دوری عمر بھر کا روگ بن جاتی ہے“ ۔ ان سے آخری بار نہ ملنے کا غم عمر بھر رہے گا۔ لیکن ان کی دی ہوئی دعائیں اور پیار ہمیشہ ان کی یاد دلاتے گا۔
اساتذہ کے لیے دعا ”اے اللہ! ہمارے والدین، اساتذہ اور سر پرست جن کا ہم پر حق ہے۔ ان کا سایہ ہم پر قائم رکھنا اور جو پردہ کر گئے ہیں ان کی مغفرت فر ما“ طلبہ کو چاہیے کہ وہ ہر طرح سے اپنے اساتذہ کے کام آئیں اور جب کسی اعلی مقام و مرتبے پر فائز ہوں کیونکہ بلا شبہ ہم انھی کے تراشے ہوئے ہیرے ہیں۔

