میرے مطابق

سیاست کا پیچ دار راستہ: احتجاج یا مذاکرات؟

sultan ayaz

پاکستان کی سیاسی بساط پر اس وقت جو مہرے بچھائے جا رہے ہیں ان کی چالیں جتنی پیچیدہ ہیں، ان کے نتائج اتنے ہی دور رس ثابت ہو سکتے ہیں۔ ”تحریک تحفظِ آئینِ پاکستان“ نے ایک بار پھر ”ملک بچانے“ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے عوامی سمندر کو سڑکوں پر لانے کا اعلان کر دیا ہے۔ مقصد بظاہر واضح ہے : بانیِ تحریک انصاف عمران خان کی رہائی اور آئین کی بالادستی۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا تاریخ کے اس نازک موڑ پر محض احتجاجی تحریکیں ہی مقاصد کے حصول کا واحد ذریعہ ہیں یا پھر سیاست کے بند گلی میں کھوئے ہوئے راستے اب بھی مذاکرات کی میز تک جاتے ہیں؟

اردو کا مشہور محاورہ ہے کہ ”گھی ہمیشہ سیدھی انگلی سے نہیں نکلتا“ اور شاید یہی سوچ پی ٹی آئی کے حلقوں میں سرایت کر چکی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ خاموشی کو مصلحت نہیں بلکہ شکست تصور کیا جائے گا۔ اس لیے احتجاجی لہر ہی وہ واحد حربہ ہے جو مقتدر حلقوں کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر سکتا ہے لیکن یہاں یہ اندیشہ بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ کہیں یہ تحریک ”بیل منڈھے چڑھنے“ کے بجائے عمران خان کی مشکلات میں مزید اضافے کا باعث نہ بن جائے۔ اگر احتجاج کے دوران نظم و ضبط کا دامن ہاتھ سے چھوٹا تو یہ حکومت کے لیے ایک سنہری موقع ہو گا کہ وہ ”قانون کی حکمرانی“ کے نام پر شکنجہ مزید کس دے۔

سیاست میں جذبات کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں مگر بصیرت کہتی ہے کہ ریاست کے ساتھ تصادم کی راہ ہمیشہ کٹھن ہوتی ہے۔ آج کے سیاسی منظر نامے میں تحریک انصاف ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ایک طرف عوامی غیظ و غضب کا راستہ ہے اور دوسری طرف سنجیدہ مذاکرات کی ٹھنڈی ہوا کا جھونکا۔ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان میں بڑے سے بڑے سیاسی بحران عدالتوں کے کٹہرے میں نہیں بلکہ مذاکرات کے کمروں میں حل ہوئے چاہے وہ نوابزادہ نصر اللہ خان کی جمہوری جدوجہد ہو یا میثاقِ جمہوریت، سیاسی قوتوں نے ہمیشہ میز پر بیٹھ کر ہی راستے نکالے ہیں۔

عمران خان کی رہائی کے لیے ”تحریک تحفظِ آئین“ کا دباؤ اپنی جگہ مگر اس کا اصل ثمر تبھی مل سکتا ہے جب اسے ایک مضبوط سیاسی مکالمے کی بنیاد بنایا جائے۔ قانون کے موشگافیوں اور ضمانتوں کے پیچیدہ عمل میں الجھے ہوئے مقدمات کو سیاسی حل کی ضرورت ہے اگر اپوزیشن اور حکومت اپنی اپنی انا کے خول سے باہر نکل کر ملک و قوم کی خاطر دو قدم پیچھے ہٹیں تو بند تالوں کی کنجی مل سکتی ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ احتجاج ایک جمہوری حق سہی مگر یہ محض ”طاقت کے مظاہرے“ تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ اسے مذاکرات کی میز تک پہنچنے کا ایک ذریعہ بننا چاہیے اگر یہ تحریک تلخیوں کو کم کرنے کے بجائے اشتعال کو ہوا دیتی ہے تو شاید رہائی کی منزل قریب آنے کے بجائے دھندلا جائے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سیاسی مدبرین کس طرح ”سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے“ والی حکمتِ عملی اپناتے ہیں کیونکہ پاکستان اب مزید کسی سیاسی ٹکراؤ یا عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW