میرے مطابق

خواب جو برف میں جم گئے

Mehboob Ur Rehman ali seher

سفید چادر میں لپٹا عنایت اُن نوجوانوں میں سے تھا جو شہرت کے بھوکے نہیں ہوتے، وہ صرف قدرت کو دیکھنے اور دکھانے کے شوقین ہوتے ہیں۔

اس کے کندھے پر لٹکا ہوا کیمرہ کسی پیشے کی علامت نہیں تھا، بلکہ اس کے دل کی دھڑکن تھا۔ وہ قدرت کا حسن ہر خاص و عام کو بلا اجرت عنایت کرتا تھا، شاید اسی لیے اس کا نام ”عنایت“ رکھا گیا تھا۔

ہر گلی، ہر محلہ، ہر سنسان راستہ، اُس کی نظر سے محفوظ نہ رہتا۔

کہیں خزاں کے زرد پتے ہوتے، تو کہیں بہار کے پھولوں کی ہلکی سی خوشبو، کہیں ندیوں کا شور ہوتا جو گرمی میں دل کو ٹھنڈا کر دیتا، اور کہیں سردیوں میں پہاڑوں پر پڑی برف کی وہ سفید چادر جو زمین کو ماں کی طرح ڈھانپ لیتی ہے۔

جنگل میں منگل کرنا اس کا محبوب مشغلہ تھا۔ معصوم پرندوں کی آوازیں، گلہریوں کی پُھرتی، درختوں کی خاموش سرگوشیاں، یہ سب اس کے دوست تھے۔

جنوری کی پہلی بائیس راتیں وہ معمول کے مطابق شہر میں گزارتا رہا،
لیکن اگلی رات۔

وہ رات اسے کھینچ کر جنگل کی طرف لے گئی۔ شاید کوئی نامعلوم تصویر اس کا انتظار کر رہی تھی، یا شاید قسمت نے خود کو فریم میں قید کرنے کا ارادہ کر لیا تھا۔

رات کے آغاز میں ”مچئے کے سَر“ کا موسم خاموش تھا، برف ابھی صرف پہاڑوں کے سروں پر سجی ہوئی تھی۔

عنایت نے کیمرہ آن کیا، چند تصویریں لیں، اور مسکرا کر آسمان کی طرف دیکھا، گویا سوچا کل کی روشنی میں بہترین عکس کو محفوظ کر کے دوستوں کو دکھاؤں گا۔

مگر قدرت کا مزاج لمحوں میں بدل گیا۔ ہوا نے یکایک تیزی اختیار کی، بادل آپس میں ٹکرانے لگے، اور پھر۔
برف برسنے لگی۔ پوری رات برف گرتی رہی، اتنی خاموشی کے ساتھ
کہ چیخ بھی دب کر رہ گئی۔

صبح ہوئی تو جنگل پہچانا نہیں جا رہا تھا۔ راستے غائب تھے، نشان مٹ چکے تھے اور واپسی ناممکن ہو چکی تھی۔

عنایت نے چلنے کی کوشش کی، مگر سردی نے اس کے قدم باندھ دیے تھے۔ تیز ہوائیں اس کے گرم خون کو آہستہ آہستہ سرد کر رہی تھیں۔ اس کی سانسیں بوجھل ہو گئیں، آنکھوں کے سامنے منظر دھندلانے لگا۔

اس نے آخری بار کیمرے کو سینے سے لگایا۔ شاید یہ سوچ کر کہ ”کم از کم حسن تو محفوظ رہے گا۔“
برف نے اسے آہستہ آہستہ ڈھانپنا شروع کر دیا۔ کوئی اعلان نہ ہوا، کوئی خبر نہ چلی، بس ایک سفید چادر جو کفن بننے سے پہلے ہی عنایت نے خود اوڑھ لی۔

پچاس گھنٹوں بعد

جب جنگل میں ایک خاموش جسم ملا، تو اس کے پاس رکھا کیمرہ زندہ تھا۔ کیمرے میں محفوظ تصویریں آج بھی بولتی ہیں کہ عنایت سفید چادر لے کر منوں مٹی تلے ابدی نیند سو گیا ہے مگر قدرت کا حسن ہمیشہ کے لیے امر کر گیا۔

عنایت تو ابدی نیند سو گیا، مگر اس کے خواب آج بھی جاگتے ہیں۔ اس جیسے سینکڑوں نوجوان ہیں جو قدرت اور اس کے حسن کو حسین امتزاج کے ساتھ اس معاشرے تک پہنچانا چاہتے ہیں، مگر وسائل کی کمی اور مسائل کی زیادتی ان کے راستوں میں برف کی دیوار بن کر کھڑی ہو جاتی ہے۔

اگر برسرِ اقتدار تخت و حکمرانی اس طرف سنجیدگی سے توجہ دے،

قدرت کی عطا کی حفاظت

اور اس کی ترویج کا بیڑہ اٹھائے، تو ممکن ہے کہ آئندہ ایسی ناگہانی آفات سے بھی چھٹکارا ملے اور خواب برف میں جمنے کے بجائے ہر خاص و عام کو تعبیر بتا سکیں۔

کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم تصویریں تو دیکھتے رہیں اور عنایت جیسے خواب دیکھنے والے خاموشی سے سفید چادروں میں لپٹتے رہیں۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW