منفی چالیس سنٹی گریڈ میں منجمد جھیل پہ مچھلی کا شکار

نقطہ انجماد سے چالیس سنٹی گریڈ کم درجۂ حرارت جو ہوائی ٹھنڈک لئے منفی پچاس تک پہنچا لگتا تھا، ونی پیگ ( صوبہ مینی ٹوبہ کینیڈا ) سے چند کلومیٹر باہر، فالکن جھیل کی سطح مکمل منجمد اور کہیں سفید کہیں نیلی چمکتی دکھائی دے رہی تھی۔ کافی بڑی جھیل کے کنارے بڑے چھوٹے بنگلے ہر طرف سفید برف کی چادر میں لپٹے میدان اور جھیل میں حد فاصل تھے۔ ہٹ کہلاتے یہ حسب توفیق پر تعیش آرام دہ بنگلے جھیل کے ساحل کے ساتھ ساتھ بنے چھٹیاں گزارنے کی تفریحی رہائش گاہیں ہوتی ہیں۔ جھیل کی منجمد نیلی چمکتی سطح پر کنارے سے بہت اندر آگے جا گہرے سرمئی رنگ کا خیمہ کھڑا تھا۔ اور اس میں ہمارے نواسے وقاص عبداللہ، آسٹریلیا کی چالیس سنٹی گریڈ گرمی کے ستائے سردی کا مزا لینے آئے دو اور مقامی دوست جھیل کی برف کی دس بارہ انچ موٹی تہہ میں دس بارہ انچ قطر کا سوراخ بنانے کے لئے خصوصی بیٹری سے چلنے والی آری یا ڈرل گھما رہے تھے۔ جھیل کنارے تین دن تفریحی قیام کے پروگرام میں آج کا دن ان کا آئس فشنگ کے لئے مخصوص تھا۔
بات اسی جنوری دو ہزار چھبیس کی ہے۔ ہمارے آسٹریلیا میں جا بسے عزیز و احباب وہاں کی پہلے کبھی نہ سہی نہ سنی دیکھی چالیس سنٹی گریڈ سے زائد تک گرمی میں تپنے کا بتا رہے تھے۔ جل چکی گھاس دکھا رہے تھے۔ ہم واپس ان کو جنوبی اونٹاریو کے ساتھ اپنے ٹورنٹو ایریا میں ”منفی“ چالیس سنٹی گریڈ تک ( ہوائی ٹھنڈک کے ساتھ ) لگاتار چھ سات ہفتہ پڑنے والی برف باری، یخ کرنے والی سردی کا بتا اور گھروں کے سامنے کندھے کندھے اونچائی والے اپنے ہاتھوں ڈرائیو وے صاف کرتے بنائے گئے برف کے ڈھیر دکھا ٹھنڈ ڈال رہے تھے۔ ہمارے کراچی کے، ہر قسم کی بلا کو سبحان اللہ کہتے قبول ہے قبول ہے کہ نعرے لگانے والے عزیز اور احباب وڈیو دیکھ کانپنا شروع کر دیتے اور آسٹریلین اپنے جھلسے بازو چہرے دکھاتے۔ ایسے میں وہ دن بھی گزرا کہ ٹورنٹو ائرپورٹ پر پچھلے نوے برس ( کہ جب سے موسم کا ریکارڈ رکھا جانے لگا ہے ) کی ایک دن میں سب سے زیادہ اور لگاتار برف باری منفی باون سنٹی گریڈ کا ریکارڈ قائم کر گئی۔ لگاتار چھ سات ہفتے بہت نیچے رہتے درجۂ حرارت اور نہ رکنے والی برف باری اور منجمد بارش ( گرتے ہی سخت منجمد ہو شیشۂ بنی پھسلن بنتی ”فریزنگ رین“ کہلاتی بارش ) کا بھی ریکارڈ بنا گئی۔
اسی دن ہمارے نواسے وقاص عبداللہ اپنے بچپن کے دوست کو جو آسٹریلیا جا بسے تھے، اور اس کے ایک ساتھی کا جمع چالیس سنٹی گریڈ کی جھلساتی پسینے نکلواتی گرمی سے نکل سیدھا منفی چالیس سنٹی گریڈ سے بھی کم درجۂ حرارت کا سواد چکھانے ونی پیگ کے ائر پورٹ پر استقبال کر رہے تھے۔ اگلے روز صبح دو مقامی دوستوں کے ساتھ یہ قافلہ شہر سے نزدیکی فالکن جھیل کے کنارے ایک دوست گھرانے کے ملکیتی تفریحی ہٹ پہنچ چکا تھا جہاں انہوں نے برف سے ڈھکے چٹیل میدانوں، اونچے ڈھیروں میں سیر سپاٹے کرنے کھیلنے پھسلنے کے علاوہ منجمد جھیل میں کچھ دور جا کیمپ لگا مچھلی کا شکار بھی کرنا تھا۔

آئس فشنگ شدید سرد ملکوں میں ایک مرغوب مگر بہت حوصلے ہمت اور ہر پہلو احتیاط کا متقاضی کھیل ہے۔ کہ کسی بھی جگہ برف کی کمزور تہہ جان لیوا ہو سکتی ہے۔ جھیلوں اور دریاؤں کی شدید سردی میں، کم از کم چھ تا بارہ انچ گہرائی تک اچھی طرح منجمد ہوئے پانی کے اوپر پیدل، ہلکی پہیہ دار ٹرالی یا سنو موبائل یا اے ٹی وی ( ہر قسم کی راہوں کی پر چل سکنے والی جیپ نما چھوٹی گاڑی) یا اگر سطح دس بارہ انچ سے زائد منجمد ہو تو کار یا چھوٹی پک اپ پہ مطلوبہ خیمہ، مشینیں اور دیگر سامان پہنچایا جاتا ہے۔ سردی اور پانی سے محفوظ خیمہ۔ کئی تہوں والے گرم لباس کے اوپر موسمی سختی سے محفوظ واٹر پروف جیکٹ۔ دستانے اور خصوصی بوٹ پہنے جاتے ہیں مچھلی کے شکار کے لئے گیئر کہلاتے لباس اور گیئر ہی کہلاتے شکار کے انواع و اقسام کے تندی کانٹے والے راڈ اور مچھلیوں کو راغب کرنے، ان کی توجہ اس سوراخ کی طرف موڑنے قریب لانے کے مختلف قسم کی شعاؤں یا موسیقی وغیرہ کے ساتھ کانٹے پہ وہی روایتی چارہ کیچوا، پونگ مچھلی، سنڈی نما کیڑے یا اصلی اور مصنوعی قسموں کے ٹوٹکے لگا شکار کے لئے پھینکے جاتے ہیں اور برف کے نیچے تیرتی پھرتی مچھلیاں قابو آ ہی جاتی ہیں۔ یہی کچھ وقاص اور اس کے دوست کرتے شکار کی امید لئے خیمے میں موجود تھے وقاص موسیقی پہ ڈانس کرتے، جھومتے، ساتھ لی گئی خوراک اور پھل کھاتے یا باہر برف کی سطح پر لیٹتے سکیٹنگ کرتے دوڑتے پھرتے لمحوں کے فوٹو اور ویڈیوز اپنی ماں کو بھیج رہا تھا اور وہ ہمیں فارورڈ کرتی جا رہی تھی۔ چند چھوٹی چھوٹی مچھلیوں کے بعد بالآخر ایک اچھی بھلی چار فٹ کے قریب لمبی مچھلی قابو آ چکی تھی۔ خیمے کے اندر بنے سوراخ اس کے ارد گرد پڑی مشینیں چلتے ہیٹر وغیرہ کے درمیان کھڑے سب کے باری باری مختلف پوز بنائے مچھلی اٹھائے فوٹو ہمیں مل رہے تھے۔ دو تین روز جھیل کنارے موجیں لگاتے پکنک مناتے شکار کی گئی مچھلیاں بھون کھانے کے بعد یہ جوان گھر واپس آچکے تھے۔ اگلے تین چار روز ونی پیگ کے سکوں کے ٹکسال مرکزی ڈاؤن ٹاؤن اور اس کے نزدیک وہاں کی مقبول ترین رنگا رنگا رنگ دلچسپیاں لئے تفریح گاہ، دریا کنارے، فورکس کا علاقہ گھومے۔ منجمد دریا کی مکمل جم چکی موٹی تہہ والی سطح پر بنی دلچسپیاں ان کی آسٹریلوی گرمی کا مداوا بن چکی تھی۔ ایک ہفتہ بعد ایک تو انگلینڈ چلا گیا اور دوسرا دنیا کے خوبصورت ترین علاقوں میں سے ایک، بینف، کی سردیوں میں اور پہاڑوں میں سکی انگ کے مزے لوٹ تھکاوٹ کا پسینہ نکالنے آسٹریلیا لوٹ گیا۔

فورکس کا علاقہ کینیڈا کے مشہور دریا ریڈ ریور اور ونی پیگ سے گزرتے دوسرے چھوٹے دریا ”ایسینی بان“ کے سنگم کے نزدیک تقریباً دس لاکھ آبادی والے ونی پیگ شہر کا مرکزی خاصا وسیع علاقہ ہے جسے پورا سال مقامی آبادی اور سالانہ لگ بھگ چالیس لاکھ سیاحوں کی مقبول اور پسندیدہ تفریح گاہ میں بدلا جا چکا ہے۔ تاریخ دو دریاؤں کے سنگم والے اس علاقے کو چھ ہزار سال پہلے سے مقامی قدیم آبادی کی معاشرتی اور کاروباری سرگرمیوں کا مرکز بتاتی ہے۔ دو ہزار سترہ کے کرسمس کے دن ہمارے بھی ونی پیگ میں گزرے تھے اور منفی تیس چالیس سردی کا سواد ہم نے بھی لیا تھا۔ رات کا کھانا اسی فورکس کے علاقے میں کھاتے یہاں کی رونقوں کا نظارہ بھی دور دور سے کیا تھا کہ باہر کھڑا ہونا ممکن نہ تھا۔ اب سردیوں میں اس چھوٹے دریا کے منجمد پانی کو بھی مقبول اور معروف سیر گاہ بنا دیا گیا ہے۔ وقاص عبداللہ اور اس کے دوستوں کے بعد اس کی ماں اور باپ بھی ہمیں دریا کے منجمد پانی پر پیدل سیر کرتے موبائل کے کیمرے پہ نظر آرہے تھے۔ تازہ برف کی تہہ کو اکٹھا کر منجمد دریا کی سطح پر ہی ایک قطار میں آٹھ دس فٹ کا فاصلہ رکھتے برف کی دیواروں اور برف کی چھت والے آگے پیچھے سے کھلے ایسے کیبن بنا دیے گئے ہیں، جیسے پاکستان میں عمارتوں گھروں کے گیٹ کے ساتھ چوکیداروں محافظوں کے لئے ہوتے ہیں۔ قطب شمالی اور گرین لینڈ کے اسکیمو باسیوں کے گھروں سے لیا یہ آئیڈیا ایک قطار میں راہداریاں چھوڑتا لمبا برآمدہ لگتا ہے۔ جہاں زیادہ ٹھنڈ محسوس ہوتے یہ میاں بیوی سستانے کے لئے کھڑے تھے اور سیاح سکیٹنگ کرتے یا پیدل چلتے دائیں بائیں نکلتے گھستے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ دریا کنارے بورڈ پہ پیدل چلنے، سکیٹنگ کرنے، سنو بورڈنگ کرنے والوں کے لئے مختلف راہوں کا تعین نقشے اور ہدایات درج تھیں۔ بیٹی یہ سب کچھ بتا رہی تھی اور ہم سوچ رہے تھے کہ انتہائی ناقابل برداشت موسموں اور سخت راہوں کو تفریح گاہ بنانے والی یہ قومیں یونہی ترقی کرتے دنیا کو ترقی کے موجودہ مقام پہ لانے میں کامیاب نہیں ہوئیں۔ جی ہاں صرف چھپن ایکڑ کا یہ سیاحتی تفریحی مرکز حکومت سے ایک پیسہ نہیں لیتا۔ خود کفیل ہونے کے ساتھ ساتھ حکومت کے خزانے میں تقریباً اٹھارہ کروڑ ڈالر کا اضافہ بھی کرتا ہے۔

دو ہزار سترہ کا آخری ہفتہ ونی پیگ گزارتے ایک شام منفی چالیس میں ترکش کھانوں کے فیملی ریسٹورنٹ ”علی بابا“ کے یادگار پکوانوں کا مزا بھی لیا تھا۔ باپ اور بیٹے کے ساتھ مکمل باپردہ گھر والی بھی مہمانوں کی خدمت کرتی دیکھ حیرت تھی اور پھر ہمارے کھانا کھاتے مالک نے گٹار اور موسیقی کے آلات لئے خود ہمیں بہت ہی اچھی آواز اور میوزک کے ساتھ ترکش گیت سنائے تھے اور نکلنے سے پہلے اپنی خصوصی خاندانی ریسیپی سے ہمارے سامنے بنا ”کُنافہ“ بطور تحفہ پیش کیا تھا۔ یہ پاکستانیوں سے محبت کا تحفہ تھا۔ افسوس کورونا کی سختیاں اس اعلیٰ طعام گاہ کو لے ڈوبیں۔ اور ہمیں ترکش کھانوں کی وہ لذت پھر نصیب نہ ہوئی۔ البتہ چار سال قبل استنبول کے احمت سکوائر سے کچھ فاصلے پہ سات سو برس پرانی عمارت میں بنے ریسٹورنٹ کا ترکش کھانا کچھ الگ اور اپنا ہی سواد لئے تھا۔
بیٹی کے گھر کے پچھواڑے نظر آتی چھوٹے سے جنگل کے کنارے پانی کے نالے کے ساتھ بنی سیر کرنے کی پگڈنڈی پر علی الصبح منفی پینتیس سنٹی گریڈ ٹھنڈ اور گھٹنے گھٹنے کہیں نرم، کہیں منجمد پھسلان بنی برف کے اوپر وقفے وقفے سے مرد و خواتین اپنے کتوں کو سیر کرانے کے لئے نکلے دکھائی دے رہے تھے۔ ہم سوچ رہے تھے کہ انسان کا اپنا بچہ پالنے سے کتا، بلی پالنا بہت زیادہ مشکل ہے۔ تب ہم بھی انہیں دیکھ اسی طرح کانپنا شروع ہو گئے تھے جیسے کراچی بلکہ کئی اور شہروں علاقوں کے باسی دس برس قبل تک ہم میاں بیوی کو اور اب بیٹے کے ساتھ ان کے بچوں کو اپنے گھر کے باہر برف سمیٹتے، ڈھیر لگاتے، اس پہ کھیلتے دیکھ ”اُف، کیسے رہتے ہیں آپ یہاں“ کا نعرہ لگاتے ہیں۔
ناشتہ کرتے، طاہر عبداللہ، ہمارے داماد اور بھانجے، نے ہماری حیرانی کو بھانپا تو ہنستے ہوئے ایک تماشا دیکھنے اور خود تجربہ کرنے کو کہا۔ ابلتے پانی کا گلاس پکڑا، بیک یارڈ کا دروازہ کھول وہ گرم پانی پوری قوت سے ہوا میں اچھال دیا، دھواں، پھر دھند، پھر قطرے بنتے پانی واپس نیچے کو آ رہا تھا۔ اور، اور ڈیک کے تختے پہ بجائے پانی کے منجمد برف کی کنکریاں گر رہی تھیں۔ اور اب باری باری ہم سب یہ کھیل کھیل رہے تھے۔

دوبارہ فوٹو دیکھتے آئس فشنگ کرتے ان جوانوں کی بانہوں میں پھیلی یہ بڑی سی مچھلی ہمیں تئیس برس قبل کینیڈا پہنچ اپنی بقا کی جنگ لڑتے، چاروں طرف نرم برف سے بھرے سینکڑوں ایکڑوں کے زرعی فارموں کے درمیان واقع گیس سٹیشن یعنی پٹرول پمپ پہ لے گئی، جہاں ہم ابتدائی مشکلات سے نکلنے کی جدوجہد میں مصروف تھے۔ کاروبار میں ہمارے ”پیار کی جپھی“ والا فارمولا دوست بنائے جا رہا تھا۔ ایک دن صبح گیس سٹیشن کیوسک کے دروازے پر آٹھ نو کلو کی سالمن مچھلی پڑی تھی۔ آگا پیچھا نہ ہونے والا تنہا، بیٹے سے گپ شپ کرتے دوستی تک پہنچنے والا گاہک شمال میں وساگا جھیل میں آئس فشنگ میں کیا شکار ہمیں تحفہ دے گیا تھا۔ یہ آئس فشنگ سے ہمارا پہلا تعارف تھا۔ گرمیوں میں بلیو ماؤنٹین علاقے میں وسیع جھیل میں کشتی پہ جال سے پکڑی سات آٹھ کلو اور پندرہ بیس کلو کی سالمن مچھلیاں بھی اس کی یاد دلاتی ہیں جنہیں کاٹنے، صاف کرنے، سنبھالنے، اور پورے خاندان میں بانٹنے کی داستان الگ رہنے دیجئے۔ تبھی اپنے پاکستانی عزیزوں دوستوں کے تبصروں کو یاد کرتے شدید سردی اور چلتی ہواؤں والی وہ شام یاد آ گئی جب ایک بہت بوڑھی مسکراتی خاتون کار میں پٹرول ڈال پیسے دینے کاؤنٹر پہ آئی تو میں نے یہاں کے رواج کے مطابق یہ کہہ دیا، ”اوہ آج کا دن تو بہت سرد ہے“ ، تو وہ مسکراتے ہوئے ہاں، ہے تو سہی کہتی وقفہ دے کہہ رہی تھی۔ ”میری عمر چوراسی سال ہے اور وہ کار میں بیٹھا میرا خاوند ستاسی سے اوپر ہے، اور ہم بلیو ماؤنٹین ( کوئی پونے دو سو کلو میٹر شمال بہت ہی سخت سرد علاقہ ) کے پہاڑی سکی انگ کلب میں سکی انگ کر کے آرہے ہیں“
وہ جا چکی تھی۔ کار جا چکی تھی۔ اور میں باہر منفی بیس پچیس سنٹی گریڈ ٹھنڈ اور چیختی ہواؤں کو دیکھتا اندر اپنے کو ویسا محسوس کر رہا تھا جیسا میرے نواسے وقاص عبداللہ۔ کا دوست کینیڈا کی سردی سے واپس آسٹریلیا کے تیس چالیس سنٹی گریڈ گرمی میں پسینے میں شرابور حیران کھڑا محسوس کر رہا ہو گا۔
