بلاگ

میری امریکی ماں : ڈاکٹر حسن زی کے احساسات

shahid lateefa

نگار ویکلی کے نامور لکھنے والے اقبال راہی کی معرفت میری بین الاقوامی شہرت کے حامل کہانی نگار، شاعر، فلمساز اور ہدایتکار ڈاکٹر زی سے غائبانہ شناسائی تھی لیکن پھر لاہور کے ایک مقامی آڈیٹوریم میں ڈاکٹر صاحب کی فلم ”گڑوی“ کی تقریب میں پہلی مرتبہ ڈاکٹر موصوف سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ اس کے بعد اداکارہ صابرہ سلطانہ کے ذریعہ ڈاکٹر زی سے فون پر رابطہ ہوا جو اب تک قائم ہے۔ ڈاکٹر صاحب چکوال، پاکستان میں پیدا ہوئے۔ 27 برس کی عمر میں امریکہ آ گئے۔ انہیں پہلے ہی فلموں سے لگاؤ تھا جب یہاں آئے تو ایک فلم بنانے کا موقع ملا۔ ندیم، شبنم وغیرہ فلمی نام ہیں اور فلمی نام بڑی آسانی سے زبان پر چڑھ جاتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب بھی چاہتے تھے کہ امریکیوں کے لئے ان کا نام لینا آسان ہو۔ ان کا اصل نام فیاض الحسن جب کہ فلمی اور اسٹیج نام ڈاکٹر حسن زی ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹر حسن زی نے فلم تکنیک اور سنیماٹوگرافی میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے حالاں کہ یہ میڈیکل ڈاکٹر ہیں۔ انہوں نے چھ سال کی عمر میں پہلی فلم دیکھی تو پختہ ارادہ کیا کہ وہ بھی یہ سب کریں گے۔ انہیں اُس فلم میں سب سے زیادہ اہم چیز اس کی کہانی لگی۔ اسی لئے وہ بھی کہانیاں لکھنے لگے۔ ان کی پہلی کہانی آٹھ سال کی عمر میں اخبارِ جہاں میں شائع ہوئی۔ تعلیم کے ساتھ انہوں نے ریڈیو پاکستان راولپنڈی میں 10 سال کام کیا۔ این ٹی ایم ( نیٹ ورک ٹیلی وژن مارکیٹنگ ) میں بچوں کے کارٹون کی آڈیو ڈبنگ میں ان کی آواز کو بھی استعمال کیا گیا۔ انہوں نے پڑھائی کو فوقیت دی کیوں کہ ان کے والدین کی خواہش تھی کہ یہ ڈاکٹر بنیں۔

میرا خواب

” خواب دیکھنا خوبصورت بات ہے اور ان کی تعبیر حاصل کرنا اس سے بھی زیادہ خوبصورت۔ جب میری عمر 6 سال کی تھی تو ہمارے گھر ٹیلی وژن نہیں تھا۔ کیوں کہ ہمارے ابو مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ جب میری خالہ جو مجھ سے فقط 2 سال ہی بڑی تھیں، نے مجھے کہا کہ پڑوسی خالہ زبیدہ کے گھر میں ٹیلی وژن ہے، اتوار کو اس پر فلم“ ارمان ”( 1966 ) چلے گی۔ میں سوچنے لگا کہ پتا نہیں فلم کیا ہو گی۔ میں پہلی دفعہ ٹیلی وژن دیکھوں گا۔ فلم کے انتظار میں کئی دن ٹھیک سے نیند بھی نہیں آئی۔ دوسری بات یہ تھی کہ کیا نانی اماں ہمیں فلم دیکھنے دیں گی؟ ہم نے یہ سوچا کہ نانی اماں جو کام بھی کہیں گی وہ کریں گے، بلکہ خود ہی جا کر پوچھنے لگے کہ آپ کو دُکان سے کوئی چیز تو نہیں منگوانا؟ نانی اماں بھی سوچنے لگیں کہ یہ بچے اتنے زیادہ فرماں بردار اور تابعدار کیسے ہو گئے؟ مناسب وقت دیکھ کر ہم نے نانی اماں سے کہا کہ خالہ زبیدہ کے ہاں ٹی وی پر اتوار کو ہم فلم دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ مسکرا کر بولیں کہ تم لوگوں نے پڑھائی بہت اچھی کرنا ہے پھر میرے کہے ہوئے کام تم لوگوں نے صحیح طور پر نبٹا دیے تو تمہیں جانے دوں گی۔ ہم نے بھی پھر ویسے ہی کیا“ ۔

” اتوار کا دن آیا اور پہلی دفعہ ہم نے ٹی وی پر فلم دیکھی،“ ارمان ”۔ اس میں ’اکیلے نہ جانا ہمیں چھوڑ کر تم‘ اور کئی اچھے گیت تھے۔ وحید مراد کو دیکھا تو دل میں خیال آیا کہ میں تو اب یہی کروں گا۔ گھر آ کر میں فلم کے گانے گائے جا رہا تھا۔ سب نے کہا کہ یہ بچہ تو نیم پاگل ہو گیا۔ لیکن میرے ذہن پر ایک دھن سوار ہو چکی تھی کہ میں نے بھی فلموں کا کام کرنا ہے۔ وقت گزرا اور میں نے شاعری شروع کر دی۔ اس کے بعد اللہ کے فضل سے مجھے راولپنڈی میڈیکل کالج میں داخلہ مل گیا۔ اس کے بعد میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ آ گیا“ ۔

میں نے پہلی فلم بنائی

” میں نے اپنی پہلی فلم سان فرانسسکو پبلک لائبریری میں بیٹھ کر لکھی۔ فلم بنانا جان جوکھوں کا کام ہے۔ جب میں لوگوں کو بتاتا کہ میں ایک فلم بنانا چاہتا ہوں تو یہاں کے لوگ حیران ہو جاتے کہ یہ نوجوان تو پیشے سے ڈاکٹر ہے دوسری طرف اس کا شوق فلمیں بنانے کا بھی ہے۔ بہرحال میری پہلی فلم“ نائٹ آف حنا ”کی 2003 میں عکس بندی ہوئی۔ اکیڈمی ایوارڈ کے نامزد کیمرہ مین ہیرو نیریٹا نے میری فلم کی عکس بندی کی۔ جب عکس بندی ختم ہو گئی تو تدوین کے مراحل شروع ہوئے۔ یہ سب میرے لئے اتنا نیا تھا کہ فلم مکمل کرنے میں پورا سال ہی گزر گیا“ ۔

امریکی ماں جُولی ہَیلوَرسَن سے ملاقات

” میں ہر مہینے پاکستان میں ویسٹرن یونین کے ذریعے اپنی امی کو پیسے بھیجتا تھا۔ اس زمانے میں ویسٹرن یونین میں فون کر کے پیسے منتقل کیے جاتے تھے۔ ایک دن جب وہاں فون کیا تو کسی خاتون کی بہت شیریں آواز کانوں میں پڑی کہ میرا نام جُولی ہے، میں آپ کی کیسے مدد کر سکتی ہوں؟ میں نے انہیں پاکستان پیسے بھیجنے کا بتایا۔ انہوں نے باتوں باتوں میں کہا کہ وہ ماضی میں تھیٹر ڈائریکٹر تھیں اور انہوں نے بھارت سے کچھ اداکاروں کو یہاں ریاست ہائے متحدہ امریکہ اپنے تھیٹر میں بلوا کر ڈرامہ“ کتھا کلی ”پیش کیا تھا۔ میں تو حیران رہ گیا اور ان سے کہا کہ اگر آپ مناسب سمجھیں تو مجھے اپنا رابطہ نمبر دیجئے۔ جولی نے بلا جھجک نمبر دے دیا۔ پیسے تو میں نے بھیج دیے اور ہماری گفتگو بھی ختم ہو گئی“ ۔

”شام کو میں نے جولی کو فون کیا۔ ہم نے تقریباً 4 گھنٹے بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ 60 سال کی ہیں اور تھیٹر کا سلسلہ ختم کر کے اب ویسٹرن یونین میں کام کرتی ہیں۔ میں نے بھی بتایا کہ حال ہی میں، میں نے سان فرانسسکو میں اپنی پہلی فلم“ نائٹ آف حنا ”کی عکس بندی کی ہے اور اس وقت سخت مشکل میں ہوں کیوں کہ اس کی ڈسٹری بیوشن کے لئے بات بنتی نظر نہیں آ رہی۔ میں نے انہیں یہ بھی بتایا کہ میں ہالی ووڈ، لاس اینجلس میں سالانہ منعقد ہونے والی امریکن فلم مارکیٹ میں گیا تھا۔ میں نے وہاں سونی پکچرز، میرا میکس اور یونیورسل پکچرز سمیت کئی پارٹیوں سے بات کی لیکن دال نہیں گلی۔ یہ بھی بتایا کہ میں میڈیکل ڈاکٹر اور یہاں نیا ہوں۔

یہ سن کر جولی نے کہا حسن، تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ میں تمہاری مدد کروں گی۔ میں سوچتا رہ گیا کہ جب انسان مشکل میں ہوتا ہے تو اللہ پاک آپ کے لئے مدد بھیجتا ہے۔ جولی میرے لئے ایک فرشتہ بن کر آئیں۔ میں نے انہیں اپنی پوری کہانی سنائی تو وہ کہنے لگیں کہ تمہاری لگن اتنی سچی ہے کہ مجھے لگتا ہے کہ تم ایک دن اسٹار بن جاؤ گے۔ میں تمہاری ہر صورت مدد کروں گی۔ جولی نے جو مجھ سے وعدہ کیا اس کی ہمیشہ پاسداری کی اور بھرم رکھا ”۔

”میں جب بھی جولی کو فون کرتا وہ ہمیشہ بات کرتیں جو میری فلم کے بارے میں ہوتی کہ ہم نے اب کیا اور کیسے کرنا ہے۔ پھر انہوں نے مجھے اتنے مفید مشورے دیے جو کبھی کسی اور نے نہیں دیے۔ وہ میری زندگی کے ہر موڑ پر ایک راہنما تھیں۔ سب سے پہلی بات جو انہوں نے مجھے کہی کہ حسن، تم سان فرانسسکو اسٹیٹ یونیورسٹی چلے جاؤ۔ مجھے ان کی یہ بات سمجھ نہیں آئی۔ وہ خود بھی ایک ٹیچر تھیں جنہوں نے کالج میں انگریزی ادب اور تھیٹر پڑھایا۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں یہاں کام کرتا ہوں اس لئے میرے پاس اتنا وقت نہیں ہو گا کہ میں یونیورسٹی جاؤں۔ کہنے لگیں کہ حسن تمہیں تو وہاں جانا ہی پڑے گا۔ یہ بات تو میری سمجھ سے بالکل باہر تھی کہ مجھے یونیورسٹی دوبارہ کیوں جانا پڑے گا۔ البتہ اب مجھے کچھ سمجھ آنے لگا کہ یہاں فلم تقسیم کاروں سے کس طریقے سے بات کرنا چاہیے۔ یہ ساری باتیں مجھے جولی سمجھاتی تھیں“ ۔

میری امریکی ماں اور سان فرانسسکو اسٹیٹ یونیورسٹی

”آخر ایک دن وہ کہنے لگیں کہ میں اب کسی روز خود تمہارے پاس آ کر تمہیں سان فرانسسکو اسٹیٹ یونیورسٹی لے کر جاؤں گی۔ تو جناب، جولی ویسٹ ورجینیا سے 6 گھنٹے کی پرواز سے سان فرانسسکو آ گئیں۔ میں انہیں ہوائی اڈے لینے آیا اور پھر سان فرانسسکو اسٹیٹ یونیورسٹی لے گیا۔ یہاں ہماری ملاقات شعبہ فلم کے سربراہ مُوارٹا کنیاٹا سے ہوئی۔ میں نے اپنا تعارف کرایا اور اپنی فلم“ نائٹ آف حنا ”کا بتایا جو پہلی پاکستانی امریکن فلم ہے۔ وہ بہت متاثر ہوئے اور کہا کہ ہم آپ کی فلم کا پریمیئر سان فرانسسکو اسٹیٹ یونیورسٹی میں کریں گے۔ اس کی تشہیر بھی کریں گے۔ اس کے علاوہ شہر کے ممتاز اخبارات کو پریس ریلیز بھیجیں گے۔ کوشش ہو گی کہ آپ کی فلم کی تشہیر کے ساتھ اس پر مضامین بھی لکھے جائیں۔ جب میں نے مذکورہ فلم دکھائی تو انہیں بہت پسند آئی۔ کہنے لگے کہ یہاں کے طلباء کو یہ اچھی لگے گی۔ یوں میری پہلی فلم مذکورہ یونیورسٹی میں نمائش کے لئے پیش ہوئی“ ۔

خدا کی شان

”یہاں کی پریس ریلیز اور فلم سے متعلق مضامین میں نے ان اسٹوڈیوز کو بھیج دیے جنہوں نے میری فلم اس سے پہلے دیکھ کر مسترد کی تھی۔ خدا کی شان دیکھئیے کہ اب ان اسٹوڈیو والوں کے فون آنا شروع ہو گئے۔ سونی پکچرز کی نائب صدر برونَیلا لِیزی کا بھی فون آیا، کہا کہ حسن، میں نے تمہاری فلم کے بارے میں بہت چرچے سنے ہیں۔ ہم تمہاری فلم تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ میری تو خوشی کی انتہا نہ رہی۔ تب مجھے یاد آیا کہ جولی نے مجھے سان فرانسسکو اسٹیٹ یونیورسٹی کا راستہ دکھایا جہاں سے میری فلم کو ڈسٹری بیوشن ملی اور وہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے 30 شہروں میں ریلیز ہوئی۔ تقسیم کاری کے اخراجات برونَیلا لِیزی کی کمپنی لیومیناری اینٹرٹینمنٹ نے اٹھائے۔ میرے لئے یہ ایک اعزاز کی بات تھی۔ اس کامیابی کی روحِ رواں جولی ہیلورسن تھیں۔ اور میں ان کا یہ احسان زندگی بھر نہیں بھول سکتا“ ۔

میری کامیابی میں ماں جولی کا ہاتھ

” اس دن میں نے جولی کو کہا کہ آپ میری امریکن ماں ہیں۔ وہ بہت خوش ہوئیں۔ جولی اپنے بیٹے کے ساتھ میرے پریمیئر پر سان فرانسسکو آئیں۔ وہ مہمانِ خصوصی کے طور پر ہمارے ساتھ ریڈ کارپٹ پر چلیں۔ اس دن کے بعد میں ہر سنیچر جولی ماں کو فون کرتا۔ انہوں نے کبھی مجھ سے کسی چیز کی فرمائش نہیں کی“ ۔

”وہ ہمیشہ مجھے شفقت سے سمجھاتیں اور میں بالکل ان کے بیٹوں کی طرح تھا۔ جولی ماں کے 2 بیٹے اور ایک بیٹی تھی جن کو انہوں نے بتایا ہوا تھا کہ حسن بھی میرا بیٹا ہے۔ اس کے بعد میں نے جتنی بھی فلمیں بنائیں (کُل 7 فلمیں ) تو میں ہر فلم کے بارے میں ماں سے مشورہ کرتا تھا۔ وہ فون پر اسکرپٹ سنتیں اور ہمیشہ مشعل راہ بنیں۔ خواہ کیسی ہی مشکل ہو وہ میرے لئے حاضر تھیں۔ میں تو ماں کو ایک فرشتہ سمجھتا تھا جو اللہ پاک نے میری طرف بھیجا۔ میری زندگی اور فلمی دنیا میں کامیابی میں جولی ماں کا بہت بڑا ہاتھ ہے“ ۔

”جولی ماں ایک اور وجہ سے بھی میری مدد کرتیں۔ چوں کہ وہ فرسٹ ورلڈ کی خاتون تھیں چنانچہ بچپن ہی سے انہیں اپنے ماں باپ سے اختیار اور طاقت ملی تھی۔ اور جب میں نے ماں کو اپنی کہانی سنائی کہ ڈاکٹر بننے کے بعد میری پہلی جاب پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے برن یونٹ میں ہوئی۔ جس میں ایسی عورتیں بھی آتیں جن کی شادیاں ان کی اپنی مرضی سے نہیں ہوئیں یا جو بے اولاد تھیں ان کو مبینہ طور پر ان کے شوہر یا سسرال والوں نے جلا دیا تھا۔ ان میں 98 فی صد جلی ہوئی بھی ہوتیں۔ میں ان عورتوں کی دیکھ بھال کرتا تھا اور وہ مجھے آپ بیتیاں سناتیں۔ بعض نے تو بات کرتے کرتے میرے سامنے دم توڑا۔ اُس وقت میں نے اپنے آپ سے وعدہ کیا کہ میں انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھاؤں گا“ ۔

22 سال کا ساتھ

”جولی ماں کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی تھی کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ وہ کہتیں کہ اس موضوع پر تم ضرور کام کرو۔ میں تمہاری مدد کروں گی۔ ہم مل کے ایسی عورتوں کے حقوق پر فلمیں بنائیں گے۔ اگر آپ میری فلمیں دیکھیں تو ہر ایک فلم میں انسانی حقوق کی بات کی گئی ہے۔ دکھایا گیا ہے کہ ہم کس طریقے سے اُن کو اُن کے حقوق دے کر با اختیار بنا سکتے ہیں تا کہ وہ بھی مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہوں کیوں کہ گھر میں عورت کی بہت زیادہ اہمیت ہوتی ہے۔ جیسے میں ڈاکٹر بنا تو اس میں میری ماں کا بہت ہاتھ تھا۔ انہوں نے ایسا کردار ادا کیا جو میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ بالکل اسی طرح جولی ماں نے بھی میرے مستقبل اور میری زندگی میں اہم کردار ادا کیا جو ناقابل فراموش ہے۔ اسی لئے میں عورتوں کی جدوجہد اور کہانیاں اپنی فلمیں میں پیش کرتا ہوں جنہوں نے مجھے ایک ڈاکٹر، اچھا انسان اور ہدایتکار بنایا“ ۔

” ہر فلم میں عورت کا کردار ایک اہم جُز ہوتا ہے۔ جب میں یہ باتیں جولی ماں سے کرتا تو وہ بہت متاثر ہوتیں اور کہتیں کہ میں تمہارے اس جذبے کی قدر کرتی ہوں۔ تمہارے عزم کے لئے میں ان تھک محنت کرنے کے لیے تیار ہوں۔ اس وجہ سے وہ ہمیشہ میرے ساتھ ہوتیں۔ ہماری یہ دوستی 22 سال تک رہی“ ۔

” میں نے فلم“ نائٹ آف حنا ”کے بعد فلم“ بائی سائیکل برائڈ ” ( 2010 ) بنائی۔ اس فلم میں ایک لڑکی بائی سائیکل چلاتی ہے لیکن اس کے ماں باپ بہت پریشان ہیں کہ ہماری بیٹی مسلمان ہو کر سائیکل چلانا چاہتی ہے۔ چلو ہم اس کی شادی کر دیتے ہیں۔ پھر یہ خود ہی ٹھیک ہو جائے گی۔ وہ کامیڈی فلم تھی جو بہت مقبول ہوئی۔ اس نے بیسٹ فیچر فلم کا ایوارڈ حاصل کیا۔ اس پر ماں بہت خوش ہوئیں۔ میں نے“ گڈ مارننگ پاکستان ” ( 2018 ) پاکستان جا کر بنائی۔ اس میں بھی ایک بچی زیادتی کے بعد قتل کر دی جاتی ہے اس کی روح آج تک تمام دنیا کو کہہ رہی ہے کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ یہی“ گڈ مارننگ پاکستان ”کا پیغام تھا۔ ماں یہ فلم دیکھ کر بے حد خوش ہوئیں۔ انہوں نے اپنے بچوں کو بھی یہ فلم دکھائی۔ میری تمام بننے والی فلموں کے اسکرین پلے کا ایک ایک لفظ جولی ماں بڑے غور سے فون پر سنتیں کیوں کہ یہ فلمیں خود ان کے لئے بھی بہت زیادہ اہم تھیں۔ وہ اس عزم میں میرے ساتھ ساتھ تھیں“ ۔

ماں سے آخری گفتگو

”میں 15 جنوری 2026 کو نیویارک اپنی آٹھویں فلم کے سلسلے میں ایک پروڈیوسر سے ملاقات کرنے پہنچا۔ یہاں پہنچتے ہی ماں کو فون پر اپنی آمد کا مقصد بتایا۔ وہ اب بھی مجھ سے ماں کی طرح سوال کر رہی تھیں کہ کیا تم نے پروڈیوسر کے لئے سوالات یاد کر لئے؟ کیا تم مکمل طور پر تیار ہو؟ میں نے جواب دیا کہ ماں آپ نے مجھے زندگی میں جو سکھایا ہے میں اس کی روشنی میں بالکل تیار ہوں۔ وہ میری بات سن کر بہت خوش ہوئیں۔ انہیں یہ سننا اچھا لگتا کہ میں نے جو سیکھا اُن سے سیکھا ہے۔ مجھ سے پوچھنے لگیں کہ تمہاری ساتویں فلم“ پوزیشن آف مارا ” ( 2025 ) کا پریمیئر کیسا رہا؟ وہ پریمیئر میں نہیں آ سکیں تھیں کیوں کہ اب ان کی عمر 82 سال ہو چکی تھی۔ میں نے بتایا کہ وہ بہت زبردست تھا۔ اس میں 300 سے زیادہ لوگ آئے۔ ہمارے پاس بالی ووڈ ڈانسرز بھی تھے۔ فلم کے بعد اداکاروں سے سوال جواب کا سلسلہ بہت مزیدار تھا اور وہ شام بہت حسین تھی۔ ماں خوش ہو کر کہنے لگیں کہ تم کل پرسوں وقت نکال کے ضرور مجھ سے ملنے آنا۔ نیویارک سے نیوجرسی کا سفر تقریباً 2 گھنٹے کا ہے۔ میرا پکا ارادہ تھا کہ میں صبح ماں سے ملنے جاؤں گا۔ جب ہم فون پر بات کر رہے تھے تو میں نے اُن سے کہا کہ آپ سے میری 22 سال کی دوستی ہے۔ یہ ایک بہت بڑا رشتہ ہے اور میں اس کی بہت قدر کرتا ہوں۔ جولی ماں کہنے لگیں کہ میں بھی تمہارے جذبے اور محبت کی قدر کرتی ہوں۔ پھر ماں نے کہا کہ اللہ تمہارا حامی اور ناصر ہو اور میں نے فون رکھ دیا“ ۔

جولی ماں میرے لئے فرشتہ

”اگلی صبح جب ملاقات سے فارغ ہو کر ماں کو فون کیا۔ انہوں نے فون نہیں اٹھایا۔ تھوڑی دیر بعد مجھے ان کے بیٹے بروس نے فون پر بتایا کہ جولی ماں آج صبح اللہ کو پیاری ہو گئیں۔ اور رات جو ان سے فون پر بات ہوئی تھی وہی اُن سے میری آخری ملاقات تھی۔ میں ہی وہ آخری شخص تھا جس سے جولی ماں نے بھی فون پر اپنی آخری گفتگو کی تھی۔ پھر جولی ماں اپنی نئی منزل کی جانب روانہ ہو گئیں“ ۔

”میں سوچتا ہی رہ گیا کہ جولی ماں میری خاطر ایک فرشتہ بن کر اس دنیا میں آئی تھیں۔ میری اپنی والدہ 2017 میں اللہ میاں کو پیاری ہو گئی تھیں۔ تو اب میری امریکن اماں بھی اللہ کو پیاری ہو گئیں۔ میری آنکھوں میں آنسو آ گئے کہ اب کون میرا فون اٹھائے گا اور کون مجھ سے باتیں کرے گا۔ لیکن پھر میں سوچتا ہوں کہ موت تو ہر انسان کو آنی ہے لیکن ساری اچھی باتیں اور نیکیاں جو ہم دوسروں کے ساتھ کرتے ہیں وہ ہمیشہ اس دنیا میں رہیں گی۔ اور جو کچھ جولی ماں نے مجھے سکھایا ہے وہ مرتے دم تک میرے ساتھ رہے گا“ ۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW