گوشہ ادبمیرے مطابق

خاص و عام میں مقبول ٹی وی پروگرام: پاکستان آئیڈل

shahid lateefa

آج کل ہمارے ہاں، پاکستان آئیڈل کے بہت چرچے ہیں جسے ہر عمر کے لوگ دلچسپی سے دیکھ رہے ہیں۔

اس سلسلے کا مقصد

پاکستان بھر سے نئے گلوکاروں کو تلاش کرنا ہے۔ آئیڈل شو کا آئیڈیا فلر اور لیتھگو نے پیش کیا تھا جو نیوزی لینڈ کے ریئلٹی شو، پاپ اسٹارز سے متاثر تھا۔ اسے سائمن فلر 19 انٹرٹینمنٹ اور فریمینٹل میڈیا 2001 میں سامنے لائے۔ آئیڈل ایک فرنچائز ہے۔ یعنی کسی دوسرے ادارے کا نام اور بزنس ماڈل استعمال کرنے کا حق حاصل کرنا جیسا کہ میکڈونلڈ۔ ایسا ہی پروگرام ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں امریکن آئیڈل کے نام سے اور بھارت میں انڈیا آئیڈل کے نام سے ہوتا رہا ہے جس کا ہمارے ہاں بھی بہت چرچا تھا۔

فرنچائز کے حقوق فریمینٹل میڈیا کے پاس ہیں۔ اسی کے زیرِ انتظام پوری دنیا میں اس کے لائسنس جاری ہوتے ہیں جو پھر اپنے اپنے علاقوں میں یہ پروگرام پیش کرتے ہیں۔

پاکستان آئیڈل کی ابتدا

جیو ٹی وی نے 2007 کے اوائل میں پاکستان آئیڈل کے حقوق حاصل کر لیے تھے لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر پروگرام کی تیاری کا عمل چند سال بعد شروع ہوا۔ اس وقت پروگرام کے ججوں میں گلوکارہ حدیقہ کیانی، جنون گروپ کے علی عظمت اور گلوکارہ و اداکارہ بشریٰ انصاری شامل تھے۔ اداکار محب مرزا شو کے میزبان تھے جب کہ اس کا پہچان گیت علی ظفر نے گایا۔ پروڈکشن کا باضابطہ آغاز 19 ستمبر 2013 میں ہوا۔ یہ شو 6 دسمبر 2013 کو پہلی دفعہ نشر ہوا۔

پاکستان آئیڈل کی تجدید

جولائی 2025 میں طے ہوا کہ پاکستان آئیڈل میں اداکار فواد خان، بلال مقصود، راحت فتح علی خان اور زیب بنگش جج کے فرائض سرانجام دیں گے۔ 4 اگست 2025 کو پاکستان آئیڈل کے سیزن 2 کے باقاعدہ 2 عدد تشہیری ویڈیو جاری کیے گئے۔ راحت فتح علی خان کو کون نہیں جانتا۔ بلال مقصود بھی موسیقی اور ٹی وی پروگراموں کے جانے پہچانے فنکار ہیں۔ مشرقی موسیقی میں زیب بنگش کی تربیت صدارتی تمغہ حسنِ کارکردگی یافتہ استاد مبارک علی خان صاحب نے کی۔ انہوں نے آل پاکستان میوزک کانفرنس کا چھٹا لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ بھی حاصل کیا تھا۔ زیب نے ان سے گائیکی کے اصول اور راگ راگنیوں کے رموز سیکھے۔ یہ مختصر اور سلجھا ہوا کام کرنے والی آرٹسٹ ہے۔ زیب نے کوک اسٹوڈیو میں بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا ہے۔ پاکستانی سنیما میں اداکارہ ماہرہ خان پر زیادہ تر گانے زیب کی آواز میں فلمائے گئے۔ لوگوں میں مشہور تھا کہ یہ گانے تو ماہرہ ہی نے صدا بند کروائے ہیں۔

پاکستان آئیڈل کی موجودہ ٹیم

پاکستان آئیڈل کے موجودہ پروڈیوسر میڈیا کی ایک مشہور شخصیت بدر اکرام ہیں۔ یہ جیو میں اچھی پوزیشن میں رہے اور ہم فلمز کی سربراہی بھی کی۔ واضح ہو کہ پاکستان آئیڈل کا بنیادی خیال فریمینٹل میڈیا کا ہے جو پوری دنیا میں ایک ہی انداز سے پیش کیا جاتا ہے۔ اس کے تمام آڈیشن اور گلوکاروں کی کھوج اور پھر ریہرسلوں کی نگرانی تنویر آفریدی نے کی۔ یہ موسیقی اور ای ایم آئی کے حوالے سے ایک عالم میں جانے پہچانے ہیں۔ انہوں نے پورے پاکستان میں موسیقی کے ماہرین کی منتخب کمیٹیاں بنانے میں بلا شبہ کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ شو کا متن اور مواد پوری ٹیم نے مل کر وضع کیا۔ ای ایم آئی سے وابستگی کی وجہ سے

گانوں کے انتخاب میں بھی تنویر آفریدی کا کلیدی کردار رہا۔ پاکستان آئیڈل کے ساؤنڈ ریکارڈسٹ اسحاق نذیر ہیں۔ ان پروگراموں میں ہر ایک گیت میں اسحاق کی محنت بولتی نظر آتی ہے۔ مذکورہ پروگرام کے میوزک پروڈکشن کے نگران شجاع حیدر ہیں ان کے کام پر کچھ کہنا سورج کو چراغ دکھانا ہو گا۔ نئے فنکاروں کے گانوں کو مزید نکھارنے اور مناسب راہنمائی کے لئے بھی ایک خصوصی شعبہ رکھا گیا جو ٹیلنٹ ڈویلپمنٹ گرومنگ کہلاتا ہے۔ اس اہم ترین شعبے کی سربراہی بھی تنویر آفریدی کے پاس ہے۔ آسان الفاظ میں تنویر آفریدی ٹیلنٹ ڈویلپمنٹ ڈائریکٹر ہیں۔ طلال ہیڈ آف پروڈکشن ہیں۔ اس پراجیکٹ کے مجموعی

ڈائریکٹر ندیم جے ہیں۔ یہ لکس ایوارڈ، عمر شریف شو اور دیگر ملٹی اسٹار خصوصی پروگراموں کے تجربہ کار ہدایتکار ہیں۔ ندیم ہمارے ملک کی معروف ریڈیو اور فلم گلوکارہ نسیمہ شاہین کے بیٹے ہیں۔ ان کے والد حشمت جعفری ریڈیو پاکستان کراچی کے سینئر افسر تھے۔ میں نے موسیقی میں اپنے استاد لال محمد اور بلند اقبال (المعروف لال محمد اقبال) صاحبان کی دھنوں پر نسیمہ شاہین صاحبہ کو خود ریہرسل کرتے دیکھا اور سنا ہے۔ میری ندیم کے والد حشمت جعفری صاحب سے بھی 1965 سے 1969 تک ریڈیو پاکستان کراچی میں دعا سلام رہی۔

بی بی سی اردو کی رباب بتول اور پاکستان آئیڈل

آج کل پاکستان آئیڈل، وہ باصلاحیت فنکار سامنے لا رہا ہے جو راحت فتح علی خان، بلال مقصود اور زیب بنگش جیسے دنیائے موسیقی کی شخصیات کے سامنے اپنا لوہا منواتے ہیں۔ اس پروگرام کے منتظمین یہ دعویٰ تو کرتے ہیں کہ اس شو نے کئی نئے فنکاروں کو پاکستانی میوزک انڈسٹری میں قدم جمانے کا موقع فراہم کیا ہے۔ اس بات میں کتنی صداقت ہے یہ معلوم کرنا باقی ہے۔ اس معاملے پر بی بی سی اردو کی رباب بتول کی 13 اکتوبر 2025 کی ایک تحریر نظروں سے گزری۔ وہ کہتی ہیں کہ موجودہ سیزن کے پروگراموں میں چند نئی تبدیلیاں کی گئیں جیسے آن لائن آڈیشنز کا ہونا جس سے خواتین کی شرکت واضح طور پر بڑھی۔ پھر پاکستان وہ پہلا مُلک بنا جہاں فریمینٹل نے شو کو ایک سے زیادہ چینلز پر دکھانے کی اجازت دی۔ رباب کے مطابق بدر اکرام کا کہنا ہے کہ اس فرنچائز کا پاکستان میں آنا کوئی چھوٹی بات نہیں اور ہماری انڈسٹری پر بڑی کمپنیوں اور اداروں کا بڑھتا ہوا اعتماد ہے۔

پہلے سیزن میں کامیاب ہونے والے آج کہاں ہیں؟

پاکستان آئیڈل کے رواں سیزن میں شو کی انتظامیہ گو یہ کہہ رہی ہے کہ فائنل جیتنے والے / والی کو پاکستان آئیڈل کے ٹائٹل کے علاوہ انعامی رقم دی جائے گی اور اس کے ساتھ ریکارڈنگ کا معاہدہ بھی کیا جائے گا۔ ایسی ہی بات سیزن ون کی انتظامیہ نے بھی کہی تھی لیکن افسوس کہ نہ تو نو من تیل ہوا اور نہ ہی رادھا ناچی۔ پہلے پچھلے سیزن کے فائنل راؤنڈ میں آنے والوں کی بھی سنیں کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ پاکستان آئیڈل کے پہلے سیزن کے کامیاب شرکا اس وقت موسیقی کی صنعت میں کہاں کھڑے ہیں؟ اس شو سے کیا ان کے خوابوں کو تعبیر ملی؟

اس سلسلے میں رباب بتول نے سیزن ون میں حصہ لینے والے چند شرکا سے بات چیت کی۔ ’ٹاپ فائیو‘ تک پہنچنے والی روز میری مشتاق کا کہنا ہے کہ انھیں ویسی پہچان اور مواقع نہیں ملے جیسے دوسرے ممالک کے آئیڈلز میں ملتے ہیں۔ انہیں ویسی پذیرائی بھی حاصل نہیں ہوئی جیسی ’امریکن آئیڈل‘ یا ’انڈین آئیڈل‘ کے شرکا کو ملتی ہے، جس کے بعد وہ فلمی دُنیا میں قدم رکھتے ہیں اور پلے بیک سنگنگ اور کنسرٹس کرتے ہیں۔ یہاں ہم نے آئیڈل کے بعد جو بھی کیا اپنے بل بوتے پر ہی کیا۔ پاکستانی میوزک اور فلم انڈسٹری کی طرف سے کوئی خاص ردِعمل، رہنمائی یا حمایت حاصل نہیں ہوئی۔ روز میری مشتاق کا کہنا تھا کہ پاکستان کی میوزک انڈسٹری میں تقریباً سب ایک دوسرے کو جانتے ہیں اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہو گا کہ کسی کو آپ کے بارے میں علم نہیں۔ ہم سے وعدے کیے گئے تھے کہ فائنل میں پہنچنے والوں کو ٹورز اور شوز پر لے جایا جائے گا مگر ایسا نہ ہو سکا۔ روز نے مزید کہا پاکستان میں ایسے شوز ضرور ہونے چاہئیں۔ بات ہار جیت کی نہیں ہوتی۔ آپ بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ تاہم اب کی مرتبہ پاکستان آئیڈل کے پروڈیوسر بدر اکرام نے کہا کہ آخری تین فائنلسٹس کو ایک انٹرنیشنل لیبل کے ساتھ ریکارڈ ڈیل ملے گی۔ البمز، ویڈیوز اور کنسرٹس کے مواقع بھی دیے جائیں گے۔

سیزن ون کے فائنل میں پہنچنے والے وقاص علی وکی کے مطابق پاکستان میں گلوکاروں کے پاس زیادہ مواقع نہیں۔ پرائیویٹ یا کارپوریٹ ایونٹس یہاں ہوتے ہی نہیں۔ وقاص نے رباب کو بتایا کہ پاکستان آئیڈل میں کامیاب ہونے کے بعد بھی ہر فنکار کو اپنا راستہ خود بنانا پڑا۔ ان کے مطابق پاکستان کی میوزک انڈسٹری میں مواقع بہت کم ہیں۔ ہماری توقع کے مطابق ہمیں مناسب موقع نہیں ملتا۔

سید ساجد عباس سیزن ون میں ٹاپ 13 تک پہنچے تھے۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اب ایڈورٹائزنگ کے شعبے میں ہیں۔ انھوں نے کچھ ڈراموں کے اوریجنل ساؤنڈ ٹریک گانے کے ساتھ ساتھ اشتہارات میں بھی گلوکاری کی ہے۔ ساجد کے مطابق پاکستان آئیڈل جیسے شوز شرکا میں خود اعتمادی پیدا کرتے ہیں اور سیکھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں جس سے بہتری آ سکتی ہے۔

کیا پاکستان آئیڈل طویل عرصے کامیابی سے چل سکتا ہے

کیا ہمارے ملک کے موجودہ حالات میں پاکستان آئیڈل طویل عرصے تک کامیابی سے چل سکتا ہے؟ اس سوال پر پروڈیوسر بدر اکرام پُرامید ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انہیں آڈیشنز اور پروموشن مہم میں جو رد عمل ملا ہے اُس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اس شو میں لوگوں کی دلچسپی بہت زیادہ ہے۔ بدر نے یہ بھی کہا کہ اس سیزن میں وفاقی اور صوبائی حکومت اور نجی اداروں نے بھرپور تعاون کیا۔ زیب بنگش کا کہنا تھا کہ جیسے جیسے یہ سلسلہ آگے بڑھے گا ویسے ویسے گلوکاروں کے لیے مواقع بھی بڑھیں گے۔ ابھی تو صرف دوسرا سیزن ہے لیکن آپ یہ بھی سمجھ سکتے ہیں کہ ایک لمبے وقفے کے بعد ایک طرح سے یہ پہلا ہی سیزن ہے۔

تمام گلوکار اپنی اہلیت کی بنا پر منتخب ہوتے ہیں

پاکستان آئیڈل میں ٹی وی اسکرین پر آنے والے تمام گلوکار اپنی اہلیت کی بنا پر منتخب ہوئے اور اگلے مرحلے میں گئے۔ سب ہی نئے گلوکاروں نے اپنی بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ اب کس کا ذکر کروں کس کا نہیں؟ البتہ کچھ بچوں کا ذکر کرنا اس لئے ضروری ہے کیوں کہ ان کا تعلق موسیقی کے گھرانوں سے ہے لیکن میرے معتبر ذرائع نے تصدیق کی کہ ان سب کو بھی دوسروں

کی طرح خالص اپنی اہلیت کی بنا پر بہت سخت آڈیشنوں اور کڑے مراحل سے گزرنا پڑا تب کہیں جا کر یہ اگلے مرحلے میں جا سکے۔ نیز یہ کہ ان کے خاندان کا ان کے انتخاب یا آگے بڑھنے سے کوئی تعلق یا اثر و رسوخ نہیں تھا۔ ان میں ایک روحان عباس ہے جو

گلوکار شوکت علی کے قریبی عزیزوں میں سے ہے۔ ان کے والد بہت بڑے ہارمونیم نواز تھے۔ پھر طرب نفیس جو معروف ستار نواز نفیس صاحب کی دختر، استاد فتح علی خان صاحب کی پوتی اور استاد رئیس خان صاحب کی بھتیجی ہے۔ ایک لڑکا وقار حسین ٹاپ 16 میں پہنچا جو ستار فیملی سے ہے۔ اس کے والد کراچی کے معروف ستار نواز امداد حسین ہیں جن کے بڑے بھائی

فدا حسین تھے۔ امداد نے پاکستان ٹیلی وژن کراچی مرکز میں میرے موسیقی کے مختلف پروگراموں میں موسیقار کریم شہاب الدین المعروف کریم بھائی کے ترتیب دیے ہوئے انٹرول میوزک اور بار پیس بجائے ہیں۔ اس وقت یہ ریکارڈنگ میں نیا آیا تھا اور بہت محنت سے کام کرتا تھا۔ جس لگن سے امداد نے اپنے بڑے بھائی سے موسیقی کی تربیت حاصل کی یقیناً اسی لگن سے اس نے آگے وقار کو منتقل کی ہو گی۔ لہٰذا ان بچوں کا موسیقی کے گھرانوں سے تعلق ضرور ہے لیکن یہ بچے میرٹ پر منتخب ہوئے ہیں۔

آخری بات

میں نے پاکستان آئیڈل کے متعلق مختلف جگہوں سے تحقیقات کیں نیز متعلقہ لوگوں سے براہِ راست بھی گفتگو کی۔ مجھے پاکستان آئیڈل کے بارے میں متضاد معلومات حاصل ہوئیں۔ ایک جگہ انعامات کا ذکر ہے تو دوسری جگہ اس کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آئیڈل ایک پلیٹ فارم ضرور ہے لیکن اس کے بعد گلوکار کو خود ہی اپنی منزل تلاش کرنا پڑتی ہے۔ جب کہ زیب بنگش کا کہنا تھا کہ مسائل تو ہیں اور ان کا سامنا صرف نئے فنکاروں کو ہی نہیں بلکہ ہمیں بھی کرنا پڑتا ہے۔ وقت پر ادائیگیاں نہ ہونا، مناسب نمائندگی کا نہ ملنا۔ یہ آنے والوں کے لیے ایک موقع ہے۔ اس کے بعد ہر کسی کو خود اپنی جگہ بنانا ہو گی۔ پاکستان آئیڈل کے جج راحت فتح علی خان کہتے ہیں کہ ہم نے یہاں آنے والے فنکاروں کو ایک پلیٹ فارم دے دیا، اب اس کے بعد ان کی اپنی پرواز ہو گی۔ میوزک کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان میں فلم انڈسٹری کی بحالی ضروری ہے۔ فلمیں ہوں گی تو ان گلوکاروں کو بھی گانے کا موقع ملے گا۔ جب کہ دوسری طرف مجھے یہ اطلاع ملی کہ شو کا فائنل جیتنے والے کو پاکستان آئیڈل کے ٹائٹل کے علاوہ انعامی رقم دی جائے گی اور اس سے ریکارڈنگ کا معاہدہ بھی کیا جائے گا۔

پاکستان آئیڈل کے رواں سیزن کی انتظامیہ میں سب ہی اپنے اپنے شعبے کے ماہر ہیں لہٰذا پاکستان آئیڈل دیکھنے والے امید کرتے ہیں کہ جیتنے والے خوش نصیبوں کو وہ سب کچھ دیا جائے گا جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW