کالم۔گوشہ ادب

ایک تھی خیرو!

(شخصی خاکہ: یادیں)

jami chandio

(سندھی افسانے کا ایک باکمال نام اور بیحد یگانہ انسان۔ آج ان کی اٹھائیسویں برسی ہے)

زندگی میں آگے دیکھتے رہیں تو وقت کا احساس ہی نہیں رہتا، یوں لگتا ہے جیسے وقت آگے بڑھتا ہی نہیں۔ زندگی محض ایک انتظار اور تشنگی بن کر رہ جاتی ہے۔ مگر جب کوئی یاد، کوئی بچھڑا ہوا چہرہ، کوئی گزرا ہوا لمحہ یا حادثہ، کوئی رہ گئی کسک، ماضی کی ادھوری قدمیں اچانک دل کو چھوتی اور چبھوتی ہیں اور انسان کو پیچھے مڑ کر دیکھنے پر مجبور کر دیتی ہیں، تو بے اختیار ایک گہری افسردہ آہ نکل جاتی ہے۔ ہائے! زندگی تو بس پلک جھپکنے کا کھیل ہے—چند یادوں، حادثوں، ناکامیوں اور کامیابیوں، خواہشوں، وفاؤں اور بے وفائیوں، حسرتوں اور ادھورے رہ جانے والے خوابوں اور کسی ان کہی بے بسی و اداسی کا نام۔ انسان کی حیات تو بس کبھی خود بہ خود اور کبھی حالات کے جبر سے لگائی گئی چند شعوری اور لاشعوری چھلانگیں ہی تو ہیں۔ بچپن دھندلے خواب کی طرح پل بھر میں گزر جاتا ہے۔ مظلوم طبقات کے بچوں میں سے بہت سوں کو تو بچپن ملتا ہی نہیں۔ آزادیوں، خوشیوں اور آسودگیوں کے بغیر کیسا بچپن! اس نمک زار معاشرے میں آدمی پیدا ہوتے ہی بڑھاپے میں داخل ہو جاتا ہے۔ بچپن کی بے فکری اور لاابالی پن بہت کم نصیب ہوتے ہیں۔ غریب کے گھر بچہ یعنی کمانے والے دو ہاتھ، بس یہی کُل کہانی ہے، انکا کیسا بچپن! دوسری چھلانگ لاپروا جوانی میں اور تیسری میں آدمی بڑھاپے سے ہوتا ہوا پھر گویا بچپن میں پہنچ جاتا ہے؛ فرق بس یہ کہ بچپن میں زندگی سراپا جوش ہوتی ہے اور بڑھاپے میں محض ایک بوجھ!

آنکھیں بند کر کے تصور کی آنکھ سے پیچھے دیکھتا ہوں تو بچھڑے ہوئے پیاروں کو یاد کر کے روح کانپ اٹھتی ہے—دل ماننے کو تیار نہیں کہ سندھ کی ہمہ وقت تصنع سے مبرا یگانہ کہانی کار اور ادیبہ خیرالنساء جعفری، میری آپا خیرو کو اس دنیا سے رخصت ہوئے اٹھائیس برس بیت چکے ہیں۔ یقین نہ آیا تو فون کر کے ان کی بیٹی صائمہ سے پوچھا؛ اس نے بھی تصدیق کی۔ زندگی میں بے شمار لوگ ملے، آئے گئے—مگر میری آپا خیرو صرف اس سندھ میں ہی نہیں، اس کائنات میں ایک ہی تھی۔ لطیف نے کہا تھا:

“مٹی اس خمیر کی، اصل تھی اتنی!”

سچ ہے، اس کائنات میں معصومیت، زندھ دلی اور اور وجود کی شوخی کی مٹی بس اتنی ہی تھی جسے گوندھ کر اس سے ہماری آپا خیرو بن سکی۔ لاکھوں کروڑوں اربوں میں ایک، خیرو! آپا خیرالنساء جعفری سے میرا رشتہ محض دوستی کا نہیں، ہزاروں کیا ان گنت دلوں اور جنم جنم کا تھا۔ جاتے جاتے مجھ پر ایک بڑا احسان کر گئیں، اپنی بیٹی صائمہ سے کہا: “میرے بعد تمہارا بڑا جامی ہے!” آج صائمہ خود بچوں والی ہے، مگر اس کا میکہ میرا ہی گھر ہے اور اس جہان میں وہ صرف مجھے ہی اپنے گھر کا بڑا مانتی ہے.

خیرالنساء جعفری، بس نام ہی کافی ہے۔ بھلا سندھ میں کون نہیں جانتا “تخلیق کا موت”، “67، 68، 69” اور “حویلی سے ہاسٹل تک” جیسی بے باک کہانیوں کی اس خالق کو! ایک زمانہ تھا کہ حیدرآباد کی کوئی ادبی محفل ان کے بغیر سونی ہوتی تھی. کسی تقریب کی کامیابی کے لیے دعوت نامے پر ان کا نام ہی کافی تھا۔ وہ بولتیں تو ہال قہقہوں سے گونج اٹھتا، پھر اچانک ایسی بات کہہ جاتیں جو دل کو چھو کر سوچ میں ڈال دیتی۔ میں بھی انہیں خیرو کہتا تھا؛ نصیر مرزا سے لے کر ٹنڈو ولی محمد کے موالی اور فقیر انہیں “ادی گُڈی” کہتے۔ ایک وقت تھا کہ حیدرآباد میں وہ میرے لیے سب کچھ تھیں، رازدار دوست، بے تکلف سہیلی اور ماں جیسی مہربان ہستی۔ میں ان کے بغیر اپنی نوجوانی کے حیدرآباد کا تصور بھی نہیں کرسکتا.

عبدالقادر جو نیجو نے ٹھیک کہا تھا، “گُڈی، خیرو اور خیرالنساء جعفری-ایک ہی انسان، ایک ہی وجود، تین نام۔ جس نے جیسے دیکھا، ویسا نام رکھ دیا۔” خیرو کو بیان کرنا الفاظ سے باہر ہے۔ ان کی شخصیت کا ایک انوکھا کھٹا میٹھا اور تلخ ذائقہ تھا۔ ایک وجود میں کئی روپ. ہر روپ دوسرے سے زیادہ نرالا۔ بے ریا، زندہ دل، ہر ایک کو منہ پر سچ کہنے والی۔ بن آئی تو طنز کے تیر چلانے میں دریغ نہ کرتیں؛ اور اگر خود کو لگتی تو دشمن کا بھی وار نہ جانے دیتیں—مگر بدلہ بھی معصومانہ۔ سندھ یونیورسٹی میں خیرو، تنویر جونیجو اور لیلیٰ بانا کا تین سہیلیوں گروپ مشہور تھا۔ سندھ یونیورسٹی میں سندھی شعبہ میں ڈاکٹر عبدالجبار جونیجو سے ان کے شوخ مکالمے زبان زدِ عام تھے۔ ٹنڈو ولی محمد میں ایک پڑوسن کا نام انہوں نے “ادی بھَڑوی” رکھ دیا، آپا خیرو کے توسط سے وہ میری بھی دوست بن گئی؛ ایک بہت ہی معزز اور زندھ دل خاتون، اسے خیرو کی گالیاں بھی عزیز تھیں! خیرو دیکھنے میں نہایت سادہ—چولہے پر صندلی پر بیٹھ کر کھانا پکاتیں تو گویا کوئی ان پڑھ دیہاتی عورت ہوں؛ مگر لکھت یا گفتگو میں ایسا ہنر اور کاٹ کہ کوئی ان سے سیکھے۔ کم لکھا مگر ایسا مقام بنا گئیں کہ سندھ میں کہانی کا تخلیقی ہنر آج بھی ان کے ذکر کے بغیر ادھورا ہے۔ نفسیات کی استاد تھیں، مگر ایک موڑ پر خود بھی جنون کی کیفیت سے گزریں—وہ جنون جو دل کے فقیر بادشاہوں کے حصے میں آتا ہے۔ آج کل مصنوعی درویشوں کی کمی نہیں ہے لیکن سچ کہوں تو وہ سندھ کی حقیقی درویش صفت انسان تھیں۔

اس دوغلے سماج میں، جہاں لوگ دوسروں سے ہی نہیں خود سے بھی سامنا کرنے کی جرات نہیں رکھتے، خوش فہمیوں کے جال بنتے اور پھر انہی میں الجھتے ہیں—خیرو اندر اور باہر سے ایک جیسی تھیں۔ جھوٹ، فریب اور دغا ان کے بس میں ہی نہ تھا۔ عبدالقادر جونیجو لکھتے ہیں کہ خیرو جیسی دوست دنیا میں ملنا مشکل ہے—اور میں خوش نصیب تھا کہ وہ میری دوست تھیں۔ میں حیدرآباد میں ہوتا تو ہر دو تین دن میں ملاقات لازمی ہوتی؛ ذرا وقفہ پڑ جاتا تو گھر میں اُٹھتے بیٹھے بیٹھے گالیاں—اور صائمہ سے کہتیں: “وہ مردود نامراد جامی کہاں گم ہے، آئے تو خبر لیتے ہیں!” میں آتا تو سیڑھیوں کی آہٹ سے پہچان لیتیں—ساری ناراضی غائب۔ بیٹھتے ہی پوچھتیں: “چائے کیسی پیو گے؟ سرخ یا دودھ والی؟” اور پھر کھانے کا پرتکلف اہتمام! خیرو کھانے کی شوقین بھی تھیں اور کھلانے کی بھی—کیا کیا پکاتیں: جھینگوں کا سندھی پلاؤ، بھنا ہوا پلا، مچھلی کی بھنی ہوئی انڈیاں، بکری کے مغز کے کرارے پکوڑے، دیسی مرغ کی بادام میں کڑھائیاں…خود مشکل سے ایک دو نوالے کھاتیں باقی ہمیں کھلا کے خوش ہوتیں. ان کے والد بھی بڑے شوقین تھے—کھانے کے بعد چائے کے ساتھ بمبئی بیکری کے بسکٹ اور کیک کے سوا کچھ نہ کھاتے۔ان کا آخری وقت تھا، بول نہیں سکتے تھے، اشارے سے آپا خیرو کو چائے کے ساتھ بسکٹ کے لیے کہا. خیرو کہاں سے لاتیں اس وقت بمبئی بیکری کے بسکٹ؟ نیچے دوکان سے منگا کر موں میں بسکٹ چائے میں ڈبوئے کھالایا تو بسکٹ تھوک دیا، اشارے سے کہا بسکٹ بمبئی بیکری کا نہیں، مجھے کہتی ہیں اس “حرامی” کو اس وقت بھی بمبئی بیکری کا بسکٹ چاہیے. محبت میں گالی کھینچ کے نہ دیں تو خیرو کیسے کہلائیں؟ ایسی افسانوی باتیں تو صرف شیرین کارنر میں ہی ہو سکتی تھیں. ہماری آپا خیرو کا گھر جو تھا۔

ٹنڈو ولی محمد میں ان کا گھر “شیرین کارنر” محض مکان نہیں، ایک پورا جہان تھا۔ مہمانوں کو کھانا چائے، دوستوں کو گالیاں، پڑوسنوں کو سفید پان کی بیڑیاں، اور محلے کے کتوں کو بھی تَوے سے اتری گرم روٹیاں۔ وقتِ طعام پر کتے سیڑھیوں میں بیٹھ جاتے—جانتے تھے کہ یہاں خالی ہاتھ واپسی عیب ہے۔ مادّی لالچ سے کوسوں دور—نہ شہرت کی ہوس، نہ دولت کی۔ کرسی انہیں عذاب لگتی—گھر میں جھولا یا صندلی، یونیورسٹی میں چیئرپرسن بنیں تو استعفا دے کر ہی چین آیا۔ بس زعفران والی سرخ چائے ان کی کمزوری تھی۔

بچپن میں انہیں “گُڈی” کہتے تھے—اور واقعی اندر سے آخری دم تک گُڈی یعنی گڑیا ہی رہیں۔ بڑے مسائل کو نظرانداز کرنا، چھوٹی باتوں پر پریشان ہونا، بچوں کی طرح خوش، دوستی میں دغا پر درگزر انکا شعار رھا. سامنے کچھ نہ کہہ سکتیں، تنہائی میں گالیاں—اور پھر ہلکی پھلکی۔ محبتیں بے شرط، جھگڑے بھی کھلے عام—مگر دونوں میں داستانوی رنگ۔ ماموں حمید جعفری سے ان کے جھگڑے بھی مشہور تھے، مگر دل کا رشتہ قائم رہا۔ صائمہ—اکلوتی لاڈلی بیٹی، اس سے لڑائی گویا ساس بہو کی کہانی ہو. مگر انکی جان اسی میں تھی۔

زبان شیرنی کی اور ڈرپوک خرگوش سی، مگر اپنی پر آئیں تو گالیوں میں سات سمندر پار۔ ضد پر ڈٹ جائیں تو تنکا بھی بھاری—اور ہر حال میں معصومیت۔ اپنے اندر کے بچے کو کبھی مرنے نہ دیا۔ ایک واقعہ یاد ہے: ڈاکٹر محبت بُرڑو کو میں اپنے دوست جاوید بھٹو کے ساتھ ان کے پاس لے گیا؛ چند دن بعد وہ دل کے دورے سے چل بسے۔ خیرو مجھ سے ناراض ہوئیں کہ اگر اسے مرنا ہی تھا تو اس “حرامی” سے ملایا کیوں؟ اتنی حساس تھیں کہ دوست کم تھے—کیوں کہ دوست انکی کمزوری بن جاتے۔ ناتے توڑتیں تو بچوں کی طرح، نبھاتیں تو ماں کی طرح!

خیرالنساء جعفری عام لوگوں جیسی تھیں مگر حقیقت میں سندھ کی ادبی و قومی زندگی کا ایک حسین رنگ۔ ان کی بات کی کاٹ پر بھی کسی کو ملال نہ ہوتا، سب جانتے تھے کہ وہ اوریجنل، حساس اور معصوم ہیں۔ وقتی طور پر پاگل پن بھی آیا اور اس جنون کے دنوں میں بڑے بڑے ناموں کو بھی گالیاں دیں—کسی نے دل میں نہ رکھا؛ علاج کے بعد سب سے معافی بھی مانگی، بچوں کی طرح ہنستے ہوئے۔ میں نے سندھ میں دو ہی ایسے لوگ دیکھے جنہیں سب کچھ کہنے کا پروانہ تھا—آپا خیرو اور چاچا حفیظ قریشی۔

وہ کوئی “ادیب ٹائپ” انسان بھی نہ تھیں، نہ اپنی ادیبہ ہونے پر ناز—کہانیاں بس ان سے لکھ گئیں۔ اگر سنجیدگی سے لکھتیں تو شاید عصمت چغتائی کو بھی پیچھے چھوڑ دیتیں۔ بہت کم لکھا—مگر کیا لکھا! زیادہ پڑھی نہیں، زیادہ کڑھی تھیں—زندگی کو تجربے اور احساس سے پڑھا۔ محبتیں بھی دیکھیں، زندگی کی تیز دھوپ بھی—وہی حقیقتیں انہیں ایک موڑ پر جنون تک لے گئیں۔ 1991 میں پہلی ملاقات ہوئی—پھر رشتہ ایسا کہ گواہ وہی جھولا ہے جہاں زعفرانی سرخ چائے پر گھنٹوں باتیں ہوتیں۔ وہ کہانی کار تھیں مگر سننے میں بچی—اور بیچ بیچ میں طنزیہ جملے، قہقہے، گالیاں اور بار بار چائے!

جب شيرين کارنر چھوڑ کر جامشورو کی سوسائٹی میں آئیں تو خوشیاں جیسے انکی زندگی سے رخصت ہو گئیں۔ گھر محض دیواریں نہیں—احساس ہوتا ہے۔ دیواریں گھر بناتیں تو احساس کی کیا قدر! شيرين کارنر سے جدائی نے انہیں توڑ دیا تھا۔ آخری دن بیماریوں اور سخت اداسی میں گزرے۔ میں ہر ہفتے اور کبھی دو تین بار بھی ان کے پاس جاتا، چولہے پر ہانڈی جل جاتی، وہ صندلی پر معصوم بچے کی طرح سوئی ہوتیں۔ زندگی ان پر بوجھ ہو گئی تھی۔

جاتے جاتے بھی زندہ دلی نہ چھوڑی۔ وصیت لکھی: “میرے بعد جو قبر پر آئے، خالی پینے، بال پین اور سفید پتوں کی بیڑیاں لائے۔” خیرو واقعی عجیب انسان تھیں، محض انسان نہیں، سندھ کے ادب اور دوستوں کے لیے قدرت کا انعام۔ ان کی تحریر، محبتیں اور بے باک انفرادیت کبھی نہیں بھلائی جا سکتیں۔

“آپا خیرو! آپ کے بغیر ہماری زندگی ادھوری ہے، ہم آپ کو بہت یاد کرتے ہیں۔”

Facebook Comments Box

جامی چانڈیو

جامی چانڈیو پاکستان کے نامور ترقی پسند ادیب اور ادبی نقاد ہیں۔ وہ ایک مہمان استاد کے طور پر ملک کے مختلف اداروں میں پڑھاتے ہیں اور ان کا تعلق حیدرآباد سندھ سے ہے۔ Jami8195@gmail.com chandiojami@twitter.com
Subscribe
Notify of
guest
2 Comments
رضی الدین رضی
رضی الدین رضی
5 months ago

میں انہیں ملا نہیں ۔۔ پڑھا بھی نہیں لیکن خاکہ تع ایسا ہی ہوتا ہے کہ پوری شخصیت اور پورا عہد نظروں میں گھوم گیا ۔۔ اس کائنات میں زندہ دلی خلوص اور وجود کی اتنی ہی مثی تھی جسے گوندھ کر انہیں بنا دیا گیا ۔۔ واہ جامی صاحب سلامت رہیں آپ

جامی چانڈیو
Jami Chandio
5 months ago

رضی الدین رضی صاحب 🙏🌷

Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW