جنگ کے بادل اور خطے کا مستقبل

مشرقِ وسطیٰ کی فضا ایک بار پھر بارود کی بو سے بھاری ہو چکی ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی نے پورے خطے کو ایک ایسے خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ایک معمولی چنگاری بھی ایک بڑی آگ بھڑکا سکتی ہے۔ عالمی طاقتیں تشویش میں مبتلا ہیں، سفارتی حلقوں میں اضطراب پایا جاتا ہے اور عوام کے دلوں میں خوف کی لہر دوڑ رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ جنگ پھیل گئی تو اس کے شعلے کہاں تک جائیں گے؟
ایران اور اسرائیل کے درمیان دشمنی کوئی نئی کہانی نہیں۔ یہ ایک ایسی کشمکش ہے جو دہائیوں سے نظریاتی، سیاسی اور اسٹریٹجک بنیادوں پر جاری ہے۔ لیکن حالیہ براہِ راست حملوں نے اس تنازع کو ایک نئی شدت دے دی ہے۔ میزائلوں کی گھن گرج اور ڈرونز کی پروازوں نے خطے کے آسمان کو جنگی میدان بنا دیا ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں الفاظ کی جگہ ہتھیار لے لیتے ہیں اور سفارت کاری کی میزیں خالی ہونے لگتی ہیں۔ اس جنگ کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ صرف دو ملکوں تک محدود نہیں رہ سکتی۔ مشرقِ و سطیٰ کی سیاست ہمیشہ سے اتحادوں اور پراکسی جنگوں کا میدان رہی ہے۔ لبنان میں حزب اللہ، یمن میں حوثی تحریک اور شام میں موجود مختلف مسلح گروہ ایران کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔ اگر یہ قوتیں بھی اس جنگ میں کھل کر شامل ہو گئیں تو یہ آگ لبنان کے ساحلوں سے لے کر خلیج کے گرم پانیوں تک پھیل سکتی ہے۔
دوسری طرف اسرائیل تنہا نہیں۔ امریکہ اور کئی مغربی طاقتیں اس کے قریبی اتحادی ہیں۔ اگر ایران اور اسرائیل کے درمیان تصادم مزید شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی طاقتوں کی مداخلت بھی بڑھ سکتی ہے۔ ایسی صورت میں یہ تنازع صرف علاقائی جنگ نہیں رہے گا بلکہ عالمی سیاست کا سب سے بڑا بحران بن سکتا ہے۔ تاریخ ہمیں بار بار بتاتی ہے کہ بڑی جنگیں اکثر چھوٹے تنازعات سے جنم لیتی ہیں۔
اس جنگ کے اثرات صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہیں گے۔ اس کے جھٹکے عالمی معیشت کو بھی ہلا سکتے ہیں۔ مشرقِ و سطیٰ دنیا کے تیل کے سب سے اہم ذخائر کا مرکز ہے۔ اگر یہاں جنگ شدت اختیار کرتی ہے تو تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے اور عالمی منڈی میں قیمتیں آسمان کو چھو سکتی ہیں۔ جب تیل مہنگا ہوتا ہے تو اس کی آگ دنیا کے ہر گھر تک پہنچتی ہے۔ صنعتیں متاثر ہوتی ہیں، تجارت سست پڑ جاتی ہے اور عام آدمی کی زندگی مزید مشکل ہو جاتی ہے۔
لیکن جنگ کا سب سے بھیانک چہرہ انسانی المیہ ہوتا ہے۔ جنگ کبھی صرف فوجیوں کو نہیں نگلتی، یہ بچوں کے خواب، ماؤں کی دعائیں اور بزرگوں کی امیدیں بھی ساتھ لے ڈوبتی ہے۔ اگر یہ تنازع پھیلتا ہے تو لاکھوں لوگ اپنے گھروں سے بے گھر ہو سکتے ہیں۔ شہر کھنڈر بن سکتے ہیں اور تاریخ کے صفحات ایک بار پھر انسانی المیوں سے بھر سکتے ہیں۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ جنگ شروع کرنا آسان ہوتا ہے مگر اسے ختم کرنا انتہائی مشکل۔ جب بندوقیں بولنے لگتی ہیں تو عقل کی آواز اکثر دب جاتی ہے۔ اسی لیے عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس آگ کو پھیلنے سے روکے۔ اقوام متحدہ، بڑی طاقتوں اور خطے کے با اثر ممالک کو فوری سفارتی کوششیں تیز کرنی چاہئیں تاکہ اس کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔ آج مشرقِ و سطیٰ ایک نازک دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ جنگ، تباہی اور عدم استحکام کی طرف جاتا ہے جبکہ دوسرا راستہ مذاکرات، دانشمندی اور امن کی طرف۔ فیصلہ اگرچہ طاقتور ریاستوں کے ہاتھ میں ہے لیکن اس کے نتائج پوری دنیا کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ اگر عقل و تدبر سے کام نہ لیا گیا تو خدشہ ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان بھڑکنے والی یہ آگ ایک ایسے طوفان میں بدل جائے گی جس کے شعلے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔ اور جب جنگ کے بادل گرجتے ہیں تو ان کی گونج سرحدوں تک محدود نہیں رہتی، بلکہ پوری انسانیت کے کانوں میں سنائی دیتی ہے۔
