کالم۔

جب 38 چکوالیے کربلا جانے کی خاطر سمندر میں اتر گئے

nabeel anwar dhakku

76 برس کے ذاکر غلام حسین چکوال شہر کے محلہ کوٹ گنیش میں ایک خستہ حال کمرے میں اکیلے رہتے ہیں۔ پچھلے سال 22 فروری کی شام کو جب میں ان سے ملنے گیا تو یہ بیساکھی کے سہارے چل رہے تھے۔ سر پر تین گرم ٹوپیاں پہن رکھی تھیں اور ان تین ٹوپیوں کے اوپر ایک پٹکا کس کر باندھا ہوا تھا۔ جسم کو سردی سے بچانے کے لیے قمیض کے اوپر دو سویٹر، سویٹروں کے اوپر چار ویسٹ کوٹ اور چار ویسٹ کوٹوں کے اوپر ایک گرم کوٹ پہن رکھا تھا۔ اس عمر میں بھی وہ روزانہ کیپسٹن سگریٹ کی ایک ڈبی پھونک ڈالتے ہیں۔ جاڑا نہ صرف جا چکا تھا بلکہ بہار بھی درختوں اور پودوں پر اپنی آمد کی مہر ثبت کر چکی تھی۔ لیکن ذاکر غلام حسین کا کہنا تھا کہ انہیں کونپلیں کِھلنے کی اس رُت میں بھی شدید سردی لگتی ہے۔ شاید بڑھاپے کا دوسرا نام ہی عمر کا سیالا ہے۔ جب میں نے ان سے گفتگو کا آغاز کیا تو چاچا سمندری نے کہا کہ انہیں اونچا سنائی دیتا ہے۔ ”لاؤڈ سپیکر دیاں سٹاں پے پے کے ڈورے ہو گئے آں“ ۔ بیٹھتے ہی انہوں نے ویسٹ کوٹ کی جیب سے ایک سگریٹ نکالا اور پھر کسی دوسری جیب سے ماچس ٹٹولنے لگ پڑے۔ میں نے جب گفتگو کا موضوع چھیڑا تو نحیف ذاکر غلام حسین کو چار عشرے پرانی یادوں کی بارات کا ایک بار پھر جانجی بننا پڑا۔ ان یادوں میں ایسے گم ہوئے کہ اگلے سات آٹھ منٹ تک سگریٹ سلگانا بھی بھول گئے۔

ذاکر غلام حسین آج سے تینتالیس برس قبل ان اڑتیس چکوالیوں میں شامل تھے جنہوں نے فروری کی ایک رات کراچی میں ہاکس بے پر خود کو بحیرہ عرب کی بِپھری ہوئی لہروں کے سپرد کر کے نہ صرف پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا تھا بلکہ دنیا کو بھی حیران کر دیا تھا۔ ان اڑتیس چکوالیوں میں سے دس خواتین اور چار بچوں سمیت اٹھارہ چکوالیے سمندر میں ڈوب گئے تھے جبکہ بیس معجزانہ طور پر موت کے جبڑوں سے باہر آ گئے تھے۔ بچنے والوں میں کوئی کہیں پڑا تھا تو کوئی کہیں۔ ذاکر غلام حسین کو صبح سویرے جب نیوی کے اہلکاروں نے ساحل پر بے سُدھ پڑے دیکھا تو انہوں نے نبض چیک کی۔ جس شخص کو لاش سمجھا گیا تھا اس شخص کی نبض چل رہی تھی۔ سمندر کے کھارے پانی سے ذاکر غلام حسین کا پیٹ پھول چکا تھا۔ جب ان کے جسم سے پانی نکالا گیا تو پانی کے ساتھ ان کے منہ اور ناک سے لہو بھی نکلا۔ تھوڑی دیر بعد ذاکر غلام حسین نے آنکھیں کھولیں۔ نیوی والوں نے ان کا نام پتہ پوچھا۔ ”مین ہک کپ چاہ دا پوائیو وت سارا کجھ دسیناں“ ۔ ( مجھے ایک کپ چائے کا پلائیں پھر سب کچھ بتاتا ہوں ) ۔ سمندر کے پیٹ سے زندہ نکلنے والے ذاکر غلام حسین اُسی دن سے ذاکر غلام حسین سمندری بن گئے اور چکوال میں ان کے آشنا انہیں اب چاچا سمندری کے نام سے پکارتے ہیں۔ تینتالیس سال قبل سمندر کی سرد لہروں میں غوطے کھانے والے چاچا سمندری کی ہڈیوں میں بحیرہ عرب کی وہ سردی ابھی تک وحشت بن کر دوڑ رہی ہے۔

چکوال کی نئی نسل ہی نہیں بلکہ ہماری نسل جس کا ظہور ضیا دور میں ہوا کی اکثریت سانحہ ہاکس بے ( Hawkes Bay Tragedy) سے لا علم ہے۔ پروفیسر اکبر صلاح الدین احمد جو اکبر ایس احمد کے نام سے جانے جاتے ہیں کا شمار پاکستان کے چند گِنے چُنے بڑے دماغوں میں ہوتا ہے۔ ماہرِ بشریات 83 سالہ اکبر ایس احمد امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن میں امریکن یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر ہیں اور ابنِ خلدون چیئر کے سربراہ بھی ہیں۔ وہ برطانیہ میں پاکستان کے سفیر بھی رہ چکے ہیں۔ اپنے کیریئر کا آغاز سول سروس سے کرنے والے اکبر ایس احمد وزیرستان میں سیاسی ایجنٹ اور بلوچستان میں کمشنر بھی رہے۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں تمغہ امتیاز اور ستارہ امتیاز سے نوازا۔ کئی کتابوں کے اس مصنف کی ایک کتاب ”Pakistan Society: Islam، Ethnicity and Leadership in South Asia“ ہے جس میں ایک باب Death In Islam کے عنوان سے ہے۔ یہ پورا باب سانحہ ہاکس بے پر ہے اور اکبر ایس احمد سے اچھا اس سانحہ پر کسی اور نے نہیں لکھا کہ اکبر ایس احمد جیسا بڑا مصنف اس واقعہ کی تحقیق کرنے اس وقت خود چکوال کے گاؤں رہنہ سادات آیا۔

رہنہ سادات چکوال سے جنوب مغرب کی طرف دس میل کے فاصلے پر آباد ہے۔ آج اس گاؤں کو دو سڑکیں جاتی ہیں۔ ایک سڑک بھون سے دائیں نکلتی ہے جبکہ دوسری سڑک تھوہا بہادر سے رہنہ سادات جاتی ہے لیکن اسی کی دہائی میں دو ہزار نفوس پر مشتمل رہنہ سادات سے بھون تک سڑک کچی تھی۔ رہنہ سادات کو رہنہ سیداں بھی کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، رہنہ گاؤں سیدوں کا گاؤں ہے، جہاں گاؤں کی غالب آبادی کا تعلق سادات گھرانے سے ہے۔ رہنہ سادات کے سید ولایت حسین شاہ 1977 میں ائرفورس کی ملازمت کے بعد روزگار کی تلاش میں سعودی عرب گئے۔ 1979 کے انقلابِ ایران سے پاکستان کی شیعہ برادری کو یہ یقین ہو گیا کہ اب دنیا بھر میں اسلام کا جھنڈا لگا کہ لگا۔ سعودی عرب میں ایسا خواب دیکھنا بھی جرم تھا اور پھر ایسے خواب کی تعبیر کے لیے عملی کوشش کا سوچنا بھی محال تھا۔ سعودی عرب کی سر زمین پر رہنہ سادات کا یہ سید اپنے خوابوں کی آبیاری نہیں کر سکتا تھا۔ 1981 میں سعودی عرب میں چار برس گزارنے کے بعد سید ولایت حسین شاہ وطن واپس آ گئے اور ایس اکبر احمد کے مطابق آتے ہی ایک مسجد کی تعمیر کا آغاز کر دیا۔

18 فروری 1981 کی ایک شام سید ولایت حسین شاہ کی بڑی بیٹی نسیم فاطمہ جن کی عمر اس وقت سترہ برس تھی، اپنے والد کے کمرے میں آئیں اور والد کو حیران کن خبر سناتے ہوئے بتایا کہ انہیں بشارت ملی ہے۔ کمرے کی دیواروں سے ایک عورت کی آواز آئی جو انہیں بی بی رقیہ (حضرت علیٔ کی بیٹی) کی آواز لگی۔ اگلے روز ولایت شاہ کے کمرے کی کھڑکی پر ہاتھ کے نشانات لگے ہوئے تھے اور ایسا لگتا تھا جیسے یہ نشانات مہندی اور مٹی کی مدد سے بنائے گئے ہوں۔ لیکن پانچ انگلیوں کا نشان شیعوں میں ایک مقدس نشان سمجھا جاتا ہے کہ یہ پنج تن پاک کی علامت ہے۔ ہاتھوں کے نشانات کی خبر گاؤں میں جنگل کی آگ کی طرح پھیلی۔ رہنہ سادات میں دو ہفتوں تک معمول کی زندگی ساکت رہی۔ ہر کوئی یہ نشانات دیکھنے کے لیے روز آتا اور ان نشانات کو چھوا اور چوما جاتا اور نوافل پڑھے جاتے۔ ان بشارتوں کے ظہور سے ولایت شاہ کے گھر عزاداری اور مجلس شروع ہو گئی۔ ایس اکبر احمد لکھتے ہیں کہ پہلے یہ کہا گیا تھا کہ امام مہدی کی طرف سے بی بی رقیہ پیغام پہنچائیں گی لیکن چند روز کے بعد سترہ سالہ نسیم فاطمہ نے اعلان کر دیا کہ اب امام مہدی خود براہ راست ان سے مخاطب ہوا کریں گے۔ سفید لباس میں ملبوس بارہویں امام نے نسیم فاطمہ کو بی بی پاک کہہ کر مخاطب کیا اور فرمان جاری ہونے لگے۔ پہلا حکم یہ ہوا کہ گھر میں تعمیراتی کام کرنے والے مستری کو گھر سے فوراً نکال دیا جائے کیونکہ اس نامراد مستری نے ٹھیکیدار کی ملی بھگت سے ولایت شاہ سے ایک ہزار روپے فالتو لے لیے تھے۔ امام کی طرف سے قرآن میں پانچ سو روپے رکھے گئے اور بقایا پانچ سو مستری کو دینے کا کہا گیا۔ ساتھ ہی مستری کو حکم دیا گیا کہ اس کے بعد کسی سید گھرانے میں وہ کام نہیں کر سکے گا۔

جس وقت بشارت ہوتی اس وقت نسیم فاطمہ کی حالت غیر ہو جاتی، وہ کانپنے لگتیں اور پھر بے ہوش ہو جاتیں۔ بشارتوں کا یہ سلسلہ اب معمولی گھریلو معاملات سے لے کر لوگوں کی پیدائش و اموات، شادیوں اور زمین کے تنازعات کے حل تک جا پہنچا۔ گھر میں آئے ہوئے مہمان کو چائے پلانی ہے یا کھانا کھلانا ہے وہ بھی نسیم فاطمہ امامِ زمانہ سے پوچھتیں اور امامِ زمانہ کی طرف سے خود ہی جواب دیتیں۔ یہاں مجھے اپنے گاؤں ڈھکو کے بابا پائندہ کی بات یاد آتی ہے۔ چالیس پچاس سال پہلے دیہات میں نہ صرف کھانا سرسوں یا تارا میرا کے تیل سے بنتا تھا بلکہ ہر کوئی سر پر بھی تیل لگانا فرض سمجھتا تھا۔ تیل کی پیداوار کم تھی اور طلب زیادہ۔ بابا پائندہ کے سر پر گھنے سیاہ بالوں کی کھاری تھی۔ وہ بالوں پر تیل لگانے مسجد جاتے اور مسجد میں رکھے دیے کے سامنے کھڑے ہوتے۔ مسجد کی دیوار کو چومتے، مسجد سے تیل لگانے کی اجازت لیتے اور مسجد کی طرف سے اپنے سوال کا خود ہی جواب دیتے۔

مسیت تینڈی سِدھی نیت تھوڑا تیل لا لاواں؟
لا لے، لا لے
مسیت تینڈی سِدھی نیت تھوڑا ہور تیل لا لاواں؟
لا لے، لا لے

پرائمری پاس نسیم فاطمہ جو ایک خوش شکل اور شرمیلی لڑکی تھیں کی شادی کی بات بھی کہیں چل رہی تھی۔ اکبر ایس احمد کے مطابق انہیں کوئی نفسیاتی مسئلہ بھی درپیش تھا جس کی وجہ سے انہیں دورے پڑتے تھے۔ کم عمری میں ہی وہ مذہب اور اماموں کے حالاتِ زندگی میں گہری دلچسپی لیتی تھیں۔

نسیم فاطمہ نے امامِ زمانہ کی طرف سے یہ فرمان بھی جاری کرنے شروع کر دیے کہ فلاں کی منگنی توڑ دی جائے اور فلاں کی شادی وہاں کر دی جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بشارت دینی شروع کر دی کہ فلاں شخص فلاں دن فوت ہو جائے گا اور فلاں کے گھر فلاں دن بچہ پیدا ہو گا۔ نسیم فاطمہ نے گھر بتایا کہ امامِ زمانہ نے تین ذاکرین کو گھر آنے کی اجازت دے دی ہے۔ ان تین ذاکرین میں ایک چکوال شہر کے محلہ سر پاک کے ذاکر سخاوت حسین جعفری تھے جن کو تینوں میں خاص مقام حاصل تھا۔ سخاوت جعفری کے والد قصائی تھے اور وہ خود سید بھی نہیں تھے۔ اکبر ایس احمد اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ امامِ زمانہ کے حکم سے سخاوت حسین جعفری کو اجازت تھی کہ وہ نسیم فاطمہ سے تنہائی میں بھی مل سکتے تھے۔ نسیم فاطمہ اور سخاوت جعفری گھنٹوں کمرے میں بند رہتے اور تنہائی کے اس عالم میں جب نسیم فاطمہ کو امام کی طرف سے کوئی بشارت ہوتی تو سخاوت جعفری اس بشارت کی گواہی دیتے۔ نسیم فاطمہ نے اپنے والد ولایت شاہ کو کہا کہ امام کا حکم ہے کہ ذاکر سخاوت حسین جعفری کا خاص خیال رکھا جائے۔ ولایت شاہ نے سخاوت جعفری کو ٹی وی، فریج اور گھریلو استعمال کی دوسری چیزیں بطور تحائف دیں۔ سخاوت جعفری نے اپنا کاروبار کرنے کا سوچا تو ولایت شاہ نے انہیں اس وقت نقد بیس ہزار روپے دے دیے اور یوں سخاوت جعفری نے اپنی دکان کھول لی۔ گاؤں میں ولایت شاہ کے مخالفین نے نسیم فاطمہ اور سخاوت جعفری کے تعلقات کے متعلق طرح طرح کی باتیں کرنا شروع کر دیں۔ سخاوت جعفری پہلے سے شادی شدہ تھے اور اکبر ایس احمد کے مطابق سخاوت جعفری کی اہلیہ نے بھی یہ کہا تھا کہ لوگ ان کے شوہر اور نسیم فاطمہ کے متعلق گندی باتیں پھیلا رہے ہیں۔ تاہم رہنہ سادات کے ایک سید زادے کا کہنا ہے کہ نسیم فاطمہ اور سخاوت جعفری کے متعلق یہ قصہ من گھڑت ہے۔ وہ کسی کو بھی تنہائی میں نہیں ملتی تھیں۔

لیکن اکبر ایس احمد لکھتے ہیں کہ ولایت شاہ اور نسیم فاطمہ نے لوگوں کی باتوں کو صبر اور حوصلے سے برداشت کیا۔ اُدھر نسیم فاطمہ کی کئی پیش گوئیاں سچ ثابت نہ ہوئیں۔ مثلاً انہوں نے جس شخص کی موت کی پیشگوئی کی تھی وہ شخص بتائے گئے دن کو نہ مرا۔ پیدائش کے متعلق بھی پیش گوئیاں غلط ثابت ہوئیں۔ ولایت شاہ نے اپنے بھائی غلام حیدر کو حکم دیا کہ اپنا گھر مجلس اور عزاداری کے لیے وقف کر دو لیکن بھائی نہ مانا۔ کزن نے اپنی جائیداد ولایت شاہ کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔ ولایت شاہ نے حکم عدولی کرنے والوں اور ان کی بیٹی نسیم فاطمہ اور سخاوت جعفری کے کردار پر کیچڑ اچھالنے والوں کو مرتد کہا اور اپنوں سے تعلقات ختم کر لیے۔ اُدھر بشارتوں کا سلسلہ مسلسل جاری تھا۔ ایک روز گھر کی دیوار پر خون نظر آیا تو نسیم فاطمہ نے کہا کہ یہ خون شہزادہ علی اصغر کا ہے۔ مرید گاؤں کے شیخ جو دستکار برادری سے تعلق رکھتے تھے نسیم فاطمہ کے مرید بن گئے۔ پھر فروری 1983 کے ایک دن نسیم فاطمہ نے امامِ زمانہ کی طرف سے وہ فرمان جاری کر دیا کہ جس کی خاطر مسلسل دو برس سے ولایت شاہ کے گھر مجلس اور عزاداری ہو رہی تھی۔ حکم جاری ہوا کہ عورتیں لوہے کی پیٹیوں میں بیٹھ کر اور مرد پیدل چلتے ہوئے سمندر میں اتر جائیں اور کربلا پہنچ جائیں۔ نسیم فاطمہ نے کہا کہ یہ وہ کارنامہ ہو گا جسے دیکھ کر ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بھی حیران رہ جائیں گے۔

اس سفرِ عشق پر جانے والوں کے ناموں کی فہرست بنی۔ ذاکر سخاوت حسین جعفری نے یہ کہہ کر اس سفر پر جانے سے انکار کر دیا کہ ان کی دکان نئی نئی ہے، اگر وہ اس سفر پر چلے گئے تو دکان کا بھٹہ بیٹھ جائے گا۔ ذاکر غلام حسین سمندری تین دن اجازت لیتے رہے اور چوتھے دن ان کی عرضی منظور کر لی گئی۔ چکوال کے چوہدری نذیر کے دو ٹرک آئے۔ ٹرکوں میں بستروں والی چھ پیٹیاں رکھی گئیں۔ ایک تابوت، ایک عَلم، ایک شبیہ اور ایک جھولا رکھا گیا۔ دو ٹرکوں میں بیالیس چکوالیے سوار ہوئے جن میں سولہ عورتیں اور پانچ معصوم بچے بھی شامل تھے۔ ان بیالیس سر پھروں میں سترہ اہلِ جنوں مرید گاؤں سے تھے جبکہ ذاکر غلام حسین سمندری کو چھوڑ کر باقی ولایت شاہ کے اپنے ہی خاندان کے لوگ تھے۔ یہ قافلہ چکوال سے نکل کر لاہور بی بی پاک دامن کے مزار پر پہنچا اور وہاں ایک بکرا قربان کیا۔ وہاں حاضری دینے کے بعد ملتان میں شاہ شمس تبریز کے مزار پر حاضری دی گئی اور ایک بکرا وہاں قربان کیا گیا۔ تیسرے روز یہ قافلہ کراچی پہنچ گیا۔

ملک میں ضیا کا سیاہ دور تھا جبکہ ایران اور عراق ایک دوسرے کے ساتھ برسرِ پیکار تھے۔ کراچی میں سنی شیعہ فسادات کی آگ بھڑک چکی تھی اور شہر میں کرفیو نافذ تھا۔ ہر چوک چوراہے ہر فوج اور پولیس موجود تھی لیکن اس کے باوجود چکوالیوں کے اس قافلے کو کسی نے نہ روکا۔ شاید اس کی وجہ ٹرک پر سوار عورتیں اور بچے ہوں لیکن ان بیالیس چکوالیوں میں شامل ولایت حسین شاہ کے چھوٹے بھائی سید انوار حسین شاہ کہتے ہیں کہ پولیس اور فوجی جوانوں نے انہیں روکا تھا لیکن منہ سے کوئی لفظ نہ نکال سکے۔ آخری رات ہاکس بے پر پہلے نماز پڑھی گئی، پھر عزاداری کی گئی اور پھر نوافل ادا کیے گئے۔ قافلے میں موجود خواتین اور بچوں کو نسیم فاطمہ کی طرف سے چھ پیٹیوں میں بند کرنے کا حکم دیا گیا۔ چاندنی رات میں بحرِ بیکراں کی وسعت دیکھ کر مرید گاؤں کی دو لڑکیاں اور دو مرد عین آخری لمحے اس ”عظیم کارنامے“ سے دستبردار ہو گئے۔ نسیم فاطمہ نے انہیں واپس پلٹ جانے کی اجازت دے دی۔

کنواری لڑکیوں کو نسیم فاطمہ نے اپنی پیٹی میں بٹھایا۔ پیٹیوں کے دروازے بند کیے، تالے لگے اور چابیاں سمندر بُرد کر دی گئیں۔ مردوں میں سے سید مشتاق حسین شاہ کو قافلے کا امیر بنایا گیا۔ رات اڑھائی بجے چھ پیٹیوں کو سمندر میں دھکیل دیا گیا اور مردوں پر مشتمل گروہ تابوت، شبیہ اور عَلم اٹھائے، نوحہ خوانی کرتے سمندر میں اتر گیا۔ سمندر کی لہریں ایک لمحے پیٹیوں کو پیچھے دھکیلتیں تو اگلے لمحے اپنے ساتھ سمندر میں لے جاتیں۔ یہی سلوک لہروں نے مردوں کے ساتھ کیا۔ اگلے چند لمحوں میں پیٹیاں سمندر میں ڈوب گئیں۔ ایک پیٹی کو لہروں نے ساحل پر پھینک دیا۔ تابوت اور عَلم اٹھائے ہوئے مردوں کو زور آور لہروں نے جدا کر دیا۔ ہر کوئی غضب ناک لہروں کے سپرد ہو گیا۔ پھر ان لہروں نے کسی کو کہیں پھینکا تو کسی کو کہیں۔ صبح چار بجے تک سمندر میں اترنے والے ان 38 چکوالیوں میں سے 18 اللہ کو پیارے ہو چکے تھے۔ چاچا سمندری بتاتے ہیں کہ انہیں تین غوطے آئے، چوتھے غوطے کے بعد انہیں جب ہوش آیا تو دن چڑھ چکا تھا اور وہ ساحل پر پڑے تھے۔

اٹھاسی سالہ سید انوار حسین شاہ جن کی یاداشت اب کمزور ہو چکی ہے بتاتے ہیں کہ مچھیروں نے سمندر پر تابوت تیرتے دیکھا اور انہوں نے ہم میں سے دو تین لوگوں کو اپنی کشتیوں میں بٹھایا اور اپنی جھونپڑیوں میں لے گئے جہاں انہیں چائے پلائی۔ صبح سویرے نیوی والے آئے اور سید انوار شاہ نے انہیں سارے واقعہ کی روداد بتائی۔ اتنے میں دور سمندر کے کنارے ایک پیٹی نظر آئی۔ نیوی والوں نے اس پیٹی کو کھولا تو اس پیٹی میں سید ولایت حسین شاہ کی بیوی اور خاندان کی دوسری عورتیں تھیں جبکہ بیوی کی گود میں ایک شیر خوار بچی بھی تھی۔ اس پیٹی میں بند یہ عورتیں اور بچے معجزانہ طور پر بچ گئے۔ سید انوار شاہ کہتے ہیں کہ انہیں یہ بتایا گیا تھا کہ جنہوں نے شہید ہونا ہے ان کی پیٹیوں کے تالے خود بخود کھل جائیں گے اور دروازے بھی وا ہو جائیں گے۔ اسی طرح مردوں میں سے جس کے ہاتھ سے عَلم پاک، تابوت اور جھولا چھوٹ گیا وہ شہید ہو جائے گا۔ سید انوار شاہ اس وقت فوج میں کلرک تھے اور دو ماہ کی چھٹی پر گھر آئے ہوئے تھے لیکن اس واقعہ کے بعد وہ فوج میں واپس نہیں گئے۔

اس واقعہ نے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا۔ دنیا کے اخبارات کی شہ سرخیاں بنیں۔ کراچی کے آغا تجمل حسین نے بچ جانے والوں کو اپنے خرچے پر کربلا بھیجا۔ بچوں اور عورتوں سمیت اٹھارہ لاشوں کو ہاکس بے کے قریب ہی دفن کر دیا گیا۔

اس واقعہ پر مخالف فرقوں نے شیعوں کا مذاق اڑایا جبکہ نفسیات دانوں نے اسے Mass Hysteria یعنی اجتماعی ہیجان قرار دے دیا۔ کئی بڑے شیعہ رہنماؤں نے بھی ساداتِ رہنہ کے اس عمل کو غلط قرار دے دیا۔ اس واقعہ میں ولایت شاہ کی والدہ اور ان کی بیٹی نسیم فاطمہ جاں بحق ہو گئی تھیں جبکہ ولایت شاہ کے بھائی سید انوار حسین شاہ کے چار معصوم بچے جن میں سات سال کی نثار فاطمہ، چھ سال کے سید عمران حیدر، چار سال کے سید امیر عباس اور دو سال کے سید جابر عباس اور ان کی اہلیہ سیدہ سرور بی بی بھی سمندر کی لہروں کی نذر ہو گئی تھیں لیکن اتنے بڑے سانحہ کے باوجود انہی دنوں پی ٹی وی پر طارق عزیز کو انٹرویو دیتے ہوئے ولایت شاہ اور ان کی اہلیہ سردار بیگم نے ببانگِ دہل کہا کہ انہوں نے امامِ زمانہ کا حکم مانا ہے اور انہیں کوئی پچھتاوا نہیں۔ ولایت شاہ نے طارق عزیز کو بتایا کہ وہ اپنے گاؤں کے تالاب میں بھی ڈوب سکتے تھے لیکن وہاں ڈوبنے سے ان کی اس قربانی کو دنیا نہ جان سکتی۔ جب طارق عزیز نے ولایت شاہ سے سوال کیا کہ کیا وہ پھر بھی سمندر میں کودیں گے تو ولایت شاہ نے جواب دیا کہ اگر ان کی ذات کی بات کی جائے تو انہیں سمندر سے خوف آتا ہے لیکن اگر یہ حکم کسی مقدس ہستی کی طرف سے ہو تو وہ دوبارہ سمندر میں اتر جائیں گے۔

زندہ بچ جانے والوں کے خلاف پاسپورٹ کے بغیر اور غیر قانونی طریقے سے ملک سے باہر جانے کے الزامات پر مقدمہ درج ہوا جو پانچ سال تک چلتا رہا۔ اس مقدمے میں ان چکوالیوں کی طرف سے مشہور عالم علامہ طالب جوہری نے بھی گواہی دی۔

ایس اکبر احمد لکھتے ہیں کہ ان عقیدت مندوں کو یہ یقین تھا کہ سمندر پھٹ جائے گا اور ان کے لیے رستہ بن جائے گا جس پر چلتے چلتے وہ کربلا پہنچ جائیں گے۔ شاید یہ بات اکبر ایس احمد کو ولایت شاہ نے خود بتائی ہو۔ اس واقعہ کے متعلق Parting of The Arabian Sea کے عنوان سے ایک پورا باب ”ملعون“ سلمان رشدی نے اپنی اس توہین آمیز کتاب میں بھی لکھا ہے جس کتاب کی وجہ سے امام خمینی نے سلمان رشدی کے خلاف قتل کا فتویٰ جاری کیا تھا۔ تاہم ذاکر چاچا سمندری اور نوروال گاؤں میں مقیم اٹھاسی سالہ سید انوار حسین شاہ آج تینتالیس برس گزرنے کے باوجود بھی یہی کہتے ہیں کہ انہیں صرف سمندر میں اترنے کا حکم ہوا تھا اور حکم پر سر تسلیم خم کرنا ان کا فرض تھا۔ سید ولایت شاہ پچھلے سال ہی انتقال کر گئے۔ اس واقعہ کے غازی چاچا سمندری کہتے ہیں کہ اگر انہیں گردنیں کٹانے کا حکم ہوتا تو وہ گردنیں بھی کٹا دیتے۔ چاچا سمندری جن کا آبائی گاؤں گفانوالہ ہے ڈیڑھ سال پہلے مائی معظمہ کے دربار کے قریب گر کر کولہے کی ہڈی تڑوا بیٹھے اور اب بیساکھی کے سہارے چلتے ہیں۔ ان کی اپنی نہ بیوی ہے اور نہ ہی کوئی اولاد۔ آج عمر کے آخری پہر میں ہر جمعہ کو سر پاک پر قائم مرکزی امام بارگاہ میں نمازِ جمعہ کے لیے جاتے ہیں جہاں لوگ ان کی مالی مدد کر دیتے ہیں اور ہر جمعہ کو ملنے والے ان چند سو روپوں سے وہ پورا ہفتہ نکال لیتے ہیں۔ چاچا سمندری اور سید انوار حسین شاہ آج تینتالیس برس گزرنے کے باوجود بھی تینتالیس برس پہلے ہونے والے سانحہ پر کسی قسم کے تاسف کا اظہار نہیں کرتے بلکہ فخر سے کہتے ہیں کہ ان اٹھارہ شہادتوں کی وجہ سے کراچی میں ہونے والے سنی شیعہ فسادات کا خاتمہ ہوا تھا۔

انسان کے اندر پائے جانے والے اس نفسیاتی بحران کہ جس کے ادراک کی صلاحیت بھی متاثرہ شخص میں نہ ہو، ایسے نفسیاتی بحران سے ایسے ہی ماورائے عقل ردِ عمل جنم لیتے ہیں۔ اور اگر کوئی رہبر ہی ایسے نفسیاتی بحران کا شکار ہو جائے تو وہ اپنے پیروکاروں کو بھی لے ڈوبتا ہے۔

سانحہ ہاکس بے 24 یا 25 فروری 1983 کی شب کو پیش آیا تھا۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment
جمیل
جمیل
6 months ago

کیسے کیسے بے ہودہ لوگ خود کو سید کہلواتے ہیں۔ ۔ ۔ اللہ معاف کرے پاکستان میں ہر پتھر کے نیچے ایک سید مل جائے گا

Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW