ناشکری کی دہلیز پر دم توڑتا مرد

کسی کے وجود کو مٹانے کے لیے خنجر یا گولی کی ضرورت نہیں ہوتی، بس لہجے میں تھوڑی سی بے حسی بھر کر ایک جملہ اچھال دینا کافی ہے ”تم نے میرے لیے کیا ہی کیا ہے؟“ یہ محض چند الفاظ ہی نہیں، بلکہ ایک خودکش حملہ ہے جو ایک مرد کی برسوں کی مشقت کو خاک میں ملا دیتا ہے۔ مرد، جو قدرت کی طرف سے ’سائبان‘ بنا کر بھیجا گیا تھا، جب اپنے ہی لگائے ہوئے پودوں سے یہ طعنہ سنتا ہے، تو اس کی جڑیں اندر تک سوکھ جاتی ہیں۔
ایک باپ جب اپنے جوان بیٹے سے یہ سوال ”تم نے میرے لیے کیا ہی کیا ہے؟“ سنتا ہے، تو اسے اپنی زندگی ایک تمسخر محسوس ہونے لگتی ہے۔ وہ باپ جس نے اپنی جوانی کے تمام رنگ اولاد کے مستقبل کی تصویر میں بھر دیے، جس نے اپنی بیماری چھپائی تاکہ گھر کا راشن متاثر نہ ہو، اور جس نے برسوں ایک ہی پرانا جوتا مرمت کروا کر پہنا تاکہ بیٹی کی شادی کا اچھا سا جوڑا خرید سکے، وہ اس سوال کے بعد ساکت کھڑا سوچتا ہے کہ کیا اس کی عمر بھر کی محنت اور جدوجہد اتنی ارزاں تھی؟ باپ کی خاموشی اس وقت عرش ہلا دیتی ہے جب وہ اپنے ہی خون کی نظر میں ’بے وقعت‘ ٹھہرتا ہے۔
اسی طرح جب ایک شریکِ حیات اپنے شوہر کی برسوں کی مشقت کو اس ایک جملے کی بھینٹ چڑھا دیتی ہے، تو وہ اس مرد کے اس ’مان‘ کا جنازہ نکال دیتی ہے جو وہ باہر کی دنیا میں تذلیل سہ کر اور اپنی انا کو کچل کر کماتا ہے۔ مرد باہر ”شیر“ بن کر زمانے سے لڑتا ہے تاکہ اس کے گھر کا آنگن محفوظ رہے۔ لیکن جب اسے گھر کی دہلیز کے اندر سے یہ طعنہ ملتا ہے، تو وہ رشتہ نہیں توڑتا، وہ اپنا آپ پہچان لیتا ہے، اپنی قدر و قیمت جان لیتا ہے، وہ ایک ایسی مشین بن جاتا ہے جو پیسے تو کما کر لائے گی، مگر اب اس کی آنکھوں میں وہ تپاک اور لہجے میں وہ اپنائیت کبھی نہیں ملے گی، کیونکہ اسے اندر سے مار دیا گیا ہے۔
بھائی کا رشتہ ہو یا بیٹے کا، مرد ہمیشہ ایک ’سائبان‘ بننے کی تگ و دو میں نا تمام ہونے والی جدوجہد میں رہتا ہے، لوگ کہتے ہیں مرد روتا نہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ مرد کے آنسو باہر نہیں گرتے، وہ اس کی روح کے اندر گر کر اسے اندر سے بنجر کر دیتے ہیں، بظاہر ان کے آنسو نظر نہیں آتے مگر وہ جب روتا ہے تو خون دل کے آنسو روتا ہے۔ جب اس کی خاموش محنت کو ’نا اہلی‘ کا نام دیا جاتا ہے، اس کی محنت کو بے وقعت سمجھا جاتا ہے تو وہ مرد پتھر کا ہو جاتا ہے۔ اور یاد رکھیے، پتھر درد محسوس نہیں کرتا، لیکن وہ سایہ دینا بھی چھوڑ دیتا ہے۔
بھائی وہ دیوار ہوتا ہے جو بہنوں کی طرف آنے والی ہر تپش کو خود سہتا ہے، وہ زمانے کی طرف سے ان پر برسائے جانے والی تیروں سے ڈھال بن کر ان کی حفاظت کرتا ہے، جب بہنیں اسے یہ باور کراتی ہیں کہ اس کا وجود ان کے لیے بے معنی ہے، تو بھائی کی وہ ہمت جواب دے جاتی ہے جس کے بل بوتے پر وہ زمانے سے لڑ لیتا تھا۔ بھائی کے لیے اس کی بہن کی خوشی اس کا کل اثاثہ ہوتی ہے، وہ بہنوں کا مان ہوتا ہے، جب بہنیں ایسا رویہ دکھاتی ہیں تو وہ کہیں کا نہیں رہتا۔
مرد کا المیہ یہ ہے کہ معاشرے نے اس کے کندھوں پر لفظ ’مضبوطی‘ کا ایسا بوجھ ڈالا ہے کہ وہ اپنی قربانیوں کا اشتہار نہیں لگا سکتا، اس کی محبت اس کے لفظوں میں نہیں، بلکہ اس کے ماتھے کی لکیروں، پھٹی ہوئی ایڑیوں اور تپتی دھوپ میں بہنے والے اس پسینے میں چھپی ہوتی ہے جس کی بو سے اکثر اپنوں کو کراہت آنے لگتی ہے۔
وہ تمہارے مستقبل کی فکر میں اپنی سسکیاں اپنی ہنسی میں دفن کر دیتا ہے۔ جب اسے یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ اس کی حیثیت محض ایک ”کمانے والی مشین“ کی ہے، تو وہ مشین تو رہتا ہے مگر ”انسان“ باقی نہیں رہتا۔
خدارا! اپنے گھر کے مردوں کو جیتے جی مت ماریں، رشتوں کو حساب کتاب کے ترازو میں مت تولیں۔ کسی مرد کی مشقت کا بدلہ اتارنا تو ناممکن ہے، لیکن اس کی کوششوں کو ایک مسکراہٹ کے ساتھ تسلیم کر لینا اسے ہمالیہ جیسی طاقت دے دیتا ہے۔ یہ جملہ کہ ”آپ ہیں تو ہم ہیں“ ، ایک مرد کے لیے دنیا کے تمام تمغوں سے بڑھ کر ہے۔ یاد رکھیں، جب مرد کا ’مان‘ ٹوٹتا ہے، تو وہ گھر پھر کبھی ’گھر‘ نہیں رہتا، وہ محض اینٹ پتھر کا ایک بے جان ڈھانچہ بن کر رہ جاتا ہے۔

ایک حساس تحریر
پدرسری معاشرے کے سائیڈ ایفیکٹ
متعدد جگہ اپنے پیاروں کی حفاظت اور ترقی کے خواب دیکھنے والے کا ایسا ہی حشر ہوتا ہے
تم نے میرے لئے کیا ہی کیا ہے
7000 دن کے 20000 وقت میں سے ایک وقت بھوکا رہنا کچھ لوگوں کو یاد رہ جاتا ہے
19999 وقت کی روٹی کیسے ان کے منہ کا نوالہ بنی انہیں یاد نہیں رہتا
کیوں کہ یہ تو مرد کی ذمہ داری تھی