جنگ بندی کی شرائط اور پاکستان کی سفارت کاری

ایران، امریکہ اور اسرائیل جنگ کی وجہ سے پوری دنیا میں مہنگائی کا طوفان برپا ہو چکا ہے تیل، گیس اور دیگر درآمدات و برآمدات کے حوالے سے عاقل دنیا بے بس ہو چکی ہے اس جنگ نے دنیا کی معاشی، سیاسی، عسکری اور مذہبی کمزوریوں کو واضح کر دیا ہے اصل میں یہ جنگ کئی حوالوں سے اہمیت اختیار کر چکی ہے اس جنگ سے پہلے دانشوروں کے بتائے ہوئے خدشات درست ثابت ہو رہے ہیں۔
جب امریکی بحری بیڑے روانہ ہوئے تھے تو اس وقت کاش سفارتی کوششیں تیز کی جاتیں تو شاید یہ نتائج نہ ہوتے جو آج دنیا بھگت رہی ہے آخر مشرق وسطیٰٰ اتنا اہم کیوں ہے؟ یہ بڑا سوال ہے کیونکہ ہمارے لوگ اس کی اہمیت سے پوری طرح آگاہ نہیں ہیں۔
مشرق وسطیٰ مذہبی، معاشی، سیاسی، سیاحتی اور جغرافیائی لے لحاظ سے بہت اہمیت کا حامل رہا ہے اگر مسلمان تھوڑی بہت تحقیق کرلیتے یا قدرت کے فیصلوں کو سمجھ لیتے تو شاید یہ حالات نہ ہوتے مشرق و سطیٰ ایک تو بڑے مذاہبِ کا مرکز ہے مسلمان، عیسائی اور یہودی مسلمان کے لیے بیت المقدس قبلہ اول، عیسائیوں کے لیے بیت لحم اور یہودیوں کے لیے دیوار گریہ یہ سب عبادت گاہیں یروشلم میں ہیں۔
دنیا کی کل گیس اور تیل کا 47 فی صد حصہ مشرق وسطیٰ میں ہے۔ مشرق وسطیٰ میں تیل، گیس اور سونا کے علاوہ دیگر اہم معدنیات کا مرکز ہے اس جنگ نے مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی اہمیت کو اجاگر کر دیا ہے امریکہ اور اسرائیل اس خطے کے تیل، گیس اور دیگر معدنیات پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں وہ ایران کو اس خطے میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں کیونکہ امریکہ نے ایران کے علاوہ سب خلیجی ممالک کے ساتھ دفاعی اور معاشی معاہدے کر رکھے ہیں ایران وہ واحد ملک ہے جس کا امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہے نہ دفاعی اور نہ معاشی امریکہ اسرائیل کے تحفظ کے لیے ایران سے یہ جنگ کر رہا ہے اگر ہم مذہبی لحاظ سے دیکھیں تو اس جنگ میں یہودی، عیسائی اور ہندو مسلمانوں کے خلاف ایک ہیں تینوں کا مقصدِ مسلم دنیا کو آپس میں لڑا کر وسائل پر قبضہ کرنا ہے اور یہاں اجارہ داری قائم کرنا ہے ایران چودہ روزہ جنگ کا ابھی تک فاتح ہے۔
اس جنگ نے مسلم ممالک کے اندر اتحاد پیدا کر دیا ہے گزشتہ کئی صدیوں سے مسلمانوں کے اندر جو مسلک کی بنیاد پر اختلافات تھے وہ تقریباً ختم ہوچکے ہیں ہر مسلمان ملک ایران کے ساتھ کھڑا ہے ایران خلیجی ممالک میں امریکن فوجی اڈوں پر مسلسل حملے کر رہا ہے اگرچہ خلیجی ممالک نے مذمت سے بڑھ کر کوئی جواب نہیں دیا اس صورتحال سے واضح ہو رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں مسلمان ممالک آپس میں اتحاد کی صورت میں نظر آئیں گے جس کی قیادت مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت پاکستان کرے گا۔
اس وقت پاکستان کی سفارتی کوششوں کی تعریف کرنا لازم ہے جس طرح پاکستان خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہا ہے وہ قابل تعریف ہے چین، پاکستان اور روس سلامتی کونسل میں سفارتی، دفاعی اور اخلاقی سطح پر ایران کے ساتھ کھڑے نظر آرہے ہیں وزیراعظم پاکستان باقاعدہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے رابطے میں ہیں جس کا اعتراف ایرانی صدر دو روز پہلے کرچکے ہیں جس میں اُنہوں نے جنگی بندی کی شرائط بتاتے ہوئے دنیا کو آگاہ کیا کہ روس اور پاکستان کو ہم نے جنگ بندی کی شرائط بتا دی ہیں کہ ایران کے حقوق کو تسلیم کیا جائے، مسلط شدہ جنگ کے نقصانات کا ہرجانہ ادا کیا جائے اور مستقبل کے لیے عالمی ضمانتیں دیں جائیں۔
وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے منتخب ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ علی خامنہ ای کو باقاعدہ خط لکھ کر مبارکباد دی ہے اور شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر پوری ایرانی قوم سے تعزیت کی ہے اور نئے سپریم لیڈر کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان مسلسل سفارتی کوششوں میں مصروف ہے خلیجی ممالک اچھی طرح جان چکے ہیں کہ امریکہ نے اس جنگ میں انہیں تنہا چھوڑ دیا ہے شاید وہ یہ بھی جان چکے ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل انہیں آپس میں لڑانا چاہتے ہیں اس ساری صورتحال میں آپ کو خلیجی ممالک کے حوصلے کی داد دینی پڑے گی کہ انہوں نے جان لیا ہے کہ ہم مسلم ممالک کو آپس میں لڑنے کی بجائے صبر و تحمل مظاہرہ کرنا ہے ایران بھی واضح کر رہا ہے کہ ہم پڑوسی ممالک کے ساتھ جنگ کا ارادہ نہیں رکھتے ہم صرف امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اس وقت خلیجی ممالک معاشی اور دفاعی طور پر بھاری نقصان اٹھا رہے ہیں پاک سعودی عرب دفاعی معاہدہ نے اس خطے کے ممالک پر واضح کر دیا ہے کہ پاکستان اس ساری صورتحال میں سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہے اس جنگ کے بعد مشرق وسطیٰ میں بہت ساری تبدیلیاں وقوع پذیر ہوں گی پاکستان مشرق وسطیٰ میں قیادت کرتا ہوا نظر آئے گا پاکستان واحد ایک ایسا ملک ہے جو اپنی سفارتی کوششوں کی بنیاد پر مسلم ممالک کو ایک ساتھ لے آئے گا تمام خلیجی ممالک پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے کریں گے۔
نریندر مودی، نیتن یاہو اور ڈونلڈ ٹرمپ سیاسی اہمیت کے ساتھ ساتھ دنیا کا اعتماد بھی کھو چکے ہیں دنیا میں نفرت کی علامت بن چکے ہیں کیونکہ اُنہوں نے اس جنگ کی بنیاد مذہب پر رکھی ہے امریکہ مذہب کے ساتھ ساتھ معاشی مفادات پر نظر رکھتا ہے اس جنگ میں وہ معاشی اہداف بھی ضائع کر چکا ہے کیونکہ امریکہ کے ہاتھ سے مشرق وسطیٰ نکل چکا ہے۔
وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ سعودی عرب سفارتی اور علاقائی سطح پر اہمیت کا حامل رہا ہے جس میں پاکستان نے سعودی عرب کو خطے کی لمحہ بہ لمحہ بدلتی ہوئی صورتحال سے آگاہ کیا ہے کہ پاکستان ہر صورت میں مقدس سر زمین کا دفاع کرے گا اس جنگ کے بعد پاکستان دفاعی اور معاشی لحاظ سے مزید ترقی کی منزلیں طے کرے گا۔
پاکستان میں رہنے والے کچھ سیاسی نابالغ اور ذہنی اپاہج لوگ جو ہر وقت اپنی تسکین کے لیے خیالی باتیں کرتے رہتے ہیں ان لوگوں کو عقل آنی چاہیے کہ پاکستان ہے تو ہم ہیں ورنہ ہماری کوئی اہمیت نہیں ہے کسی ایک شخص کی ناجائز محبت کے لیے ہمیں وطن میں خیالی باتیں کرنے سے گریز کرنا چاہیے ہم مضبوط صرف مضبوط دفاع کی وجہ سے ہیں دنیا کے ہر ملک میں مختلف مذاہب، مختلف مسلک، مختلف سیاسی سوچ، مختلف لسانی گروہ اور ثقافتوں کے لوگ رہتے ہیں ہر ملک میں کئی سیاسی جماعتیں بھی ہیں مگر وہ لوگ کم ظرف نہیں ہوتے ہر وقت اپنے ملک کے ساتھ نظر آتے ہیں اور ہم ہر وقت پروپیگنڈا کرتے رہتے ہیں یہی خوبیاں واضح کرتی ہیں کہ ایسا کرنے والے لوگ ذہنی اپاہج اور کم ظرف ہیں اب ریاست کو ایک ایسی پالیسی بنانا ہو گی جس سے ریاست کی رٹ قائم ہو اور کوئی اپنی تسکین کے لیے تفریق پیدا نہ کرسکے یہ کام سیاسی، سماجی اور مذہبی بنیادوں پر ہونا چاہیے حکومت پنجاب نے آئمہ کرام کی رجسٹریشن کر کے اور انہیں ماہوار 25000 ہزار روپے وظیفہ دے کر زبردست کام کیا ہے آنے والے دنوں میں اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور اگر سب صوبے اس کام کو اپنا لیں تو کم از کم فرقہ واریت سے ملک کی جان چھوٹ جائے گی اور یہ فورم قومی یک جہتی کا ثابت ہو گا۔
