وزیراعظم کا کفایت شعاری پروگرام محض دکھاوا ڈھکوسلا
حالیہ اسرائیل، امریکا اور ایران جنگ کے دوران پاکستان پر پڑنے والی معاشی بوجھ اور تیل کی قیمتوں کے بے تحاشا اضافے کے بعد کمزور معیشت کے پیش نظر وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے قوم سے مختصر خطاب کے دوران کفایت شعاری کا پروگرام سامنے رکھا ہے۔ اگر ان کے بیان کردہ نکات کا جائزہ لیا جائے تو یہ محض دکھاوا اور ڈھکوسلے والی بات ہے۔ قبل ازیں جب وہ سابق وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے خاتمے پر پی ڈی ایم کی بنی حکومت میں وزیراعظم بنے تھے تو بھی انھوں نے کفایت شعاری پروگرام کو جاری رکھا تھا اور ساتھ ہی حکومتی اخراجات میں اسراف کا بھی سلسلہ جاری رہا تھا۔ ان کی نام نہاد کفایت شعاری کا بھانڈا تو ان کی شاہ خرچیوں کے علاوہ جہازی سائز کی کابینہ سے ہی پھوٹ گیا تھا۔ واضح رہے کہ اس وقت ان کے کابینہ اراکین کی تعداد ریکارڈ 48 تک جا پہنچی تھی۔ ان کے دورے اور شاہانہ خرچوں میں کسی قسم کی کوئی کمی واقع نہیں ہوئی تھی۔
اب بھی انھوں نے محض نمائشی قسم کے اعلان کرنے پر ہی اکتفا کیا ہے جن کو پڑھ کر حیرانی ہوتی ہے۔ مثلاً ان کا یہ کہنا کہ وفاقی وزراء دو ماہ کی اپنی تنخواہیں نہیں لیں گے۔ اعداد و شمار کا حساب رکھنے والوں نے فوراً بتا دیا کہ صرف تنخواہیں نہ لینے سے کتنی بچت ہو گی اور ان کے زیر تصرف پروٹوکول کی مد میں کتنا خرچہ آئے گا۔ مال مفت دل بے رحم عام آدمی اس بات کو قریب سے اور حیرانی سے دیکھتا ہے کہ مال دار وفاقی وزراء جن کے لئے یہ معمولی تنخواہ کوئی حیثیت کی حامل ہی نہیں مگر وہ یہ تنخواہ بمعہ الاؤنس باقاعدگی سے وصول کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی ان کو کئی ایک مراعات مثلاً سفری واؤچرز وغیرہ بھی ملتے ہیں۔ یون یہ بات سامنے آئی کہ دو ماہ کی تنخواہوں سے دستبرداری ان کے لئے کوئی گھاٹے کا سودا نہیں ہے البتہ اس سے جو بچت ہو گی وہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہو گی۔
سرکاری افسران کی تنخواہوں میں سے بھی محض دو دن کی کٹوتی کی تجویز دی گئی ہے۔ لیکن یہ بات نہیں بتائی گئی کہ اگر کوئی افسر یہ کٹوتی نہ کروانا چاہے تو پھر کیا ہو گا؟ ظاہر ہے کسی کی تنخواہ سے جبری طور پر اس قسم کی کٹوتی نہیں کی جا سکتی۔ یہ کٹوتی رضاکارانہ طور پر تو کوئی بھی نہیں کرے گا اور پھر اعلیٰ عہدوں پر تعینات افسران کے پاس کئی ایک اور ذرائع اور وسائل دستیاب ہوتے ہیں کہ وہ اس کٹوتی کو برابر کر لیں گے۔ ان کا ٹی اے ڈی اے ہی اس مد میں بڑی مثال کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔ سرکاری گاڑیوں کی نقل و حمل محدود کرنا اور ایندھن کا استعمال نصف کرنا بھی وزیراعظم کے نکات میں شامل ہے۔ سب کو معلوم ہے کہ سرکاری افسران ایک سے زائد گاڑیوں کے حامل ہوتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ اس کا حساب کتاب کون رکھے گا؟ یہ تو بلی کو دودھ کی رکھوالی پر بٹھانے کے مترادف ہے۔
سب سے بڑا فیصلہ سرکاری دفاتر میں کام کے ایام کار میں کٹوتی کا ہے کہ اس کے تحت اب ہفتہ واری چار دن کام ہو گا یعنی سوموار، منگل، بدھ اور جمعرات۔ جمعہ، ہفتہ اور اتوار اب تعطیلات ہوں گی۔ اس سے بچت کیا ہوگی پہلے سے سرکاری دفاتر میں کام نہ کرنے کی پوری تنخواہ لینے والوں کی موجیں لگ جائیں گی۔ اس سے عوام کا نقصان ہو گا کہ ان کے کام کی رفتار سست پڑ جائے گی جو پہلے سے اس بات کے شاکی ہیں کہ ان کے جائز کام بھی بروقت نہیں ہوتے۔ اس سے کیا بچت ہو گی کسی کو کچھ معلوم نہیں اگر صاحب دفتر نہیں جائیں گے تو ان کے زیر استعمال گاڑیاں نجی کاموں کے لئے دستیاب ہوں گی اور ادھر ادھر دوڑتی پھرتی رہیں گی۔ اصل مسئلہ تو اس سارے معاملے پر صدق دل سے عمل درآمد اور اس کی موثر و مکمل نگرانی کا ہے۔ ظاہر ہے وزیراعظم نے تو محض دکھاوے کے لئے رسمی اعلان کر دیا ہے لیکن اس کا نتیجہ کیا نکلے گا وہ بھی سب کو معلوم ہے کہ ڈھاک کے تین پات والا معاملہ ہے۔
اسی طرح اسکولوں و کالجوں میں بھی پڑھائی کے دن کم کر دیے گئے ہیں۔ اس سے بچت کیا خاک ہو گی جب کہ پہلے سے ہی متاثرہ اور تقریباً ناکارہ سرکاری تعلیمی نظام مزید تباہی و بربادی سے دوچار ہو کر رہ جائے گا۔ ہمارے ہاں تو تعلیمی معیار اور شرح خواندگی کیا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ تو کیا ایسے میں ہم اس عیاشی کے متحمل ہوسکتے ہیں؟ ہمارے ہاں تو پہلے ہی گرمیوں، سردیوں کی چھٹیوں کے علاوہ بھی کئی ایک چھٹیاں آ جاتی ہیں جس میں موسمی حالات مثلاً بارش یا سیلاب کے دوران بھی تعلیمی ادارے بند کر دیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ انتخابات کی چھٹیاں اور مقامی چھٹیاں بھی تعلیمی اداروں کی بندش کا سبب بنتی ہیں۔ اس میں کون اس بات کی جانچ کرے گا کہ اس طرح کتنی بچت ہو گی؟ فی الوقت تو اگر ایندھن کی بچت مقصود ہے تو یہ بار تو والدین پر آتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اپنی یا کرائے کی ٹرانسپورٹ پر اسکول کالج بھیجیں۔ رہی بات آن لائن کلاسز کی تو اس پر کوئی بات نہ ہی کی جائے تو بہتر ہے۔ سب اس حقیقت سے بھی بخوبی واقف ہیں کہ ملک کی کتنی آبادی تک انٹرنیٹ کی رسائی ہے اور جن کو رسائی ہے ان کا انٹرنیٹ کس رفتار سے چلتا ہے اور اس میں کتنا تعطل رہتا ہے۔ ایسے میں اس کی کیا افادیت رہ جاتی ہے؟
اب حکومتی احکامات کی روشنی میں عدلیہ میں بھی کام کے ایام کم کیے جا رہے ہیں۔ بارہا ہم یہ مقولہ سنتے ہیں کہ دوسری عالمی جنگ کے دوران جب جرمن فوجیں لندن کے قریب پہنچ گئیں تھیں برطانوی وزیراعظم ونسٹن چرچل کو جب اس بابت آگاہ کیا گیا تو انھوں نے دریافت کیا تھا کہ کیا ہماری عدالتیں کام کر رہی ہیں؟ یعنی حالت جنگ میں بھی انصاف کی فراہمی جاری رہنی چاہیے جو اس بات کی علامت ہے کہ ملک میں قانون و آئین کی بالادستی ہے۔ لیکن ہمارے ہاں کا تو باوا آدم ہی نرالا ہے اور ہم پر ایسی مثالوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ ہمارے عدالتی نظام اور انصاف کی فراہمی پر عوام پر کیا بیتتی ہے وہ کوئی راز نہیں ہے۔ اسی طرح عدالتوں میں دھکے کھانے والے اس بات کے شاکی ہیں کہ ان کی شنوائی و داد رسی نہیں ہوتی اور ان کو فوری انصاف نہیں ملتا۔ ایسے میں عدالتیں بھی اب چار دن کام کریں گی اور تین دن بند رہا کریں گی۔ اس کا بھی حساب لگانے والا کوئی نہیں کہ عوام کو اس سے کتنا نقصان ہو گا اور کتنی بچت ہو پائے گی؟
وزیراعظم نے غیر ضروری سرکاری دوروں پر پابندی کا کہا ہے لیکن ضروری سرکاری دوروں کی آڑ میں اس فیصلے دھجیاں اڑائی جائیں گی۔ خود وزیراعظم اس اعلان کے بعد گھنٹوں پر محیط سرکاری دورے پر سعودی عرب روانہ ہوئے ہیں۔ اس دورے کے دوران انھوں نے کسی عام کمرشل پرواز کا انتخاب نہیں کیا ہے۔ وہ عوام سے تو قربانیاں مانگ رہے ہیں لیکن ان کے اپنے اللے تللے جوں کے توں جاری ہیں۔ گزشتہ ماہ کے دوران وزیراعظم شہباز شریف آسٹریا ویانا گئے اور وہاں سے وہ لندن پہنچے۔ دو دن یہاں قیام کرنے کے بعد وہ امن بورڈ کے افتتاحی اجلاس کے سلسلہ میں امریکا پہنچے اور اس میں شرکت کر کے واپسی پر وہ پھر لندن پہنچے تھے۔ یوں ان کی اونچی اُڑان جاری رہی اور نا جانے ان کی یہ پروازیں ’اُڑان پاکستان پروگرام‘ کو کتنے میں پڑی ہوں گی؟

