سپاہی سے ڈپٹی کمشنر تک: عزم و ہمت کی روشن داستان

مصنف: عبدالغفور چودھری (پی سی ایس، ڈپٹی کمشنر ریٹائرڈ)
ناشر: قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل، لاہور
معاشروں کی تعمیر و ترقی میں ایسے افراد کی زندگیوں کا بڑا کردار ہوتا ہے جو محدود وسائل کے باوجود اپنے عزم، محنت اور استقامت کے ذریعے کامیابی کی نئی مثالیں قائم کرتے ہیں۔ ایسی شخصیات کی داستانیں نہ صرف حوصلہ افزا ہوتی ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بھی بنتی ہیں۔ سپاہی سے ڈپٹی کمشنر تک اسی نوعیت کی ایک اہم اور متاثر کن خود نوشت سوانح حیات ہے جس میں عبدالغفور چودھری صاحب نے اپنی زندگی کے تجربات، مشاہدات اور جدوجہد کو نہایت سادہ مگر موثر انداز میں قلم بند کیا ہے۔
یہ کتاب دراصل ایک ایسے انسان کی داستان ہے جو ایک عام گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ مصنف کے والدین زیادہ تعلیم یافتہ نہیں تھے، وسائل محدود تھے اور حالات بھی زیادہ سازگار نہیں تھے۔ تاہم ان تمام رکاوٹوں کے باوجود مصنف نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی محنت اور لگن کے ذریعے زندگی کے مشکل مراحل عبور کیے۔ کتاب کے ابتدائی ابواب میں وہ اپنے بچپن، خاندانی پس منظر اور تعلیمی حالات کا ذکر کرتے ہیں۔ اس دوران وہ ایک اہم سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ کیا والدین کا پڑھا لکھا ہونا ہی اولاد کی کامیابی کی ضمانت ہے؟ مصنف اپنی عملی مثال کے ذریعے اس تصور کو چیلنج کرتے ہوئے یہ ثابت کرتے ہیں کہ اگر انسان کے اندر عزم اور محنت کا جذبہ موجود ہو تو محدود وسائل بھی کامیابی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔
کتاب کا ایک اہم مرحلہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب مصنف افواجِ پاکستان میں بطور سپاہی بھرتی ہوتے ہیں۔ یہ مرحلہ ان کی زندگی میں نظم و ضبط، محنت اور ذمہ داری کے احساس کو مضبوط کرنے کا سبب بنتا ہے۔ فوجی زندگی کے تجربات نے ان کی شخصیت کو نکھارا اور انہیں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا۔ اپنی قابلیت اور لگن کے باعث وہ آرمی ایجوکیشن کور میں ترقی کرتے ہوئے جونیئر کمیشنڈ افسر کے عہدے تک پہنچ جاتے ہیں۔ اس دوران انہوں نے تعلیم اور مطالعہ کا سلسلہ بھی جاری رکھا جو بعد میں ان کی کامیابی کی بنیاد بنا۔
مصنف کی زندگی کا سب سے اہم موڑ اس وقت آتا ہے جب وہ پنجاب سول سروس کے مقابلے کے امتحان میں شرکت کا فیصلہ کرتے ہیں۔ محدود وسائل اور مصروف فوجی زندگی کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور مستقل مزاجی کے ساتھ اپنی تیاری جاری رکھی۔ بالآخر ان کی محنت رنگ لاتی ہے اور وہ اس مشکل امتحان میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اس کامیابی کے بعد انہیں بطور مجسٹریٹ درجہ اول تعینات کیا جاتا ہے۔ یہ مقام دراصل اس طویل جدوجہد اور استقامت کا نتیجہ تھا جس نے ایک عام سپاہی کو اعلیٰ انتظامی عہدے تک پہنچا دیا۔
کتاب میں مصنف نے اپنی انتظامی زندگی کے مختلف تجربات کو بھی بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے۔ انہوں نے بطور ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ افسر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (فنانس اینڈ پلاننگ) ، ایڈیشنل کمشنر اور دیگر اہم انتظامی عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ ان عہدوں پر کام کرتے ہوئے انہیں حکومتی نظام، بیوروکریسی اور عوامی مسائل کے مختلف پہلوؤں کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا۔ کتاب میں وہ بعض انتظامی مشکلات، سیاسی دباؤ اور نظامِ حکومت کی پیچیدگیوں کا ذکر بھی کرتے ہیں جو عملی زندگی میں اکثر سرکاری افسران کو درپیش ہوتی ہیں۔
ان ابواب میں مصنف خاص طور پر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایک سرکاری افسر کے لیے دیانت داری، اصول پسندی اور عوامی خدمت کا جذبہ انتہائی ضروری ہے۔ اگر افسر ایمانداری اور خلوص کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے تو وہ معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔ کتاب کے بعض حصوں میں مصنف یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ کس طرح بعض اوقات سیاسی مداخلت اور سفارشی کلچر انتظامی نظام کو متاثر کرتے ہیں اور میرٹ کے اصول کو کمزور کر دیتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ اس یقین کا اظہار کرتے ہیں کہ ایک با اصول اور باکردار افسر اپنی دیانت داری اور جراتِ فیصلہ کے ذریعے نظام میں بہتری پیدا کر سکتا ہے۔
کتاب کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ مصنف نے اپنے عملی تجربات کی روشنی میں سرکاری افسران کی ذمہ داریوں اور کردار پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ ان کے مطابق ایک افسر کے فیصلے محض کاغذی کارروائی نہیں ہوتے بلکہ ان کے اثرات براہِ راست عوام کی زندگیوں پر مرتب ہوتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ سرکاری افسر اپنے اختیارات کو نہایت ذمہ داری، دیانت اور انصاف کے ساتھ استعمال کرے۔
کتاب کے مطالعہ سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ مصنف کو اپنے کیریئر کے دوران کئی مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض مواقع پر انہیں سیاسی دباؤ برداشت کرنا پڑا اور بعض اوقات غیر ضروری تنقید اور مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ تاہم انہوں نے ان تمام مشکلات کے باوجود اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ یہی اصول پسندی دراصل ان کی شخصیت کی اصل طاقت بن کر سامنے آتی ہے۔
کتاب کا آخری حصہ خاص طور پر نوجوانوں اور مقابلے کے امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ کے لیے نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ اس حصے میں مصنف نے اپنے تجربات کی بنیاد پر تفصیلی رہنمائی فراہم کی ہے کہ مقابلے کے امتحانات کی تیاری کس طرح کی جائے۔ وہ طلبہ کو محنت، مستقل مزاجی اور نظم و ضبط اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ ان کے مطابق کامیابی کے لیے صرف ذہانت کافی نہیں بلکہ مسلسل محنت، واضح مقصد اور مضبوط ارادہ بھی ضروری ہوتا ہے۔
مصنف طلبہ کو یہ مشورہ بھی دیتے ہیں کہ وہ اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کریں اور مشکلات سے گھبرانے کے بجائے ان کا حوصلے کے ساتھ مقابلہ کریں۔ ان کے نزدیک تعلیم کا اصل مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا نہیں بلکہ شخصیت کی تعمیر اور معاشرے کی خدمت کرنا ہے۔
ادبی اعتبار سے دیکھا جائے تو کتاب کا اسلوب سادہ، رواں اور دلنشین ہے۔ مصنف نے اپنی زندگی کے واقعات کو بغیر کسی تصنع کے بیان کیا ہے جس سے تحریر میں خلوص اور سچائی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ یہی سادگی اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی ہے کیونکہ قاری کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ کسی رسمی تحریر کے بجائے زندگی کی ایک سچی اور حقیقی کہانی پڑھ رہا ہے۔
یہ کتاب محض ایک خود نوشت نہیں بلکہ ایک سبق آموز داستان ہے۔ اس میں زندگی کی جدوجہد، محنت کی اہمیت اور عزم و حوصلے کی طاقت کو واضح کیا گیا ہے۔ آج کے دور میں جب نوجوان اکثر مایوسی اور بے یقینی کا شکار نظر آتے ہیں تو ایسی کتابیں انہیں امید، حوصلہ اور سمت فراہم کرتی ہیں۔
مختصر یہ کہ سپاہی سے ڈپٹی کمشنر تک ایک ایسی کتاب ہے جو نہ صرف ایک فرد کی کامیابی کی داستان بیان کرتی ہے بلکہ نوجوان نسل کو یہ پیغام بھی دیتی ہے کہ اگر انسان میں محنت، دیانت اور استقامت کا جذبہ موجود ہو تو وہ زندگی کی ہر مشکل کو شکست دے سکتا ہے۔ واقعی یہ کتاب عزم و ہمت کی ایک ایسی روشن مثال ہے جو پڑھنے والے کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ اسے اپنی زندگی میں آگے بڑھنے کا حوصلہ بھی دیتی ہے۔
