بلاگ

حالیہ پاک افغان تنازعہ، تاریخی تناظر میں

yousaf benjamin

پاکستان اور افغانستان صرف دو پڑوسی ملک ہی نہیں بلکہ ایک ہی تاریخ، ایک ہی مذہب اور ایک ہی تہذیب کے وارث ہیں کہ جن کی 2600 کلومیٹر طویل سرحد کے دونوں طرف بسنے والے قبائل کے خون کے رشتے اور مشترکہ روایات انہیں ایک دوسرے سے جوڑتی ہیں۔ تاہم افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ان دو برادر اسلامی ممالک کے تعلقات ایک ایسی پیچیدہ گِرہ بن چکے ہیں جسے سلجھانے کی ہر کوشش مزید تناؤ کا شکار ہو جاتی ہے۔

اس کشیدگی کی بنیاد 1893 میں اُس وقت پڑی جب برطانوی ہند اور افغان امیر عبدالرحمٰن خان کے درمیان ایک معاہدے کے تحت ڈیورنڈ لائن کھینچی گئی، جسے افغانستان کی قیادت نے کبھی مستقل سرحد تسلیم نہیں کیا جبکہ پاکستان اسے بین الاقوامی سرحد مانتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 1947 میں جب پاکستان آزاد ملک کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر اُبھرا تو افغانستان اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی رکنیت کے خلاف ووٹ دینے والا واحد ملک تھا اور اس نے ڈیورنڈ لائن کو تسلیم کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ بعد ازاں 1950 اور 60 کی دہائیوں میں افغانستان کی جانب سے ”پشتونستان“ کی تحریک کی بھرپور حمایت نے دونوں پڑوسی ممالک کو کئی بار جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا، جس سے سفارتی تعلقات میں شدید تناؤ پیدا ہوا۔

تعلقات کی اس تاریخ میں 1979 کا سال ایک اہم موڑ ثابت ہوا جب افغانستان پر سوویت یونین کے حملے کے بعد پاکستان نے نہ صرف افغان مجاہدین کی بھرپور مدد کی بلکہ 30 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کو پناہ دے کر اسلامی اخوت کی لازوال مثال قائم کی۔ اگرچہ اس دور میں دونوں ممالک کے درمیان عارضی طور پر نزدیکی پیدا ہوئی، لیکن طویل جنگ کے اثرات نے خطے میں ”کلاشنکوف کلچر“ اور منشیات کی اسمگلنگ جیسے سنگین سماجی و دفاعی مسائل کو جنم دیا، جن کے اثرات آج بھی دونوں ممالک کے تعلقات پر گہرے سائے ڈال رہے ہیں۔

حالیہ برسوں میں یہ کشیدگی تین بنیادی ستونوں پر کھڑی ہے جن میں سب سے پہلا اور بڑا مسئلہ سرحد پار دہشت گردی اور تحریکِ طالبان پاکستان کی مبینہ محفوظ پناہ گاہوں کا ہے۔ پاکستان کا دو ٹوک موقف ہے کہ کابل میں افغان طالبان کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد تحریکِ طالبان کو وہاں ٹھکانے میسر آئے ہیں جہاں سے وہ پاکستان میں حملے کرتے ہیں جبکہ افغان حکام ان الزامات کی مسلسل تردید کرتے ہیں۔

دوسرا تنازعہ سرحدی باڑ کا ہے جسے پاکستان اپنی قومی سلامتی کے لیے انتہائی اہم سمجھتا ہے جبکہ افغان حکام اسے ایک ”غیر قانونی تقسیم“ قرار دے کر تسلیم کرنے سے انکاری ہیں، جس کے نتیجے میں سرحد پر اکثر مسلح جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔

تیسرا سنگین نکتہ نومبر 2023 سے شروع ہونے والی افغان مہاجرین کی پاکستان سے بے دخلی کا ہے، جس نے کابل میں شدید غصہ پیدا کیا ہے۔

حالیہ برسوں کے اہم واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ تعلقات کے بگاڑ کا آغاز اگست 2021 میں افغان طالبان کے اقتدار میں آنے سے ہوا، جہاں سے پاکستان کی توقعات تو بڑھیں لیکن ساتھ ہی ٹی ٹی پی کے حملوں میں اچانک اضافہ ہوا، جو حالیہ کشیدگی کی بنیادی جڑ بنا۔ اس کے بعد دسمبر 2022 میں چمن بارڈر پر ہونے والی فائرنگ نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا جہاں سرحد پر باقاعدہ فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جس سے شہری آبادی متاثر ہوئی۔ معاشی محاذ پر تازہ ترین تنازعہ نومبر 2025 میں ٹرانزٹ ٹریڈ کے حوالے سے سامنے آیا، جہاں اسمگلنگ روکنے کے لیے لگائی گئی پابندیوں سے افغان حکومت ناراض ہو گئی۔

پاک افغان کشیدگی کے اثرات صرف دوطرفہ تجارت تک محدود نہیں بلکہ یہ علاقائی سیاست اور مستقبل کے اہم منصوبوں کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔ پاکستان کے لیے افغانستان وسطی ایشیا کی ریاستوں تک رسائی کا کلیدی راستہ ہے۔ پاکستان کی ہمیشہ سے یہ تشویش رہی ہے کہ بھارت افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر کے خطے میں عدم استحکام پیدا کر سکتا ہے۔ اس مسلسل کشیدگی کا سب سے بڑا نشانہ عام شہری اور دونوں ممالک کی معیشت بن رہی ہے کیونکہ اسمگلنگ اور تجارت کے درمیان توازن نہ ہونے سے پاکستان کو اربوں کا نقصان ہو رہا ہے۔ آبی ذخائر کی تقسیم اور دریائے کابل کے پانی پر کسی باقاعدہ معاہدے کا نہ ہونا بھی مستقبل میں ایک بڑے تنازعے کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جس کے لیے دونوں ممالک کو ابھی سے سنجیدہ سفارت کاری کی ضرورت ہے۔

مستقبل میں امن کے فروغ اور عوامی فلاح کے لیے دونوں ممالک کے سربراہان کو چاہیے کہ وہ الزامات کے تبادلے کے بجائے ایک مشترکہ سیکورٹی فریم ورک بنائیں تاکہ دہشت گردی کے خلاف مل کر لڑا جا سکے اور ایک دوسرے کی خود مختاری کا احترام یقینی ہو۔ سرحد پار منقسم خاندانوں اور مریضوں کے لیے ویزا کی پیچیدگیوں سے ہٹ کر بائیومیٹرک انٹری جیسا کوئی آسان نظام وضع کیا جائے تاکہ انسانی ہمدردی برقرار رہے۔ تجارت کو سیاست سے الگ رکھ کر طورخم اور چمن کے راستوں ایسی اقتصادی راہداری بنائی جائے جو اسمگلنگ کو روکے لیکن جائز تجارت میں رکاوٹ نہ بنے۔ تعلیمی اور ثقافتی وفود کے تبادلے بھی نفرتوں کے خاتمے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی سرحدیں بند ہوئیں، دلوں کے درمیان دوریاں بڑھیں اور اس کا فائدہ صرف دشمنوں نے اٹھایا۔ جغرافیہ بدلا نہیں جا سکتا، اس لیے بقائے باہمی ہی واحد راستہ ہے۔ اگر آج دونوں ممالک کے سربراہان نے ہوش کے ناخن نہ لیے اور بات چیت کے ذریعے مسائل حل نہ کیے، تو آنے والی نسلیں ہمیں اس تاریخی نااہلی پر کبھی معاف نہیں کریں گی۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW