بلاگ

کیا امریکہ عالمی تنہائی کا شکار ہو گیا ہے؟

Ahsan Abro

بین الاقوامی سیاست میں طاقت کے توازن اور عالمی اتحادوں کی اہمیت ہمیشہ سے فیصلہ کن رہی ہے۔ مگر حالیہ عالمی حالات میں ایک اہم سوال شدت کے ساتھ ابھر کر سامنے آ رہا ہے کہ کیا امریکہ، جو خود کو عالمی قیادت کا محور سمجھتا تھا، اب عالمی سطح پر تنہائی کی جانب بڑھ رہا ہے؟ خاص طور پر جب امریکہ کی اپیلوں کے باوجود اس کے قریبی اتحادی برطانیہ نے دو ٹوک الفاظ میں امریکہ ایران جنگ کا حصہ بننے سے صاف انکار کر دیا جبکہ بیلجیئم، جرمنی، فرانس، اٹلی، جنوبی کوریا، جاپان، اسپین پہلے ہی اس جنگ میں شمولیت سے انکار کر چکے ہیں اور دیگر نیٹو ممالک اور عالمی رہنماؤں کی جانب سے بھی خاموشی یا محتاط رویہ اختیار کیا جا رہا ہے۔

امریکہ نے گزشتہ کئی دہائیوں تک خود کو دنیا کا سب سے طاقتور ملک اور عالمی نظام کا نگہبان قرار دیا۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد جب سوویت یونین ٹوٹا تو امریکہ کو واحد سپر پاور کا درجہ حاصل ہو گیا۔ اس دور میں عالمی سیاسی و عسکری فیصلوں میں امریکی اثر و رسوخ نمایاں تھا اور نیٹو جیسے اتحاد اس کی طاقت کے اہم ستون سمجھے جاتے تھے۔

تاہم وقت کے ساتھ عالمی سیاست کا منظرنامہ بدلنے لگا۔ نئی معاشی و عسکری طاقتوں کے ابھرنے، علاقائی طاقتوں کے مضبوط ہونے اور عالمی عوامی رائے میں تبدیلی نے امریکہ کی یک طرفہ اور ہٹ دھرمی پہ مشتمل پالیسیوں کو چیلنج کرنا شروع کر دیا ہے۔

گزشتہ دہائیوں میں امریکہ کی متعدد جنگی مہمات اور مداخلتوں نے بھی عالمی سطح پر اس کی ساکھ کو متاثر کیا۔ عراق، ویتنام اور افغانستان کی جنگیں اس کی واضح مثالیں ہیں جن کے نتائج نہ صرف غیر متوقع رہے بلکہ خود امریکہ کے لیے بھی مہنگے ثابت ہوئے۔

موجودہ حالات میں جب امریکہ کسی عالمی بحران یا جنگی صورتحال میں اپنے اتحادیوں سے حمایت کی اپیل کرتا ہے تو اسے پہلے جیسی پرجوش اور فوری حمایت حاصل نہیں ہوتی۔ نیٹو کے کئی اہم ممالک کھل کر ساتھ دینے کے بجائے محتاط اور خاموش نظر آتے ہیں۔ بعض ممالک کھلے الفاظ میں عسکری مداخلت سے گریز کرتے دکھائی دیتے ہیں، کچھ نے دو ٹوک الفاظ میں اس جنگ کو اسرائیل کی جنگ قرار دے کر اس میں کودنے سے صاف انکار کر دیا جبکہ کچھ صرف سفارتی حمایت تک محدود دکھائی دے رہے ہیں۔

اس رویے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ یورپی ممالک اب اپنے قومی مفادات کو زیادہ اہمیت دینے لگے ہیں، اپنے عوام کی معاشی مشکلات اور سیاسی حالات کو مدنظر رکھ کر وہ ایسے کسی تصادم میں براہ راست شامل ہونے سے گریز کرنا چاہتے ہیں جو ان کی معیشت یا داخلی استحکام کو متاثر کرے۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ دنیا اب واضح طور پر کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں ایک ہی طاقت کے لیے عالمی فیصلوں پر مکمل اثرانداز ہونا اور دیگر آزاد خودمختار ممالک کو اپنے اشاروں پہ چلانا اب پہلے جیسا آسان نہیں رہا۔

عالمی طاقتوں کے درمیان معاشی تعلقات بھی اس تبدیلی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ بہت سے ممالک اب ایسی پالیسی اختیار کر رہے ہیں جس میں وہ کسی ایک عالمی طاقت کے ساتھ مکمل وابستگی کے بجائے متوازن تعلقات قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض ممالک امریکہ کی ہر پالیسی کی غیر مشروط حمایت سے گریز کرتے نظر آتے ہیں۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ عالمی عوامی رائے اب پہلے کی نسبت زیادہ باخبر اور متحرک ہو چکی ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں میں عوامی دباؤ حکومتوں کو ایسے فیصلوں سے روکتا ہے، کئی ممالک کے عوام یہاں تک خود امریکہ کے عوام بھی اپنی حکومت کی جانب سے معصوم بچوں عورتوں کے وحشیانہ قتل عام پہ سراپا احتجاج ہیں اور اپنی حکومتوں کو کسی بڑے تصادم میں پڑنے سے روکتے ہیں۔ چنانچہ کئی حکومتیں امریکی اپیلوں پر فوری ردعمل دینے کے بجائے محتاط سفارتی طرز عمل اختیار کر رہی ہیں۔

تاہم اس صورتحال کو مکمل طور پر امریکہ کی تنہائی قرار دینا شاید قبل از وقت ہو گا۔ امریکہ اب بھی دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں میں شامل ہے، اس کے پاس بے مثال عسکری طاقت موجود ہے اور عالمی مالیاتی و سیاسی اداروں میں اس کا اثر و رسوخ برقرار ہے، اقوام متحدہ اس کے اشاروں پر ناچتی ہے، لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ایران کی جانب سے سخت مزاحمت، ٹرمپ کے بلند و بانگ دعووں کے باوجود آبنائے ہرمز پہ اپنا کنٹرول برقرار رکھنا، اور اب نیٹو اور دیگر ممالک کو آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے منتیں کرنے کی وجہ سے عالمی سیاست میں اس کی مطلق برتری کو اب سخت چیلنج درپیش ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ دنیا ایک نئے عالمی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں طاقت کا توازن بتدریج تبدیل ہو رہا ہے۔ اس بدلتے ہوئے منظرنامے میں امریکہ کو بھی اپنی پالیسیوں پر نظرثانی اور عالمی شراکت داری کے نئے طریقے تلاش کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

اس سارے منظرنامے میں یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ نیٹو اور دیگر عالمی رہنماؤں کی محتاط خاموشی دراصل عالمی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ یہ تبدیلی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ مستقبل کی دنیا شاید یک قطبی نہیں بلکہ کثیر قطبی ہو گی، جہاں کسی ایک طاقت کے بجائے متعدد طاقتیں عالمی فیصلوں پر اثر انداز ہوں گی۔

یہی بدلتا ہوا عالمی منظرنامہ آنے والے برسوں میں بین الاقوامی سیاست کی سمت متعین کرے گا اور اس میں امریکہ کا کردار بھی اسی نئی حقیقت کے مطابق ڈھلتا نظر آ سکتا ہے۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW