اب خاموشی خطرناک: جنگ ایران و افغانستان اور نئی حکمت عملی کی اشد ضرورت
حال ہی میں ایران تنازع کے سنگین پس منظر میں منعقد ہونے والا اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ایک تلخ حقیقت کا آئینہ دار تھا: بین الاقوامی سفارت کاری کے تھیٹر میں اکثر یکجہتی کی محض نمائش کی جاتی ہے، جبکہ اصل تحریر مفاد پرستی کے تابع ہوتی ہے۔ یہ اجلاس مایوسی کی ایک کھلی مثال تھا، جہاں اخوت کی زبان میں خود ساختہ مفادات کو ترجیح دی گئی۔ یکجہتی کا اعلان محض اعلامیوں میں نہیں ہوتا۔ وہ مشترکہ قربانی میں ثابت ہوتی ہے۔ ایرانی عوام کا جاری سانحہ، خطے میں پھیلنے والے فتنے کا خطرہ، اور خاص طور پر پاکستان جیسے ممالک کی وہ خوفناک کشمکش، جہاں کے سرحدی علاقے ایسی بحرانوں کی نذر ہونے کے لیے ہمیشہ بے پناہ خطرے سے دوچار رہتے ہیں۔ ان تمام امور کو سفارتی بیانیے میں جگہ نہ دی گئی۔ محض زبانی جمع خرچ، اور ساری ترجیحات خلیجی ممالک کے لیے۔ یہ صورتحال ہمیں ایک ناگزیر نتیجے پر مجبور کرتی ہے : ہمیں اپنے خارجہ تعلقات کو نہایت واضح حقیقت پسندی کے ساتھ ازسرِنو ترتیب دینا ہو گا، اور اس سے بھی بڑھ کر، اپنی داخلی حکمت عملیوں میں بنیادی درستی کرنی ہو گی۔
وزرائے خارجہ کے اجلاس کے تناظر میں جو کبھی بہت اہم ہوتے تھے اب صورتحال یہ ہے۔ صحیح اور غلط کا پرانا سوال۔ جو کبھی ایک منصفانہ نظامِ عالم کی بنیاد تھا اور اخلاقی اور سیاسی گفتگو کی بنیاد سمجھا جاتا تھا۔ آج اپنی اہمیت کھو چکا ہے، گویا حقیقت کا کوئی بنیادی تصور طاقت کی مکارانہ حکمت عملیوں کے ہاتھوں بے معنی ہو کر رہ گیا ہے۔ اس خلا میں، ایسے بین الاقوامی اجلاسوں کے اختتام پر جاری ہونے والے اعلامیے اب اصولوں کا اعلان نہیں رہے، بلکہ سفارتی چالاکی کی گتھی ہوئی گرہوں میں لپٹی داستانیں ہیں۔ خالی بیانیے کا ایک ذخیرہ۔ اور پھر وہ تلخ حقیقت جس کا سامنا کرنے سے ہم گریز کرتے ہیں : ہم ان اجلاسوں سے خاموشی کے ساتھ اٹھتے ہیں، ان احتیاط سے تراشے گئے فقروں کو تھامے، اور خود کو یقین دلاتے ہیں کہ دنیا ہماری داستان کو چیلنج نہیں کرے گی۔ مگر چیلنج سرحدوں پر رکتا نہیں۔ وہ اندر سے اٹھتا ہے۔ ہمارے اپنے لوگ، ہمارے شہری، اب خاموش تماشائی نہیں رہے۔ وہ سوال اٹھا رہے ہیں، اور یہ سوال نہ صرف ہمارے بیانیے کو للکار رہے ہیں۔ یہ ہمیں للکار رہے ہیں، ہماری ساکھ کو، ہماری اہلیت کو، اور سب سے بڑھ کر ہماری اس صلاحیت کو، جس کے ذریعے ہم ان طوفانوں کا سامنا کر سکتے جنہیں ہم نے خود نظرانداز کیا۔ اور اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ وہ ہماری قیادت کرنے کی صلاحیت کو سوالوں کے گھیرے میں لے آتے ہیں۔
ہم ایک کٹھالی میں گھرے ہیں۔ بین الاقوامی صورت حال، خصوصاً ہمارے ہمسائے کی دہلیز پر، انتہائی نازک موڑ پر ہے۔ شعلے اب کوئی دور افق پر بھڑکتی آگ نہیں رہے، بلکہ ہماری ہی دیواروں سے لگ چکے ہیں۔ اب تک ہم نے سفارتی تعلقات اور تاریخی دوستیوں کی ڈھالوں کے سہارے اس آگ کو دور رکھنے میں کامیابی پائی ہے۔ لیکن یہ انتظام بے حد نازک ہے۔ دشمن۔ خواہ وہ بیرونی قوت ہو یا افراتفری کا وہ عنصر جو عدم استحکام سے خوراک لیتا ہے۔ صبر آزما ہے، مسلسل ہماری کمزوریوں کی تلاش میں ہے، کسی بھی غیرمتوقع اور غیر روایتی طریقے سے حملہ کرنے کے لیے موزوں گھاٹی کی تاک میں ہے۔ ایسے ماحول میں ہماری ہوشیاری کو مکمل اور بے نقص ہونا چاہیے، داخلی اور بیرونی خطرات کا جائزہ لینے میں ہمیں کوئی کسر نہیں چھوڑنی چاہیے۔
ہمارا جغرافیہ ہی ہماری تقدیر بھی ہے اور ہمارا مسئلہ بھی۔ افغانستان اور ایران سے قربت ایک دو دھاری تلوار ہے۔ جہاں تاریخی گہرائی ہے، وہیں مستقل خطرات بھی ہیں۔ ان دونوں ممالک میں معمولی سی تبدیلی یا انتشار ہمارے اپنے مملکت کے تانے بانے میں ایسے زلزلے پیدا کرتا ہے جس کا براہِ راست اثر خاص طور پر صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان پر پڑتا ہے۔ یہ صوبے محض سرحدی علاقے نہیں، بلکہ ہماری قومی استحکام کی بنیادی شریانیں ہیں۔ ان کی صحت کو نظرانداز کرنا تباہی کو دعوت دینا ہے۔ یہاں ہم ایک گہرے اور دائمی مرض کی طرف پہنچتے ہیں : ہماری داخلی سیاست کا کردار۔ دہائیوں سے ہم نے اپنے ملک کے جغرافیے کو ٹکڑوں میں دیکھنے کی عادت ڈال لی ہے۔ مختلف علاقوں میں وسائل اور شناخت کے لیے جائز جدوجہد کو ہم نے محض ”محدود مزاحمت“ یا ”نیشنلسٹ تحریکوں“ کے نام پر پروان چڑھایا، پھر اسے دبا دیا۔ ان تحریکوں کی اپنی ایک منطق تھی۔ ایک منطق جو مختلف علاقوں میں ترقی کی رفتار کے فرق اور نظرانداز کی گئی محرومیوں سے جنم لیتی تھی۔ مگر ہم نے ایک قوم کی حیثیت سے اس تفریق کو تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ ہمارا تاریخی ردِعمل انکار پر مبنی رہا ہے۔ ان آوازوں کو ہم نے اس بے چینی کی علامت سمجھنے کی بجائے، جس کے ذریعے کوئی قوم اپنی بیماری کو پہچانتی ہے، خاموش کروانے کا راستہ اختیار کیا۔ جو لوگ تفریق کی زبان بولتے تھے، ان پر قوم دشمنی کا لیبل لگا دیا جاتا تھا، ان کی وطن دوستی پر سوال اٹھایا جاتا تھا۔ ہم نے گہرائی میں جا کر تجزیہ کرنے، سمجھنے اور حل تلاش کرنے کے بجائے شارٹ کٹ اپنایا۔ منہ بند کروانا۔
اس طرزِ سیاست کا المیہ 1971 کی تباہی کی صورت میں سامنے آیا۔ یہ زخم ہمیں سکھا سکتا تھا کہ داخلی شکستوں کو نظرانداز کرنے کی کیا قیمت چکانی پڑتی ہے۔ مگر ہم نے اجتماعی بھول میں ڈوب کر اس سبق کو نظرانداز کیا۔ ہم نے انہی پالیسیوں کو جاری رکھا جو چند طبقوں اور مخصوص علاقوں کو فائدہ پہنچاتی رہیں، اور محرومیوں کی کھائی اتنی گہری ہوتی گئی کہ آج وہ ہمارے سامنے ایک ناقابلِ عبور خندق بن چکی ہے۔ اب سوال یہ ہے : کیا یہ سیاست۔ انکار، جبر اور مرکزیت کی سیاست درست یا جائز ہے؟ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ عمل سے زیادہ نتیجہ اہم ہے، مقصد ذرائع کو جائز قرار دیتا ہے۔ مگر اگر یہ منطق درست ہوتی تو مطلوبہ نتائج کبھی کے حاصل ہو چکے ہوتے۔ ستم یہ ہے کہ نتائج کی عدم موجودگی نے اس بحث کو اور زیادہ بڑھا دیا ہے۔ یہ بحث اب کسی حاشیے کی نہیں، بلکہ ایک قوم کی خودشناسی اور مستقبل کی تشکیل کے لیے مرکزی سوال بن چکی ہے۔
ہم آج ایک الجھاؤ کا شکار ہیں۔ مکالمے اور افہام و تفہیم کی بجائے ہم جوابی دلائل میں الجھ گئے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ بحث کا صحیح راستہ چھوٹ چکا ہے، مگر پھر بھی اس پر اصرار کرتے ہیں، جس کا انجام کہیں نہیں پہنچتا۔ مثال کے طور پر بلوچستان کا معاملہ لیں۔ جب اسے اسلام آباد کے زاویہ نگاہ سے دیکھا جاتا ہے تو ایک الگ تصویر بنتی ہے۔ جس میں بلوچ عوام کی غلطیاں، اپنی تعریف کے مطابق، نمایاں کی جاتی ہیں۔ اور اندر سے دیکھنے والوں کے لیے یہ تصویر بالکل الٹ ہوتی ہے۔ جہاں محرومی اور حق تلفی کی داستان ہے۔ دونوں اطراف اپنی تعریف شدہ حدود میں قید ہیں، اور حقوق و فرائض کی کوئی مشترکہ زبان نہیں بنتی۔ یہ طرزِ استدلال کسی دروازے تک نہیں پہنچاتا بلکہ ایک بند گلی میں لے جاتا ہے، جہاں امید کی کرنیں مدھم پڑنے لگتی ہیں۔ اس تمام صورت حال میں ایک اہم کڑی جان بوجھ کر نظرانداز کی جاتی ہے : غیر جمہوری ادوار، ایمرجنسی، اور بغیر جمہوریت کے پیدا ہونے والی شورشوں کا پس منظر۔ یہ محض تاریخی واقعات نہیں، بلکہ اس بے اعتمادی اور بیگانگی کے اصل معمار ہیں جس سے ہم آج دوچار ہیں۔ مگر ان عناصر کو بحث سے خارج کر کے دونوں مکاتب فکر مرکزیت کے حامی اور علاقائی حقوق کے علمبردار ایک بار پھر نقطۂ آغاز پر پہنچ جاتے ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم حقیقت پسندی کو اپنائیں۔ ایک باشعور قوم کی حیثیت سے ہمیں تجزیہ کرنا، سمجھنا، اعتراف کرنا، اور پھر اپنی حکمت عملیوں کو ازسرِنو ترتیب دینا ہو گا تاکہ موجودہ خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے اور اپنی غلطیوں سے پیدا ہونے والے خلا کو پر کیا جا سکے، اور ایسے ترتیب دینا کہ حاشیے پر موجود لوگوں کی قربانی بلوچستان میں، خیبرپختونخوا میں، سندھ کے کنارے بھولی بسری بستیوں میں رائیگاں نہ جائے، بلکہ ایک مضبوط، زیادہ متحد وفاق میں پروان چڑھے۔ وفاق کی اکائیوں سے متعلق نازک صورتحال اب کوئی معمولی سیاسی مسئلہ نہیں رہی، یہ وجودی خطرے کی گھنٹی ہے اور اس کی اہمیت موجودہ نزدیکی خارجی حالات (ایران اور افغانستان کے تناظر میں ) کی وجہ سے دوچند ہو گئی ہے۔ اس کے لیے نیم دلانہ اقدامات نہیں، بہادری بھرے فیصلے درکار ہیں۔ ایسے فیصلے جو خیالی تصورات کی بجائے زمینی حقائق پر مبنی ہوں۔ صحیح حکمت عملی واضح ہے، اگرچہ اس پر عمل درآمد مشکل ہے : معاشرے کے زیادہ سے زیادہ طبقات کو قومی دھارے میں لانا۔ یہ کوئی احسان نہیں، یہ ایک اصول ہے۔ اکائی کی مضبوطی وفاق کی مضبوطی ہے، یہ دو مختلف مسئلے نہیں، بلکہ ایک ہی سکے کے دو پہلو ہیں۔ انہیں الگ دیکھنے کا مطلب ہے اپنے ہاتھوں اپنی زنجیریں گھڑنا، ایسی زنجیریں جو ہمیں نہ صرف دہلیز پر بھڑکتی آگ کے سامنے کمزور کریں گی، بلکہ اندرونی طور پر کھوکھلا کرتی چلی جائیں گی۔

