ذہنی توازن – افسانہ
وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے تین سالہ ثمرہ کو دیکھ رہی تھی۔ ثمرہ کبھی فرہاد کے کمرے میں جاتی اور چاروں طرف دیکھتی اور کبھی باتھ روم میں جھانکتی، اس کی پریشانی قابلِ دید تھی۔ آسیہ کا اپنی بچی کی یہ حالت دیکھ کر دل چور چور ہو رہا تھا۔
”ثمرہ چلو آؤ، کمرے میں چل کر سوتے ہیں۔“ آسیہ نے اسے گود میں اٹھایا تو وہ سوالیہ نظروں سے اپنی ماں کو دیکھ رہی تھی۔ آسیہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ وہ بستر پہ لیٹ کر رونے لگی، اور ماضی کے دریچوں میں جھانکنے لگی۔
آسیہ اور فرہاد کا اکثر جھگڑا رہتا تھا۔ فرہاد کا مزاج بگڑا رہتا تھا۔ آسیہ ایک پڑھی لکھی اور کھاتے پیتے گھرانے کی خوش شکل لڑکی تھی۔ نہ جانے ان کے پیار کو کس کی نظر لگ گئی۔ فرہاد اکثر طنز کے تیر برساتے ہوئے کہتا: ”آخر تم اتنی شاہ خرچ کیوں ہو؟ یہ تمہارے ماں باپ کا گھر نہیں جہاں آنکھ بند کرتے ہی تمہاری خواہشات پوری ہو جاتی تھیں۔“
آسیہ کچھ اس طرح کا جواب دیتی: ”آخر میں بھی تو جاب کرتی ہوں۔ اب تم گھر کے بل ادا نہیں کرو گے تو کون کرے گا؟ میں بھی تو اپنی آمدنی گھر ہی میں خرچ کرتی ہوں، کہیں چھپا کر تو نہیں رکھتی!“
فرہاد یہ سن کر اسے معنی خیز نظروں سے گھورتا۔
آسیہ کو آدھی رات کے وقت فرہاد کی ہلکی ہلکی باتیں کرنے کی آواز آتی تو وہ برآمدے میں جا کر ٹوٹ پڑتی۔ ”رات کو اتنی دیر سے گھر کیوں آتے ہو اور رات بھر ٹیلیفون پر کس سے باتیں کرتے رہتے ہو؟“
فرہاد جواب دیتا: ”میرے کام کی نوعیت ہی ایسی ہے۔ شو بزنس کی دنیا میں ایسے ہی ہوتا ہے۔ رات کو ٹی وی چینل بند نہیں ہو جاتا۔“
آخر کار ایک دن آسیہ کی ایک سہیلی نے فرہاد کے عشق کا بھانڈا پھوڑ دیا۔
اب آسیہ اسے روز طعنہ دیتی: ”تمہیں اپنے بچوں کا بھی خیال نہیں ہے۔ ایک آوارہ لڑکی کے چنگل میں پھنس گئے ہو۔“
فرہاد پلٹ کر جواب دیتا: ”وہ آوارہ نہیں ہے۔ زبان سنبھال کر بات کرو۔“
روز بروز تلخیاں بڑھتی جا رہی تھیں۔ فرہاد کے گھر والوں نے بھی آسیہ کا ساتھ نہیں دیا۔ وہ ثمرہ کے لیے ابھی بھی نرم گوشہ رکھتا تھا اور اس کے ساتھ شفقت کا مظاہرہ کرتا۔ اس معصوم کو تو پتہ ہی نہیں تھا کہ اس کا گھونسلا کسی طوفان کی زد میں آ چکا تھا۔
پھر ایک دن جب آسیہ گھر آئی تو دیکھا کہ فرہاد اپنا سامان اکٹھا کر رہا تھا۔ فرہاد نے آسیہ کو اس طرح دیکھا جیسے کوئی بے جان شے وہاں کھڑی ہو اور اپنے سامان کی طرف متوجہ ہو گیا۔ آسیہ بے اختیار چیخی، ”یہ تم کیا کر رہے ہو، کہاں جا رہے ہو؟“
فرہاد کے چہرے پہ ایک عجیب سی مسکراہٹ آئی۔ ”اسی کے پاس۔ آوارہ لڑکی کے پاس۔ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔“
آسیہ فوراً اپنے شوہر کی طرف بڑھی اور دوسرے ہی لمحے فرش پہ ڈھیر ہو گئی۔
فرہاد نے ملازمہ کی مدد سے اسے کار کی پچھلی نشست پہ لٹایا، ثمرہ کو اپنے ساتھ والی نشست پہ بٹھایا اور پندرہ منٹ میں ہسپتال پہنچ گیا۔
تھوڑی دیر بعد فرہاد اپنی بچی کو گود میں لیے ڈاکٹر کو یہ کہانی سنا رہا تھا: ”اس عورت کا دماغی توازن ٹھیک نہیں ہے، ہر وقت توڑ پھوڑ کرتی ہے۔ اس کا صحیح علاج کریں۔ کہیں یہ میری بیٹی کو نقصان نہ پہنچا دے!“


بہت خوب
Thought provoking regarding marital and family conflicts
بہت فکر انگیز و دلگیر افسانہ ۔ لکھتی رہیے