جب خواب گاہ قتل گاہ بن جائے

گزشتہ ہفتے میرپور خاص میں میڈیکل کی طالبہ فہمیدہ لغاری نے خودکشی کر کے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ ڈاکٹر بننا اس کا خواب تھا، اور میڈیکل کالج اس کی خواب گاہ۔
خواب اگر تکمیل سے پہلے خوفناک شکل اختیار کر لیں تو انسان کا دم گھٹنے لگتا ہے۔ فہمیدہ کا بھی دم گھٹنے لگا تھا۔
اسے اپنی خواب گاہ، قتل گاہ محسوس ہونے لگی تھی، ایسی جگہ جہاں اس کی امیدوں اور خوابوں کا قتل ہو رہا تھا۔ وہ اندر ہی اندر ٹوٹ رہی تھی، اور موت اس سے صرف ایک سانس کے فاصلے پر کھڑی تھی۔
فہمیدہ نے بھی نادیہ اشرف، نائلہ رند، نمرتا چندانی اور نوشین کاظمی کی طرح زندگی پر موت کو ترجیح دینے سے پہلے یقیناً جینے کی کوشش کی ہوگی۔
سندھ میں آئے روز ایسے واقعات رپورٹ ہوتے رہتے ہیں۔ غربت، بے روزگاری اور تنگ دستی کے باعث لوگ اپنی زندگیوں کا خاتمہ کرتے ہیں۔
درست اوسط نکالنا مشکل ہے، مگر گزشتہ چند ماہ کے سندھی اخبارات کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ سندھ میں روزانہ پانچ سے چھ افراد اپنی جان لے لیتے ہیں۔ سب سے زیادہ واقعات ضلع تھرپارکر سے رپورٹ ہوتے ہیں، مگر ان پر کم ہی بات ہوتی ہے۔
جب معاشرے کا کوئی پڑھا لکھا فرد ایسا قدم اٹھاتا ہے تو اس کی خبر میڈیا کی زینت بنتی ہے۔
اگر کوئی ڈاکٹر خودکشی کرے تو لوگوں کو حیرت ہوتی ہے کہ جو دوسروں کی جان بچاتے ہیں، وہ خود اپنی جان کیسے لے سکتے ہیں؟
حالیہ دنوں میں ایسے دو واقعات سامنے آئے۔ مٹھی میں ڈاکٹر عبد الکریم نے خودکشی کی، اور اس کے بعد اسلام کوٹ میں ڈاکٹر راول میگھواڑ نے خود کو آگ لگا کر زندگی کا خاتمہ کیا۔
ہم ان واقعات پر اس لیے بات کرتے ہیں کہ پاکستان میں بہت سے لوگ ایسی زندگی کا خواب دیکھتے ہیں جو ایک ڈاکٹر گزارتا ہے۔
اگرچہ ان کی زندگی میں بھی مشکلات اور مسائل ہوتے ہیں، مگر مجموعی طور پر وہ کئی دیگر شعبوں کے مقابلے میں بہتر حالات میں ہوتے ہیں۔
اسی طرح سی ایس ایس کرنے والوں کی مثال لی جا سکتی ہے۔ ہر سال چند سو نوجوان کامیاب ہو کر اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوتے ہیں۔ انہی میں سے ایک نوجوان، ایس پی اسلام آباد عدیل اکبر بھی تھے، جنہوں نے اپنی زندگی کا خاتمہ کیا۔
ہم اکثر ذہنی تناؤ اور نفسیاتی مسائل کو خودکشی کی وجہ قرار دے کر اپنی ذمہ داری سے جان چھڑا لیتے ہیں، مگر کام کی جگہ پر جنسی اور نفسیاتی ہراسانی جیسے عوامل پر بات نہیں کرتے۔
اسی خاموشی کے باعث محمدی میڈیکل کالج میرپور خاص جیسے واقعات جنم لیتے رہتے ہیں۔
سنجیدہ بحث کے بجائے الزام تراشی اور کردار کشی کو ترجیح دی جاتی ہے۔
مرنے والے کے فیصلے پر سوال اٹھائے جاتے ہیں، مگر اسے اس نہج تک پہنچانے والوں پر کم ہی بات ہوتی ہے۔
زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر انسان کا سامنا ایسے رویوں سے ضرور ہوتا ہے جو اسے اس حد تک اذیت دیتے ہیں کہ موت بھی ایک راحت محسوس ہونے لگتی ہے۔
ہر شخص اتنے مضبوط اعصاب اور حوصلے کا مالک نہیں ہوتا کہ سب کچھ سہ سکے۔
ایک وقت ایسا آتا ہے جب زندگی کی خوبصورتی ماند پڑ جاتی ہے اور انسان اندر ہی اندر بکھرنے لگتا ہے۔ ڈپریشن ایک وجہ بنتا ہے، مگر اس کا محرک اکثر اُن لوگوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے جن کے ہم ماتحت ہوتے ہیں۔
اس میں ہماری سماجی ساخت کا بھی کردار ہے۔ والدین بچوں سے ایسی توقعات وابستہ کر لیتے ہیں کہ وہ ان کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔ وہ امتحان میں ناکامی سے ڈرتے ہیں اور کم نمبروں سے کامیابی کو اپنی توہین سمجھتے ہیں۔
یہی وہ نظام ہے جو طلبہ کی زندگیاں نگل رہا ہے۔
اساتذہ اپنی من مانیاں کرتے ہیں، کبھی فیل تو، کبھی کم نمبروں سے پاس کرنے کی دھمکیاں دے کر طلبہ کو مسلسل دباؤ میں رکھتے ہیں۔
اکثریت خاموشی سے یہ سب سہ لیتی ہے، مگر کچھ طلبہ، جیسے فہمیدہ لغاری، انتہائی حساس ہوتے ہیں اور اس اذیت کو برداشت نہیں کر پاتے۔
ایسے طلبہ انتہائی قدم اٹھانے سے پہلے شکایت بھی کرتے ہیں، مگر جب ان شکایتوں پر کوئی کارروائی نہیں ہوتی تو وہ دل برداشتہ ہو کر خودکشی پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یا پھر ڈاکٹر سنیہا کیسوانی کی طرح خاموش ہو جاتے ہیں، اور پیچھے صرف سوالات رہ جاتے ہیں۔
جب تک کسی ملزم پر جرم ثابت ہو اور کیس منطقی انجام تک پہنچے، اس دوران ایک اور خودکشی کا واقعہ سامنے آ چکا ہوتا ہے۔
یہی سست روی ممکنہ ملزمان جو ہراساں کرنے کو پر تول رہے ہوتے ہیں ان کے لیے حوصلے کا سبب بنتی ہے کہ اگر انصاف کا نظام کچھوے کی چال چلتا رہا تو ان کا بال بیکا نہیں ہو گا۔
جو لوگ اپنی زندگی کا چراغ بجھاتے ہیں، وہ اس سے پہلے جینے کی ہر ممکن کوشش کر چکے ہوتے ہیں۔ وہ مدد کے لیے ہر دروازہ کھٹکھٹا چکے ہوتے ہیں جہاں سے انہیں ذرا سی بھی امید نظر آتی ہے۔
جب زندگی کی رونق ماند پڑ جائے، کہیں کوئی بہتری کے آثار نظر نہ آئیں اور ہر طرف اندھیرا چھایا ہو تو پھر خودکشی کرنے والوں کو ثروت حسین کی طرح موت کے درندے میں کشش دکھائی دیتی ہے۔
مستقل مایوسی انسان کو اس نہج تک لے آتی ہے جہاں وہ خودکشی کو مسائل کا حل اور اذیت سے نجات کا راستہ سمجھنے لگتا ہے۔ وہ لمحہ لمحہ مرنے کے بجائے ایک ہی بار مرنے کو ترجیح دیتا ہے۔
یہ سوچ اس لیے جنم لیتی ہے کہ جب مدد کے لیے پکارا جائے تو کوئی ساتھ نہیں دیتا، مگر سانس کی ڈوری ٹوٹنے کے بعد ہر کوئی ساتھ کھڑا نظر آتا ہے۔
انسانی رویوں سے تنگ آ کر وہ اس انتہائی قدم پر مجبور ہو جاتا ہے۔
جب تک انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے جاتے اور مجرمان کو قرار واقعی سزا نہیں ملتی، جامعات سے ایسے افسوسناک واقعات رپورٹ ہوتے رہیں گے۔