میرے مطابق

پاکستان کا ایٹمی پروگرام: حقیقت کیا ہے؟

fida ur rehman chitral

پاکستان کا ایٹمی پروگرام ہماری قومی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے۔ بدقسمتی سے آج بھی لوگ اس ایٹمی پروگرام کو اپنی سیاسی پسند، ذاتی عناد یا نظریاتی سوچ کی عینک سے دیکھتے ہیں۔ کچھ لبرل حلقے ڈاکٹر عبدالسلام کو اس پروگرام کا معمار قرار دیتے ہیں جبکہ بعض دانشوروں کے نزدیک ڈاکٹر عبدالقدیر خان اس پروگرام کے اصل ہیرو ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ”سچ کیا ہے“ ؟ کن شواہد کی بنیاد پر کسی کو معمار یا محض ایک کردار کہا جا سکتا ہے؟

بے شک ڈاکٹر عبدالسلام ایک عظیم سائنسدان تھے۔ ان کی سائنسی خدمات کا اعتراف نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر کیا گیا۔ وہ نوبل انعام یافتہ بھی رہے اور تھیوریٹیکل فزکس میں ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ لیکن جہاں تک پاکستان کے جوہری پروگرام کا تعلق ہے حقائق کچھ اور ہی کہانی سناتے ہیں۔

ڈاکٹر عبدالسلام نے اس وقت پاکستان میں سائنس کے اعلیٰ مشیر کے طور پر کام کیا جب حکومتِ وقت نے امریکہ کے ”ایٹمز فار پیس“ منصوبے کی مکمل حمایت کی۔ پاکستان نے سیٹو اور سینٹو جیسے امریکہ نواز فوجی اتحادوں میں شمولیت اختیار کی۔ امریکی امداد کے بدلے پاکستان نے اپنی زمین پر فوجی اڈے فراہم کیے اور امریکی ماہرین کو اپنی اقتصادی منصوبہ بندی کا حصہ بنایا گیا۔ ان حالات میں جوہری ہتھیاروں کی طرف سنجیدگی سے سوچنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔

ساٹھ کی دہائی میں بھارت کی ایٹمی قوت بننے کے عزائم نمایاں ہو رہے تھے مگر اس کے باوجود پاکستان نے ایٹمی طاقت بننے کا فیصلہ نہ کیا۔ 1963 میں جب ذوالفقار علی بھٹو نے کابینہ کے سامنے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کی تجویز رکھی تو سب سے زیادہ مخالفت ڈاکٹر عبدالسلام (مشیر اعلیٰ برائے سائنس) اور وزیر خزانہ محمد شعیب نے کی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب پاکستان کے ایٹمی خوابوں کا پہلا دروازہ بند کر دیا گیا۔

فرانس کی جانب سے ری پروسیسنگ پلانٹ کی پیشکش بھی ایوب خان نے اپنے مشیروں جن میں ڈاکٹر عبدالسلام، جنرل یحییٰ خان اور ایم ایم احمد شامل تھے کے مشورے پر رد کر دی۔ ان فیصلوں نے واضح کر دیا کہ اس وقت کی قیادت جوہری اسلحے کی مخالف تھی اور ڈاکٹر عبدالسلام خود بھی اس خیال کے حامی نہ تھے۔

پھر تاریخ نے کروٹ لی۔ 1973 میں بھٹو نے جوہری پروگرام کا باقاعدہ آغاز کیا اور انہوں نے نہ صرف ایٹمی توانائی کمیشن کی قیادت بدلی بلکہ اپنے سائنسی مشیر ڈاکٹر عبدالسلام کو بھی برطرف کیا۔ اس کے بعد انہوں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ہالینڈ سے پاکستان بلایا۔ بھٹو کا ویژن واضح تھا۔ پاکستان کو ایک ایٹمی طاقت بنانا۔ انہوں نے مسلم دنیا کا طوفانی دورہ کیا تاکہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے لئے مالی اعانت حاصل کی جا سکے۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہوٹہ میں یورینیم کی افزودگی کا عمل 1974 میں شروع کیا۔ 1984 تک پاکستان نے ایٹم بم تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی۔ وہ اس منصوبے کے صرف تکنیکی ماہر ہی نہیں تھے بلکہ اسے آگے بڑھانے اور قوم کے سامنے اس کی وضاحت کرنے والے بھی وہی تھے۔

جب 1998 میں بھارت نے ایٹمی تجربات کیے تو ڈاکٹر قدیر اور ان کی ٹیم کی برسوں کی محنت رنگ لائی۔ پاکستان نے کامیاب تجربات کر کے خود کو ایٹمی طاقتوں کی صف میں شامل کر لیا۔

ڈاکٹر عبدالسلام کا کردار سائنسی ترقی میں بے مثال ہے لیکن پاکستان کے ایٹم بم کی تیاری میں ان کا کردار یا تو نہایت محدود تھا یا سراسر منفی۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر بھٹو ان کی مخالفت کو تسلیم کر لیتے تو شاید آج پاکستان ایک ایٹمی طاقت نہ ہوتا۔ ہمیں تاریخ کو اپنی پسند یا ناپسند کی بنیاد پر نہیں بلکہ اصل حقائق اور ثبوتوں کے مطابق سمجھنے کی ضرورت ہے۔

ایٹمی پاکستان کے معمار اگر کوئی ہیں تو وہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہیں جنہوں نے پاکستان کے وقار کے لیے وہ کارنامہ سرانجام دیا جو آج ہماری سلامتی کا ضامن ہے۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
✕
HumSub

FREE
VIEW