بلاگ

نواب صاحب کے مدرسے سے یادگاری ٹکٹ تک

Muhammad Salman Rao

علم کا دریا ہے اتنا کہ کنارا مل نہیں سکتا
جو سمندر میں اترے اسے کنکر نہیں موتی ملے

علم و ادب کی اس سرزمین میں جہاں صدیوں سے قافلے رواں دواں ہیں، وہاں آج ایک اور قافلہ منزلِ مقصود کو چھو رہا ہے۔ آج میں آپ کو اُس افتخار کی داستان سنانے جا رہا ہوں جو خاکسار نے بھی سنہری حروف میں لکھ ڈالی۔ بات ہے 1925 کی، جب نواب صادق محمد خان عباسی پنجم نے ایک چھوٹے سے مدرسے کی بنیاد رکھی۔ اُس وقت کس نے سوچا تھا کہ یہ شجرہ ایک دن سایۂ رحمت بن کر نہ صرف بہاولپور بلکہ پوری سرزمین پاکستان کا نام روشن کرے گا؟ لیکن جس شجرے کی جڑوں میں عرقِ جہد ہو، اس کے پھول خزاں میں بھی نہیں مرتے۔ آج وہی مدرسہ ”اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور“ کی صورت میں اپنی 100 ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ صدی کا یہ سفر طے کرتے ہوئے ایک اور انوکھا باب بھی لکھا گیا، جو میرے نزدیک کسی بھی علمی تقریب سے کم اہم نہیں۔ میں بات کر رہا ہوں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے یادگاری ڈاک ٹکٹ کے بارے میں۔

ڈاک ٹکٹ: صرف کاغذ کا ٹکڑا نہیں

کبھی آپ نے سوچا ہے کہ خط لکھنے کا مزا ہی کچھ اور تھا؟ جب قلم کاغذ پر اترتا تھا، جب الفاظ سیاہی میں ڈوب کر سنور جاتے تھے، جب کوئی خط مہینوں بعد کسی کے ہاتھ لگتا تھا تو آنکھوں میں نمی ہوتی تھی۔ ڈاک نے تہذیبوں کو جوڑا، ڈاک نے محبتوں کو پروان چڑھایا، ڈاک نے انقلابات کو پھیلایا۔ علامہ اقبال نے اپنے خطوط میں جو کہا، وہ آج بھی ڈاک کے ذریعے ہی پہنچ پایا۔ گویا ڈاک محض ایک نظام نہیں، بلکہ ایک تہذیبی رشتہ ہے۔ اور جب اسی ڈاک کا حصہ کوئی یادگاری ٹکٹ بنے، تو پھر وہ محض ٹکٹ نہیں، ایک امانت بن جاتا ہے۔

تاریخ شاہد ہے کہ ڈاک ٹکٹ محض خط بھیجنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ ایک چھوٹا سا آئینہ ہوتا ہے جو قوم کی ثقافت، کامیابیوں اور جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔ دنیا میں پہلا ڈاک ٹکٹ ”پینی بلیک“ جو یکم مئی 1840 کو برطانیہ میں جاری کیا گیا۔ تب سے لے کر آج تک، ہر مہذب معاشرے نے اپنے شاندار ترین لمحات کو ان چھوٹی چھوٹی تصویروں میں قید کیا ہے۔ یہ ٹکٹ وقت کے مسافر ہوتے ہیں، جو صدیوں کی کہانیاں اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ پاکستان میں ڈاک ٹکٹوں نے قائداعظم سے لے کر علامہ اقبال تک، مینارِ پاکستان سے لے کر سوات کی وادیوں تک، ہر عظیم شے کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ آج اس فہرست میں ایک نیا اور انتہائی قیمتی اضافہ ہوا ہے۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کا۔

یونیورسٹی کی صد سالہ خدمات

اس مدرسے نے جب قدم اٹھائے تو یہاں علم کی مشعل دھیمے دھیمے جل رہی تھی۔ نواب صادق کی دور اندیشی نے اس روشنی کو ہوا دی۔ قیامِ پاکستان کے بعد یہ ادارہ بڑھتا گیا، پھلتا پھولتا گیا اور 1975 میں یونیورسٹی کا درجہ پا کر ایک ایسے مقام پر پہنچا جہاں سے ہزاروں طالب علم ڈاکٹر، انجینئر، شاعر اور دانشور بن کر نکھرے۔ بہاولپور کی سرزمین ریتیلے طوفانوں اور صحراؤں کی ہے، مگر اس یونیورسٹی نے اس دھرتی کو علم کا نخلستان بنا دیا۔ یہاں کے ہر استاد اور ہر طالب علم کے دل میں یہ جذبہ موجزن ہے کہ۔

”روشن رہے ہماری علمی شمع، بجھنے نہ پائے کبھی یہ نور کا کاریں“

یہ یونیورسٹی نہ صرف بہاولپور بلکہ پورے پاکستان کی علمی دنیا میں ایک روشن ستارہ ہے۔ دُور دُور سے طلبہ علم کے موتی چننے یہاں آتے ہیں اور جب واپس جاتے ہیں تو اپنے ساتھ اسلامیہ یونیورسٹی کا نام لے کر جاتے ہیں۔

وہ یادگاری ڈاک ٹکٹ

چنانچہ اس سنہری موقع پر یونیورسٹی انتظامیہ نے ایک ایسا کام کیا جو نہ صرف یادگار ہے بلکہ تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران کی سربراہی میں یونیورسٹی کی فیکلٹی نے مل کر اس ڈاک ٹکٹ کو شکل دی۔

اس 100 روپے کے ڈاک ٹکٹ پر بغداد الجدید کیمپس میں موجود محکمہ زراعت (Agriculture Department) کی تصویر ہے۔ یہ وہی کیمپس ہے جہاں جدید تعلیم کی خوشبو آتی ہے۔ اور زرعی تحقیق کے نئے زاویے دریافت ہوتے ہیں۔ یہ تصویر اس بات کی علامت ہے کہ یہ یونیورسٹی روایت اور جدیدیت دونوں کو ساتھ لے کر چلتی ہے۔

اس ٹکٹ کی تیاری میں یونیورسٹی کی فیکلٹی نے بھرپور حصہ لیا۔ ہر استاد نے اسے اپنی علمی ذمہ داری سمجھا اور اپنی رائے سے اسے مزید بہتر بنایا۔ یہ ٹکٹ کسی ایک کی کاوش نہیں، بلکہ پوری یونیورسٹی کی اجتماعی محبت کا نتیجہ ہے۔

رونمائی کی تاریخی تقریب

اور پھر وہ دن آیا۔ 8 اپریل 2026 کو عباسیہ کیمپس، بہاولپور میں ایک شاندار تقریب منعقد ہوئی۔ اس دن اس چھوٹے سے ڈاک ٹکٹ کی باقاعدہ رونمائی کی گئی۔ وہاں موجود ہر شخص نے محسوس کیا کہ وہ محض ایک ٹکٹ نہیں دیکھ رہا، بلکہ ایک سو سال کی جدوجہد، محبت اور علم کا عکس دیکھ رہا ہے۔

پیارے قارئین، مجھے فخر ہے کہ میں بطور لیکچرار اس عظیم ادارے کا حصہ ہوں۔ میں اپنے تمام ساتھی اساتذہ، طلبہ اور خاص طور پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران صاحب کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جن کی قیادت میں یہ خواب شرمندۂ تعبیر ہوا۔ یہ ڈاک ٹکٹ اب صرف خطوں پر نہیں لگے گا، بلکہ یہ ہر اُس شخص کے دل میں لگے گا جو بہاولپور اور اس کی علمی میراث سے محبت کرتا ہے۔

صدی مبارک، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور
آئندہ سو سال بھی روشن رہیں تیرے چراغ

Facebook Comments Box

محمد سلمان راؤ

محمد سلمان راؤ شعبہ علمِ بشریات ( انتھرپولوجی) میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں لیکچرر ہیں۔ ان کے پاس ہیومن ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ موجود ہے، نیز سلمان راؤ ایک ماہرِ سکّہ شناسی (نمیزمیٹسٹ) بھی ہیں۔
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments
Back to top button
HumSub

FREE
VIEW