
گزشتہ 20 اور 21 مارچ کو دنیا کے مختلف خطوں میں عید الفطر اور نوروز کا جشن منایا گیا۔ حالانکہ یہ خوشیاں مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کی وجہ سے ماند رہیں۔ ان دو ساعتوں کا ایک دن روپذیر ہونا ایک خوش نما اتفاق ہے۔ مختلف شعراء نے ان دونوں ایام کے سلسلے میں جو عمدہ اشعار باندھے ہیں، ان میں سے چند یہ ہیں :
اندر دل من مھا دل افروز تویی
یاران ہستند لیک دلسوز تویی
شادند جھانیان بہ نوروز و بہ عید
عید من و نوروز من امروز تویی
شب عیدست ساقی بادہ روشن مھیا کن
تماشای مہ نو را ز جام زر دو بالا کن
خمارآلود بی تاب است در خمیازہ پردازی
لب ما بستہ می خواھی، دھان شیشہ را وا کن
بر چھرۀ گل نسیم نوروز خوش است
در صحن چمن روی دلافروز خوش است
از دی کہ گذشت ہر چہ گویی خوش نیست
خوش باش و ز دی مگو کہ امروز خوش است
بر آمد باد صبح و بوی نوروز
بہ کام دوستان و بخت پیروز
مبارک بادت این سال و ہمہ سال
ھمایون بادت این روز و ہمہ روز
ساقیا آمدن عید، مبارک بادت
وان مواعید کہ کردی، مرواد از یادت
در شگفتم کہ در این مدت ایام فراق
برگرفتی ز حریفان دل و دل می دادت
معروف مصور و شاعر صاؔدقین امروہوی ( 1987۔ 1930 ) پر تحقیق کے دوران مجھے موصوف کی دس عدد غیر مطبوعہ رباعیات حاصل ہوئیں، جو اس مضمون کا عنوان ہے۔ یہ رباعیاں کلیات صاؔدقین کا حصہ نہیں بن سکیں۔ پانچ رباعیاں تو موصوف کی ذاتی ڈائری سے دستیاب ہوئیں اور دیگر پانچ مرحوم کے دولت کدے، واقع کلفٹن۔ کراچی، میں موجود ایک کھال پر لکھی ہوئی ہیں۔
موصوف کی نثر میں فارسی الفاظ و تراکیب کی آمیزش نمایاں ہے۔ ایک مقام پر وہ رباعی رقم کرنے سے پہلے لکھتے ہیں، ”بنام خدائے بخشندہ و مہربان“ ۔ یہ فارسی ترکیب، بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے مترادف ہے، جس کا استعمال صاؔدقین کی خطاطی میں کثرت سے ملتا ہے۔
صاؔدقین ان رباعیات میں اکثر ملا اور اس کی رعونت پر نشانہ لگاتے ہوئے دکھتے ہیں۔ اسی طرح علامہ اؔقبال بھی جگہ جگہ اپنے کلام میں ملا و موذن پر نقد کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، جس کا مقصد انہیں حالت جمود سے بیدار کرنا ہے۔ یہاں اس بات کا خیال رہے کہ صاؔدقین، اؔقبال سے متاثر نہیں ہیں، بلکہ دونوں امت مسلمہ کی بیداری و خوش حالی کے خواہاں ہیں۔ ہاں، یہ واضح ہے کہ صاؔدقین، اؔقبال کے معروف شعر: پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں، کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور، کو پسند کرتے ہیں اور انہوں نے فرئیر ہال میں اپنے قیام کے دوران اسے بھی خطاطی کے قالب میں ڈھالا تھا۔
اسی ضمن میں اؔقبال اپنی نظم جواب شکوہ میں فرماتے ہیں :
واعظ قوم کی وہ پختہ خیالی، نہ رہی
برق طبعی نہ رہی، شعلہ مقالی نہ رہی
رہ گئی رسم اذاں، روح بلالی، نہ رہی
فلسفہ رہ گیا، تلقین غزالی نہ رہی
مزید برآں، شاعر مشرق اپنے مسدس مستئی کردار میں بھی شکایت کرتے ہیں :
صوفی کی طریقت میں فقط مستئی احوال
ملا کی شریعت میں فقط مستئی گفتار
شاعر کی نوا مردہ و افسردہ و بے ذوق
افکار میں سرمست! نہ خوابیدہ نہ بیدار!
وہ مرد مجاہد نظر آتا نہیں مجھ کو
ہو جس کے رگ و پے میں فقط مستئی کردار!
چنانچہ، زیر بحث غیر مطبوعہ رباعیات، مع وضاحتی نوٹ از صاؔدقین، ذیل میں درج کی جاتی ہیں۔
1 مے ہم کو حسینان جواں دیتے رہے
محفل کو تغزل کا سماں دیتے رہے
شب بھر تھا یہی شغل، سحر کو ملا
مسجد کے مناروں میں اذاں دیتے رہے
نوٹ: یادش بخیر اکتوبر 1972 ع میں یہ بے اندوہ و بے نوا فقیر جناح ہسپتال کے اسپیشل وارڈ کے کمرہ نمبر 9 میں تھا، اور ایک رات نرسیں اپنے ہوسٹل میں لے گئیں اور رات بھر کافی پلاتی رہیں اور پھر میں اپنے وارڈ کی طرف جا رہا تھا اور الصلاۃ خیر من النوم ہو رہی تھی انتہائی بے سریلے انداز میں، اسی وقت اس عابد شب زندہ دار نے راستہ چلتے چلتے یہ ذیل کی رباعی کہی تھی۔
نرسوں کو حسینان جواں اور کافی کو ضرورت شعر و شاعری کی مجبوری میں مے باندھ گیا۔
2 غصے کو کہاں تھوک رہے ہیں ملا
سناٹے میں کب چوک رہے ہیں ملا
مہ پاروں سے میں بھیرویں سنتا ہوں یہاں
گنبد میں کہیں کوک رہے ہیں ملا
3 ہے صورت سوز و ساز اے ساقی!
کہنا نہ کسی سے! یہ ہے راز اے ساقی!
مسجد کے موذن کا لحن ٹھیک نہیں
یوں گھر میں ہی پڑھتا ہوں نماز اے ساقی!
4 پوشاک نوا میں جو نہ گیلا ہوتا
آواز میں پھر لال نہ پیلا ہوتا
ہر وقت نماز کو میں جایا کرتا
اے کاش! موذن جو سریلا ہوتا!
5 گو کوہ میں تھامے ہوئے تیشہ ہی رہے
رگ سر کی، ترنم کا وہ ریشہ ہی رہے
ہاں حضرت بلال و رابسن سے اب تک
حبشی خوش آواز ہمیشہ ہی رہے
نوٹ: رباعی نمبر دو سے پانچ (جو فرئیر ہال، کراچی، میں بہ روز 12 نومبر 1986 ع، بہ وقت صبح صادق رقم ہوئی تھیں ) کے متعلق صاؔدقین لکھتے ہیں : فغان نیم شبی کے بعد اور آہ سحر کاہی کے دوران بے ساختہ طور پر یہ رباعیاں ہوئیں اور حکم خدا وندی سے احاطہ تحریر میں رقم پذیر ہو گئیں۔ (مذکورہ رابسن سے مراد شاید مشہور سیاہ فام امریکی گلوکار پال رابسن ہیں ) ۔
6 جو خشک تھا اک ایسا فسانہ ہوا ختم
غل کر کے وہ راتوں میں جگانا ہوا ختم
نکلا تو ہلال عید مجھ سے بولا:۔
”ملا کی رعونت کا زمانہ ہوا ختم“
7 ہیں گیارہ مہینے تو عبوری ساقی!
فرعونئی ملا ہے ادھوری ساقی!
اور اس کی رعونت میں جو باقی ہو کسر
رمضان میں ہو جاتی ہے پوری ساقی!
8 انتس ہی کا جب چاند ہوا ہے ساقی!
یوں عید پہ دل ناچ رہا ہے ساقی!
فرعونئی ملا کا زمانہ صد شکر
پھر گیارہ مہینے کو ٹلا ہے ساقی
9 چہرہ جو ہے ملا کا اجڑ جاتا ہے
اخلاق کی ہو بات تو اڑ جاتا ہے
ویسے ہی وہ جو ذہنی توازن ہے خراب
رمضان میں کچھ اور بگڑ جاتا ہے
10 کشتی میں رعونتوں کو کھے کے ملا
پندار کو دستار میں لے کے ملا
رمضان ہے وہ ماہ مبارک جس میں
ایمان کے لے لیتا ہے ٹھیکے ملا

















