بلاگ

سوا صدی قبل امریکہ جانے والا چکوالیا

nabeel anwar dhakku

میرے پڑدادا کا نام اکثر خان تھا جو شجرے میں اصگر خان لکھا ہوا ہے۔ وہ اپنے دونوں بھائیوں غزن خان اور حیدر خان سے بڑے تھے اور قبیلے کے پہلے سپوت تھے جنہوں نے سرکاری نوکری کی اور نوکری بھی انگریز سرکار کی۔ جس دن ان کے بھرتی ہونے کی خبر گاؤں پہنچی تو گاؤں میں ان کا نام سپاہی پڑ گیا۔ یہ تینوں بھائی اپنی دونوں بہنوں بھاگ بھری اور مہر بھری سے پہلے چل بسے تھے۔ نانی بتاتی تھیں کہ برادری میں کسی جوان موت پر جب اس کی ماں بین کر رہی تھی تو نانی کی اماں یعنی میری پر نانی مہر بھری (اکثر خان، غزن خان اور حیدر خان کی بہن) جس کے تینوں بھائی فوت ہو چکے تھے نے یہ بین کیا،

توں کیوں رونی ایں ڈھولن دی مائے
اسیں تے نہ روندے جنہاں ہتھیں لال کھڑائے

اکثر خان، غزن خان اور حیدر خان کے پرکھوں میں بالترتیب نور محمد خان، بڈھا خان، صدیق، شرف، بخش، یوسف، حاکم، سبحان خان، برخوردار، شاہ بیگ، کوہلی، روپا اور ڈھکو تھے۔ اس پیڑھی میں پہلے کس نے اپنا دھرم بدلا اس کے متعلق حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتا۔ اپنے پُرکھوں کے تذکرے سے میں ہمیشہ اجتناب ہی کرتا آیا ہوں کہ عظمتِ رفتہ کے گیت گانا یا اس پر ماتم کرنا عبث لگتا ہے۔ آج مگر برسوں سے دل میں کچوتے لگاتی ہوئی اپنے خاندان کی ایک کہانی کا وہ نقش ملا ہے جس کی وجہ سے بے ساختہ یہ الفاظ لکھنے بیٹھ گیا ہوں۔

تو بات شروع ہوئی تھی اپنے پر دادا اکثر خان سے۔ وہ کب پیدا ہوئے اس کے متعلق حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتا۔ لیکن وہ ہانگ کانگ میں برطانوی فوج کی رائل گیریژن آرٹلری میں جب بطور گنر بھرتی ہوئے تو اس وقت ان کی عمر 23 برس تھی۔ 1913 میں 21 سال تک ہانگ کانگ میں انگریز سرکار کی ملازمت کرنے کے بعد انہیں ملازمت سے جو ڈسچارج سرٹیفیکیٹ ملا اس پر تاریخ 20 مارچ 1913 درج ہے۔ 44 سال کی عمر میں ملازمت سے ریٹائرڈ ہونے کا مطلب یہ ہوا کہ وہ 1869 میں پیدا ہوئے اور 23 سال کی عمر میں بھرتی ہونے کا مطلب یہ ہوا کہ انہوں نے 1892 میں برطانوی فوج میں شمولیت اختیار کی تھی۔

بابا اکثر خان کے دو بیٹے تھے۔ محمد انور خان اور غلام اکبر خان۔ وہ اپنے بڑے بیٹے محمد انور خان کو 1905 میں اپنے ساتھ ہانگ کانگ لے گئے اور وہاں ہی ان کی تعلیم کا بندوبست کیا۔ محمد انور خان نہ صرف ہمارے قبیلے بلکہ ہمارے گاؤں کے پہلے شخص تھے جنہوں نے تعلیم حاصل کی اور وہ بھی ہانگ کانگ میں۔ باپ بیٹا ہانگ کانگ میں مقیم تھے کہ بابا اکثر خان کی مدتِ ملازمت پوری ہو گئی یا وہ چھٹی لے کر اپنے وطن واپس آ گئے لیکن آتے وقت ان سے ایک ایسی بھول ہو گئی جو ان کی باقی ماندہ زندگی کو اس سرعت سے نگل گئی کہ وہ محض 51 سال کی عمر میں چل بسے۔ اپنے کمرے سے نکلتے وقت وہ اپنے صندوق کی چابی اپنے بیٹے محمد انور خان کو نہیں بلکہ اپنے کسی دوست کو دے آئے تھے۔ محمد انور خان سے یہ برداشت نہ ہوا کہ باپ نے مجھ پر اعتبار نہیں کیا اور اپنے صندوق کی چابی اپنے دوست کو دے کر چلا گیا ہے۔ اکثر خان ہندوستان کو نکلے تو غصے سے بھرا محمد انور خان امریکہ کی طرف منہ کر گیا۔ امریکہ پہنچ کر ہمارا یہ بابا کن کن مشکلات سے گزرا اور خود کو آسودہ حال بنانے کے لیے اس نے کیا کیا جتن کیے، اس کے متعلق ہمیں کچھ معلوم نہیں۔ لیکن چند برسوں بعد امریکہ سے اس نے اپنے باپ کو ایک خط لکھا جس میں فقط اتنا لکھا کہ میرے پاس بہت پیسہ ہے، بہت خوشحال ہوں، لیکن اب میں نے واپس نہیں آنا۔ گھر میں یہ سنتا آیا ہوں کہ بابا کی چٹھی گاہے بگاہے آتی رہتی تھی اور یہ چٹھیاں ان کے چھوٹے بھائی غلام اکبر خان سنبھال کر رکھتے تھے۔ لیکن بعد میں وقت کا دریا ان چٹھیوں کو بھی بہا کر لے گیا۔

گھر میں یہی سنتے آئے ہیں کہ بابا انور خان کیلیفورنیا یونیورسٹی میں پڑھتا رہا یا پڑھاتا رہا تھا۔ انہوں نے امریکہ میں ہی شادی کی تھی لیکن بھری جوانی میں ہی فوت ہو گئے تھے۔ ان کی موت کی وجہ بھی ہمیں معلوم نہیں لیکن جب وہ فوت ہوئے تو ان کی امریکن بیگم نے اپنے سسر اکثر خان کے نام خط لکھ کر ان کی ناگہانی وفات کے متعلق اطلاع دی۔ یہ خط انگریزی میں تھا اور بابا اکثر خان اس خط کو پڑھنے سے قاصر تھے۔ وہ خط لے کر چکوال میں تعینات کسی افسر کے پاس پہنچے اور کہا یہ جاتا ہے کہ وہ یہ خط لے کر جویا مائر آئل کمپنی میں گئے اور وہاں کسی افسر سے پڑھوایا۔ جب افسر نے بابا اکثر خان کو بتایا کہ یہ خط امریکہ میں مقیم آپ کے بیٹے محمد انور خان کی بیگم کی طرف سے ہے جس میں ان کی ناگہانی موت کے متعلق بتایا گیا ہے تو ڈھکو کے اس ”سپاہی“ نے امریکہ سے اپنے جوان اور ناراض بیٹے کی موت کا سندیسہ لانے والے خط کو ہاتھ میں مروڑا اور منہ میں ڈال کر نگل لیا۔ اکثر خان گھر تو پہنچ گئے لیکن ہونٹوں پر چپ کا تالا لگا کر۔ چپ ایسی پکڑی کہ ہر وقت کسی کونے میں بیٹھ کر حقے کے کش لگاتے رہتے۔ کہتے ہیں کہ دو یا تین سال بعد گندم کی گہائی کے دن تھے۔ گندم کے ڈھیر پر گائیوں اور بیلوں کو چلا کر سِٹوں (خوشوں ) سے دانے الگ کیے جاتے تھے اور اس عمل کو پھلہوں سے گندم گہائی کرنا کہتے تھے۔ برادری کے مرد پھلہے چلانے میں مصروف تھے جبکہ سپاہی اکثر خان درخت کے نیچے بیٹھ کر اپنی چپ کے ساتھ حقہ پی رہا تھا۔ مگر اس دن سپاہی کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ نگلے ہوئے خط میں چھپا دکھ اور کرب پگھل کر آنکھوں کے رستے پھوٹ پڑا تھا۔ سپاہی پر ایک ملازم کی نظر پڑی اور وہ ملازم بھی اس برادری سے تھا جن کی اکڑ کو پنجابی رہتل میں ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ ملازم پاس آیا اور بولا، ”سپاہیا اج دس تینوں کے مسئلہ اے۔ کیوں چپ نپی وی آ، کسے بندے تنگ کیتے وا ای تے مینوں دس۔ اسے ترینگل نال اس نوں مار دیساں“ ۔ سپاہی دھاڑیں مار کر رویا اور کہہ اٹھا کہ میرا بیٹا انور خان کب کا امریکہ میں مر چکا ہے۔ یوں محمد انور خان کی بھری جوانی میں ہونے والی موت کا راز دو یا تین سال بعد کھلا اور گھر میں کہرام مچ گیا۔ سپاہی اکثر خان بھی پھر زیادہ دیر تک نہ جیا اور 1920 میں چل بسا۔ 28 مئی 1947 کو سپاہی اکثر خان کے چھوٹے بیٹے غلام اکبر خان کا تیسرا بیٹا پیدا ہوا اور اس کا نام بھی اس کے چچا کے نام پر محمد انور خان (میرے والد) رکھا گیا۔ اس خط کے بعد امریکہ سے کوئی خط نہ آیا اور نہ ہمیں یہ معلوم ہے کہ ہمارے اس بزرگ کی قبر کہاں ہے، ان کی بیگم کا کیا نام تھا، ان کی اولاد تھی یا نہیں۔ موت کا سندیسہ لانے والے اس خط نے سپاہی اکثر خان اور اس کے بیٹے کے درمیان تعلق کا آخری دھاگہ بھی توڑ دیا تھا۔

میرے پاس اس بات کا تو کوئی ثبوت نہیں کہ سپاہی اکثر خان کا بیٹا محمد انور خان امریکہ میں کیلیفورنیا یونیورسٹی میں پڑھتا یا پڑھاتا رہا ہے لیکن جیسے اس تحریر کے شروع میں عرض کیا ہے کہ برسوں سے دل میں کچوتے لگاتی ہوئی اپنے خاندان کی ایک کہانی کا آج وہ نقش ملا ہے جس کی وجہ سے بے ساختہ یہ الفاظ لکھنے بیٹھ گیا ہوں تو وہ نقش ساؤتھ کیلیفورنیا میں لاس اینجلس میں قائم نیشنل سکول آف انجینئرنگ کا 14 جنوری 1914 کا وہ سرٹیفیکیٹ ہے جو آج مجھے اپنے تایا محمد نواز خان مرحوم کے صندوق میں پڑے پرانے کاغذات کو پھرولتے ہوئے ملا ہے۔ اس سرٹیفیکیٹ میں لکھا ہے کہ محمد انور خان نے ہمارے اس سکول میں شوفر مکینکس کے کورس میں داخلہ لیا ہے۔ لیکن اب مالی مسائل کی وجہ سے اسے عارضی طور پر سکول چھوڑنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ البتہ مستقبل قریب میں اس سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اس سکول میں دوبارہ آ کر اپنی تعلیم مکمل کرے۔ مسٹر انور نے یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ وہ ایک ذہین، ایماندار اور محنتی نوجوان ہے اور ہم اسے ہر اس شخص کے لیے تجویز کرتے ہوئے دلی مسرت محسوس کرتے ہیں جسے اس کی خدمات درکار ہوں ”۔ اس سرٹیفیکیٹ میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ محمد انور خان ترک افغان تھا۔ بابے نے پتہ نہیں یہ ڈنڈی کیوں ماری اور غصے میں ماری یا کسی مصلحت کے تحت ماری۔ بیس بائیس سال اس کی عمر ہو گی اور والد سے روٹھ کر امریکہ گیا تھا۔ تاہم فیس بک پر احمد جاوید صاحب نے نشاندہی کی ہے کہ اس زمانے میں ہندوستانیوں کے امریکہ آنے پر پابندی تھی اس لیے جو ہندوستانی آتا وہ ترک یا افغان بن کر آتا۔

یہ سرٹیفکیٹ امریکہ سے ڈھکو کیسے پہنچا اس کے متعلق مجھے علم نہیں۔ ممکن ہے بابا گاہے بگاہے جو چٹھیاں لکھتا رہا ان میں یہ سرٹیفیکیٹ بھی بھیج دیا ہو۔

نیشنل سکول آف انجینئرنگ کا یہ سرٹیفیکیٹ 14 جنوری 1914 کا ہے اور محمد انور خان کے والد اکثر خان 20 مارچ 1913 کو ملازمت سے برخاست ہوئے۔ مطلب 14 جنوری 1914 کے وقت امریکہ جانے والا ڈھکو کا محمد انور خان اس حد تک مالی مشکلات کا شکار تھا کہ لاس اینجلس کے سکول میں وہ ڈرائیور کا یہ کورس بھی مکمل نہ کر سکا کہ اسے امریکہ پہنچے اس وقت محض دس ماہ ہوئے تھے اور وہ وہاں تن تنہا تھا۔ لیکن اس کے بعد اس نے وہاں اپنا جہان پیدا کر لیا مگر اس میں وہ زیادہ دیر تک جی نہ سکا۔

1913 میں امریکہ جانے والے محمد انور خان کی کوئی تصویر میرے پاس نہیں۔ ابو بتاتے تھے کہ چچا کی تصویر کہیں پڑی ہوئی ہے لیکن میں نے نہیں دیکھی۔ آنکھیں بند کر کے اپنے اس بابے کا سراپا سوچوں تو سامنے لمبی ناک اور گندمی رنگ والا چھ فٹا مائر منہاس کھڑا نظر آتا ہے کہ چکوال کے مائر منہاس (مرد و زن) لمبے قد اور لمبی ناک کی وجہ سے پہچانے جاتے تھے۔ اب دوسرے قبائل میں شادیوں کی وجہ سے مائر منہاس قبیلے کے کچھ مرد و خواتین بھی پست قد کے نظر آتے ہیں۔ سوچتا ہوں کہ آج سے سوا صدی قبل ہمارا بابا اپنے باپ کے ساتھ چکوال سے ہانگ کانگ گیا اور باپ سے روٹھ کر ہانگ کانگ سے امریکہ پہنچ گیا اور خاندان سے ایسا کٹا کہ اپنی مٹی پر دفن بھی نہ ہو سکا۔ پھر خیال آتا ہے کہ دوام فنا کو ہی ہے۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW