خزانہ خالی، تنخواہیں ندارد اور بلٹ ٹرین کے خواب
سوشل میڈیا پر ایک چونکا دینے والی خبر نظر سے گزری۔ وزیر ریلوے جناب حنیف عباسی صاحب نے بلٹ ٹرین چلانے کا خواب دیکھا ہے۔ پہلے تو ہم سمجھے کہ یہ خبر کسی مزاحیہ صفحے کی تخلیق ہے، یا شاید کسی فیس بک میم کا حصہ۔ مگر جب پتہ چلا کہ یہ بیان اصلی ہے، تو دل کو ویسا ہی دھچکا لگا جیسے ریلوے کی کسی بوگی میں بیٹھے مسافر کو تب لگتا ہے جب بیت الخلا کے دروازے کے بجائے اس کے خواب کھل جاتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ خواب جاگتے میں دیکھا گیا یا نیم خوابی میں؟ دوپہر کے قیلولے میں یا کسی کانفرنس کے دوران؟ یا شاید اس وقت جب ریلوے کے ستم رسیدہ ملازمین بجلی کے بغیر، پانی کے بغیر، گیس کے بغیر اپنے کوارٹروں میں ”زندہ لاشوں“ کی طرح دن کاٹ رہے ہوتے ہیں۔
ہمیں تو بندن میاں کی بات یاد آ گئی۔ وہی بندن میاں جنہیں ریٹائر ہوئے تین برس بیت چکے، لیکن جن کی گریجویٹی، فیئر ویل گرانٹ اور میرج گرانٹ اب تک ”زیرِغور“ ہے۔ وہ ہمیشہ ہنستے ہنستے کہتے ہیں یہ بلٹ ٹرین وہی تو نہیں جس میں ہم پینشن کے بغیر قبرستان تک کا سفر کریں گے؟ ان کی یہ بات طنز کم، نوحہ زیادہ لگتی ہے۔ جب ایک پینشنر بولتا ہے، تو اس کے الفاظ نہیں، اس کے زخم بولتے ہیں۔
پاکستان ریلوے کی موجودہ حالت کو اگر کسی جسمانی کیفیت سے تشبیہ دی جائے، تو وہ ایک فالج زدہ مریض کی ہے، جس کے جسم کا نچلا دھڑ مفلوج ہے، مگر دماغ بلٹ ٹرین کے منصوبے سوچ رہا ہے۔ زنگ آلود پٹڑیاں، ٹوٹی پھوٹی کوچز، اسٹیشنوں پر بدبودار بیت الخلا، دیواروں پر جلی ہوئی چائے اور در و دیوار پر ”اوئے ببلو تُو مرے گا“ جیسے فقرے۔ ایسے ماحول میں بلٹ ٹرین کی بات کرنا ایسے ہی ہے جیسے کوئی فقیر حج کے پیکیج پر مشورہ دے۔ ریلوے کی کوچز آج بھی 1980 کے دھات سے بنی ہوئی لاشیں لگتی ہیں، جو چلتی کم ہیں، ہانپتی زیادہ ہیں۔ پنکھے چلیں تو لگتا ہے کرپشن کی ہَوا دے رہے ہیں، نہ چلیں تو جیسے ادارہ سچائی پر خاموش ہو۔ تنخواہیں تاخیر کا شکار، خواب مگر تیز رفتار، ریلوے کے ہزاروں ملازمین ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو یہ دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ! اس بار تنخواہ دس دن سے پہلے آ جائے۔ جب کسی ادارے کے حاضر سروس ملازمین کو ہر ماہ روزہ افطار کرنے کے لیے تنخواہ اور پینشن کی افطاری کا انتظار کرنا پڑے، جب کسی کا بجلی کا بل ادھار، بچوں کی فیس قسطوں پر، اور راشن ادھار پر آتا ہو، تو ایسے میں ادارے کے سربراہ کا بلٹ ٹرین کا خواب گویا نمک نہیں، مرچوں سے بھرا طمانچہ ہوتا ہے۔
بندن میاں پینشنرز کا ماتم اور حکومتی خاموشی پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے غمگین لہجے میں گویا ہوئے، صاحب اب آئیے اُن بزرگوں کی بات کرتے ہیں جنہوں نے اپنی جوانی، وقت، ہنر اور زندگی ریلوے کو سونپ دی، یعنی پینشنرز۔ ان بزرگوں کو ہر ماہ اس ادارے کے دروازے پر دھکے کھانے پڑتے ہیں جس کے لیے انہوں نے عمر بھر کھانا بھول کر بھی ڈیوٹی کی۔ کئی بیوائیں، جن کے شوہر دورانِ سروس انتقال کر گئے، اپنی بیٹیوں کو ساتھ لے کر دفاتر میں حاضری دیتی ہیں۔ ایک فائل تین سال سے ایک میز سے دوسری میز پر جا رہی ہے، اور اُس پر لکھا ہے منظوری کے عمل میں ہے۔ یعنی آپ مریں، فائل نہ مرے۔ بندن میاں اکثر کہتے ہیں، یہ فائلیں نہیں چل رہیں، یہ بزرگوں کی سانسیں گھسٹ رہی ہیں۔
کالونیوں کی حالت زار جہاں انسان نہیں، سائے بستے ہیں ریلوے کالونیوں میں جا کر دیکھیں، تو منظر گویا کسی پوسٹ ایٹمی دور کا لگتا ہے پانی کی بوند بوند کو ترستے نلکے، کھلے مین ہول ہر گلی چوراہائے میں گندگی کے ڈھیر، جرائم پیشہ افراد کے قبضے، گیس کی فراہمی بند، ٹوٹے دروازے، سیلن زدہ دیواریں ایسے گھروں میں رہنے والے ملازمین بلٹ ٹرین کی بات سن کر ہنستے نہیں، کڑھتے ہیں۔ کیوں کہ انہیں پتہ ہے کہ جس ادارے کے دروازے پر چوکیدار اور پلیٹ فارم پر مسافر اور معصوم بچے پینے کے لیے ٹھنڈے پانی کو ترسے، وہاں بلٹ ٹرین صرف اشتہار ہوتی ہے۔
حادثات کا تسلسل، اور انکوائری کمیٹیوں کے انجام کو بندن میاں نے یوں بیان کیا کہ پاکستان ریلوے میں ہونے والے حادثے اب خبروں کی زینت نہیں بنتے۔ وہ اب معمول کا حصہ بن چکے ہیں۔ ”جیسے“ اوہ آج پھر وہی انجن پٹڑی سے اُتر گیا۔ ”یا“ دو بوگیاں الگ ہو گئیں، کوئی بات نہیں، جوڑ لیں گے۔ اوہو آج پھر ایک اور مال گاڑی پٹڑی سے اُتر گئی، آنے اور جانے والا ٹریک بلاک ہونے کے سبب تمام ٹرینیں اپنی اپنی جگہ پر روک دی گئی ہیں۔ ریلوے پھاٹک پر اینٹوں یا مٹی سے بھرا ٹرک ٹرین انجن سے ٹکرا گیا۔ فائر مین اور ڈرائیور معمولی زخمی باقی تمام مسافر محفوظ رہے۔ اور ٹرینوں کا شیڈول ایک ہفتہ پندرہ دن کے لیے درہم برہم ہو گیا۔
پھر آتی ہے انکوائری، جو ایسے شروع ہوتی ہے جیسے قسطوں والی کہانی، اور اختتام ”زیر التواء“ پر ہوتا ہے۔
ایسے میں بلٹ ٹرین، حقیقت یا ڈرامائی اشتہار؟ یہ بلٹ ٹرین ایک ایسا ”برانڈڈ جھوٹ“ ہے جو صرف کچھ ٹھیکیداروں، افسران اور اشتہاری مہم چلانے والوں کے لیے منافع بخش ہے۔ عام پاکستانی کے لیے بلٹ ٹرین کا مطلب ہو گا، انسٹا ریلز پر ویڈیو بنانا، باہر سے سیلفی لینا، اندر جانے کی اجازت نہ ہونا۔ پھر اُس ٹرین کے بھی کولر بند ہوں گے، پنکھے خراب ہوں گے، ٹکٹ بلیک میں ملے گا، اور منزل پر پہنچنے سے پہلے ”ڈیڑھ گھنٹہ لیٹ“ ہو گی۔ بندن میاں کا کہنا ہے کہ پہلے اصل کی مرمت، پھر نقل کی بات۔
اگر واقعی کچھ کرنا ہے۔ تو پٹڑیوں کی مرمت اور ان کی حفاظت کی جائے، مسافروں کو تحفظ اور آسان و پروقار آرام دہ سفر اور وقت کی پابندی دی جائے، کالونیوں میں بجلی، پانی، گیس، صفائی دی جائے، بیت الخلا قابلِ استعمال ہوں، ریلوے ملازمین کو عزت دی جائے تنخواہیں وقت پر ادا ہوں، پینشنرز کے کیسز فوری نمٹائے جائیں، جب یہ سب کچھ ہو جائے گا تو پھر قوم خود کہے گی اب بلٹ ٹرین بنا لو، ہم پیچھے کھڑے ہو کر سیٹی بجائیں گے۔ بندن میاں کی دردناک باتوں کا اختتامیہ ہوا اور ایک دم خاموش ہو گئے۔ پوچھا ”کیا بات ہے؟“ بولے، ہم نے ریلوے کو عزت دی، ریلوے نے ہمیں رسید دی۔ ہم نے خواب دیکھنا چھوڑ دیا ہے، کیونکہ جب بھی کوئی وزیراعظم، محکمہ کا وزیر یا ہمارے افسران بالا خواب دیکھتے ہیں تو ہمارے لیے حقیقت مزید بھیانک ہو جاتی ہے۔
بندن میاں کا قیمتی مشورہ اور صدائے درد عزت مآب وزیراعظم پاکستان، عزت مآب وزیر ریلوے، اور وہ سب حضرات جو اداروں کو ”چمکانے“ کے خواب دیکھتے ہیں، بد دعا لیتے ہیں برائے کرم! خوابوں کی تجارت مت کیجیے، پہلے اُن لوگوں کی دعائیں خریدیے جن کی پینشن بند ہے، جن کے گھروں میں فاقے ہیں،
اور جن کے بچے اب ریلوے میں کام کرنے کا خواب نہیں دیکھتے بلکہ بددعائیں دیتے ہیں۔
بلٹ ٹرین چلانے سے پہلے، ”انسانوں کی ٹرین“ درست کیجئے وہ ٹرین جو انصاف، وقت پر تنخواہ اور پنشن کی ادائیگی بنیادی سہولتوں، عزت اور تحفظ کے ڈبوں پر مشتمل ہو۔ جب وہ چلنے لگے گی، تب قوم خود بلٹ ٹرین کے خواب میں آپ کی شریکِ سفر بن جائے گی۔

