ہندوستان میں ایک ہندو ریاست کا خواب: جو پورا نہ ہوسکا

پونے سے پشاور۔ ایک خواب کا سفر
پونے کے دورے کے دوران ایک خیال بار بار میرے ذہن میں آتا رہا۔ یہ جگہ پشاور سے کتنی دور ہے۔ ہزاروں کلومیٹر کا فاصلہ۔ اور پھر میں سوچنے لگا کہ یہیں سے، اسی مٹی سے، وہ مراٹھے اٹھے تھے جنھوں نے پہلے وسطی ہندوستان کو اپنے زیرِ اثر لیا، پھر شمالی ہندوستان کی طرف بڑھے، لاہور کو فتح کیا، اور آخرکار پشاور کے قریب تک جا پہنچے۔
یہ بات مجھے حیران کر گئی۔ اتنا طویل فاصلہ، اتنی مختلف زمینیں، اتنے مختلف لوگ۔ اور مراٹھوں نے یہ سب کچھ ایک بہت کم عرصے میں کر دکھایا۔ نہ آج کی طرح سڑکیں تھیں، نہ تیز رفتار سفر کے ذرائع۔ پھر بھی وہ اتنی دور تک اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ سوچتا ہوں، انھوں نے یہ کیسے کیا ہو گا؟ کس حوصلے، کس تنظیم اور کس عزم سے انھوں نے یہ فاصلہ طے کیا ہو گا؟
مگر جتنی تیزی سے وہ آگے بڑھے، اتنی ہی تیزی سے انھیں پیچھے بھی ہٹنا پڑا۔ جو سلطنت پشاور تک پہنچ گئی تھی، وہ بہت جلد سمٹ کر رہ گئی۔ ان کی طاقت ختم ہو گئی، اور آج صرف چند نشانیاں ہی باقی رہ گئی ہیں جو اس دور کی یاد دلاتی ہیں۔

اسی سفر کے دوران مجھے ایک بات کا احساس ہوا۔ کسی قوم کے عروج کے لیے صرف حوصلہ اور طاقت کافی نہیں ہوتی۔ اگر اندر ہی اندر کوئی کمزوری موجود ہو۔ چاہے وہ ہٹ دھرمی ہو، اتحادیوں سے بدسلوکی ہو یا فتح کے بعد کا غرور۔ تو وہی کمزوری، دیر یا سویر، سب کچھ لے ڈوبتی ہے۔ مراٹھے میلوں دور تک پہنچ گئے، مگر جو رکاوٹ انھیں لے ڈوبی، وہ باہر سے نہیں، بلکہ ان کے اپنے اندر سے آئی تھی۔
شاید یہی وہ سبق ہے جو پونے کی اس مٹی نے مجھے سکھایا۔ کہ فاصلے طے کرنا ایک بات ہے، اور ان فاصلوں کو سنبھال کر رکھنا بالکل ایک اور بات۔
میں تاریخ سے جو جان سکا، وہ کچھ یوں ہے۔
بالاجی کے والد باجی راؤ کا خواب تھا کہ وہ ہندوستان میں ایک ہندو بادشاہت قائم کرے۔ اسی لیے اس نے ہندو راجپوتوں کے ساتھ اچھے تعلقات بنائے۔ مگر باجی راؤ اوّل کی وفات اور کچھ اہم راجپوت سرداروں کی وجہ سے یہ اتحاد جلد ہی ٹوٹ گیا، اور وہ خواب بس خواب ہی رہ گیا۔
بالاجی راؤ کے دور میں مراٹھوں اور راجپوتوں کے درمیان گہرے اختلافات پیدا ہو گئے۔ ان کی وجہ سے مراٹھوں کے ساتھ ساتھ ہندوؤں کو بھی بہت نقصان پہنچا۔ اس میں زیادہ قصور کس کا تھا، یہ کہنا مشکل ہے۔
سورج مل جاٹ، راجپوت سرداروں اور مراٹھوں کی تاریخ پڑھ کر میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مراٹھوں کی ہٹ دھرمی ہی انھیں لے ڈوبی۔ اس کی ایک مثال 1750 ء کی ہے، جب ایشوری سنگھ اپنے بقایا جات مراٹھوں کو ادا نہ کر سکا اور مراٹھوں نے اس کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا۔ ایشوری سنگھ کے پاس مراٹھوں کو دینے کے لیے رقم نہیں تھی، اور وہ اپنے شہریوں پر مزید ٹیکس بھی نہیں لگانا چاہتا تھا۔ اسی صورتِ حال میں اس نے زہر کھا کر خودکشی کر لی۔
مراٹھوں کے ایسے ہی رویے کی وجہ سے کوئی بھی مقامی راجپوت یا جاٹ ان کے ساتھ پانی پت کی جنگ میں شامل نہیں ہوا۔ انھوں نے اکیلے ہی احمد شاہ ابدالی کا مقابلہ کیا اور بدترین شکست کھائی۔
مادھو راؤ بھٹ پیشوا۔ مراٹھوں کا نواں پیشوا
اپنے والد کی موت کے بعد سولہ سالہ مادھو راؤ کو مراٹھا سلطنت کا اگلا پیشوا بنا دیا گیا۔ وہ مراٹھوں کا نواں پیشوا تھا۔ مادھو راؤ بھٹ پیشوا نانا صاحب کے دوسرے بیٹے تھے۔ وہ 1745 ء میں ساونور میں پیدا ہوئے۔ نانا صاحب نے مراٹھا سلطنت کو وسعت دے کر بہتر حکمرانی کی ایک مثال قائم کی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے جنگوں کے ساتھ ساتھ فلاح و بہبود کے بھی کئی کام کیے۔ اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ وہ پانی پت کی تیسری جنگ میں شکست کا کسی حد تک ذمہ دار بھی تھا۔
مادھو راؤ کی وفات 1772 ء میں، صرف 27 سال کی عمر میں ہوئی۔ ان کی موت مراٹھوں کے لیے بہت بڑا نقصان ثابت ہوئی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ان کی موت ہی مراٹھوں کے زوال کا نقطۂ آغاز تھی۔ وہی انگریز جن کی مدد سے مراٹھوں نے کئی مسلمان ریاستیں تباہ کیں، آخرکار انھی کے ہاتھوں مراٹھوں کی طاقت بھی ختم ہوئی۔
مراٹھوں کا دلی پر آخری وار۔ اس بار مغلیہ سلطنت کے بچاؤ کے لیے
احمد شاہ درانی نے 1757 ء کے اوائل میں چوتھی بار ہندوستان پر حملہ کیا۔ اس کے سامنے کوئی روکنے والا نہ تھا۔ اس نے مغل بادشاہ کو نظربند کیا اور واپسی پر عالمگیر دوم کو دہلی کے تخت پر بٹھا دیا، جو بس نام کا بادشاہ تھا۔ جاتے ہوئے ابدالی نے اپنے قابلِ اعتماد افغان جرنیل نجیب الدولہ کو دلی کا اصل حکمران بنا دیا۔ اس کے بدلے نجیب نے ابدالی کو ہر سال بیس لاکھ روپے خراج دینے کا وعدہ کیا۔ دراصل نجیب ہی تھا جس نے ابدالی کے اس حملے میں اس کی مدد کی تھی۔
میرا خیال ہے کہ اس پوری کہانی میں مغلوں اور افغانوں کی پرانی دشمنی کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ ابدالی خود بھی ایک افغان تھا۔ اس نے مغل بادشاہ کو کٹھ پتلی بنا دیا اور اصل اقتدار ایک افغان (نجیب) کے حوالے کر دیا۔ اس طرح دہلی کا اصل حکمران اب ایک افغان تھا۔
یہ سب دیکھ کر مغل بادشاہ اور اس کا وزیر عماد الملک گھبرا گئے۔ انھوں نے مراٹھوں سے مدد مانگنے کا فیصلہ کیا۔ وہی مراٹھے جنھوں نے اس سے پہلے دلی کو لوٹا تھا۔ مراٹھوں کے لیے یہ سنہرا موقع تھا، جب مغلیہ سلطنت کا وارث خود انھیں بلا رہا تھا۔ انکار کیسے کرتے؟
مراٹھوں نے مغلوں کی مدد سے نجیب کو شکست دی، اور اب دلی کے حکمران بھی بن گئے۔ انھوں نے بھی عالمگیر دوم کو ہی بادشاہ رہنے دیا۔ دلی فتح کرنے کے بعد ، مئی 1758 ء میں مراٹھوں نے اپنی سلطنت خیبر پاس تک پھیلا دی۔ اس کے پیچھے بھی مغلوں اور افغانوں کی وہی پرانی دشمنی کارفرما تھی۔
جب مراٹھوں نے دلی پر قبضہ کیا تو پنجاب کے مغل گورنر اور سکھوں نے بھی انھیں مدد کے لیے بلا لیا۔ اب ایک طرف ابدالی کے حامی تھے، اور دوسری طرف مغل، مراٹھے، راجپوت اور سکھ اکٹھے تھے۔ سب ہی ابدالی کے حملوں سے تنگ آ چکے تھے۔ 1758 ء میں ان سب نے مل کر ابدالی کے حامیوں کے خلاف زبردست مہم چلائی اور خیبر تک ان کا پیچھا کیا۔ یہ اکیلے مراٹھوں کی فتح نہیں تھی، اس میں کئی اور بھی شریک تھے، مگر سب سے بڑا کردار مراٹھوں کا ہی تھا۔
پھر مراٹھوں نے پنجاب میں اپنی طرف سے ایک گورنر مقرر کیا۔ مگر ابدالی یہ صورتِ حال زیادہ دیر برداشت نہ کر سکا، اور مراٹھوں کے لیے بھی اتنی دور رہ کر اپنا اقتدار قائم رکھنا مشکل تھا۔ آخرکار وہی ہوا جو ہر اس طاقت کے ساتھ ہوتا ہے جو ہر وقت اپنی سرحدیں بڑھانے کی کوشش میں لگی رہے۔ زوال۔
ابدالی نے پانچویں بار حملہ کر کے مراٹھوں کے بڑھتے قدم روک دیے۔ مراٹھوں کا بے حد جانی نقصان ہوا، اور شمالی ہندوستان میں ان کا اقتدار ختم ہو گیا۔ دوسری طرف انگریزوں نے بھی مراٹھوں پر حملے شروع کر دیے، اور جنوبی ہندوستان کی کئی ریاستوں نے بھی سر اٹھانا شروع کر دیا۔ وہ طوفان جو ہندوستان کو ایک ہندو ریاست بنانے کے لیے جنوبی ساحلوں سے اٹھا تھا، پنجاب اور موجودہ کے پی کے کے علاقوں میں دم توڑ گیا۔ ساتھ ہی انگریزوں نے جنوبی ہندوستان پر بھی چڑھائی کر دی۔
یہ سب دیکھ کر میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد جو خلا پیدا ہوا، اسے اس دور کی دو بڑی طاقتیں۔ انگریز یا مراٹھے۔ پُر کر سکتی تھیں۔ ابدالی نے مراٹھوں اور ان کے ساتھیوں کی طاقت توڑ دی، اور اب میدان میں صرف ایک ہی طاقت رہ گئی۔ ایسٹ انڈیا کمپنی۔ یاد رہے، اس وقت تک برطانیہ کی حکومت خود ہندوستان کے معاملات میں براہِ راست شریک نہیں تھی۔ ایسے میں انگریزوں کی جیت تقریباً یقینی تھی۔ اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ ابدالی کے حملوں نے، انجانے میں، انگریزوں کی راہ ہموار کی۔
اس سے ایک بات یہ بھی نکلتی ہے۔ اگر ابدالی کی وجہ سے مراٹھوں کی طاقت ختم نہ ہوتی، تو شاید ہندوستان پر ہندو حکومت کا مراٹھا خواب پورا ہونے میں کوئی رکاوٹ باقی نہ رہتی۔ ایسی صورت میں مسلمانوں کا کیا بنتا؟
تاریخ بتاتی ہے کہ مراٹھوں اور ان کے ساتھیوں نے کسی بھی مسلمان ریاست کو نہیں بخشا۔ وہ ایک ایک کر کے انھیں ختم کر رہے تھے۔ انھیں ہندو اکثریت کی حمایت بھی حاصل تھی، اور ہندو رعایا کو مسلمان حکمرانوں کے طرزِ حکمرانی سے بھی بہت سی شکایتیں تھیں۔ اگر ابدالی نہ آتا تو کیا مسلمان چین کا سانس لے پاتے؟ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ شاید نہیں۔
اس بارے میں میں نے امجد نواز وڑائچ صاحب سے بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ابدالی کا مراٹھوں کو ختم کرنا اور پھر انگریزوں کا حکمران بننا، دراصل مسلمانوں کی بقا کی وجہ بنا۔ میرا خیال بھی یہی ہے، مگر ممکن ہے یہ بات درست نہ ہو۔ آپ کی کیا رائے ہے؟


