حالیہ عدالتی حکم نامہ: اقلیتوں کی آس اور اُمید
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے گُزشتہ منگل تضحیکِ مذہب کے مُقدمات کے حوالے سے ایک اہم حُکم نامہ جاری کیا ہے جِس میں حکُومت کو ایک کمِیشن تشکیل دینے کی ہِدایت کی گئی ہے۔ اِس کمِیشن کا بُنیادی مقصد اُن اِلزامات کی تحقِیقات کرنا ہے جِن میں مُبینہ طور پر نوجوانوں پر آن لائن تضحیکِ مذہب کے جھوٹے مُقدمات دَرج کیے جا رہے ہیں۔
عدالت کا یہ حُکم اُن مُقدمات میں مُلزمان کے خاندانوں کی جانِب سے دائر کی گئی درخواستوں کے جواب میں دیا گیا ہے، جِنہوں نے اِنکوائری کمِیشن کے قیام کی درخواست کی تھی۔ اِس سِلسلے میں ایسی ہی ایک اہم دستاویز پنجاب پولیس کی اِسپیشل برانچ کی جنوری 2024 کی ایک رپورٹ بھی شامل کی گئی تھی جِس میں بتایا گیا تھا کہ ایک مُنظم گروہ بلیک میلِنگ اور بَھتہ خوری کے لیے شہریوں کو ایسے مُقدمات میں پھنسا رہا ہے۔
عدالت نے وفاقی حُکومت کو حُکم دیا ہے کہ وہ 30 دِن کے اندر یہ کمِیشن تشکیل دے۔ کمِیشن کو اپنی تحقِیقات مُکمل کرنے اور اپنی رِپورٹ پیش کرنے کے لیے چار ماہ کا وقت دیا گیا ہے، تاہم اِس میں مزید وقت کی گُنجائش موجود ہے۔ ذرائع کے مطابق شفافِیت کو یقینی بنانے کے لئے عدالت نے کمِیشن کی کارروائی کو براہ راست نشر کرنے کا بھی حُکم دیا ہے۔
قومی کمیشن برائے اِنسانی حقوق (NCHR) نے بھی اکتوبر 2023 میں ایسے ہی مُقدمات پر مُشتمل ایک جامع رپورٹ پیش کرتے ہوئے مُشترکہ تحقِیقاتی ٹیم (JIT) بنانے کا مُطالبہ کیا گیا تھا تاکہ ایسے مُقدمات میں شفاف تحقِیقات سامنے لائی جا سکیں۔
اِسلام آباد ہائی کورٹ کا یہ حُکم پاکستان کے عدالتی اور سماجی منظرنامے میں ایک اہم اور تاریِخی پیش رفت ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب مُلک میں ایسے قوانین کے مُبینہ غلط اِستعمال اور اِس کے نتِیجے میں بے گُناہ افراد کو درپیش خطرات پر مُسلسل تشویش کا اِظہار کیا جا رہا ہے۔
یہ حُکم اِس بات کی واضح دلیل ہے کہ عدلیہ بھی مذہب کی آڑ میں ہونے والی زیادتیوں، مذہبی مُنافرت اور تعصُبات کے بڑھتے ہوئے واقعات سے گہری تشویش میں مُبتلا ہے۔ یہ فیصلہ اِس بات کو یقینی بنائے گا کہ عوام اور مُتاثرین کو اِنصاف کی فراہمی کے عمل پر اعتماد ہے، نیز یہ اِقدام حقِیقت کو سامنے لانے میں مدد دے گا۔ یہ سارا عمل صِرف چند افراد کو اِنصاف دِلانے کے لیے نہیں بلکہ تضحیکِ مذہب کے قوانین کے غلط اِستعمال کی روک تھام کے لیے ایک وسیع حِکمتِ عملی کی جانب پہلا قدم ہو سکتا ہے۔
اِس کمِیشن کا قیام اِنسانی حقُوق کے تحفُظ اور سماجی ہم آہنگی کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ یہ نہ صِرف ان افراد کے لیے اُمید کی کِرن ہے جو جھوٹے اِلزامات کا سامنا کر رہے ہیں بلکہ یہ رِیاست کے اِس عزم کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے حقُوق کے تحفُظ کے لیے سنجِیدہ ہے۔ تاہم اِس کمِیشن کی کامیابی کا اِنحصار اِس بات پر ہو گا کہ اِسے کِتنی خُود مُختاری حاصل ہوتی اور کِتنا با اِختیار بنایا جاتا ہے۔ کیا اِس کی سِفارشات پر عمل درآمد مُمکن ہو گا؟ اِس مشکل فیصلے پر چل کر پاکستان میں ایک مُنصفانہ اور پُرامن مُعاشرے کی بُنیاد رکھی جا سکتی ہے۔
اِس عدالتی حُکم کی سب سے اہم جہتوں میں سے ایک یہ ہے کہ یہ مذہبی اِقلیتوں کے تحفُظ کے حوالے سے بھی اُمید کی ایک کِرن ہے۔ ماضی میں اِن قوانین کا غلط اِستعمال اکثر اقلیتی برادریوں کے خلاف ہوتا رہا ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف جھوٹے مُقدمات بنتے رہے بلکہ جلاؤ گھیراؤ اور ماورائے عدالت قتل جیسے ہولناک واقعات بھی رونما ہوئے ہیں۔ جڑانوالہ، جوزف کالونی، گوجرہ اور اسی نوعیت کے دیگر واقعات جہاں صرف الزام کی بنیاد پر پوری کی پوری بستی اور عبادت گاہیں نذرآتش کر دی گئیں، تلخ حقیِقت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
اگر یہ کمیشن موثر طریقے سے کام کرتا ہے تو ایسے جھوٹے الزامات کی جڑیں تلاش کرپائے گا اور ان عناصر کو بے نقاب کر سکے گا جو بے گناہ افراد، بالخصوص اقلیتوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ جب یہ واضح ہو جائے گا کہ قانون کو ذاتی رنجشوں یا مالی مفادات کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا تو ماورائے عدالت کارروائیوں اور ہجوم کے پرتشدد اقدامات کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ کمیشن کی یہ کامیابی ایسے افراد کے لئے واضح ’چتاونی‘ ہو گی جو قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں۔
اگلے قدم پر یہ ضروری ہے کہ کمیشن میں ایسے افراد کو شامل کیا جائے جن کی شہرت غیر جانبداری، دیانت داری اور قانون کی گہری سمجھ بوجھ پر مبنی ہو۔ اس میں عدلیہ، قانون نافذ کرنے والے ادارے، انسانی حقوق کے ماہرین، معروف و کلاء اور اقلیتی برادریوں کے نمائندوں (خاص طور پر قانون اور سماجی کام کے پس منظر والے افراد) کو شامل کیا جائے۔ یہ تنوع کمیشن کے کام کو زیادہ جامع اور قابلِ قبول بنائے گا۔
کمیشن کا دائرہ کار صرف حالیہ جھوٹے الزامات کی تحقیقات تک محدود نہ ہو۔ بلکہ ماضی میں اہانتِ دین کے الزام کی بنیاد پر ہونے والے جلاؤ گھیراؤ، ہجوم کے تشدد اور ماورائے عدالت قتل جیسے واقعات کی بنیادی وجوہات اور ان میں ملوث عناصر کی بھی جامع تحقیقات کرے۔
یہ کمیشن سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی نفرت انگیز تقاریر اور پروپیگنڈے کے کردار کا بھی جائزہ لے جو ایسے واقعات کا باعث بنتے ہیں۔
کمیشن کے سامنے بیان دینے والے گواہان اور متاثرین، خاص طور پر اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والوں، کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ بلا خوف و خطر حقائق بیان کر سکیں۔ ان کی شناخت اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔ ایسے متاثرین کے لیے قانونی اور نفسیاتی امداد کا نظام بھی وضع کیا جائے۔
یہ فیصلہ اس بات کی بھی نوید دیتا ہے کہ ریاست اپنے تمام شہریوں، بشمول مذہبی اقلیتوں کے جان و مال کی حفاظت کے لیے سنجیدہ ہے۔ ایک شفاف اور با اختیار کمیشن کی تحقیقات سے متاثرین کو انصاف ملنے کا امکان بڑھے گا اور یہ اقلیتی برادریوں میں خوف کے بجائے اعتماد کا احساس پیدا کرے گا۔ اقلیتیں جب محفوظ محسوس کریں گی اور انہیں یہ یقین ہو گا کہ ان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا تو معاشرے میں مجموعی طور پر امن و امان کی صورتحال بہتر ہوگی۔ کمیشن کی قسمت کا فیصلہ تو وقت آنے پر ہو گا، بہرحال اس میں اقلیتوں کے لئے ایک آس اور اُمید ضروری چھپی ہے۔

