بلاگصحت

سوشل میڈیا چینلز اور ٹک ٹاک کیوں؟

dr mojahid mirza

یوٹیوب چینل یا ٹک ٹاک اکاؤنٹ شروع کرنے کے مقاصد صرف تفریح یا شہرت حاصل کرنے تک محدود نہیں رہے۔ آج یہ پلیٹ فارم اظہارِ خیال، ذاتی شناخت، کاروبار، آمدنی، اثر و رسوخ اور ڈیجیٹل برانڈنگ کے فروغ دینے جانے کے اہم ذرائع بن چکے ہیں۔ کہنے کو تو ہر تخلیق کار کا مقصد مختلف ہو سکتا ہے لیکن کمانا بہ ہر حال بنیادی مقصد قرار پاتا ہے۔

بہت سے لوگ اپنے خیالات، تجربات، علم، مشاہدات یا تخلیقی صلاحیتوں کو وسیع سامعین تک پہنچانے کے لیے چینل شروع کرتے ہیں۔ روایتی اخبارات، ٹی وی یا رسائل کے برعکس یہاں کسی ادارتی دروازے سے گزرنا ضروری نہیں۔

سوشل میڈیا نے عام فرد کے لیے بھی عوامی شناخت حاصل کرنے کا راستہ کھول دیا ہے۔ مسلسل اور مقبول مواد کسی شخص کو ایک مخصوص موضوع کے ماہر، مبصر، فنکار یا انفلوئنسر کے طور پر متعارف کرا سکتا ہے۔

تعلیمی لیکچرز، زبانیں، تاریخ، ادب، ٹیکنالوجی، صحت، سفر، دستکاری اور بے شمار دوسرے موضوعات پر چینلز بنائے جاتے ہیں۔ ایسے چینلز کا بنیادی سرمایہ تخلیق کار کا علم اور اسے آسان انداز میں منتقل کرنے کی صلاحیت ہے۔

کسی کمپنی، دکان، کتاب، کورس، سروس یا ذاتی برانڈ کی تشہیر بھی اہم مقصد ہو سکتی ہے۔ بعض اوقات چینل براہِ راست آمدنی سے زیادہ گاہک پیدا کرنے کا ذریعہ ہوتا ہے۔

ایک مصنف، ڈاکٹر، استاد، فنکار یا کاروباری شخص اپنے نام کو ایک برانڈ میں تبدیل کر سکتا ہے۔ اس صورت میں یوٹیوب یا ٹک ٹاک محض تفریحی پلیٹ فارم نہیں بلکہ پیشہ ورانہ شناخت کا حصہ بن جاتا ہے۔

مگر ان کی مادر تنظیموں یا اداروں نے یہ سلسلے کیا صرف اپنے ڈیجیٹل کاروبار کو دوسرے ملکوں میں پھیلانے کی خاطر آؤٹ سورسنگ شروع کی کہ مادر تنظیموں کا براہ راست اپنا کوئی کاروبار نہیں جیسے اوبر کا دفتر ہے گاڑیاں دنیا بھر میں لوگوں کی۔ بی این بی کے دفاتر ہیں، عارضی کرایوں پر چڑھائے جانے والے گھر لوگوں کے۔ بکنگ ڈاٹ کام کے دفاتر ہیں اور ہوٹل دوسروں کی ملکیت۔

چینل بنانے اور ٹک ٹاک کانٹینٹ تخلیق کرنے کو دنیا بھر میں باصلاحیت لوگوں کے لیے کمائی کا ذریعہ بنانے کا ایک بڑا مقصد دوسرے ملکوں میں متوسط طبقہ پیدا کرنا یا پہلے سے موجود اس طبقے کی تعداد اور حیثیت میں برتری لایا جانا بھی ہے کیوں کہ متوسط طبقہ جہاں ایک جانب خواہشوں کا اسیر ہونے کے سبب سامان صارفین، جائیداد وغیرہ کی خرید و فروخت میں فعال ہوتا ہے وہاں اپنی ناآسودہ آرزوؤں کے سبب سیاسی تبدیلیاں لائے جانے کی غرض سے ہونے والے احتجاجات اور سرگرمیوں میں بھی اگوان ہونے کا کردار ادا کرنے کا خواہاں اور اس قابل بھی ہوتا ہے۔

Monetization سے مراد ڈیجیٹل مواد کو آمدنی کے ذریعہ میں تبدیل کرنا ہے۔ لیکن صرف اکاؤنٹ بنانے یا ویڈیو اپ لوڈ کرنے سے آمدنی شروع نہیں ہوتی۔

یوٹیوب پر ایک بڑا ذریعہ اشتہارات ہیں۔ جب چینل متعلقہ پروگرام کی اہلیت پوری کر لیتا ہے تو ویڈیوز پر دکھائے جانے والے اشتہارات سے آمدنی حاصل ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ممبرشپ، سپر چیٹ، سپر تھینکس، Shopping اور دیگر ذرائع بھی بعض تخلیق کاروں کے لیے آمدنی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

ٹک ٹاک میں آمدنی کا نظام ملک، اکاؤنٹ کی اہلیت اور دستیاب پروگراموں کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ برانڈ اسپانسرشپ، لائیو گفٹس، افیلی ایٹ مارکیٹنگ اور اپنی مصنوعات یا خدمات کی فروخت اہم ذرائع ہیں۔

زیادہ ناظرین کا مطلب لازماً زیادہ آمدنی نہیں، لیکن بڑی اور مستقل audience آمدنی کے امکانات بڑھاتی ہے۔

Watch Time اور Retention

یوٹیوب کے لیے یہ بہت اہم ہے کہ لوگ ویڈیو کتنی دیر دیکھتے ہیں۔ اگر لوگ ابتدائی چند سیکنڈ یا منٹ میں ویڈیو چھوڑ دیں تو اس کی مجموعی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔

ٹک ٹاک جیسے مختصر ویڈیو پلیٹ فارم پر بھی completion rate، rewatch اور engagement بہت اہم ہوتے ہیں۔

Engagemen، لائکس، تبصرے، شیئرز، saves اور دیگر interactions یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ناظرین مواد کے ساتھ کس حد تک وابستہ ہیں۔

اچھی آواز، واضح تصویر، موثر عنوان، thumbnail، مناسب editing اور سب سے بڑھ کر دلچسپ یا مفید مواد audience برقرار رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

ٹیکنالوجی، فنانس، تعلیم، کاروبار یا مخصوص مصنوعات جیسے بعض موضوعات میں اشتہاری قدر زیادہ ہو سکتی ہے، جبکہ تفریحی مواد میں بہت بڑی audience کے باوجود فی ناظر آمدنی نسبتاً کم ہو سکتی ہے۔

اشتہارات کی قیمت ہر ملک میں یکساں نہیں ہوتی۔ اس لیے ایک ہی تعداد کے views مختلف ممالک سے آنے پر مختلف اشتہاری آمدنی پیدا کر سکتی ہے۔

ایک وائرل ویڈیو سے زیادہ اہم چیز اکثر مسلسل audience ہوتی ہے۔ باقاعدگی سے معیاری مواد شائع کرنے سے چینل کی شناخت اور ناظرین کا اعتماد بنتا ہے۔

صرف Views ہی آمدنی کا پیمانہ نہیں۔ یہ ایک عام غلط فہمی ہے کہ مثلاً دس لاکھ views کا مطلب لازماً ایک مقررہ رقم ہے۔ حقیقت میں آمدنی کا انحصار کئی عوامل پر ہوتا ہے۔

Views، ناظرین کی نوعیت، اشتہارات، موضوع، جغرافیہ، ویڈیو کی نوعیت، engagement
مزید یہ کہ تمام views monetized نہیں ہوتے۔ ہر view پر لازماً اشتہار نہیں دکھایا جاتا۔

اسی لیے ایک چھوٹا مگر مخصوص اور خریداری میں دلچسپی رکھنے والا audience بعض اوقات ایک بہت بڑے مگر غیر مخصوص audience سے زیادہ کاروباری قدر رکھتا ہے۔

کامیاب تخلیق کار عموماً صرف پلیٹ فارم کی اشتہاری آمدنی پر انحصار نہیں کرتے۔ وہ کئی ذرائع کو یکجا کرتے ہیں۔ اشتہارات

Brand sponsorships
Affiliate marketing
اپنی کتاب یا مصنوعات کی فروخت
آن لائن کورسز
مشاورت یا professional services
Paid memberships
Live-streaming support
اپنی ویب سائٹ یا کاروبار کی طرف audience لانا
یوں یوٹیوب یا ٹک ٹاک آمدنی کا آخری مقام نہیں بلکہ audience بنانے کا ذریعہ بھی بن جاتا ہے۔

مونیٹائزیشن کی خواہش کے پیچھے صرف پیسہ نہیں ہوتا۔ اس میں شہرت، سماجی قبولیت، recognition، خود اظہار، کامیابی کا احساس اور دوسروں پر اثرانداز ہونے کی خواہش بھی شامل ہو سکتی ہے۔ بعض افراد کے لیے followers اور views ایک طرح کی سماجی توثیق بن جاتے ہیں۔

اسی وجہ سے کبھی کبھی تخلیق کار ایسا مواد بھی بنانے لگتا ہے جو اس کی اصل دلچسپی کے بجائے الگورتھم اور audience کی پسند کے مطابق ہو۔ یہاں تخلیقی آزادی اور تجارتی مفاد کے درمیان کشمکش پیدا ہو سکتی ہے۔

یوٹیوب اور ٹک ٹاک شروع کرنے کا ابتدائی محرک اظہار، شہرت، تعلیم، کاروبار یا تفریح ہو سکتا ہے ؛ لیکن مونیٹائزیشن کے مرحلے میں اصل کھیل مسلسل معیاری مواد + audience retention + engagement + مناسب niche + قابلِ قدر audience + متنوع آمدنی کے ذرائع کا ہے۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW