فنکار، مزاحمت اور آزادیِ اظہار
جب ۱۳ فروری ۱۹۸۶ء کو لاہور کے الحمرا آرٹس کونسل میں فیض کی یاد میں منعقدہ اجتماع میں اقبال بانو نے فیض کی نظم
ہم دیکھیں گے، لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے ،
اپنی خوبصورت گائیکی میں پیش کیا تو وہ وقت ضیاء الحق کے مارشل لا کا تھا ، اور سیاسی و ثقافتی اظہار پر پابندیاں عائد تھیں۔ اس گیت کی ادائیگی کے دوران حاضرین نے بھرپور ردِعمل دیا اور ’’انقلاب زندہ باد‘‘ کے واشگاف نعرے اس شدت سے بلند ہوئے کہ بار بار گانے کو روکنا پڑا۔اس موقع پر اقبال بانو کا سیاہ لباس اور فیض کی نظم کا انتخاب خود ایک سیاسی علامت بن گیا۔
نظم میں فیض نے مذہبی اور قرآنی حوالوں سے جڑی علامتوں کو ایک نئے سیاسی استعاری میں برتا۔ ’’کعبہ‘‘، ’’بت‘‘، ’’تخت‘‘ اور ’’تاج‘‘ نظم میں اقتدار، باطل اور جبر کے شعری استعاروں کے طور پر سامنے آتے ہیں۔آج فیض کی یہ نظم آمریت کے خلاف عالمی اور اجتماعی مزاحمتی علامت بن چکی ہے۔ مثلاً لاہور میں لکھی جانے والی یہ نظم دہلی کے شاہین باغ ۲۰۲۰ء میں جنوبی افریقہ کے کیپ ٹاؤن میں ہندوستانی قونصل خانے کے باہر سی اے اے CAA کے خلاف ہونے والے احتجاج کی علامت بنی۔’’ہم دیکھیں گے‘‘ کی وسیع پیمانے پہ مقبولیت کی ایک بڑی وجہ اس کی علامتی زبان اور ظلم اور انصاف کا استعارہ ہے ۔ایک ایسی نظم جو لوگوں کے حافظے میں اتر جائے، وہ نئے عہد میں نئے معنی کے ساتھ واپس آسکتی ہے۔ یہ ’’ہم‘‘ شاعر، مزدور، طالب علم، عورت، محکوم، قیدی، سیاسی کارکن اور عام انسان—سب کو ایک اجتماعی مستقبل میں شامل کر دیتا ہے۔ فیض کی انفرادیت یہ ہے کہ انہوں نے مزاحمت کو صرف غصے میں نہیں بلکہ ایک آنے والے انصاف کے یقین میں تبدیل کیا۔
اب اگر تاریخ پہ نظر دوڑائیں تو پتہ چلتا ہے کہ فن اور آمریت کا تعلق بہت گہرا ہے۔ مختلف ادوار میں مصوروں، شاعروں، ادیبوں، موسیقاروں، اداکاروں اور فلم سازوں نے براہِ راست سیاسی مزاحمت کی ۔ جہاں بعض آوازیں اپنے زمانے سے کہیں بڑی اور زمان ومکاں کی قیود سے آزاد ہوجاتی ہیں۔اور جب ہم اسے حبیب جالب کے ’’رقص زنجیر پہن کے بھی کیا جاتا ہے‘‘، نیلو اور زرقا، چارلی چیپلن کی "دی گریٹ ڈکٹیٹر”(The Great Dictator)، پابلو پکاسو کا شاہکار فن پارہ Guernica، آرتھر ملر کے The Crucible اور جدید ہالی ووڈ کے ٹرمپ مخالف فنکاروں کے ساتھ ایک ہی تاریخی منظرنامے میں رکھتے ہیں تو ایک وسیع تر تصویر سامنے آتی ہے جسکے تحت فن صرف حسن ہی پیدا نہیں کرتا بلکہ کبھی کبھی وہ طاقت سے سوال بھی کرتا ہے۔آمریت کے خلاف سرکوبی کا اعلان بھی کرتا ہے۔ آخرحبیب جالب کی ۱۹۶۲ء میں ایوب کی آمریت کے خلاف نظم "دستور” میں انکار کی بے خوف گونج کو کون بھلا سکتا ہے؟
ایسے دستور کو صبح بے نور کو
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا
احتجاجی نظمیں کسی آمر کے عہد میں لکھی جاتی ہیں مگر آمر کے چلے جانے کے بعد بھی پڑھی جاتی ہیں۔وہ کسی مخصوص جنگ کے خلاف اٹھتی ہیں مگر بعد میں ہر جنگ کے ملبے میں سنائی دیتی ہیں۔
اگر فیض نے کہا’’ہم دیکھیں گے‘‘
تو حبیب جالب نے مزاحمت کو ایک اور تصویری زبان دی "رقص زنجیر پہن کے بھی کیا جاتا ہے۔”
یہ محض شعر نہیں؛ ایک پورا منظر ہے۔
جسمیں ایک طرف زنجیر ہے، دوسری طرف رقص۔ایک طرف طاقت انسان کے جسم کو قابو میں کرنا چاہتی ہے؛ دوسری طرف انسان اسی جسم کو اظہار کا وسیلہ بنا دیتا ہے۔
حبیب جالب اور فلم ساز ریاض شاہد کا فنکارانہ اشتراک پاکستانی سینما میں سیاسی مزاحمت کی ایک اہم مثال ہے۔ جالب نے نیلو سے متعلق ایک واقعے پر نظم لکھی، جسے بعد میں ریاض شاہد کی فلم زرقا میں قدرے تبدیل کرکے استعمال کیا گیا۔ یونیورسٹی آف واشنگٹن کے تحقیقی مواد کے مطابق، اس گیت کو فلسطینی کردار اور اسرائیلی فوجی جبر کے پس منظر میں فلمایا گیا، جبکہ جالب کی اصل نظم نیلو سے متعلق واقعے کے ردعمل میں لکھی گئی تھی۔ نیلو کے بارے میں یہ روایت مشہور ہے کہ 1965ء میں شاہِ ایران کے پاکستان کے دورے کے موقع پر انہیں رقص کے لیے مجبور کیا گیا یا ایسا دباؤ ڈالا گیا جس سے انہوں نے انکار کیا۔
یہاں ذاتی تجربہ، ریاستی طاقت، فلسطینی مسئلہ اور پاکستانی سیاسی فضا ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔مگر فن کی تاریخ میں کبھی کبھی واقعے سے زیادہ اہم وہ علامت بن جاتی ہے جو واقعہ پیدا کرتا ہے۔نیلو اس علامت کا حصہ بن گئیں۔اور زرقا میں وہ علامت ایک فلسطینی عورت کے کردار کے ذریعے دوبارہ پیدا ہوئی۔
اس گیت کو فلسطینی کردار اور اسرائیلی فوجی جبر کے پس منظر میں فلمایا گیا، یہاں ذاتی تجربہ، ریاستی طاقت، فلسطینی مسئلہ اور پاکستانی سیاسی فضا ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔زنجیر فلسطینی عورت کی ہو یا کسی دوسرے محکوم انسان کی، زنجیر کی آواز ایک جیسی ہوتی ہے۔اس گیت کو جنرل یحییٰ خان کے عہد کے خلاف ایک بالواسطہ پیغام سمجھا گیا اور اسے عرصے کے لیے پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔
اب اگر مغرب کی طرف دیکھیں تو مشہور اداکار چارلی چپلن نے اسوقت کے آمرانہ رویے کے خلاف احتجاج کے لیے مزاح اور ہنسی کو استعمال کیا۔۱۹۴۰ء میں "دی گریٹ ڈکٹیٹر” میں چپلن نے ایڈولف ہٹلر اور مسولینی کے کرداروں کا مذاق اڑایا۔اور ایک ایسے وقت میں جب نازی طاقت یورپ پر چھا رہی تھی۔اسکا پیغام یہ تھا کہ آمر کو ہمیشہ خوفناک بنا کر ہی شکست نہیں دی جاتی؛ کبھی اسے مضحکہ خیز بنا دینا بھی سیاسی عمل ہوتا ہے۔
اگر چارلی چپلن نے آمریت کو ہنسی میں تبدیل کیا تو مشہور مصور پابلو پکاسو نے جنگ کے انسانی المیے کو ایک ایسی تصویر میں بدل دیا جس نے دنیا کے اجتماعی حافظے میں جگہ بنا لی۔(Guernica )ہسپانوی خانہ جنگی کے دوران گورنیکا پر بمباری کے بعد تخلیق ہونے والی یہ پینٹنگ ابتدا میں ایک مخصوص تاریخی سانحے سے وابستہ تھی، لیکن وقت کے ساتھ اس کی معنویت وسیع ہوگئی۔اور انسانی حقوق کی پامالی اؤر جنگ کے خلاف احتجاج کی علامت۔
آرتھر ملر امریکی ڈرامہ نگارنے طاقت اور خوف کے تعلق کو The Crucible میں ڈرامائی شکل دی۔یہ ڈراما ۱۹۵۳ء میں براڈوے پر پیش ہوا اور سترویں صدی کے Salem witch trials کے ذریعے دراصل ۱۹۵۰ء کی دہائی کے امریکی سیاسی ماحول ،خصوصاً میک کارٹی McCarthy دور کے خوف، الزام اور نظریاتی شک سے مکالمہ کرتا تھا۔ملر کی مزاحمت ہمیں ایک اور امکان نظر آتا ہےکہ براہِ راست نام نہ لینا بھی کبھی سیاسی اظہار ہوسکتا ہے۔
اب اگر ہم فن کی ان مختلف جہتوں میں حالیہ برسوں میں ہالی ووڈ کے ستاروں کی ابھرنے والی آوازوں میں ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ہونے والےاحتجاج کو شامل نہ کریں تو بات ادھوری رہے گی۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے سیاسی عہد میں متعدد ہالی ووڈ اداکاروں، فلم سازوں اور فنکاروں نے عوامی طور پر ان کی مخالفت یا ان کی پالیسیوں پر تنقید کی۔جن میں چند نمایاں نام رابرٹ ڈی نیرو، میریل اسٹریپ، جارج کلونی ،مارک رفالو اور بہت سے دوسرے اہم اداکار سراپا احتجاج ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے صدارتی دور، خصوصاً ۲۰۲۵اور ۲۰۲۶ء میں، متعدد اداکاروں، فلم سازوں، اسکرین رائٹرز، کامیڈینز اور فن کاروں نے ٹرمپ انتظامیہ کی بعض پالیسیوں اور اس کے ناقدین کے ساتھ برتاؤ پر کھل کر اعتراض کیا ہے۔پانچ اگست ۲۰۲۵ء کو رائیٹرز گلڈ آف امریکہ Writers Guild of America (WGA) نے بتایا کہ اس کے مشرقی اور مغربی یونٹس کے تیئس سو سے زیادہ ارکان اور اتحادیوں نے آزاد صحافت اور آزادیِ اظہار کے بارے میں ایک کھلے خط پر دستخط کیے۔دستخط کنندگان میں اسپائک لی، ایڈم میکے، للی واچوسکی، الفانسو کوارون، ٹونی گلروئے، ڈیوڈ سائمن، سیلین سونگ اور بہت سے دوسرے معروف فلم اور ٹیلی وژن لکھاری شامل تھے۔
ٹرمپ کے آمرانہ رویہ کے خلاف خط کا ایک جملہ خاص طور پہ ’’ہمارے ہاں بادشاہ نہیں، صدر ہے۔‘‘ بہت مقبول عام ہوا۔
نمایاں ستارے رابرٹ ڈی نیرو ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاست اور امریکی جمہوریت کے بارے میں کھل کر اظہارِ خیال کرتے رہے ہیں۔ مئی ۲۰۲۵ء میں کانز فلم فیسٹیول میں انہوں نے جمہوریت کے دفاع، فن کی آزادی اور تنوع کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ فن سچ کی تلاش کرتا ہے، اسی لیے وہ خطرہ بن جاتا ہے۔
فروری 2024ء میں بھی انہوں نے امریکی شہریوں سے سیاسی عمل میں متحرک ہونے اور مزاحمت کرنے کی اپیل کی۔
مشہور اداکارہ میریل اسٹریپ نے جنوری 2017ء کے گولڈن گلوب میں ایوارڈ وصول کرتے ہوئے، ڈونلڈ ٹرمپ کا نام لیے بغیر، ایک معذور صحافی کے بارے میں ان کے انتخابی مہم کے دوران کیے گئے اشارے پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ طاقتور شخص کی طرف سے کسی کو ذلیل کرنا معاشرے میں اسی رویے کو فروغ دے سکتا ہے۔
دنیا نے دیکھا کہ پورے امریکہ میں ہی نہیں دنیا کے بہت سے ممالک میں امریکی صدر ٹرمپ کے انتہائی غیر جمہوری فیصلوں کے خلاف "نو کنگ” ریلی احتجاج میں فنکاروں اور لکھاریوں کی شمولیت نے اس مزاحمت کو کتنی طاقت دی۔
اسطرح دیکھا جاۓ تو فن کی ایک عالمی زنجیر ہے جس میں ان تمام آوازوں کو ساتھ رکھا جاۓ تو سمجھ آتا ہے کہ یہ سب ایک ہی زبان نہیں بولتے۔یہ ایک ہی نظریہ بھی نہیں پیش کرتے۔ان کے تاریخی حالات بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔لیکن ان کے فن میں ایک مشترک انسانی سوال بار بار پوچھا جاتا ہے کہ طاقت انسان سے کیا کرا سکتی ہے؟
اور بطور احتجاج مزاحمتی انسان طاقت کے سامنے کیا کچھ کرسکتا ہے؟
فن کا جواب ہمیشہ انقلاب نہیں ہوتا۔
کبھی جواب صرف یہ ہوتا ہے ۔
گواہی دو ، جھوٹ اور ظلم کے خلاف ، اور حق کا رقص زنجیر پہن کے بھی کرو ۔چاہے اس پیش کردہ فن کے استعارے اور واسطے مختلف ہوں ۔پیغام مشترک ہے، ظلم اور حقتلفی کے خلاف مزاحمت عام شہری ہو یا کوئی فنکار آمریت کے خلاف احتجاج کے بجاۓ خاموشی اختیار کرنے والے یقیناً جرم میں برابر کے شریک ہیں۔






بہت اچھا مضمون ہے،