میرے مطابق

ال نینو اور موسمیاتی تبدیلی: پاکستان پر منڈلاتے نئے خطرات

Kavi Shankar

موسم اب صرف موسم نہیں رہا، بلکہ دنیا کے مستقبل، معیشت اور انسانی زندگی کا ایک بڑا سوال بن چکا ہے۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت، شدید گرمی، بے وقت بارشیں، سیلاب اور خشک سالی دنیا کے مختلف خطوں کو مسلسل متاثر کر رہے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے ان اثرات میں قدرتی موسمی مظاہر، خصوصاً ال نینو، ایک نئے خطرے کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق گلوبل وارمنگ اور ال نینو کا امتزاج آنے والے برسوں میں موسمی شدت اور غذائی عدم تحفظ کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

پس منظر اور زرعی ممالک پر اثرات

پاکستان اور بھارت جیسے ترقی پذیر ممالک کی معیشت کا بڑا حصہ زراعت پر منحصر ہے، جو براہِ راست موسمی حالات سے متاثر ہوتی ہے۔ حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث جہاں شدید گرمی اور ہیٹ ویوز میں اضافہ ہوا ہے، وہیں بارشوں، برف باری اور سردیوں کے روایتی پیٹرن میں بھی نمایاں تبدیلی آئی ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں خشک سالی، سیلاب، شدید گرمی، سطح سمندر میں اضافے اور خوراک و پانی پر بڑھتے ہوئے دباؤ جیسے مسائل کو اہم عالمی چیلنجز کے طور پر اجاگر کیا گیا۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا خطرہ نہیں بلکہ موجودہ دور کا ایک بڑا معاشی، سماجی اور انسانی بحران بن چکی ہے۔

ال نینو کیا ہے؟

ال نینو ایک قدرتی موسمی کیفیت ہے جو بحرالکاہل کے استوائی خطے میں پیدا ہوتی ہے۔ اس دوران سمندر کی سطح کا درجہ حرارت معمول سے بڑھ جاتا ہے، جس کے نتیجے میں دنیا کے مختلف حصوں میں بارشوں، خشک سالی اور درجہ حرارت کے معمول کے پیٹرن متاثر ہو سکتے ہیں۔

جب ال نینو کے اثرات انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی گلوبل وارمنگ کے ساتھ ملتے ہیں تو موسمیاتی شدت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور دنیا کے مختلف خطوں میں غیر معمولی موسمی حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔

عالمی موسمیاتی ادارے، ڈبلیو ایم او، کے مطابق موجودہ صورتحال میں ال نینو کے مضبوط ہونے کا امکان عالمی درجہ حرارت اور موسمی نظام کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

ماضی میں 1982۔ 83، 1997۔ 98 اور 2015۔ 16 کے دوران انتہائی شدید ال نینو واقعات ریکارڈ کیے گئے تھے۔

عالمی اور علاقائی خدشات

ال نینو کا ایک اہم ممکنہ اثر عالمی درجہ حرارت میں مزید اضافہ ہے۔ چونکہ ال نینو کا اثر اگلے سال کے عالمی درجہ حرارت پر بھی پڑ سکتا ہے، اس لیے 2027 کے حوالے سے بھی شدید گرمی کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

اگر ال نینو مضبوط ہوتا ہے اور اس کے اثرات گلوبل وارمنگ کے ساتھ ملتے ہیں تو دنیا کے مختلف حصوں میں درجہ حرارت نئے ریکارڈ قائم کر سکتا ہے۔

اس کے ساتھ غذائی عدم تحفظ کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت، ایف اے او، کے مطابق ال نینو جنوبی افریقہ، وسطی امریکہ اور جنوبی و جنوب مشرقی ایشیا میں زرعی خشک سالی کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔ چاول اور گندم سمیت اہم فصلیں متاثر ہونے کی صورت میں خوراک کی قیمتوں اور عالمی غذائی تحفظ پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

2023۔ 24 کے ال نینو کے دوران مراکش میں اناج کی پیداوار میں 43 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ جنوبی افریقہ میں چھ کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوئے۔

موسمیاتی عدم استحکام کے باعث بعض علاقوں میں طویل خشک سالی اور جنگلات کی آگ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جبکہ دوسرے خطوں کو غیر معمولی بارشوں اور تباہ کن سیلابوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سمندروں کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے ماہی گیری اور ساحلی آبادیوں کے روزگار کو بھی خطرات لاحق ہیں۔

پاکستان پہلے ہی موسمی خطرات کی زد میں

پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات سے دوچار ممالک میں شامل ہے۔ ملک کے مختلف میدانی علاقوں میں درجہ حرارت 44 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر چکا ہے، جبکہ ہیٹ ویوز کی شدت اور دورانیہ بھی بڑھ رہا ہے۔

مون سون کے نظام میں تبدیلی، سردیوں کے روایتی موسم میں کمی اور شمالی علاقوں میں گلیشئیرز کے تیزی سے پگھلنے کے واقعات پاکستان کے لیے سنگین خطرے کی علامت ہیں۔ ایک ایسے ملک میں جہاں لاکھوں لوگوں کا روزگار زراعت سے وابستہ ہے، موسم میں معمولی تبدیلی بھی فصلوں، پانی کی دستیابی اور دیہی معیشت پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

پاکستان کے اقدامات

بڑھتے ہوئے موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے پاکستان نے قومی سطح پر متعدد اقدامات شروع کیے ہیں۔ ان میں قدرتی آفات سے قبل انتباہ جاری کرنے کے لیے ابتدائی وارننگ سسٹم، شدید گرمی اور ہیٹ ویوز سے نمٹنے کے لیے شہری و دیہی حکمت عملی، سیلاب کی صورت میں ہنگامی امداد اور نکاسی آب کے منصوبے اور شمالی علاقوں میں گلیشئیرز کے پگھلنے سے بننے والی خطرناک جھیلوں کی نگرانی شامل ہے۔

تاہم ماہرین کے مطابق خطرے کی شدت اور موسمیاتی تبدیلی کی رفتار کو دیکھتے ہوئے موجودہ اقدامات کافی نہیں۔ پاکستان کو موسمیاتی موافقت، پانی کے انتظام، زرعی منصوبہ بندی اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

ماہر ماحولیات ناصر پنہور کی تشویش

نامور ماہر ماحولیات ناصر پنہور کے مطابق مختلف عالمی ادارے خبردار کر رہے ہیں کہ موجودہ ال نینو ایک طاقتور ال نینو میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق خطے کو پہلے ہی متعدد معاشی اور موسمی دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے باعث تیل اور گیس کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ، زرعی کھاد کی قلت اور مہنگائی نے عام لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ مون سون کی بارشوں میں کمی اور بڑھتی ہوئی گرمی صورتحال کو مزید خراب کر سکتی ہے۔ 2023 میں شروع ہونے والے ال نینو کے اثرات کے دوران 2024 دنیا کا گرم ترین سال رہا، جبکہ موجودہ موسمی صورتحال میں 2026 یا 2027 بھی ریکارڈ گرم سال ثابت ہو سکتے ہیں۔

ناصر پنہور کے مطابق بڑھتی ہوئی گرمی کے نتیجے میں گرمی سے متعلق بیماریوں میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے مزدور، کسان، بچے اور بزرگ زیادہ متاثر ہوں گے۔ گرمی کے اثرات شہری ماحول میں بھی زیادہ نمایاں ہوتے ہیں، جہاں کنکریٹ، ٹریفک اور محدود سبزہ درجہ حرارت میں مزید اضافہ کر سکتے ہیں۔

ان کے مطابق بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت کے ساتھ ال نینو کے اثرات بھی نمایاں ہو رہے ہیں اور جنوبی ایشیا ایک ایسے دور میں داخل ہو رہا ہے جہاں موسمی شدت کے غیر متوقع واقعات زیادہ تعداد اور زیادہ تواتر سے پیش آ سکتے ہیں۔

کمزور ہوتا ہوا مون سون، شدید گرمی کی لہریں، اچانک آنے والے سیلاب اور گلیشئیرز سے جڑے خطرات جنوبی ایشیا کو موسمی خطرات کی ایک نئی سطح پر لے جا رہے ہیں۔

آگے کا راستہ

موجودہ صورتحال میں پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج صرف قدرتی آفات سے نمٹنا نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ اپنی معیشت اور بنیادی نظام کو ہم آہنگ کرنا ہے۔

پانی کے وسائل کے بہتر انتظام، موسمیاتی مزاحمت رکھنے والی زراعت، فصلوں کی بہتر منصوبہ بندی، ابتدائی وارننگ سسٹم، شہروں میں گرمی کم کرنے کے اقدامات اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔

پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے یہ اقدامات اس لیے بھی اہم ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ وہی طبقات متاثر ہوتے ہیں جو پہلے ہی معاشی طور پر کمزور ہیں۔

ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی مظہر ہے، لیکن گلوبل وارمنگ نے اس کے ممکنہ اثرات کو زیادہ سنگین بنا دیا ہے۔ اگر دنیا نے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی، موسمیاتی موافقت اور کمزور ممالک کی مدد کے لیے موثر اقدامات نہ کیے تو آنے والے برسوں میں شدید گرمی، خشک سالی، سیلاب اور غذائی عدم تحفظ مزید بڑے چیلنجز بن سکتے ہیں۔

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
[wpdevart_facebook_comment facebook_app_id="1649778078606495" curent_url="https://humsub.com.pk/n/60037/2026/10/07/kavi-shankar " order_type="social" title_text="Facebook Comments" title_text_color="#000000" title_text_font_size="20" title_text_font_famely="Arial" title_text_position="center" width="100%" bg_color="#000000" animation_effect="none" count_of_comments="10" ]

Related Articles

Back to top button
✕
HumSub

FREE
VIEW