نمائندہ ویٹیکن کا دورۂ مذہبی ہم آہنگی نذرِ آتش
اسلام آباد کے ایوانوں میں گزشتہ دنوں بین المذاہب ہم آہنگی، رواداری اور بین الاقوامی تعلقات کی نغمہ سرائی جاری رہی۔ پاکستان اور ویٹیکن کے درمیان 75 سالہ سفارتی تعلقات کی مناسبت سے ویٹیکن کے اعلیٰ نمائندے اور سیکرٹری برائے تعلقاتِ ریاستیں و بین الاقوامی تنظیمیں، ہولی سی (ویٹیکن) آرچ بشپ پال رچرڈ گیلاگھر کے اعزاز میں اعلیٰ سطحی ملاقاتیں اور تقاریب منعقد ہوتیں رہیں۔
وفاقی دارالحکومت میں نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے آرچ بشپ پال رچرڈ کا استقبال کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق اسحاق ڈار نے پاکستان کی مسیحی برادری کی تعلیمی اور طبی شعبوں میں خدمات اور سماجی کردار کو سراہا، بین المذاہب ہم آہنگی اور باہمی اعتماد کو بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا اور غزہ اور فلسطین کے بحران پر پاپائے روم کے امن پسندانہ و اصولی موقف کی تعریف بھی کی۔
ایسی تقریبات کا ایک مخصوص اور روایتی اسکرپٹ ہوتا ہے۔ رنگ برنگے پھولوں کے گلدستے پیش کیے جاتے ہیں، کیک کاٹے جاتے ہیں، کیمروں کے سامنے مسکرا کر بغل گیر ہوا جاتا ہے، امن کی علامت کے طور پر کبوتر فضا میں چھوڑے جاتے ہیں اور پھر خوشگوار جملوں کے تبادلے کے ساتھ ”سب اچھا ہے“ کا راگ الاپا جاتا ہے۔ یوں یہ تاثر دیا جاتا ہے جیسے ہم اتنے پرامن اور حساس معاشرے کے مالک ہیں جہاں چیونٹی یا مچھر کو بھی مارنا گناہِ کبیرہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ سب مصنوعی انتظامات اتنے دلکش اور مثالی ہوتے ہیں کہ اِنہیں دیکھ کر گمان ہوتا ہے کہ شاید پاکستان اقلیتوں کے لیے زمین پر جنت نما ہے۔
مگر اس سجی سجائی اور مصنُوعی دُنیا سے باہر زمینی حقیقت اس سے یکسر مختلف ہے۔
ویٹیکن کے اعلیٰ نمائندے کے دورہ کے دوران اگر دارالحکومت کے ان سجے سجائے ایوانوں سے نظر ہٹا کر پنجاب کے ضلع شیخوپورہ کی تحصیل مُرید کے میں ایک نواحی علاقے نارنگ منڈی کے گاؤں گھگیال کلاں کی طرف دیکھیں، تو تصویر بالکل مختلف اور دردناک نظر آتی ہے۔
عین اُنہی دنوں میں، جب ویٹیکن کے سیکرٹری برائے تعلقاتِ ریاستیں و بین الاقوامی تنظیمیں، ہولی سی (ویٹیکن) آرچ بشپ پال رچرڈ کو نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور سرکار کی جانب سے ہم آہنگی، رواداری اور تعلیمی خدمات کے اعتراف کا دلکش بیانیہ بیچا جا رہا تھا، نارنگ منڈی میں ایک مشتعل ہجوم نے اہانتِ دین کے الزام میں بِنا تصدیق کیے ڈاکٹر کامران مسیح کے گھر اور کلینک پر حملہ کر دیا۔ توڑ پھوڑ کی اور تمام املاک کو نذرِ آتش کر دیا گیا۔ اس واقعے نے نہ صرف ایک مسیحی خاندان کا روزگار اور چھت چھین لی، ڈاکٹر کامران مسیح کا مستقبل داؤ پر لگ گیا بلکہ پورے علاقے کی مسیحی برادری کو خوف و ہراس کی دلدل میں دھکیل دیا اور درجنوں مسیحی خاندان اپنی جان بچانے کی فکر میں گھروں سے بھاگ نکلے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ ہم نے ویٹیکن کے اس معزز نمائندے کا استقبال نارنگ منڈی میں ایک مسیحی خاندان کا گھر جلا کر کیا ہے۔
کیا ہی اچھا ہوتا کہ ویٹیکن کے اس نمائندے کو سرکاری کانفرنسوں، ضیافتوں اور شہر کے دورے کی بجائے مذہبی ہم آہنگی کی ’عملی مثال‘ دکھانے کے لیے نارنگ منڈی کا دورہ کروایا جاتا، انہیں اس جلتے ہوئے گھر اور کلینک کی راکھ دکھا کر بتایا جاتا کہ ہمارے ہاں مذہبی ہم آہنگی کا کیا معیار ہے۔
ویٹیکن کے نمائندے کو کیا معلوم کہ پاکستان کے مسیحیوں کو ایسی صورتحال کا سامنا عموماً رہتا ہے۔ معلوم نہیں اُن کے علم میں یہ بات بھی لائی گئی کہ نہیں کہ یہاں ہجوم کے مشتعل جذبات کا رخ موڑ کر چند سیکنڈوں میں مسیحیوں کی پوری کی پوری بستیوں اور سینکڑوں گھروں کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا جاتا ہے، نیز ہم تو انسانوں کو زندہ جلانے میں بھی فخر محسوس کرتے ہیں۔
اُنہیں تو اس بات پر بھی بریفنگ دی جانی چاہیے تھی کہ اس ملک میں مسیحیوں کی معصوم اور کم سن بچیوں کو دن دیہاڑے اغوا کر لیا جاتا ہے، اُن کا مذہب تبدیل کر دیا جاتا ہے اور ہماری حکومتیں اور قانون ساز ادارے ان کے تحفظ کے لیے بنیادی اقدامات اور قانون سازی کرنے سے بھی قاصر اور بے بس نظر آتے ہیں۔
یہ صورتحال پاکستان کے دو متضاد چہروں کو بے نقاب کرتی ہے ؛ ایک وہ جو ریاست ائرکنڈیشنڈ ہالز میں بین الاقوامی مہمانوں کو دکھاتی ہے اور دوسرا وہ سچ جو اقلیتوں کو روزمرہ کی زندگی میں بھگتنا پڑتا ہے۔
اگر یہ تمام زمینی حقائق چُھپا کر صرف ”مذہبی ہم آہنگی“ کا جھوٹا بیانیہ بیچ کر مہمان کو رخصت کر دیا گیا ہے تو یہ دورہ بین المذاہب ہم آہنگی نہیں بلکہ مظلوموں کے زخموں پر نمک پاشی اور ایک بڑا سفارتی فریب ہے۔
اگر پاکستان کو واقعی ایک ایسا ملک بنانا ہے جہاں ہر شہری خود کو محفوظ محسوس کرے تو قانون کی سخت بالادستی اور اشتعال انگیز عناصر کے خلاف بلا تاخیر کڑا احتساب کیا جانا ضروری ہے۔
جبری تبدیلیٔ مذہب کے خلاف ہنگامی بنیادوں پر قانون سازی کی جائے۔ بین المذاہب ہم آہنگی کو صرف کیک کاٹنے، پھولوں اور ہاروں کے تبادلوں سے باہر نکل کر گلی محلے میں عملی زندگی کا حصہ بنایا جائے۔
حقیقی اور پائیدار مذہبی ہم آہنگی وہ نہیں جو ویٹیکن کے سفیر کے سامنے اسلام آباد کے ہالز میں کی جانے والی تقریروں میں نظر آئی، بلکہ وہ ہونی چاہیے کہ جہاں نارنگ منڈی کے ایک مسیحی کا گھر اور کلینک محفوظ ہو۔ جب تک ہم اپنے داخلی رویوں اور زمینی حقائق کو تبدیل نہیں کرتے، تب تک بیرونی دنیا میں پیش کیا جانے والا ہر مثبت بیانیہ ایک ادھوری اور بے اثر کوشش ہی رہے گا۔
المختصر ویٹیکن کے خصوصی نمائندے کا یہ دورہِ مذہبی ہم آہنگی اور سفارتی تعلقات نارنگ منڈی میں جلا کر راکھ کا ڈھیر بنا دیا گیا ہے۔

