افسانہ نگار مریم عرفان کی عورتیں۔ نسائی کردار

ڈاکٹر مریم عرفان ایک معروف اور سنجیدہ افسانہ نگار ہیں۔ جن چند لوگوں کے افسانے میں تلاش کر کے پڑھتا ہوں ان میں شامل ہیں۔ ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ”راج ہنس“ کے نام سے شائع ہوا۔ یہ چند نسائی کردار جن پر میں نے بات کی ہے اسی مجموعے کے افسانوں سے لیے گئے ہیں۔ مریم عرفان کے افسانوں میں نسائی کرداروں کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ کہیں وہ معاشرتی روایات سے بغاوت کرتے ہوئے بے باک نظر آتے ہیں، کہیں انہی روایات کے اسیر۔ کہیں دیہی معاشرے میں عورت کی جنسیت، کہیں خود مختاری، کہیں دباؤ اور بے بسی۔ کچھ مثالیں پیش ہیں۔
”ایمو“
اس افسانے میں ایمو کا کردار روایتی دیہاتی عورت کے تصور کو چیلنج کرتا ہے۔ وہ اپنی جنسیت، آزادی اور خودمختاری کے لیے مشہور ہے وہ کئی مردوں سے تعلقات رکھتی ہے اور معاشرے کی تنقید کے باوجود اپنی زندگی اپنے انداز سے گزارتی ہے۔ اس کا جسمانی حسن اور شخصیت کی مقناطیسیت مردوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ وہ اپنی کشش کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتی ہے۔ وہ گاؤں کی تنگ نظری اور دوغلے معیارات کے خلاف کھڑی ہوتی ہے۔ اس کا کردار عورت کی جنسی آزادی اور مردوں کے تسلط کے خلاف مزاحمت کی علامت ہے۔ کہیں اسے ”گندے نالے“ جیسا قرار دیا جاتا ہے تو کہیں ”نیاز بو“ کی خوشبو سے تعبیر کیا جاتا ہے، جو اس کے کردار کی پیچیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔
اسی افسانے میں نجو کا کردار ایمو کے بالکل برعکس ہے۔ وہ شرمیلے اور معاشرتی اصولوں سے بندھے ہوئے رویے کی حامل ہے وہ مردوں کے سامنے جذبات کا اظہار کرنے سے گریز کرتی ہے، جیسے وہ کہتی ہے، ”چمی تاں میں ہالے اپھل نوں وی نہیں دتی“ وہ اپنے خاندان اور سماج کے ڈر سے مردوں سے کھل کر بات نہیں کرتی۔ جبکہ ایمو اس قسم کے کسی دباؤ کو تسلیم نہیں کرتی۔ یہاں افسانہ نگار نے مردوں کے لیے ایک چیلنج بھی بتا دیا ہے کہ یہ کردار ”نمکین ڈلی“ ہے جسے چکھنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے لیکن سماجی رکاوٹیں راستے میں حائل ہیں۔
افسانے میں دیگر عورتوں کا ذکر بھی ہے، جن کی خصوصیات ایمو اور نجو کے درمیان ایک تقابل پیدا کرتی ہیں، جیسے کہ صوبیدار اشرف کے بیان کے مطابق شہر کی عورتیں ”ماچس کی تیلیاں“ جیسی نازک ہیں جبکہ دیہاتی عورتیں بھرپور جسمانی ساخت کے ساتھ مضبوط جسم کی مالک ہیں۔ یہاں جانگلی عورتوں کو ”برگد کی طرح“ قرار دیا گیا ہے جو مردوں کی توجہ سہار تو لیتی ہیں لیکن اس سے متاثر نہیں ہوتیں۔ اگر سماجی تناظر میں دیکھا جائے تو مریم عرفان نے ان کرداروں کے ذریعے دیہاتی معاشرے میں عورت کی حیثیت، جنسیت اور معاشی مجبوریوں کو اجاگر کیا ہے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا عورت کا جسم ایک تجارتی شے ہے؟ جسے ایمو اپنی ضروریات کے لیے استعمال کرتی ہے جبکہ نجو جیسے کردار اسے عزت اور معاشرتی قدروں سے جوڑتے ہیں۔ اگرچہ میرے اس مضمون میں نسائی کردار ہی زیر بحث ہیں تاہم مرد کرداروں، راوی کا باپ، ریاض، تارا مسیح کا ذکر ضرور آئے گا کہ یہ کردار ان کے دوہرے معیار کو ظاہر کرتے ہیں۔ وہ عورت کو اپنی جنسی تسکین کے لیے تو استعمال کر لیتے ہیں لیکن شادی جیسی پابندیوں کو قبول نہیں کرتے۔ کچھ قاری شاید ایمو کو ”بد چلن“ کہیں لیکن اصل میں وہ پدر سری معاشرے میں مردانہ استحصال کے خلاف اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہی ہے۔ ایمو اور نجو دونوں کرداروں کے درمیان یہ تضاد قاری کو عورت کی حیثیت اور سماجی نا انصافی پر سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔
”بدمعاش“
اس افسانے میں نسائی کرداروں کو انتہائی پیچیدہ اور متنوع انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ خاص طور پر مرکزی کردار ”ماں“ کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے، جو ایک طرف تو مجبور، محبت کرنے والی اور قربانی دینے والی عورت ہے، تو دوسری طرف معاشرتی دباؤ اور غربت کے باعث اسے ”بد معاش“ کے لیبل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ ایک ایسی عورت ہے جو غربت اور گھریلو تشدد کا شکار ہے۔ شوہر نشے کا عادی ہے سو مالی مشکلات بھی ہیں۔ وہ اپنے بچوں کی پرورش کے لیے ہر ممکن کوشش کرتی ہے، چاہے اس کے لیے اسے سماجی طور پر ناپسندیدہ راستے ہی کیوں نہ اختیار کرنے پڑیں۔ جو تعلقات وہ مختلف مردوں سے قائم کرتی ہے محض سامان زیست کے حصول کے لیے ہیں۔ یہاں ہمیں افسانہ نگار نے ماں کی دوہری شخصیت سے متعارف کروایا ہے۔ ایک طرف تو بے حد پیار کرنے والی ماں ہے جو اپنے بچوں کو بھوک سے بچانے کے لیے ہر حد پار کرنے کو تیار ہے اور دوسری طرف معاشرہ اسے ”بدمعاش“ کے طور پر دیکھتا ہے اور اس کا اپنا بیٹا اس سے نفرت کرتا ہے۔ دیگر نسائی کرداروں میں، بڑی بہن اور پھوپھی مختولاں جیسے کردار ہیں جو گھریلو تشدد کے خلاف مزاحمت تو کرتے ہیں لیکن روایتی عورت کی نمائندہ ہیں۔ افسانہ نگار کے مطابق یہاں بھی مردوں کا رویہ بشمول شوہر کے قابل ذکر ہے کہ وہ ”ماں“ کو محض ایک جسم کی مانند دیکھتے ہیں۔ لیکن اچھی بات یہ ہے کہ اختتام پہ بیٹے کو یہ احساس ہو جاتا ہے کہ اس کی ماں نے یہ سب کس مجبوری کے تحت کیا۔
یہ افسانہ عورت کے کردار کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے پر مجبور کرتا ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح معاشرتی اور معاشی دباؤ ایک عورت کو مجبور کر سکتے ہیں کہ وہ ایسے راستے اختیار کرے جو روایتی طور پر ناپسندیدہ سمجھے جاتے ہیں۔ ماں کا کردار دراصل ”ایک مجبور محافظ“ ہے، نہ کہ بدچلن عورت۔ اس افسانے میں نسائی کرداروں کی پیچیدگی اور ان کی جدوجہد کو گہرائی سے پیش کیا گیا ہے۔
”بونے“
اس افسانے میں نسائی کرداروں کو انتہائی نفسیاتی اور سماجی گہرائی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ مرکزی کردار ”نغمہ“ ایک ایسی عورت ہے جو تنہائی، گھریلو تشدد اور سماجی بندھنوں میں جکڑی ہوئی ہے، اس کا شوہر سلطان اسے صرف ایک گھریلو ضرورت کی شے سمجھتا ہے اور جذباتی ضرورتیں نظر انداز کرتا ہے۔ وہ تخیل کی دنیا میں پناہ لیتی ہے اور دو خیالی ”بونوں“ کے ساتھ کھیلتی ہے، جو دراصل اس کی تنہائی اور نفسیاتی الجھنوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ بونے اس کے لیے جذباتی سہارے کا کام کرتے ہیں۔ سلطان اس کا موازنہ اسی کی خالہ زاد تابندہ سے کرتا ہے اور اسے احساس کمتری میں مبتلا رکھتا ہے۔ یہاں ”میٹھی ٹافیاں“ کچلی ہوئی خواہشات کی علامت کے طور پر ابھرتی ہیں۔ جذباتی اور جسمانی تشدد کا یہ کردار خیالی دنیا میں پناہ لیتا ہے۔ اس کے ”بونے“ دراصل اس کے لا شعور کی آوازیں ہیں جو تنہائی اور مایوسی کے عالم میں بہت بڑا سہارا ہیں جب وہ حاملہ ہوتی ہے تو اسے امید ہوتی ہے کہ شاید اب اس کا شوہر بدل جائے گا، لیکن اس کی یہ خواہش بھی پوری نہیں ہوتی۔ دوسری طرف تابندہ کا کردار معاشرے کا مثالی نسوانی روپ ہے۔ وہ نغمہ کے برعکس کردار ہے۔ اس کا شوہر اسے عزت دیتا ہے۔ وہ خوش نظر آتی ہے۔ اور جب سلطان اس کی تعریفیں کرتا ہے تو نغمہ کے لیے مزید اذیت پیدا ہوتی ہے۔ ان دو کے علاوہ ہمسائی اور نرس کے کردار بھی قابل ذکر ہیں۔ ہمسائی اگرچہ ٹافیوں کا میٹیریل مہیا کرتی ہے تاہم وہ نغمہ کی جذباتی مشکلات سے آگاہ نہیں۔ نرس بھی اصل تکلیف کو سمجھنے سے قاصر ہے اور اس کا کردار محض طبی عمل تک محدود ہے۔ اس خوبصورت افسانے میں نسائی کرداروں کے ذریعے عورت کی حیثیت، اس کے نفسیاتی مسائل اور سماج کی جانب سے طے شدہ، عورت کے سماجی روپ سے پردہ ہٹایا گیا ہے۔ نغمہ جیسی عورتیں جو جذباتی طور پر نظرانداز ہوتی ہیں، وہ خیالی دنیا میں پناہ لینے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔
”راج ہنس“
میں دو مرکزی نسائی کردار ”بیگاں“ اور ”نرگس“ ہیں، جو ایک ہی مرد (فضل محمود/راج ہنس) کی زندگی میں داخل ہوتی ہیں۔ یہ دونوں کردار نہ صرف ایک دوسرے کے برعکس ہیں بلکہ ان کے ذریعے افسانہ نگار نے عورت کی سماجی حیثیت، جنسیت، اور گھریلو زندگی کے تضادات کو گہرائی سے اجاگر کیا ہے۔ بیگاں شادی کے نام پر جذباتی اور جنسی محرومی کا شکار ہے۔ وہ اپنی جوانی کی خواہشات کو دباتی ہے اور ”مکھن نکالے ہوئے دودھ“ کی طرح بے جان دکھائی جاتی ہے۔ بے اولادی کے طعنوں کو برداشت کرتی ہے۔ حالانکہ مسئلہ فضل محمود۔ (راج ہنس ) کا ہے جو جذبات سے عاری، جنسی طور پر بے حس انسان ہے۔ اس کا پردہ رکھتے ہوئے وہ اپنی ذات کچل لیتی ہے۔ دیوانگی کے دوروں کا شکار ہو جاتی ہے، جو دراصل اس کے دبے ہوئے جذبات اور جنسی کرب کا اظہار ہیں۔ وہ راج ہنس کو قریب پا کر بھی اس سے دور رہتی ہے، جیسے ”زخمی پرندہ“ جو اڑنا چاہتا ہو مگر شکاری کے نشانے پر ہو۔ یہاں بیگاں کی موت صرف اس کے جسمانی اختتام کی علامت نہیں بلکہ عورت کی اجتماعی بے بسی کی داستان ہے۔ مرتے وقت راج ہنس کے ہاتھ چومنا، اس کی بے پناہ محبت اور مایوسی دونوں کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے برعکس ”نرگس“ ایک باغیانہ اور خودمختار کردار ہے۔ یہ کردار اپنی جنسیت سے مکمل آگاہ ہے۔ راج ہنس کی طرف سے ”پردے“ کی بات پر وہ غصے سے تھوک دیتی ہے اور اسے نظر انداز کرتی ہے۔ یہ کردار روایتی عورت کے تصور کو توڑتا ہے۔ نہ تو وہ بیگاں کی طرح مظلوم ہے نہ معاشرے کی طے کردہ نیک بی بی ہے۔ وہ سوال اٹھاتی ہے اور زندگی اپنی مرضی سے جیتی ہے۔ نرگس کا غصہ دراصل عورت کی آواز ہے جو افسانہ نگار ہمارے بہرے کانوں تک پہنچانا چاہتی ہیں۔ یہ آواز عورت کے حقوق اور جنسی انصاف کا مطالبہ ہے۔ یہاں بھی راج ہنس کا ذکر تو کرنا ہی پڑے گا جس عورت کو بیوی کی بجائے صرف ایک گھریلو ضرورت سمجھا اور نرگس کے سامنے بے بس نظر آیا۔ مردانہ بے حسی کا نمائندہ کردار۔ بیگاں کی موت اور نرگس کا غصہ دراصل اس سماج میں عورت کے اجتماعی کرب کی داستان ہے۔
”نارنگ“
اس افسانے میں مرکزی کردار ”نارنگ“ کی زندگی میں موجود عورتیں (ماں، بہنیں انور، اختر اور نگّو) اس کی ذہنی بیماری، جنسی بے راہ روی اور معاشرتی بگاڑ کی علامت بن کر سامنے آتی ہیں۔ ان کرداروں کے ذریعے مریم عرفان نے عورت کے استحصال، گھریلو تشدد، اور معاشرے کی بے حسی کو بے نقاب کیا ہے۔ نارنگ کی ماں مظلومیت اور بے بسی کی علامت ہے۔ شوہر کے تشدد کے باوجود وہ اس کی عیاشی کا ذریعہ ہے جس کے نتیجے میں درجن بھر بچے اس کی کوکھ سے جنم لیتے ہیں۔ یہاں تک کہ ذہنی طور پر بیمار بیٹا جب اس پر جنسی حملہ کرتا ہے تو اس کی بے بسی کی انتہا ہے کہ وہ اسے تقدیر سمجھ کر قبول کر لیتی ہے۔ شوہر کو اس کی تکلیف سے کوئی سروکار نہیں، وہ بیٹے کی بیماری کو ”سایہ“ کہہ کر نظر انداز کر دیتا ہے۔ یہ ایک ایسا کردار ہے جو ہے تو ماں کا لیکن جو نہ تو اپنے شوہر کے تشدد سے بچ پاتی ہے اور نہ ہی اپنے بیٹے کی ذہنی بیماری کو سمجھ پاتی ہے۔ اس کی موت نہیں ہوتی، لیکن اس کا وجود مردوں کے ہاتھوں مسخ ہو چکا ہوتا ہے۔ اس افسانے کی بہنیں بھی جنسی استحصال کا شکار ہیں۔ یہ دونوں کردار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ گھریلو جنسی تشدد کس طرح خاموشی سے برداشت کیا جاتا ہے۔ انور اور اختر دونوں نارنگ کی ”طبلہ“ بن جاتی ہیں، جس پر وہ جیسے چاہے ”سُر“ نکال سکتا ہے۔ یہاں ایک اور کردار ہے ”نگو“ کا جو ایک عام لڑکی ہے لیکن نارنگ کی ”جانور صفت“ محبت کو سمجھ نہیں پاتی اور جنسی بے راہ روی کا شکار ہو جاتی ہے۔ افسانے کے بین السطور ایک اور سوال بھی اٹھتا ہے کہ آیا محبت کسی ذہنی مریض کے لیے جنسی تسکین کا ذریعہ بن سکتی ہے؟ تینوں نسائی کردار، ماں، بہنیں اور نگو عورت کے تین روپ ہیں جو افسانہ نگار نے تخلیق فن سے قاری کے سامنے پیش کر دیے ہیں۔
”ہوک“
یہ افسانہ صرف ایک کہانی نہیں، بلکہ ہمارے دیہاتی معاشرے میں عورت کی ذات، اس کے جذبات، اس کی محرومیوں اور داخلی کشمکش کا ایک بھرپور بیان ہے۔ اس افسانے کے مرکزی نسائی کردار بختاں اور دیگر خواتین کے ذریعے مریم عرفان نے عورت کی سماجی، نفسیاتی اور جنسی شناخت کو اجاگر کیا ہے۔ بختاں افسانے کا سب سے اہم نسائی کردار ہے، جو روایتی دیہاتی عورت کی تمام خصوصیات رکھتی ہے، لیکن اس کے اندر ایک جذباتی اور جنسی بے چینی بھی پنہاں ہے۔
بختاں کا جسمانی حسن اور اس کی جنسی کشش فرید کے لیے ایک نشہ بن جاتی ہے۔ اس کا لمبا قد، بھرپور جسم، کھلی رنگت، اور چوڑے ہاتھ پاؤں فرید کی نفسیات پر حاوی ہو جاتے ہیں۔ وہ اسے ”گوبھی کے پھول“ ، ”گرم دودھ“ اور ”ہیروئن“ جیسے استعاروں سے یاد کرتا ہے، جو اس کی جنسی تسکین کی خواہش کو ظاہر کرتا ہے۔ بختاں کا چرخہ کاتنا، گھر کے کام کاج میں مصروف رہنا، اور سات بچوں کی پرورش کرنا اس کی جسمانی اور ذہنی تھکاوٹ کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ ایک مزدور عورت ہے جو اپنی زندگی کے تمام تر دکھوں کو چرخے کی گھوں گھوں میں دفن کر دیتی ہے۔ بختاں اور فرید کے درمیان تعلق صرف ایک معمولی رشتہ نہیں، بلکہ ایک جنسی تسکین کا ذریعہ بھی ہے۔ بختاں اپنی تھکاوٹ دور کرنے کے لیے فرید کو اپنے قریب بلاتی ہے، لیکن اس میں ایک خاموش رضامندی بھی کارفرما ہوتی ہے۔ وہ فرید کے ہاتھوں کو اپنے جسم پر محسوس کرتی ہے، لیکن سماجی پابندیوں کی وجہ سے اسے کھل کر اظہار نہیں کر پاتی۔
فرید کی ماں ایک روایتی دیہاتی عورت ہے جو گھر کی ذمہ داریاں نبھاتی ہے اور آخر تک اپنے بیٹے کی غیر موجودگی میں گھر سنبھالتی ہے۔ اس کا کردار خاموش قربانی کی علامت ہے۔ دیگر عورتیں جو صحن میں بیٹھ کر بختاں کے گیتوں پر تالیاں بجاتی ہیں، وہ معاشرے کی اجتماعی آواز ہیں۔ یہ خواتین بھی اپنی زندگیوں میں مصروف ہیں، لیکن ان کے جذبات اور خواہشات کو معاشرہ دباتا چلا جاتا ہے۔
مریم عرفان نے بختاں کے کردار کے ذریعے عورت کی سماجی حیثیت کو بھی واضح کیا ہے :
چرخہ عورت کی محکومیت کی علامت ہے، جو اسے گھر کی چار دیواری میں قید رکھتا ہے۔
کھڈی اور سوت کاتنا عورت کی محنت اور اس کے وجود کو معاشی نظام سے جوڑتا ہے۔
فرید کی جنسی خواہشات میں بختاں ایک استعارہ بن جاتی ہے، جو درحقیقت معاشرے میں عورت کے جسمانی استحصال کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
اختتام پر ”ہوک“ کی آواز، جو بختاں کے اندر کی خواہش، محرومی اور تنہائی کو ظاہر کرتی ہے۔ تیس سال بعد جب فرید واپس آتا ہے، تو بختاں کا بوسیدہ جسم اور ٹوٹی ہوئی آواز اس کے جذبات کی عکاسی کرتی ہے۔ وہ اب بھی چرخے کی گھوں گھوں میں اپنی زندگی تلاش کرتی ہے، لیکن وقت نے اسے بے بسی کے سوا کچھ نہیں دیا۔
” پرواز بیبال“
اس افسانے میں نسائی کرداروں کو ایک خاص نفسیاتی اور سماجی تناظر میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ کردار نہ صرف مرکزی کردار ”نصیر“ کی ذہنی کیفیات کے عکاس ہیں، بلکہ ہمارے معاشرے میں عورت کی مختلف شکلوں اور اس کے ساتھ مردوں کے رویوں کو بھی بے نقاب کرتے ہیں۔ مس نیلو فیکٹری میں کام کرنے والی ایک خاتون ہیں، جو اپنی جسمانی کشش کی وجہ سے مردوں کی توجہ کا مرکز بنتی ہیں۔ وہ مردوں کی ”نظروں کے کوڑے“ کا شکار ہے، جو اس کے کھلے ہوئے گلوں والی قمیض اور جسمانی ساخت پر تبصرے کرتے ہیں۔ اس کا کردار اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح کام کی جگہ پر عورتیں مردوں کی جنسی تسکین کا ذریعہ بنائی جاتی ہیں۔ کردار کی سماجی حیثیت دیکھیں تو وہ ایک ”چھوٹی سی قیامت“ ہے جو مردوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ لیکن اصل میں وہ ایک ”پابند عورت“ ہے جو سماج کے طے شدہ اصولوں کے تحت جی رہی ہے۔ دوسری جانب ”صبا“ بیک وقت معصوم بھی اور چالاک بھی، جو اپنی ہلتی ہوئی پشت اور چالاک گفتگو سے نصیر کو متاثر کرتی ہے۔ اس کے دوغلے پن کی انتہا ہے کہ ایک طرف تو ”شریف بندے“ کی تعریف کرتی ہے اور دوسری جانب سہیلی کے ساتھ ہونے والے ”جنسی سکینڈل“ میں ملوث دکھائی دیتی ہے۔ یہ دوہری شخصیت ظاہر کرتی ہے کہ ”صبا“ معاشرے میں اپنے تحفظ کی خاطر اپنے آپ کو مختلف رول دے دیتی ہے۔ ”ریڈ لائٹ ایریا“ کی عورت جنسی تجارت میں مصروف ہے۔ نصیر کا دوغلا پن بھی ظاہر ہے کہ وہ اسے دیکھ کر کشش بھی محسوس کرتا ہے، لیکن ساتھ ہی شرم بھی۔ ایک اور نسائی کردار ”سفینہ“ ہے جس کا قتل معاشرے میں جنسی تشدد کی ایک المناک مثال ہے جس کی موت، نصیر کے لیے صدمہ بن جاتی ہے اور اس کے اندر مردانہ کمزوری اور بے بسی کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ ہسپتال میں نرسیں، ”لچک دار کمر“ ، ”بھاری پشتیں“ بالڈ ایگل ّ (نصیر) کی توجہ کا مرکز بنتی ہیں۔ ہیلتھ کیئر جیسے شعبوں میں بھی عورت مردوں کی جنسی نظر سے محفوظ نہیں۔
یہ تمام نسائی کردار اس بات کے مظہر ہیں کہ پدر سری معاشرے میں عورت یا تو مرد کی جنسی تسکین کا ذریعہ ہے یا مردانہ کنٹرول کا شکار۔ یہ کیسا سماج ہے جہاں جنسی معیارات بھی دوہرے ہیں جہاں مرد، عورت کے جسم کو اپنی خواہشات کا نشانہ بھی بناتا ہے اور ساتھ ہی اسے ”عزت“ کے نام پر قید بھی کرتا ہے۔ یہی اخلاقی تضاد ہے جو مریم عرفان کے افسانوں کے نسائی کرداروں کے ذریعے منظر عام پر آتا ہے۔

