یہ 1935 کا سال تھا۔ دنیا بدلنے کے دہانے پر کھڑی تھی۔ امریکہ اور یورپ میں عوامی تعلیمی اصلاحات نافذ کی جا رہی تھیں معذور، بے روزگار اور عمر رسیدہ شہریوں کے لیے سماجی تحفظ کے اقدامات کیے جا رہے تھے ٹیکنالوجی کی دنیا میں انقلابی تبدیلیاں آ رہی تھیں ٹیلی ویژن نشریات کا آغاز، ریڈار ٹیکنالوجی کی بنیاد، نائلون کی دریافت، اور ایٹمی ساخت و نیوکلیئر فزکس پر تحقیق تیز ہو چکی تھی۔ نصابی دھاروں میں اثر انگیز مفکرین کی سوچ شامل کی جا رہی تھی، اور سوشیالوجی، اکنامکس اور سیاسیات جیسے جدید سماجی علوم کی باقاعدہ تشکیل ہو رہی تھی۔ اسی سال تاجِ برطانیہ نے برصغیر میں ”گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ“ نافذ کیا، جس کے تحت تعلیم سے متعلق چند اہم اختیارات مقامی ہندوستانی حکومتوں کو سونپ دیے گئے۔ اسی پس منظر میں برصغیر کے عوام بتدریج حروفِ تہجی اور تعلیم کے نور سے روشناس ہونے لگے۔
اسی تاریخ ساز سال یاسین ایجنسی میں بھی برطانوی حکومت نے ایک پرائمری اسکول قائم کیا جو اس علاقے میں تعلیم کے پھیلاؤ کی ابتدائی کرنوں میں سے ایک ہے۔ یاسین کی سرزمین پر قائم ہونے والی اولین درسگاہ آج بھی خاموش گواہ ہے اُس عہدِ آغاز کی، جب علم کی پہلی شمع روشن کی گئی۔ یہ اسکول یاسین ریسٹ ہاؤس موڑ کے بائیں جانب خستہ حالی کا شکار ہے جو ایک زمانے میں علم کا روشن چراغ تھا۔ اس چراغ کے اولین محافظ پہلے استاد، ماسٹر محمد ایوب خان تھے۔ اپ راجہ میرباز خان کے صاحبزادے، چمر کھنڈ کے راجہ ابراہیم اور راجہ اسمعٰیل کے والد ہیں۔ ماسٹر صاحب نے 1931 میں کشمیر سے تعلیم حاصل کی اور محکمہ تعلیم سے وابستہ ہو گئے۔ جب 1935 میں یاسین میں پہلا اسکول قائم ہوا تو انہیں اس تاریخی ادارے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ انہوں نے پورے 52 سال علم کے میدان میں خدمات انجام دیں، نسلوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کیا، اور 1990 میں اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔
1940 میں سندی میں کوئی ایسا شخص نہ تھا جو تحریر پڑھ سکتا ہو۔ ایسے میں بہادر امان شاہ عتالیغ نے علم کی روشنی پھیلانے کا فیصلہ کیا۔ وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر طوطی استاد کو لائے اور گاؤں میں پہلی مرتبہ اسکول قائم کیا، جہاں فیس ایک کلو اناج مقرر ہوئی۔ ماسٹر طوطی کو معلم بنایا گیا اور یوں سندی میں تعلیم کا آغاز ہوا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اس محسنِ تعلیم کو اس کا حق دیا؟ افسوس، آج کتنے لوگ ہیں جو ان کے ناموں سے واقف ہیں؟ کیا ہم نے ان کی یاد میں کوئی ادارہ، کوئی لائبریری، یا کوئی یادگار قائم کی؟ شاید نہیں۔ ہم وہ قوم ہیں جو اپنے محسنوں کو فراموش کر دیتی ہے۔ جو درخت ہمیں سایہ دیتے ہیں، ہم اُن کی جڑیں کھودنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔
1946 میں سر سلطان محمد شاہ آغا خان سوئم نے یاسین کے لیے سات ڈائمنڈ جوبلی سکولوں کا تحفہ دیا، جو علم و آگہی کی شمعیں بن کر روشن ہوئیں۔ ان سکولوں کے پہلے معلمین نے اندھیروں میں روشنی کی کرن بننے کا بیڑا اٹھایا، گندائے سکول میں اعظم استاد، منیچ میں شیر امان استاد، سندی میں طوطی استاد، برکلتی میں جمال عبدالناصر استاد، درکوت میں قدرت اللہ استاد، تھوئی ہرپ میں نوبر امان استاد اور تھوئی تھیلتی میں امین شاہ استاد۔ یہ وہ خاموش معمار تھے جنہوں نے نسلوں کی تقدیر سنوارنے کی بنیاد رکھی، لیکن افسوس، آج ہم میں سے کتنے لوگ ان ناموں سے واقف ہیں؟ کیا کسی گلی، چوک یا ادارے کا نام ان کے نام پر رکھا گیا؟ کیا کوئی تقریب ان کی یاد میں منعقد ہوتی ہے؟ وقت کی گرد نے ان کے نام مٹا دیے، اور ہم خاموشی سے ان کی قربانیوں کو فراموش کرتے گئے۔
20 جولائی 2025 کو ہمارے گاؤں اوملست کے اولین معلم، محترم ماسٹر محمد رحیم دادا دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔ وہ 1959 سے 1987 تک علم کی روشنی پھیلاتے رہے اور کئی نسلوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کیا۔ اُن کی رحلت نہ صرف اوملست بلکہ پورے خطے کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔
ہم اُس قوم سے ہیں جو اپنے معماروں کو بھولتی جا رہی ہے۔ کیا آج کی نسل قرقلتی کے اولین معلم ماسٹر عیسی بہادر، درکوت کے ماسٹر نائب خان، سلطان آباد کے ماسٹر غیچو، ماسٹر مقصد مراد، ماسٹر شیر طولا خان، ماسٹر شاہین، برانداس کے شہزادہ، یاغواس ماسٹر جیسے استادوں کو جانتی ہے؟ وہ سب جو خاموشی سے ہمارے ذہنوں کو جِلا بخشتے رہے؟ اُن عظیم اساتذہ کے نام شاید ہماری یادداشتوں سے محو ہوتے جا رہے ہیں۔
ماسٹر محمد ایوب سے لے کر ماسٹر محمد رحیم تک، ان معماروں نے ہمیں حرف و لفظ سے آشنا کیا، سوچنے کا سلیقہ دیا، اور علم کے نور سے ہماری زندگیوں کو منور کیا۔ لیکن ہم نے بدلے میں انہیں کیا دیا؟ صرف خاموشی، فراموشی اور بے حسی۔
ہم وہ قوم ہیں جو محفل کی صدارت تھانے داروں، تحصیل داروں اور کرسی داروں کو سونپ دیتی ہے، مگر اُن محسنوں کو نظر انداز کر دیتی ہے جنہوں نے ہمیں علم کی طاقت سے روشناس کیا۔ ہم مرتبوں اور نمبروں کے پیچھے دوڑنے والی قوم بن گئے ہیں، اور جن کے دم سے یہ سفر ممکن ہوا، اُنہیں یاد کرنا گوارا نہیں کرتے۔
آئیے، آج کے دن ہم عہد کریں کہ اپنے اساتذہ، ان نادیدہ معماروں، کو یاد رکھیں گے، اُن کی خدمات کو تسلیم کریں گے، اور نئی نسل کو اُن کے احسانات سے روشناس کروائیں گے۔ کیونکہ قومیں وہی زندہ رہتی ہیں جو اپنے محسنوں کو نہیں بھولتیں۔



