آزادی فکر و رائے اور اس کے تقاضے

یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ انسانی فکر تنقید سے بتدریج آگے بڑھتی ہے۔ لیکن اس عمل کو آگے بڑھانے کے لئے آزادی فکر لازم ہوتی ہے۔ بدون اس کے ہمارا فکری و تنقیدی عمل رک جاتا ہے اور تخلیق و تحقیق کی سرگرمیاں ماند پڑ جاتی ہیں۔ دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ جن ملکوں، قوموں اور معاشروں میں آزادی فکر میسر رہی ہے اور تنقید کو ایک قابل عمل اصول کے طور پر تسلیم کیا جاتا رہا ہے وہاں معاشرے اور تہذیبیں عروج و ارتقاء کے منازل طے کرتے رہے ہیں۔ اور جہاں آزادی فکر و رائے پر قدغنیں لگتی رہی ہیں اور تنقید سے جی چرایا جاتا رہا ہے وہاں شکست و زوال قوموں کا مقدر بنتا رہا ہے۔
بہر حال، اس مختصر سی تحریر میں طوالت دامن بچانے کے لئے دوسرے مذاہب و ادیان اور معاشروں کے قطع نظر صرف اسلامی تاریخ کو ہی پیش نظر رکھا جا رہا ہے۔ تاریخ اسلام کے سرسری مطالعے سے ہی یہ حقیقت اجاگر ہوتی ہے کہ صدر اسلام سے لے کر پانچویں / گیارہویں صدی تک کے دورانیے میں اختلاف رائے کی بڑی حد تک آزادی تھی، علماء و حکماء تنقید و تحقیق کے خوگر تھے اور عقل و خرد کی کارفرمائی تھی۔ بدین وجوہ، اس وقت تہذیب و ثقافت اور تاریخ و ادب صحتمند بنیادوں پر تشکیل پا رہے تھے اور انہیں مسلسل ترقی دی جا رہی تھی۔
لیکن جب حالات نے کروٹ بدلا، سیاست کے قرینے اور فکر و نظر کے زاویے ہی بدل گئے بلکہ من حیث المجموع اس وقت کا انداز زیست ہی بدل کر رہ گیا تو تب خرد افروزی اور آزادی فکر کی روشن روایات بجائے فروغ پانے کے دم توڑنے لگیں۔ نتیجتاً، تخلیق و تحقیق کے سوتے خشک ہونے لگے، تقلید و تقدیس اور جمود نے بالادستی حاصل کی اور تعصب و تنگ نظری کا بول بالا ہونے لگا تو مسلمان زندگی کے مختلف میدانوں میں پسماندہ ہو کر تنزل کا شکار ہونے لگے۔
گزشتہ چند صدیوں کے دوران مسلمان معاشروں کی ذہنی پستی اور بد مزاجی کا یہ عالم ہوا کہ مسلمان تقلید پرست بلکہ مزار پرست بن گئے۔ ان کے پست اور بیمار ذہن نے ہماری علمی روایات اور شخصیتوں کے ارد گرد جھوٹے احترام کا ایک مصنوعی ہالہ بنا دیا اور یہ سلسلہ تا حال جاری ہے۔ اس محدود و مقید ذہنیت کے تسلط کے سبب آج، الغزالی ہو یا اقبال، ناصر خسرو ہو یا پیر صدر الدین، کسی مذہبی شخصیت پر یا اس کے افکار و تعلیمات پر تنقید کرتے ہوئے علماء اور دانشور ڈرنے لگتے ہیں کہ کہیں کسی فرد، تنظیم یا ادارے کی جانب سے انہیں سخت و سست نہ کہا جائے اور ان کی مٹی پلید نہ ہو جائے۔ اس سماجی گھٹن اور ذہنی تنگی کے ماحول میں ان بزرگان دین اور ارباب علم و دانش کے افکار عالیہ و تعلیمات مفیدہ کو تحقیق و تنقید کی سطح پر فروغ دینا مشکل بلکہ ناممکن ہو گیا ہے۔
یہ بھی مسلمات تاریخیہ میں سے ایک ہے کہ فکر کی روشن روایت کھلی اور آزاد فضا میں تنقیدی سوچ کے ماتحت آگے بڑھ سکتی ہے اور برگ و بار لا سکتی ہے۔ ورنہ احکامات کی بجا آوری ہی رواج پاتی ہے اور اس رواج اور ریت و رسم کی کارفرمائی کے نتیجے میں تقدس و احترام، تقلید و جمود بلکہ، ایک لحاظ سے، ٹوٹم پرستی (Totomism) پر واں چڑھتی ہے۔ بدین سبب، مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ معاشروں اور قوموں میں تخلیقی، تحقیقی اور تنقیدی صلاحیتیں مضمحل ہو کر معدوم ہونے لگتی ہیں۔ اور یوں معاشرے اور قومیں شکست و زوال سے دو چار ہوجاتی ہیں۔
آج ہمارے ملک پاکستان، گلگت بلتستان اور خاص طور پر ہنزہ کی ذہنی و فکری صورت حال کا جائزہ لیا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم بھی، ایک عرصے سے، فکری جمود اور تنگ نظری کی تنگ گلی میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ملک کی صورت حال تو سب کے سامنے واضح ہے۔ مذہبی، سیاسی اور سماجی آزادی سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے اور ملک کئی اعتبار سے مسائلستان بنا ہوا ہے۔ خود ہنزہ، جو کبھی ایک ریاست کا حامل تھا اور اب گلگت بلتستان کا ایک ضلع ہے، بھی سیاسی و سماجی اور مذہبی و ثقافتی لحاظ سے ملک کے دیگر ضلعوں اور صوبوں سے زیادہ مختلف نہیں ہے۔ یہاں بھی آزادی فکر و رائے کی جگہ، ایک مفہوم میں، ”دستور زباں بندی“ رائج ہے۔ مذہب، ثقافت اور سیاست پر کھلی گفتگو کرنے والوں کو شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ 1970 ء کے عشرے میں جمہوریت کو شیطانی کسب (بروشسکی میں ”شیطانے شرو“ ) کہہ کر اہل ہنزہ نے استعمار کی حمایت اور جمہوریت کی مخالفت کی اور یوں اپنی غلامانہ ذہنیت، سیاسی بے بضاعتی و بے بصیرتی کا ثبوت دیا اور آج بھی اہل ہنزہ کے پاس کوئی سیاسی و سماجی لائحۂ عمل نہیں ہے جسے صحتمند کہا جا سکے۔ دوسری طرف، مذہبی لحاظ سے، ہنزہ والوں کا ایک قابل ذکر طبقہ ایسا بھی ہے جس نے کچھ ایسے افراد کو پیر و مرشد بنایا جنہوں نے شعر و شاعری اور تصنیف و تالیف میں نام کمایا۔ ایسی فکری اور نظریاتی الجھن اور افراط و تفریط کے ماحول میں ہمارا معاشرہ کیسے آگے بڑھ سکتا ہے۔ حالانکہ قومی ترقی و یکجہتی کو فکری سطح پر فروغ دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔
