میرے چند سخت گیر اور مہربان اساتذہ

ہفتے کے روزمیں تقریبا چار بجے دفتر سے گھر پہنچا۔ کھانا کھا رہا تھا کہ ٹی وی پر اساتذہ کے عالمی دن سے متعلق خبر چلی۔ جسے سن کرپاس بیٹھی میری بیوی گویا ہوئیں: ذرا سوچیں اگر استاد نہ ہوتے تو آج ہم کہا اور کیا ہوتے؟

بیگم صاحبہ کی بات سن کر میری آنکھوں کے سامنے اپنی طالب علمی کے زمانے کے کئی اساتذہ کے چہرے گھوم گئے۔ تھوڑی دیر تک ان ہستیوں کے متعلق ہی سوچتا رہا۔ جنہیں میں نے اپنی عملی زندگی میں کبھی شاید بہت زیادہ اہمیت نہیں دی۔ ان کے متعلق سوچا اور نہ کبھی جاننے کی کوشش کی کہ وہ کہا اور کس حال میں ہوں گے؟

Read more

خواتین کا عالمی دن تاریخ کے آئینے میں

ہر سال 8مارچ کو دنیا بھر میں خواتین کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ جس کا مقصد مردوں کی اس غالب دنیا میں کسی قومی، لسانی، مذہبی، معاشرتی، معاشی، سیاسی، نسلی اور ثقافتی تفریق کے بغیر خواتین کی کامیابیوں کو سراہنااور اجاگر کرنے کے ساتھ صنفی برابری کے لیے کوششوں اور جدوجہد کو تیز کرنے کی ترغیب دینا ہے۔ہر سال منائے جانے والے خواتین کے عالمی دن کا ایک مخصوص موضوع یا خیالیہ (Theme) مقرر کیا جاتا ہے۔ اس سال کا خیالیہ Balance for Better ہے۔ہمارے ہاں عام تاثر یہی ہے کہ یہ دن اعلیٰ طبقہ سے تعلق رکھنے والی چند فیشن ایبل خواتین کے چونچلے ہیں۔جو اس دن سیمینارز اور واکس منعقد کرکے خواتین کے حقوق کے لیے تقریریں کرتی اور کرواتی ہیں۔ اخبارات میں خبریں اور تصاویر چھپ جاتی ہیں۔ ٹی وی چینلز پیکجز بنالیتے ہیں۔ آن لائن ویب سائٹس پر بھی کوریج مل جاتی ہے۔اور اگلے8 مارچ تک کہانی ختم۔لیکن خواتین کے عالمی دن کی کہانی اتنی مختصر اور سادہ نہیں ہے۔ بلکہ اس دن کے منائے جانے کے پیچھے ایک لمبی تاریخ اور کئی قربانیاں کارفرماں رہی ہیں۔جو صنفِ نازک نے اپنے حقوق کے حصول کے لیے دیں۔یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ اور شاید آنے والی کئی صدیوں تک جاری رہے گا۔

Read more

جنگ کو نہ بولو , Say No To War

نوے کی دہائی کے اوائل میں مجھے ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے پہلی مرتبہ بھارت جانے کا اتفاق ہوا۔پشاور سے لاہور بذریعہ سڑک اور آگے کا سفر ہوا میں کیا۔دلّی کے اندرا گاندھی ائیر پورٹ پر اترے تو معلوم ہوا کہ پاکستانیوں کو ایک فارم بھرنا پڑے گا۔ میں اپنا فارم پُر کر رہا…

Read more

تمہیں اندازہ ہی نہیں جنگیں کیا کرتی ہیں

مجھے ذاتی طور پر کسی معاشرہ پر جنگ کے اثرات دیکھنے کا اتفاق افغانستان میں ہوا۔اس تباہی کا احاطہ الفاظ میں ممکن نہیں ۔یہ ایسے انمِٹ نقوش ہیں جو افغان قوم شاید صدیوں تک نہ بھلا سکے ۔میری دُعا ہے کہ اللہ پاک افغان قوم کو جنگ اور اس کے خوفناک نتائج سے نجات دلائے ۔

مجھے پہلی مرتبہ 1992میں افغانستان جانے کا اتفاق ہوا۔ دارالحکومت کابل جانے والی سڑک پر سفر شروع کیا۔ توسب سے پہلا دھچکہ گاڑی کے دھچکوں سے لگا۔ سڑک کے نام پر مٹی کا ایک ٹریک تھا جس میں جگہ جگہ بڑے چھوٹے بے شمار گڑھے تھے۔خراب سڑک کے باعث گاڑی کے ٹائر ایک آدھ سیکنڈ کے لیے زمین کو چھوتے اور پھر اگلے دو تین سیکنڈ کے لیے ہوا میں مُعلّق رہتے۔

Read more

زلمے خلیل زاد بھی تو حیران ہوئے ہوں گے

یہ ذِکر ہے ستمبر 1996 کا۔ جب 26 اور 27 کی درمیانی شب طالبان نے افغان دارالخلافہ کابل پر قبضہ کیا۔ اوربعد میں اپنی حکومت اماراتِ اسلامی افغانستان کے قیام کا اعلان کیا۔ میں ان دنوں روزنامہ دی نیوز کے ساتھ بحیثیت رپورٹر منسلک تھا۔ اور ایک غیر ملکی ٹی وی نیوز ایجنسی کے لیے بھی کام کرتا تھا۔ نیوز ایجنسی کی اسائنمنٹ پر میں ٹی وی ٹیم کے ہمراہ 27 ستمبر کی صبح پشاور سے کابل کے لیے روانہ ہوا۔ اور تقریبا دوپہر کے بعد ہم وہاں پہنچے۔ باقی کا دن بہت مصروف گزرا۔ ہم نے آریانا چوک میں لٹکی ڈاکٹر نجیب اللہ اور ان کے بھائی کی نعشوں کی فلمبندی کے علاوہ دوسری کئی ویڈیوز بنائیں اور انٹرویوز کیے۔

Read more