ثاقب نثار پر ڈیم فنڈ میں کرپشن کے الزام پر سپریم کورٹ رپورٹرز کی رائے

ڈیمز فنڈ میں کرپشن کے الزامات کی بات ہوئی تو سابق چیف جسٹس کے چہرے پر اچانک سے چھانے والی مایوسی نے سب عیاں کر دیا، ان الزامات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہنے لگے ڈیمز فنڈ میں کرپشن ہونا ناممکن ہے، ایک حالیہ تقریب میں ان کی تقریر پر ہونے والی تنقید پر بات کرتے ہوئے جسٹس ریٹائرڈ ثاقب نثارنے کہا میڈیا میں ان کے بیان کو سیاق وسباق سے ہٹ کر چلایا گیا ہے، کبھی ایسا نہیں کہا کہ ڈیمز کے لیے رقم تن تنہا اکٹھا کروں گا، فنڈ کے قیام کا بنیادی اور واحد مقصد عوام میں آگاہی پیدا کرنا تھا۔

ان تمام سوالات کو سمجھنے کے لیے سالہا سال سے صحافت کے شعبہ سے منسلک سپریم کورٹ کے چند سینئر رپورٹرز سے کچھ ان کی آراء مانگی، ممکن ہے سابق چیف جسٹس کو قریب سے جاننے والے ان رپورٹرز کی رائے کسی بھی نتیجے تک پہنچنے میں مددگار ثابت ہو گی۔

Read more

پاکپتن دربار اراضی کا مقدمہ: بابا رحمتے کے انصاف کا زریں نمونہ

ون مین آرمی کی اصطلاح تو آپ نے سنی ہو گی لیکن یہ کہانی ہے ایک منفرد ون مین ٹیم کی جو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بہت سارے کمالات میں سے ایک ہے۔ کون کہتا ہے لوگ ریٹائرمنٹ کے بعد جسٹس ثاقب نثار کو بھول جائیں گے۔ پاکستان کے عدالتی نظام کو فاسٹ…

Read more

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار: ”آپ کو تکلیف دی“ سے ”کون ہو تم“ تک

وقت سدا ایک سا نہیں رہتا یہ محاورہ سن تو کئی بار چکے ہیں اس کا عملی مظاہرہ گزشتہ تین سالہ عدالتی رپورٹنگ کے دوران دیکھنے کو ملا۔ ”فواد حسن فواد صاحب ہم نے آپ کو تکلیف دی“ سے ”کون ہو تم“ کا مختصر مگر دلچسپ عدالتی سفر!

جسٹس میاں ثاقب نثار نے بطور چیف جسٹس آف پاکستان حلف اٹھانے کے بعد روز مرہ کے مقدمات کی سماعت شروع کی۔ ٹیکس قوانین میں مہارت رکھنے کے باعث ان کی عدالت میں زیادہ تر ٹیکسز سے متعلق مقدمات زیر سماعت بھی آیا کرتے تھے۔ جن میں ہم جیسے ٹی وی رپورٹرز کو کچھ خاص دلچسپی نہیں ہوا کرتی لہذا ہم جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس فائز عیسیٰ کے بینچز سے خبریں نکالنے کی تگ و دو میں مصروف رہتے یا سابق حکومت کو سسیلین مافیا سے تشبیھ دینے والے جسٹس عظمت سعید شیخ بھی ہماری توجہ کا مرکز رہتے۔

مگر ایک دن غیر معیاری اسٹنٹس از خود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے بھی فرنٹ فٹ پر آ کر کھیلنے کی ٹھانی اور اس وقت کے وزیراعظم اور آج کے ملزم نواز شریف کے پرنسپل سیکرٹری کو طلب کر لیا۔ پرنسپل سیکرٹری کی آمد کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم صحافی سپریم کورٹ کے داخلی دروازے پر کھڑے انتظار کر رہے تھے کہ تقریبا 11 بجے کے قریب فواد حسن فواد نے ججز گیٹ سے دھواں دھار انٹری ڈالی جو کہ ایک خلاف معمول بات تھی۔

Read more