طیارہ حادثہ، شکوہ یا جواب شکوہ

ملیر ماڈل کالونی کی گلیوں میں ایک ادھیڑ عمر مجہول شخص جذب کے عالم میں حمزہ، حمزہ پکار رہا تھا۔ اس کا گریبان چاک تھا اور بال بکھرے بکھرے ہوئے تھے۔ سرخ آنکھوں سے امڈتے آنسو گویا سمندر کی بے لگام لہروں کی طرح بے بسی کے اظہار کے بجائے ایک خطرناک طوفان کے آنے کا پتہ دے رہی تھیں۔ درجنوں کی تعداد میں موجود ایدھی اور چھیپا کی ایمبولینسز کانوں کو چیر دینے والے سائرن سیکڑوں رضاکاروں، پولیس، رینجرز اور آرمی کے دستوں اور میڈیا کے نمائندوں اور اردگرد کے رہائشیوں کے چیخنے چلانے کے باوجود ادھیڑ عمر مجہول کی صدا آسمان کا سینہ چیرتی ہوئی اپنے خالق سے شکوہ کناں تھی۔

Read more