سلطان ٹیپو کے خلاف انگریزوں، مرہٹوں اور اہل نوایط کا اتحاد

سرکاری طور پر وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا سلطان ٹیپو کو خراج پیش کرنا انگریز راج کی ہندستان میں لوٹ مار کی مذمت کی علامت ہے۔ اب یہ علامت محض ٹویٹ تک محدود ہے یا نہیں یہ فیصلہ قارئین پر چھوڑتے ہیں۔ انگریز راج میں مقامی گماشتوں کے ذریعے سے سلطنت کو وسعت دی گئی۔ بنگال میں میر جعفر کی مدد سے سراج الدولہ کو شکست دے کر ہندستان داخل ہوئے اور 52 سال بعد میسور میں میر صادق کی وفاداری سے سلطنت خداد داد پر قبضہ کر لیا۔میر صادق تو حاکم سلطنت بننے کا خواب لیے دوران جنگ ہی سلطان ٹیپو کی فوج کے ہاتھوں قتل ہو گیا لیکن اس عظیم غداری کے عوض کمپنی بہادر نے سرنگا پٹم فتح کر کے قلعے کی پوری دولت لوٹ کر اپنی جڑیں ہندستان میں مضبوط کرنے کے دوسرے دور کا آغاز کیا۔

Read more

نوآبادیاتی راج میں کشمیر فروخت کی کہانی۔ دوسری قسط

انگریز سرکار ہندستان کی تقسیم امپریل مفادات کے تناظر میں کر رہی تھی، امریکی صدر روزیلٹ کی جانب سے برطانوی سرکار پر مسلسل دباؤ تھا اور ہندستان کی تقسیم میں گریٹ گیم کو پیش نظر رکھا گیا۔ 12 اگست 1941 ء کو روزویلٹ اور ونسٹن چرچل نے ایٹلانٹک چارٹر پر دستخط کیے تھے اس چارٹر کے تحت امریکہ نے آزادی کا نعرہ لگا کر ہندستان چھوڑنے کے لیے برطانیہ پر بالواسطہ دباؤ ڈالا تھا، اس کے بعد جب کرپس مشن کی ناکامی ہوئی تو چرچل کو ساری صورتحال سے متعلق روزیلٹ کو آگاہ کرنا پڑا، اس حوالے سے کتنے خطوط لکھے گئے اس پر کبھی الگ سے بات کریں گے۔

Read more

نوآبادیاتی راج میں کشمیر فروخت کرنے کی کہانی

کشمیر (آزاد و مقبوضہ) کی شمالی حدود روس (سوویت یونین) اور چین کی سرحدوں سے ملتی ہیں۔ شمالی مغرب کی حدود پاکستان کے فرنٹیئر اور پنجاب سے ملحق ہیں۔ جنوب مشرق کا کچھ حصہ بھارت سے ملتا ہے۔ جنوب اور مغرب میں گلگت بلتستان ہے۔یہ نقشہ تو قدرتی تھا لیکن سامراج کے نوآبادیاتی منصوبے کی لپیٹ میں آگیا۔ نوآبادیاتی عہد کی اس داستان کا آغاز سکھوں اور انگریزوں کے درمیان جنگ سے ہوتا ہے۔ 1839 ء میں رنجیت سنگھ کی وفات کے بعد پنجاب میں سکھ سلطنت کے زوال کا آغاز ہوتا ہے۔ اس سے قبل ستلج کے محاذ پر انگریز سکھوں کے مقابل پر آچکے تھے۔ نومبر 1845 ء میں اینگلو سکھ جنگ ہوئی جس میں سکھوں کو شکست ہوئی اور اس شکست کا فائدہ رنجیت سنگھ کے درباری گلاب سنگھ کو ہوا، 1841 ء میں افغانیوں کے ساتھ انگریزوں کی محاذ آرائی میں گلاب سنگھ نے انگریزوں کی مدد کی تھی جس کے باعث گلاب سنگھ کی انگریز افسران کے ساتھ اچھی علیک سلیک تھی۔ جب انگریزوں کی سکھوں سے جنگ چھڑی تو گلاب سنگھ کو کمانڈ سونپی گئی۔گلاب سنگھ نے اپنی فوج کو حکم جاری کیا کہ انگریز فوج پر اُس وقت تک حملہ نہیں کرنا جب تک وہ میدان جنگ میں نہیں پہنچ جاتا، تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ گلاب سنگھ اپنی فوج کے پاس نہیں پہنچاتھا اور انگریز نے حملہ کر کے سکھ فوج کو زیر کر لیا۔

Read more

پنجاب کی نئی تعلیمی پالیسی: چربہ سازی کی دستاویز

بالآخر انگریزی زبان میں تحریر کی گئی پنجاب کی صوبائی تعلیمی پالیسی میں اُردو زبان کو ذریعہ تعلیم بنانے کا عہد کیا گیا ہے، اُردو ذریعہ تعلیم بنے گی یا نہیں انگریزی میں لکھی گئی تعلیمی پالیسی سے ادراک کیا جاسکتا ہے۔ یہ پالیسی ایسے ہی جیسے پھٹی پرانی کتابوں کو نئے بستے میں رکھ…

Read more

انگریز سامراج نے ایمپرس مارکیٹ کیوں بنوائی؟

میرٹھ سے مئی 1857 ء سے شروع ہونے والی بغاوت سندھ تک پہنچ گئی اور انگریز کے مظالم کے خلاف نفرت سندھ میں کینٹ تک داخل ہوگئی چنانچہ 13 اور 14 ستمبر کی درمیانی شب کو حوالدار رام دین پانڈے نے 44 سپاہیوں کی مدد سے جنگ آزادی کا حصہ بننے کے لیے انگریزوں پر حملہ کی منصوبہ بندی کی، دو سپاہیوں نے غداری کرتے ہوئے اس پلان کی مخبری انگریز فوجی افسروں کو کر دی۔ 14 ویں پیدل فوج کے یہ سپاہی جب کراچی کینٹ سے فرار ہونے لگے تو ان پر گولیاں برسا دی گئیں اور موقع پر ہی 8 سپاہی مارے گئے، 30 سپاہیوں کو گرفتار کر لیا گیا اور باقی 6 سپاہی فرار ہوگئے۔

ان ہندستانی سپاہیوں کو انگریز جج کے سامنے پیش کیا گیا اور دو ہفتے تک عدالت میں مقدمہ چلنے کے بعد 8 سپاہیوں کو پھانسی کی سزا سنائی گئی جبکہ 23 سپاہیوں کو کالا پانی جیل میں بھیج دیا گیا جو سپاہی فرار ہوئے تھے وہ بھی چند روز میں پکڑے گئے۔

Read more

لاہور کا شیطانی مجسمہ اور قومی تعلیمی ڈھانچہ

مصور خیال و تصورات کا قیدی نہیں ہوتا، وہ آزاد ہوتا ہے اور یہی آزادی اُسے بہترین فنون لطیفہ کی تخلیق میں معاونت کرتی ہے بالکل ایسے ہی جیسے سماج کا گہرائی سے مشاہدہ کرنے کے بعد ایک لکھاری اپنے قلم سے جو الفاظ، جملے، فقرے لکھتا ہے وہ رجعت پسندی پر حملے سے کم…

Read more

زرعی یونیورسٹی کا فرسودہ تہذیبی تصور

ہر تہذیب خود کو دُنیا کے مرکز کی حیثیت سے دیکھتی ہے اور اپنی تاریخ لکھتے وقت اسے انسانی تاریخ کی مرکزیت کا درجہ دیتی ہے لیکن اس کے باوجود دُنیا کثیر تہذیبی رہی ہے اور تہذیبوں کی شناخت جغرافیہ کے گرد گھومتی رہی ہے، جو نظریہ، فکر، فلسفہ غالب ہوتا ہے تہذیب بھی اُسی…

Read more

پاکستان کے قومی مغالطے

عقل و دانش سے مسائل حل کرنا انسانی خصلت ہے۔ انسانی فکر ازل سے ہی ارتقاء سے گزر رہا ہے، انسان بنیادی اساسی اُصولوں کو پیش نظر رکھ کر سماجی ترقی کی نئی نئی تاویلیں کرتا ہے فلسفہ و سائنس میں نئے نظریات اور نئی ایجادات اسی تسلسل کا نتیجہ ہیں۔ علم، فکر، یا سوچ بچار میں مختلف طریقہ ہائے فکر رائج ہیں، انداز فکر یا پھر مباحثوں میں انسان التباس ﴿وہم﴾ یعنی فریب دہی سے بھی بسا اوقات کام لیتا ہے لیکن اس کا ادراک دیگر انسانوں کو بمشکل ہوتا ہے تاہم درست نظریہ رکھنے والے افراد التباس سے بچنے کے لیے تصدیق کا سہارا لیتے ہیں یوں تصدیق ہونے پر غلط ادراک یعنی التباس کے بجائے صحیح علم حاصل ہوتا ہے۔

اگر ارد گرد علمی و فکری ماحول ہو تو لوگ دلائل سے بات کرتے ہیں چنانچہ گفتگو کے دوران منطق کا کوئی قاعدہ ٹوٹ جائے تو مغالطہ جنم لیتا ہے۔ مغالطہ لفظی یا فکری نوعیت کی ایسی خوابیدہ غلطی کو کہتے ہیں جو بظاہر نطر نہیں آتی اس لیے ایسی غلطیاں جو نظر نہ آرہی ہوں زیادہ خطرناک ہوتی ہیں گویا مغالطے میں منطقی و فکری اُصولوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے غلط اور بے معنی استدلال کو بھی مغالطہ کہتے ہیں۔ چونکہ مغالطے استدلال کی غلطیاں ہوتے ہیں لہذا یہ ان اُصول و ضوابط کی خلاف ورزی سے پیدا ہوتے ہیں جو صحیح استدلال کے لیے نہایت ضروری اور لازمی ہوتے ہیں۔

Read more

نیا الیکشن، پاکستان کو غلامی مبارک ہو

بین الاقوامی مالیاتی نظام اور جدید نوآبادیاتی دور میں پاکستان کا کردار صرف اس عالمی مالیاتی نظام و سامراج میں محض گماشتہ کا رہا ہے۔ مجھے پاکستان کے نظام مملکت سے متعلق ایک بات تو بالکل واضح ہے کہ آمریت کا دور ہو یا پھر جمہوریت کا دور ہو، نظام مملکت کی بنیاد عوامی استحصال…

Read more