نقل نہ روکیے، اوپن بک ٹیسٹ لیجیے

”حکومت امتحانات میں نقل روکنے میں ایک بار پھر بری طرح ناکام ہوگئی۔ ۔ ۔ امتحانی مراکز پر نقل مافیا اور بُوٹی مافیا کا راج۔ ۔ ۔ کل کی طرح آج کا پرچہ بھی شروع ہونے سے پہلے ہی واٹس ایپ پر جاری ہوگیا۔ ۔ ۔ امتحان دینے والے طلبا پوری آزادی سے نقل میں مصروف۔ ۔ ۔ “ کم و بیش ہر چینل کے رپورٹرز اپنے اپنے انداز میں ایسی ہی خبریں بار بار پیش کررہے تھے۔ صبح نو بجے سے دوپہر بارہ بجے تک یہی خبریں ”گرم ترین“ رہیں۔

شاید ہی کوئی سال ایسا گزرتا ہو جب اسکولوں، کالجوں اور جامعات کے امتحانات میں اس طرح کی خبریں میڈیا کی زینت نہ بنتی ہوں۔ غضب خدا کا! امتحانات نہ ہوئے، تعلیمی نظام کا مرثیہ ہوگئے کہ جسے ہر کوئی منفرد و جداگانہ انداز سے پڑھ رہا ہے۔ پیرایہٴ بیان ضرور مختلف ہے لیکن موضوع میں سرِمُو انحراف نہیں۔ بین کر کرکے، مسئلے کا بیان سب کررہے ہیں لیکن ”ممکنہ حل“ پر بات کرنے کے لئے کوئی تیار نہیں ؛ حالانکہ ایک ممکنہ حل ہمارے سامنے موجود ہے۔ ۔ ۔ اور وہ ہے ”اوپن بُک ٹیسٹ“ (Open Book Test) ۔

آسان الفاظ میں یوں سمجھ لیجیے کہ اوپن بُک ٹیسٹ دراصل ایک ایسا امتحانی طریقہٴ کار ہے جس کے تحت طالب علموں کو آزادی ہوتی ہے کہ وہ اپنی متعلقہ درسی کتب اور لیکچر نوٹس وغیرہ کمرہٴ امتحان میں لے جاسکتے ہیں اور پوری آزادی سے استعمال کرسکتے ہیں۔

Read more