4 اپریل 1979ء: ایک ملتانی کی یادداشت میں

سپریم کورٹ میں ذوالفقار علی بھٹو کے تین روزہ تاریخی بیان نے ایک طرف تو اس سے والہانہ محبت کرنے والوں کے دل گرما دیے مگر دوسری طرف جہاں دیدہ لوگوں کو عالمی تاریخ کے اوراق پلٹ کر کسی حد تک باور کرا دیا تھا کہ ایک بڑا المیہ اقتدار پر فائز سانپ جیسی آنکھوں…

Read more

سقوط ڈھاکہ اور پشاور اسکول کا سانحہ

سقوط ڈھاکہ کا سانحہ سولہ دسمبر کے ہی دن رونما ہوا اور پھر یہ بھی ایک عجیب اتفاق ہے کہ چند سال پہلے اسی دن قوم کے سو سے زیادہ نونہالوں کو پشاور کے ایک اسکول میں خون آشام درندوں نے اپنی بربریت کی بھینٹ چڑھا دیا۔ اس سانحے پر پوری دنیا ہل کر رہ گئی۔ واقعہ کی ذمہ داری تحریک طالبان نے قبول کرلی جو ہمارے ہی اداروں کی سرپرستی میں پروان چڑھے اور ہمارے ہی مدرسوں میں تیار کیے گئے لیکن ان درندوں نے اسی قوم کو خون میں نہلادیا۔

دوسری طرف بے حس حکمرانوں نے اس عظیم قومی سانحہ پر چند نمائشی اقدامات سے آگے کچھ نہیں کیا اور شہید معصوم بچوں کے رورتے تڑپتے والدین کو وہی پرانی ”شہادت“ کی لولی پاپ تھمادی گئی۔ دونوں سانحات کے ذمہ دار آج بھی انصاف کے کٹہرے سے دور ہیں اور قوم اس حقیقت سے بے خبر اور لاعلم کہ ایسا کیوں ہوا کس نے کیا اور اسکاآئندہ اس کا تدارک کیسے ممکن ہے۔

Read more

میرا پہلا سفر عمرہ والدہ کے ساتھ ۔۔۔ ایک سعادت

یہ بات ہے سنہ ستاسی کی جب والدہ مرحومہ نے مجھ سے حج پہ جانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ان دنوں میں ایک ملٹی نیشنل آئل کمپنی میں ایک اہم عہدے پر فائز تھا۔ ملازمت سے جڑی مصروفیات اور جس ماحول میں دن کا بیشتر حصہ گزارتا تھا وہاں کام کام اور صرف کام…

Read more