فردوس جمال کی یہ ہمت!

فردوس جمال نے ایک مارننگ شو میں مائرہ خان کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کیا جس سے بہت سے لوگ غیر متفق نظر آئے۔ خاص طور پر پاکستانی میڈیا انڈسٹری کے لوگ کھل کر مائرہ کی حمایت میں بولے اور فردوس صاحب کو خاصی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ فردوس صاحب پر کی گئی تنقید کا شور سینٹ الیکشن اور پیٹرول بم میں کہیں کھو ہی رہا تھا کہ مومنہ درید کے ایک اعلان نے اس مسئلے کو پھر سے ابھار دیا۔ مومنہ نے حال ہی میں کہا ہے کہ وہ شرمندہ ہیں کہ فردوس جمال جیسے لوگ اس انڈسٹری کا حصہ ہیں اور ان کے مائرہ پر دیے گئے کمنٹ غیر مناسب ہیں اور وہ مخصوص مردانہ سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔

Read more

کیا بہادر لڑکیاں گھر بسا سکتی ہیں؟

ہم میں سے اکثر لوگ ایک شکوہ کرتے ہیں کہ پاکستان کی ڈرامہ انڈسٹری کا معیار وہ نہیں رہا جو ایک زمانے میں ہوا کرتا تھا۔ اکثر لوگ دھوپ کنارے، دھواں، آنگن ٹیڑھا اور ایسے ان گنت ڈراموں کا تذکرہ کرتے پائے جاتے ہیں اور اس خواہش کا اظہار کرتے ہیں کہ کاش ڈرامے کا یہ معیار لوٹ آئے۔ ایسی ہی لوگ خود کو یہ کہہ کر تسلی بھی دے لیتے ہیں کہ بھئی بھارت میں ابھی بھی ڈرامے کا معیار ہم سے کمتر ہے۔ کیا ہوا اگر ان کی فلم انڈسٹری اچھی ہے، ہماری ڈرامہ انڈسٹری کی تو بات ہی کچھ اور ہے۔

مگر حال ہی میں بھارت کے کچھ ڈرامے جیسا کہ Sacred Games، Made in Heaven ایک گھسے پٹے سوپ اوپرا سے بہت بہتر ہیں۔ اسی طرح حال ہی میں پاکستان میں کچھ ایسے ڈرامے بنائے جا رہے ہیں جنہوں نے یہ باور کروایا ہے کہ پاکستان کی ڈرامہ انڈسٹری ابھی بھی مکمل طور پر ساس اور بہو کے قبضے میں نہیں آئی۔ اڈاری اور باغی نے جہاں کچھ اہم معاشرتی مسائل کو اجاگر کیا، وہیں اب چیخ اور انکار جیسے ڈرامے بہت سے ایسے معاشرتی رویوں کو زیر بحث لا رہے ہیں جن پر ہم بات کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔

Read more