کچھ تو بدلنا چاہیے

جب اس بیماری کی وجہ سے پوری دنیا ہل چکی ہے تو ہم انسانوں کے عمومی رویوں میں کچھ تو تبدیلی آنی چاہیے۔ روزمرّہ کی زندگی پہ بندش کی وجہ سے شہروں میں ٹریفک اتنی کم ہو گئی ہے کہ اب سڑکوں پہ بہ آسانی نکلا جا سکتا ہے۔ گئے زمانوں میں شام کو میں…

Read more

کھلی آنکھ جب تیرے پیار میں۔۔۔

یہ بول ہیں ایک گانے کے جو آشا بھوسلے نے فلم 'پہلی بیگم‘ کیلئے گایا تھا۔ گیت قیس عرفانی کا ہے اور موسیقی روبن چیٹرجی نے ترتیب دی۔ فلم 1953ء میں ریلیز ہوئی جب آشا بھوسلے کی عمر بیس سال تھی۔ گانا کیا ہے، پہلی بار سُنا تو مدہوشی کا عالم طاری ہو گیا۔ یقین…

Read more

قدرت کا انتقام

اسے اورکیا کہیں گے ؟ہم بنی آدم نے دھرتی کا کیا حشر کررکھا تھا ۔ کس چیز کو انسانوں نے بخشا؟ماحولیات تباہ ‘ آسمانوں کارنگ دھندلا ‘ شہروں میں راتوں کاایسا منظر کہ تارے صحیح طورپہ دیکھے نہ جاسکیں‘ دریاؤں اورسمندروں کو گندگی کا گہوارہ بنادینا۔ہر قدرتی چیز کی تباہی ‘ قدرتی نظاروں کی بربادی…

Read more

کورونا کے موسم میں جینے کے انداز

کسی کالج میں جانے کا اتفاق نہیں ہوا۔ لارنس کالج (جو صحیح معنوں میں ایک سکول ہے کالج نہیں ) کے بعد کچھ عرصہ بیکار رہے اور پھر فوج میں چلے گئے۔ وہاں جو پانچ چھ سال گزارے وہ بھی بیکار کے تھے۔ خود سے پڑھائی کی عادت تو تھی لیکن جو باقاعدگی سے پڑھائی ہوتی ہے اس کا وقت نہ ملتا تھا۔ 1981 ء میں کسی ناکردہ گناہ کی بنا پہ گرفتار ہوئے تو پانچ ماہ راولپنڈی کی پرانی جیل میں رہنا پڑا، وہ جیل جہاں بھٹو صاحب کو پھانسی لگی تھی۔ اب وہاں پارک وغیرہ بن چکا ہے۔ جیل کے ماحول سے مانوس ہونے کے لئے کچھ دن لگے۔ اس کے بعد کتابیں منگوائیں اور پڑھائی کا ماحول شروع ہو گیا۔

اُن پانچ ماہ میں ایسی پڑھائی کی جو کہ پڑھاکو طالب علم کالج یا یونیورسٹی میں کرتا ہے۔ دوپہر کچھ وقت آرام کا ہوتا اور اس کے بعد کرسی پہ بیٹھ کر دو تین گھنٹے انہماک سے مطالعہ ہوتا۔ ساتھ ایک نوٹ بک رہتی جس میں پسند آنے والے جملے یا پیراگراف تحریرکر لیے جاتے۔ وہ نوٹ بک آج بھی میرے پاس ہے۔ یہ تقریباً چالیس سال پہلے کی بات ہے، اس کے بعد جو طالب علموں کی طرح پڑھنا شروع کیا ہے وہ اب اس کورونا کے موسم میں ہے۔

Read more

مصیبت میں خیر کا پہلو

جو سب کچھ بند ہو رہا ہے اور لوگوں کو کہا جا رہا ہے کہ گھروں میں رہیں‘ یہ کوئی شوقیہ تو نہیں ہو رہا۔ مجبوری ہے اور کوئی چارہ بھی نہیں۔ بطور ریاست یا معاشرہ جتنا ہم کر سکتے ہیں کر رہے ہیں۔ ڈاکٹروں اور نرسوں کو قوم کا سلام جانا چاہیے۔ صفِ اول…

Read more

کیا اس آفت کے ملبے سے کچھ نکالا جا سکتا ہے؟

انسانوں پہ دہشت طاری ہے لیکن عام زندگی پہ جو بریکیں لگ چکی ہیں اور مزید لگ رہی ہیں کرۂ ارض کے لئے شاید اچھا ہو۔ ماڈرن زندگی بہت تیز ہو گئی تھی اور اس طرزِ زندگی کا بھاری بوجھ زمین پہ پڑ رہا تھا۔ ویسے تو انسانوں نے رُکنا نہیں تھا نہ اپنی رفتار…

Read more

کچھ پڑھیے، کچھ درخت لگائیے!

آفت آئی ہے تو کیا ہوا۔ میل جول کے اجتناب کو غنیمت سمجھنا چاہیے۔ اور اگر یہ کہا جا رہا ہے کہ گھر پہ رہیے اور فضول کی آمدورفت سے پرہیز کریں تو اِس کو موقع جانتے ہوئے کچھ اچھے کام کر لینے چاہئیں۔ جو کتابیں نہیں پڑھی ہوئیں انہیں اُٹھانے کا وقت ہے۔ جس…

Read more

دنیا کو تھوڑا آہستہ ہونے کی ضرورت تھی

اس میں تو اب کوئی دو آرا نہیں ہونی چاہئیں کہ انسان دھرتی پہ بوجھ بن چکا ہے۔ ایک تو ہماری تعداد بہت ہو گئی ہے۔ پھر جو ترقی کا ماڈل ساری دنیا میں رائج ہے اس کو کرۂ ارض پتا نہیں کب تک برداشت کر سکے گا۔ کتنا دھواں ہوا میں پھینکا جا سکتا…

Read more

متوازن صحت کے تقاضے

بر صغیر پاک و ہند کے مشہور لکھاری اور صحافی سردار خشونت سنگھ نے بڑی لمبی عمر پائی۔ ننانوے سال کے تھے جب اس جہان سے گئے۔ بھرپور زندگی گزاری اور تقریباً آخری سالوں تک اپنا ریگولر کالم لکھتے رہے۔ اُن کی باتوں سے کبھی لگتا کہ بڑے عیاش قسم کے انسان ہیں۔ اپنی لکھائی…

Read more

بات بات کا تماشا بنانا

عورت مارچ ہوا یا پاکستان پہ حملہ ہونے والا ہے؟ پاکستان نہیں اُس کی نظریاتی سرحدوں پہ حملہ۔ ہمارا واحد ملک ہے جس کی دو سرحدیں ہیں، ایک جغرافیائی اور دوسری نظریاتی۔ جغرافیائی سرحدوں کا ہماری تاریخ میں تھوڑا بہت رَدّوبدل ہوتا رہا ہے۔ شمالی کشمیر کے کچھ علاقے جو کہ ہماری تحویل میں تھے…

Read more