پی پی پی میں اَب بھی کچھ جان ہے

کرپشن کی کہانیاں اپنی جگہ لیکن وہ چوری بھی کیا جس میں کوئی سینہ زوری نہ ہو؟آصف زرداری اور بلاول اسلام آباد نیب عدالت میں پیش ہوئے تو پیپلزپارٹی اَچھی خاصی زورآزمائی دکھانے میں کامیاب رہی۔ تھو ڑا بہت ہنگامہ بھی ہوا اورپولیس کے ساتھ مڈبھیڑ بھی۔ گویا جس جماعت کو ہم مردہ یانیم مردہ…

Read more

زبان بندیوں میں عمریں ہماری گزرگئیں

مانا کہ مغرب کے دوہرے معیارہیں ۔ہمارے کتنے ہیں اورسچائی کے ہم کتنے شیدائی ہیں؟ نیوزی لینڈ تو اپنے سانحے کا سامنا کررہاہے۔ ہمارے ہاں بھی سانحات کی کمی نہیں رہی ۔ کیا ہم بھی اُن کا سامنا کر پاتے ہیں ؟ پاکستان میں حالیہ سالوں میں کئی ایسے واقعات رونما ہوئے‘ جن پر جو…

Read more

ذہن کے تالے نہ کھلیں تو کچھ نہیں ہو سکتا!

عورت مارچ کیا ہوا اِس قلعہ نُما ملک کی بنیادیں ہل گئیں۔ پلے کارڈوں پہ چند نعرے درج تھے اور محافظِ اخلاقیات وہ نہ سہہ سکے۔ اَب تک بحث چل رہی ہے کہ یہ کیا کہہ دیا، وہ کیا لکھ دیا۔ سچ تو یہ ہے کہ ہندوستان سے زیادہ محافظانِ ملت کو عورت کے وجود سے ڈر ہے۔ بس اُنہیں دبائے رکھو، ڈھانپے رکھو۔ عورت کے بال بھی نظر آ جائیں تو وجودِ ملت خطرے میں پڑ جائے۔ پاکستانی لڑکیاں اَب لڑاکا طیارے اُڑاتی ہیں۔ وہ تو ٹھیک ہے لیکن اُن کے گیسو نظر نہ آئیں۔

حیرانی اِس بات پہ ہوتی ہے کہ ملک کے اندر وعظ اور نصیحت سے فرصت نہیں ملتی۔ وہی مرد جو ملک میں پیکرِ پارسائی بنے ہوتے ہیں اُنہوں نے دوبئی یا بنکاک میں قدم نہیں رکھا اور تمام حجاب ہوا میں تحلیل ہو جاتے ہیں اور ایک نیا پاکستانی مرد نمودار ہوتا ہے۔ وہ وہاں کیا کچھ کرتا ہے، رہنے دیجیے۔ ہمارے دماغوں پہ تالے ایسے لگے ہوئے ہیں کہ ایسی چیزوں کا کھل کے ذکر نہیں ہو سکتا۔

Read more

اِن پابندیوں سے اِس معاشرے کو کیا ملا؟

اِس بار تو بہار واقعی عجیب گزری ہے۔ بارشوں نے ستیا ناس کر دیا ہے اور پورا فروری کا مہینہ اِن کی نذر ہو گیا۔ پی ٹی آئی والے کہتے ہیں‘ چونکہ اُن کے حکمران نیک ہیں اِس لئے اس سال کی بارشیں آسمانوں کی طرف سے نعمت کے طور پہ برس رہی ہیں۔ اُن…

Read more

ہماری جامعات کی نظریاتی سرحدیں اور ڈنڈا گردی

یہ باہر کی یونیورسٹیوں کا پرابلم ہو گا کہ اُن کا تعلیمی معیار کیا ہے اور اُن میں پڑھنے والوں نے اپنے مخصوص شعبوں میں کون سا مقام حاصل کیا ہے۔ یہ دردِ سر ہارورڈ (Harvard) ، ییل (Yale) ، پرنسٹن (Princeton) ، کیمبرج (Cambridge) اور آکسفورڈ (Oxford) وغیرہ کا ہے کہ اِن کے پروفیسروں میں سے کتنے نوبل انعام یافتہ ہیں اور اِن کے فیکلٹی ممبران اپنے شعبوں میں کون سا نمایاں کام دکھا سکے ہیں۔ ہمارے ہاں یونیورسٹیوں کا معیار اور اِن کی ترجیحات بالکل مختلف ہیں۔ کیمبرج اور آکسفورڈ والے کیا جانیں کہ ہماری جامعات کی پہلی ترجیح نظریاتی سرحدوں کی حفاظت ہے۔ اور اِس میں تو کوئی شک نہیں کہ اِس سے زیادہ سنجیدہ کام کوئی اور ہو نہیں سکتا۔ نوبل انعامات کی اہمیت اپنی جگہ لیکن نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کہیں زیادہ اعلیٰ مقصد ہے۔

پاکستان کے متعدد کرشمات میں سے ایک یہ ہے کہ ایک خاص طبقۂ فکر کا بڑی جامعات پر کنٹرول رہا ہے۔ اِس طبقۂ فکر کے ہتھیاروں میں صرف نظریہ نہیں تھا بلکہ نظریے کے ساتھ ساتھ ڈنڈے کا آزادانہ اور مؤثر استعمال بھی تھا۔ ڈنڈوں کی افادیت کو بڑھانے کے لئے اِن میں کیلوں کا استعمال بھی رائج کیا گیا۔ مخصوص نظریہ تو تھا ہی لیکن جامعات پہ حاکمیت قائم کرنے کے لئے ڈنڈا نظریے سے بھی زیادہ کارآمد ثابت ہوا۔

Read more

زندگی سے اور کیا چاہیے

اگلے روز اپنا جنم دن تھا اور یہ بھاری احساس ہوا کہ پورے سَتّر کے ہو گئے ہیں۔ انجیل میں بشر کی جو عمر لکھی گئی ہے وہ یہی سَتّر سال ہے اور ہم اُس عمر کو پہنچ چکے۔ شکر کا مقام البتہ یہ ہے کہ احساسِ ضعیفی نہیں اور نہ یہ فکر لاحق ہے…

Read more

سنبھل کے کی گئی بات کتنی اچھی لگتی ہے

یہ ماننا پڑے گا کہ اِس بحران میں وزیر اعظم عمران خان نے اپنے آپ کو ایک پُر اعتماد لیڈر کے طور پہ ثابت کیا ہے۔ کوئی فالتو بات نہیں کی ، کوئی بڑھک اُن کی طرف سے نہیں آئی ۔ نپی تلی باتیں کیں اور یہ اَمر بھی قابل تحسین سمجھا جانا چاہیے کہ…

Read more

بھارتی دراندازی ، تحمل سے ہی کام لیں !

ہندوستانی ہوائی جہازوں نے بالا کوٹ کی ایک پہاڑی پہ بم گرائے۔ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ مذکورہ پہاڑی ویران علاقے میں ہے۔ لیکن پھر بھی بالا کوٹ مانسہرہ کاحصہ ہے اور مانسہرہ کے پی کے میں واقع ہے۔ یعنی جس نوعیت کا بھی سہی حملہ تو پاکستانی سرزمین پہ…

Read more

عزم اپنی جگہ، ہوش کے ناخن لینا بھی ضروری

کچھ چیزوں کا اظہار ممکن ہے۔ کچھ پہ کھل کے بات نہیں کی جا سکتی کیونکہ حساسیت آڑے آ جاتی ہے اورصاف بات کرنا ممکن نہیں رہتا۔

بہرحال وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے کچھ کہنا ضروری ہے۔ نیشنل سکیورٹی کمیٹی کی میٹنگ کے بعد حاضرین کی وہ فوٹو، جو جاری کی گئی، نہ کی جاتی تو بہتر تھا۔ ایسے کاموں میں کچھ خیال رکھنا اور احتیاط، ضروری ہوتے ہیں۔ اسی لیے پروفیشنلز کو ایسے کاموں پہ مامور کیا جاتا ہے۔ یہ ایک چھوٹا سا نکتہ ہے لیکن پھر بھی ایسی چیزوں کا کچھ خیال رکھنا چاہیے۔

پھر کچھ ٹائمنگ کا بھی مسئلہ ہے۔ جماعۃ الدعوۃ سے منسلک فلاحی تنظیم پر دوبارہ یا سہ بارہ پابندی کا اعلان کرنا تھا، تو کیا یہ اُسی دن ضروری تھا جس دن قومی سکیورٹی کمیٹی کا اجلاس ہوا؟ یہ تو ایک حد تک اپنے آپ کو قصوروار ٹھہرانے کے مترادف ہے۔

Read more

پڑھیے کیا اور سنیے کیا؟

ایڈورڈ گِبن (Edward Gibbon) کی لازوال تاریخ ڈیکلائن اینڈ فال آف دی رومن ایمپائر کے کچھ حصے پڑھے ہیں پوری کتاب نہیں۔ ٹی ای لارنس جسے ہم لارنس آف عریبیہ کے نام سے جانتے ہیں کلاسیکی سکالر تھا۔ یعنی یونانی اور لاطینی زبان میں اُس نے ڈگری لی اور پھر ہومر (Homer) کی لا فانی…

Read more