کچھ فیاض الحسن چوہان اور ثقافتی امور کے بارے میں

فیاض الحسن چوہان جب پہلی مرتبہ پنجاب کے وزیر اطلاعات و ثقافت بنے تو اُن سے ایک دن ٹیلی فون پہ بات چیت ہوئی۔ میں نے شاید کچھ ثقافت کے بارے میں لکھا تھا اور اُن کا فون اُسی سلسلے میں تھا۔ بڑے بلند بانگ دعوے انہوں نے کیے۔ کہنے لگے کہ گورنر ہاؤس میں…

Read more

شبِ انتظار کا اہتمام

نیو ائیر شام کی اصطلاح استعمال نہیں کرنی چاہیے۔ ہمارے پاکیزہ معاشرے میں کچھ لوگوں کو اس پہ اعتراض ہو سکتا ہے۔ لہٰذا اشتعال سے پرہیز ہی بہتر ہے۔ عرض صرف یہ کرنی ہے کہ جو انتظامات سال کے آخر کے لیے ہم جیسے گناہگار لازمی سمجھتے ہیں‘ کسی نہ کسی طریقے سے ہو ہی…

Read more

نالائقی پی ٹی آئی تک محدود نہیں

یہ کیا بات ہوئی کہ آرمی چیف کے عہدے کی توسیع کا نوٹیفکیشن ٹھیک طرح ڈرافٹ نہیں ہوا۔ یہ تو ہم تب کہیں جب باقی چیزیں اس مملکت میں بڑے خوبصورت انداز میں ہو رہی ہوں۔ کوئی بتائے تو سہی کہ کون سے شعبہ ہائے زندگی ہیں جو ٹھیک طرح چل رہے ہیں۔ ذہانت کے…

Read more

اب بتائیے کس بات کی فکر کریں غم جہاں کی یا غم جاناں کی؟

دسمبر آنے کو ہے اور سال کے اس آخری مہینے میں اونچے خیالات اور اعلیٰ اقدار کو ایک طرف رکھنا ہی بہتر لگتا ہے۔ باقی مہینوں میں اگر فکرِ قوم لاحق رہتی ہے تو سال کے اختتام پر سوچ کچھ بدل سی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ سپریم کورٹ میں جو کل دھماکہ ہوا... اور اس…

Read more

یہ گئے تو پھر کیا ہو گا؟

اِن کا جانا تو ٹھہر گیا۔ یہ بات اَب عیاں ہے۔ وہ کیا جملہ ہے جو ہم اِن حالات میں گھسیٹ کے لے آتے ہیں کہ 'نوشتۂ دیوار ہے‘۔ جو نہ پڑھ سکیں اُن کا معاملہ اور ہے لیکن جن کے تھوڑے بہت کان کھڑے ہیں یا آنکھیں کھلی ہیں اُنہیں احساس ہو گیا ہے…

Read more

صبح کا آغاز جیوتی پرمار کے ساتھ

دن کیسے شروع ہونا چاہیے؟ عرصے سے ہماری صبح کا آغاز کافی سے ہوتا رہا ہے۔ ایک طرف پیالی دوسری طرف اخباروں کا پلندہ۔ لیکن اخبارات اَب بور کرتے ہیں۔ روزانہ کی سیاسی خبریں جی کو بوجھل کر دیتی ہیں۔ کچھ ایسا لکھا بھی نہیں ہوتا جس سے دل ہلکا اور خوش ہو جائے۔ایک زمانہ…

Read more

حسن بے پروا پردے میں ہے اور شامیں پہلے کی طرح ہی ویران ہیں

چھوٹا منہ بڑی بات لیکن کہنے کی اجازت ہو کہ غالب کے اِس فرمان سے اتفاق نہیں کہ فلاں چیز... نام کیا لینا... سے غرضِ نشاط کس رو سیاہ کو۔ ہمیں غرضِ نشاط رہتی ہے، ہر روز نہیں لیکن کبھی کبھی۔ لیکن مسئلہ جو یہاں درپیش ہے غالب کو نہ تھا۔ غرضِ نشاط یا اُس…

Read more

بابری مسجد فیصلے پر ہمارا اعتراض بنتا ہے؟

ہندوستان میں شیوا جی کے بت بنیں یا وہ کچھ اور کریں‘ یہ اُن کا اپنا معاملہ ہے۔ ہم رائے دے سکتے ہیں لیکن غم و غصے کی گنجائش نہیں رکھتے۔ بٹوارے کا غالباً مطلب ہی یہی تھا، اِدھر ہم اُدھر تم۔ تقسیم ہند کے بعد بھی بہت بڑی آبادی مسلمانوں کی ہندوستان میں رہ…

Read more

ہمارے ذہن بند ہیں

عوام کا ذہن نہیں، عوام کو تو جو راستہ دکھایا جائے گا اُسی پر چل پڑیں گے۔ ریاست نے جو بھی پالیسیاں بنائیں عوام نے اُن کا نعرہ لگایا۔ بند ذہن ہے تو ریاست کا۔ ریاست کی سوچ ایسی بن چکی ہے اور ریاست کی ترجیحات ایسی ہیں کہ اِن کے ہوتے ہوئے آپ لاکھ…

Read more

موجودہ ہنگامے کا اصل ہدف ’ایک پیج‘ ہے

مولانا فضل الرحمن نے وہ کر دکھایا ہے جو موجودہ صورتحال میں نا ممکن سمجھا جاتا تھا۔ انہوں نے قومی زندگی کے اُس نکتے کو تنازعے کے طور پر کھڑا کر دیا ہے جس کا ذکر شجرِ ممنوعہ تصور کیا جاتا تھا۔ رائج حکومتی بندوبست کے بارے میں نون لیگ اور پی پی پی کو اعتراض…

Read more