آرزوئیں جو رہ گئیں!

اخبارات سے جان چھڑا نہیں سکتے۔ کچھ عادت ہے کچھ روزگار کا مسئلہ۔ عادت یوں کہ کم عمری سے ہی والد صاحب سے تلقین ملتی تھی کہ اخبار ضرور پڑھنا ہے۔ لارنس کالج سے سردیوں کے تین مہینے چھٹی آتے تو پاکستان ٹائمز لگ جاتا تھا۔ کم عمری میں بھی والد صاحب کا یہ کہنا ہوتا کہ ایڈیٹوریل ضرور پڑھنا۔

پاکستان ٹائمز کا معیار بھی تب بہت عمدہ تھا۔ سرکاری تحویل میں تو اخبار تھا ہی لیکن ایڈیٹنگ کا معیار بہت بلند تھا۔ کسی معمولی سی خبر میں بھی گرائمر کی غلطی نہ ہوتی۔ کوئی بڑا کیس لاہور ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ میں سنا جاتا تو اُس کی رپورٹنگ مفصّل ہوتی۔ مثلاً علی نواز گردیزی کی اہلیہ کرسٹینا ریناٹا کا مشہور کیس، جس کا محور تھا اپنے زمانے کی مشہور شخصیت کرنل یوسف کے ساتھ اُن کا چلے جانا۔ گردیزی صاحب، جو جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں سی ڈی اے کے چیئرمین رہے، نے کرنل یوسف اور اپنی اہلیہ یا سابقہ اہلیہ پہ کیس کر دیا، جس کا خوب چرچا ہوا۔ پاکستان ٹائمز میں اس کیس کی مفصّل رپورٹنگ کا مزہ آتا۔ آج کل ایسی رپورٹنگ نہیں ملتی۔ بعض اوقات تو سمجھ ہی نہیں آتی کہ عدالت میں ہوا کیا ہے۔

Read more

صدرالدین گانجی کا پاکستان

ان کا تعارف کیسے کراؤں۔ یہی کافی نہیں کہ وہ کراچی کے شریٹن ہوٹل کے مالک تھے؟ شریٹن اب بھی اُس شہر کا سب سے بڑا ہوٹل ہے۔ صدرالدین گانجی نے حکومت کویت کی پارٹنرشپ سے یہ ہوٹل بنایا تھا اور پیسہ دیگر ذرائع کے علاوہ پاکستانی بینکوں سے بھی لیا تھا۔ بڑے سیٹھ تھے لیکن حادثاتِ زمانہ ملاحظہ ہوں کہ جرمنی کے فرینکفرٹ ائیرپورٹ پر ہیروئن کے ایک سوٹ کیس کے ساتھ پکڑے گئے۔ خبر ہلا دینے والی تھی۔ اتنا بڑا سیٹھ ’اور کیا کرتے ہوئے پکڑا گیا۔

جرمنی میں کیس چلا اور سزا ہوئی۔ اس کے بعد وہ پاکستان آئے۔ گو صحت ٹھیک تھی ’لیکن وہ پرانے صدرالدین گانجی نہ رہے تھے۔ ایسا حادثہ کسی کے ساتھ بھی پیش آئے‘ شخصیت پہ فرق تو پڑتا ہے۔

Read more

عید کا سماں اور گزرے ہوئے زمانے

انگلستان ایسے انگریزوں سے بھرا ہوا ہے جو پرانے انگلستان کو روتے ہیں۔ ان پرانے طرز کے انگریزوں کے مطابق گزرا ہوا انگلستان... یعنی مسز مارگریٹ تھیچر سے پہلے کا انگلستان... زیادہ بھلا تھا۔ لوگ زیادہ مہذب ہوا کرتے تھے اور پیسہ ہی ہر چیز نہیں تھا۔ اس تصور میں کچھ مبالغہ ہے کیونکہ پرانے…

Read more

کیا دلچسپی ہوسکتی ہے اِن خبروں سے؟

جن کو قوم کا فکر لاحق ہے انہیں داد ہی دے سکتے ہیں۔ اور جن کو یہ فکر مسلسل رہتی ہے اُن کی حب الوطنی کو سلام پیش کرنے کو جی چاہتا ہے۔ قوم بھی ہے کہ جس کے مختلف امراض میں افاقہ نہیں ہوتا۔ ایک بیماری ختم نہیں ہوتی کہ دوسری آن پڑتی ہے۔…

Read more

نریندر مودی کی کامیابی میں ہمارا حصہ بھی ہے

نریندر مودی اور اُن کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) انتخابات تو ویسے بھی جیت جاتی لیکن کسی کو شک نہیں رہنا چاہیے کہ اُن کی کامیابی میں غیبی قوتوں کا بھی بڑا ہاتھ رہا ہے۔ میں کہنے لگا تھا کہ ہمارا ہاتھ لیکن زبان رُک گئی اور غیبی قوتوں کا سہارا لے…

Read more

مہنگائی اپنی جگہ، باقی کاموں سے کس نے روکا ہے؟

یہ آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ پولیس کے بارے میں کچھ نہیں کرنا؟ تعلیمی اصلاحات سے کسی نے منع کیا ہے؟ ہسپتال ایسے ہی رہیں یہ کسی کا فرمان ہے؟ مانا کہ معاشی حالات خراب ہیں، ورثے میں بہت کچھ ملا ہے، ایک دن میں یہ حالات ٹھیک نہیں ہوں گے لیکن باقی…

Read more

کبھی دل دل سے ٹکراتا تو ہو گا

میرے گاؤں بھگوال میں میرے اخبارات کچھ تاخیر سے آتے ہیں۔ ڈرائیور لے کے آتا ہے، کبھی موٹر سائیکل پہ کبھی کسی مانگی ہوئی گاڑی پہ۔ دیر تو ہو جاتی ہے۔ چونکہ ٹی وی نہیں دیکھتا نہ دیکھا جاتا ہے لہٰذا معلومات اخبارات سے ہی حاصل ہوتی ہیں۔ کل صبح جب اخبارات آئے تو پھر…

Read more

جب انقلاب کا بھوت سر پہ سوار تھا

ایک وقت تھا جب اِس موضوع کو یا یوں کہیے اِس خواب کو یعنی انقلاب کے خواب کو ہم بڑی سنجیدگی سے لیتے تھے۔ سمجھتے تھے کہ بس کوشش درکار ہے اور صحیح سوچ رکھنے والوں کا اجتماع۔ کوشش اور تنظیم سے انقلاب کا سُہانا خواب مکمل ہو سکتا ہے۔ فقط وقت کی بات ہے…

Read more

دیہات میں رہنے کا ڈھنگ ابھی تک آیا نہیں

یعنی پاکستانی قوم ابھی تک اِس ڈھنگ سے محروم ہے۔ ظاہر ہے ہر ایک کا تعلق دیہات سے نہیں۔ جو پکے شہری ہیں وہ تو شہروں میں ہی رہیں گے۔ لیکن ہمارے ہاں جن کا دیہات سے براہ راست تعلق ہے اُن کی بھی تمنا ہوتی ہے کہ دیہات سے رشتہ توڑیں اور شہروں میں…

Read more

روحانیت کے مسائل

ہمارا بھی کوئی جواب نہیں۔ دنیاوی مسائل ہم سے حل ہو نہیں پاتے لیکن آسمانی معاملات حل کرنے کے لئے بے تاب رہتے ہیں۔ پہلے ہی معاشرہ فرسودہ خیالات میں جکڑا ہوا ہے۔ سوچ پہ قدغنیں لگی ہوئی ہیں ۔ سمجھنے سے ہم قاصر ہیں کہ ترقی یافتہ دنیا کی ترقی کا راز کیا ہے…

Read more