دیہات کے شغل بھی اپنا نہ سکے

گھوڑے پالے نہ بیل رکھے۔ ایک آدھ کتا رکھنے کا شوق رہا لیکن وہ حال کبھی نہ تھا جیسا کہ سرگودھا کے بڑے زمیندار مہر خداداد لَک کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ 100 یا 50 عدد شکاری کتے رکھتے تھے۔ اتنی تعداد میں شکار کا سامان رکھنا بڑی زمینداری کا کھیل ہے اور…

Read more

ایسے کاموں میں ایسا تو ہوتا ہے

انسانی عادات اخلاقیات سے کم ہی متاثر ہوتی ہیں۔ استطاعت زیادہ معنی رکھتی ہے۔ بات یہ نہیں کہ کون سا کام اچھا ہے اور کون سا بُرا بلکہ یہ کہ آپ کی استطاعت کتنی ہے۔ جب گزرے وقتوں کے بارونق بازار کھلے ہوتے تھے تو وہاں جانے کا ہر ایک کا جی چاہتا ہو گا…

Read more

نئی حقیقتیں نئے تقاضے

دنیا اگر بدل گئی ہے اور کون کہہ سکتا ہے کہ نہیں بدلی، تو ہمیں بھی اس کے ساتھ ساتھ بدلنا ہو گا۔ مثال کے طور پہ ہوائی سفر کو ہم ایک قدرتی امر سمجھنے لگے تھے، لیکن اس وبا کی تباہ کاریوں میں ہوائی انڈسٹری بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ کوئی سوچ نہ سکتا تھا کہ ماڈرن دنیا کے ائرپورٹ کبھی ویران بھی ہو جائیں گے لیکن ہمارے سامنے ایسا ہوا ہے۔ دنیا کی بڑی ائر لائنوں کی سالانہ آمدنی ہمارے جیسے ملکوں سے زیادہ تھی۔ اب انہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ اپنے جہازوں کا کیا کریں۔

Read more

ریحام خان، کرنل کی بیوی: خوشی کا سامان کہیں سے تو آئے

ایک تو ڈپریشن کا موسم، کچھ بیماری کی وجہ سے کچھ ہمارے حالات ہی ایسے ہیں۔ ادھار اور مانگے تانگے پہ گزارہ کرنے والا گھرانہ کبھی خوش وخرم ہو سکتا ہے؟ اور جس مملکت کی عادت بن چکی ہو مانگے تانگے پہ رہنے کی اس کا کیا حال ہوگا۔ دوسری بات یہ کہ ہم نے کچھ غیرضروری طور پہ سنجیدگی کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔

اب یہی دیکھ لیجیے وہ مقابلے کا امتحان جو ریحام خان کے سامنے کسی ٹی وی اینکر نے رکھ دیا۔ داد دینی پڑتی ہے اس اینکر کو کہ سوال کیسا کیا اور کس بے دھڑک انداز سے۔ میرے جیسے آدمی کو ایسا سوال پوچھنا ہوتا تو گھوم پھر کے پتہ نہیں کہاں سے کہاں نکل جاتے اور مطلب پھر بھی سننے والے کے پلے نہ پڑتا۔ اس اینکر نما شخص نے سوال کیا پوچھا کلہاڑی اٹھائی اور دے ماری۔ ریحام خان بھی داد کی مستحق ہیں۔ کوئی اور خاتون ہوتی تو کم از کم کنفیوژن کا شکار ہو جاتی ’لیکن ریحام کے لبوں پہ مسکراہٹ پھیلی، تھوڑا سا شرمائی ضرور کیونکہ سوال ہی ایسا تھا لیکن آنکھوں سے شرارت نہ گئی اور مسکراہٹ بھی قائم رہی۔ پھر شرمانے کے انداز میں جس طریقے سے دونوں ہاتھ اپنے چہرے پہ لے گئیں وہ بھی کمال کا انداز تھا۔ سوال اگر بے دھڑک تھا تو جواب بھی اس سے کم نہ تھا۔ اول تو یہ ویڈیو سب نے دیکھ لیا ہوگا جنہوں نے نہیں دیکھا اور تجسس رکھتے ہیں یوٹیوب پہ جا کے ملاحظہ کر سکتے ہیں۔

Read more

آصف زرداری: نواب شاہ کی خبریں

فی الحال تو کسی خبر سے زیادہ کافی دنوں سے افواہ ہی گرد ش کررہی ہے۔ لیکن ایک بات واضح ہے کہ ایک سے زیادہ بیماری میں ہمارے مہربان مبتلا ہیں۔ کہاجا رہا ہے کہ عملی طورپہ بستر تک محدود ہیں۔ لیکن کہانی کیسی ہے۔ لگتایوں ہے جیسے کوئی افسانوی کردار کی بات ہو رہی ہو۔ کہاں ذوالفقار علی بھٹو اورکہاں ہمارے نواب شاہ کے مہربان۔ لیکن نصیب یا تقدیر بھی کوئی بات ہوتی ہے۔ اپنی زندگی میں بھٹو ان کو نزدیک نہ پھٹکنے دیتے۔

Read more

سب کچھ بدل گیا اس حکومت کا ذہن نہ بدلا

کالم لکھنے سے پہلے میں نے اپنے تھانے فون کیا۔ اسسٹنٹ محرر بیٹھا ہوا تھا۔ اس سے پوچھا کہ اس بیماری کی وجہ سے تھانوں کے معمول کے کام میں فرق پڑا ہے۔ کہنے لگا کہ نارمل حالات میں تو درخواست پہ درخواست آتی تھی۔ اب ایسا نہیں رہا۔ لڑائی جھگڑے کی شرح بھی کم ہوئی ہے۔ چوری چکاری ہوتی ہے لیکن وارداتیں ایسی نہیں جیسے پہلے ہوا کرتی تھیں۔ اپنے پٹواری کو فون کیا۔ اس نے بھی کہا کہ ایک تو ہم ریلیف وغیرہ کے کاموں میں لگے ہوئے ہیں لیکن ویسے بھی زمین کی خرید و فروخت کا جو سلسلہ تھا اس میں کافی فرق پڑا ہے۔

Read more

پاکستان کے لئے اسے موقع سمجھئے

دبئی کا ٹورزم سیکٹر زمین بوس ہوگیاہے۔ دبئی چل ہی ٹورزم پہ تھا اورسیاحوں کاآنا جانا بند ہوگیاہے۔ جسے ہم نائٹ لائف کہتے ہیں وہ بھی دبئی کی برباد ہوچکی ہے۔ ائرلائنیں ان کی، جن پہ انہیں بہت ناز تھا بیٹھ گئی ہیں۔ ائرپورٹوں پہ قطار در قطار ہوائی جہاز کھڑے ہیں۔ ائر لائنوں کے عملے کی چھٹی ہو رہی ہے۔ سیاحوں کا آنا جانا شروع بھی ہوا تو پرانی سطح پہ آنے کے لئے ایک عرصہ درکار ہوگا۔

دبئی میں کوئی چیز پروڈیوس نہیں ہوتی۔ جسے ہم مینو فیکچرنگ کہتے ہیں وہ تو وہاں ہے نہیں۔ ساری کی ساری معیشت ٹورزم اوررئیل اسٹیٹ پہ چل رہی تھی۔ ابوظہبی میں تیل ہے دبئی میں نہیں۔ یہ وباجو دنیا میں پھیلی ہوئی ہے جہاں اس نے اور تباہی مچائی ہے اس کی وجہ سے ٹورزم کے سیکٹر کا تو بیڑہ غرق ہوگیاہے۔ جوملک اس ایک سیکٹر پہ زیادہ تر جی رہا تھا اس کا ہم تصور کر سکتے ہیں کہ کیا حشر ہوگیا ہوگا۔

Read more

کشادہ راستے جو ہم نے دریافت کیے

بحیثیت قوم ہماری خوش قسمتی ہے کہ بہت سی لغزشوں سے ہم آزاد ہیں۔ دنیا کا انداز جو بھی ہو ہمارا انداز اپنا ہے۔ اسی لیے علما اوربعض دانشوران کرام درست ہی کہتے ہیں کہ ہماری ایک الگ مملکت ہے اور اس پہ قدرت کی خاص مہربانی ہے۔ اسی کو لے لیجیے کہ ہندوستانی خوش…

Read more

ہر طرف ہڑبونگ

رونا یہ نہیں کہ حالات خراب ہیں اور اس بیماری نے انہیں مخدوش کر دیا ہے۔ ڈر اس بات کا ہے کہ وبا اور اُس کے اثرات میں کمی آئی بھی تو ہماری اجتماعی چال میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ جیسے تھے اور جیسے ہیں ویسے ہی رہیں گے۔ یہ کہ ہمیں کچھ سبق…

Read more

کاش پاکستانی اور ہندوستانی رویے بدل سکیں

پاکستان اور ہندوستان کی دشمنی کی بنیاد کیا ہے؟ یہ کہنا تو بیکار کی بات ہے کہ ہندوستان ہمارے وجود کو تسلیم نہیں کرتا۔ نہ ہمارا وجود اتنا کمزور ہے نہ ہندوستان اتنا طاقتور کہ یہ وجود خطرے میں پڑ جائے۔ کشمیر کا تنازعہ ضرور ہے لیکن ملکوں میں مسائل ہوتے ہیں اور انہیں حل…

Read more