یوم تکبیر اور راسکوہ کے عوام

28 ﻣﺌﯽ 1998 ﮐﻮ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻧﮯ ﺻﻮﺑﮧ ﺑﻠﻮﭼﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﺿﻠﻊ ﭼﺎﻏﯽ کے مقام راسکوہ میں ایٹمی دھماکے کرکے دنیا کا ایٹمی سپرپاور ملک بنا دیا ہے۔ وہ جمعرات کا مبارک دن تھا اور وہ سہ پہر کا وقت تھا ٹائم 3 بجکر 40 منٹ تھا جب تاریخ بدلنے جا رہا تھا اس روز تاریخ 28 مئی تھا جبکہ سال 1998 ء تھا اور ﻣﻘﺎﻡ راسکوہ تھا۔ جہاں ﭘﺮ حکومت وقت نے ایک نہیں دو نہیں بلکہ ﭘﺎﻧﭻ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﺍﯾﭩﻤﯽ ﺩﮬﻤﺎﮐﮯ ﮐﯿﮯ۔ اس لمحے پورے عالم اسلام کا عظیم کارنامہ رونما ہونے جا رہا تھا۔ اور پیارا پاکستان دنیا کا ساتواں اور عالم اسلام کا پہلا ایٹمی طاقت ملک بن گیا۔ اور وہ دن یوم تکبیر کے نام سے موسوم کیا گیا۔

Read more

خوشبوئوں اور ثقافت کی نگری بلوچستان

ویسے تو بلوچستان کئی چیزوں کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے جن میں لمبے لمبے پہاڑ اونچے نیچے راستے، گوادر کا ساحل، گرم ترین شہر سبی اور سرد ترین شہر زیارت خوشبوؤں اور ثقافت کی نگری بلوچستان میں ہر رنگ خوبصورت رنگ ہیں۔ آج سے دو ہزار سال قبل تجارتی قافلے بلوچستان کے…

Read more

پڑھ ہم غریب ہیں؟

بلوچستان میں جب بچہ پیدا ہوتا ہے اس کے کان میں آزان ٹوٹی ہوئی چارپائی پہ دی جاتی ہے اور کہاں جاتا ہے بیٹا بیٹا سن ہم بہت غریب ہیں۔اور جب بچہ بلوچستان کی سر زمین پہ دو سال کی عمر میں گھومنے لگتا ہے تو ماں پہلا سبق سوکھی روٹی کھلاتے ہوئی کہتی ہیں پڑھ بیٹا ہم بہت غریب ہیں۔

Read more

بلوچستان میں اپریل فول کب ختم ہوگا؟

بلوچستان میں سی پیک مکمل ہو گیا۔ بلوچستان میں امن وامان مکمل بحال ہو گیا۔ وزیراعظم پاکستان نے پانچ یونیورسٹیاں بلوچستان میں بنانے کا اعلان کر دیا۔ بلوچستان کے تمام سردار ایک وقت کا کھانا اکٹھے کھائیں گے۔ بلوچستان کے تمام پرائمری سرکاری سکولوں کو مڈل کا درجہ دیا جائے گا۔ بلوچستان کے شہری عوام…

Read more

ایسا تھا میرا کراچی تبصرہ

میری خوش قسمتی ہے کہ پاکستان کے نامور ادیب سعید جاوید کی کتاب ایسا تھا میرا کراچی ملا یہ کتاب بہترین کتابوں میں ایک کتاب ہے۔ اس کتاب کے مصنف محترم سعید جاوید کی یہ تیسری تصنیف ہے اس سے پہلے، اچھی گزر گئی اور مصریات، کتاب لکھاری دوستوں میں بے حد مقبول ہوئیں تھی۔ ان کا انداز بیان تمام لکھاریوں سے الگ ہے شگفتہ تحریریں ان کی بے مثال ثبوت ہے ان کی تحریریں ہمیشہ کھلی کتاب کی طرح بولتی ہیں۔ سعید جاوید کی ہر صبع کی گڈ مارننگ اور پاکستان کے دلکش نظارے ہمیں پہلے ہی بہت پسند تھے جو ہمیں ہر روز صبع مل جاتے تھے اب کی بار ہمیں گڈ مارنگ کے بجائے ان کی کتاب بذریعہ ڈاک ملی ہے تو دل نے چاہا کہ کیوں نہ پڑھ لیا جائے اور کچھ اس کتاب پہ تبصرہ بھی لکھا جائے کیونکہ یہ کتاب ہمارے پسندیدہ شہر کراچی پہ لکھی گئی ہے۔ آج مجھے فخر ہے کہ میں قلم قبیلہ کے ایک ایسے مایہ ناز ادیب کو اپنا دوست ہوں جس نے قلم کے میدان میں اپنا لوھا منوا لیا ہے۔ انہوں نے اس کتاب میں ہر اس چیز کا ذکرکیا جو آج تک ہماری نظروں سے دور تھے۔

اس کتاب کا انتساب کچھ یوں ہے اپنے خوبصورت مگر دلفگار شہر محبت کراچی کے نام ہے جس نے ماں کی آغوش کی طرح مجھے پالا بہترین پرورش کی اعلی تعلیم و تربیت سے آراستہ کیا اور آبرومندی کے ساتھ دنیا میں جینے کا سلیقہ سکھایا اے شہر آرزدہ تیری عظمتوں کا سلام۔

Read more

بچے تو مر گئے مگر بھٹو زندہ ہے

وہ آنکھ مومن کی آنکھ نہیں ہو سکتی جو درندوں کے ہاتھوں خون میں لت پت معصوموں کی تصاویر دیکھ کر نم یا اشکبار نہ ہو۔ وہ دل مومن کا دل نہیں ہے جو ان مظلوموں کے لیے غمگین اور بے چین نہ ہو۔ وہ زبان مومن کی زبان نہیں ہے جو ان پھولوں کے…

Read more

دہکتے انگاروں پر چل کر بےگناہی کا ثبوت: چربیلی

بلوچستان میں ایک قدیم رواج ہے کہ جس معاملے میں دوران جرگہ مجرم ہونا مشکوک بن جائے تو اس کو پھر آگ پر سے گزر کر اپنی بے گناہی ثابت کرنی پڑتی تھی۔ اس عمل میں سے ہزاروں افراد کے بالکل محفوظ ہو کر نکلنے کے قصے سننے کو ملتے ہیں۔ جس میں کئی بے…

Read more

کچھ ذکر بلوچستان کے خبر بنانے والوں کا

صحافت ریاست کا چوتھا ستون تصور کیا جاتا ہے۔ انبیائے کرام سے منسوب یہ متبرک پیشہ پوری دنیا میں رائج ہے۔ صحافت سے وابستہ شخص خواہ وہ مسلمان ہو یا ہندو، عیسائی ہو یا کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو، وہ دیانت دار اور غیر جانبدارانہ صحافت کو ترجیح دے گا۔ ہمارے مُلک میں لوگ قلم کو لکھنے سے زیادہ ازاربند ڈالنے کے لیے استمال کرتے ہیں۔ بھلا وہ قوم سماجی، معاشی اور تعلیمی ترقی کیسے کرے گی جو میراثی کو اپنا اُستاد، کپڑے بنانے والے درزی کو ماسٹر، جاہل کو درویش، ظالم کو طاقتور، کم ظرف کو میر، وڈیرے کو ابا سائیں، داداگیر کو بھائی اور کسی بھی ننگے پاگل شخص کو بابا جی مانتی ہو۔

Read more

کیا بلوچستان کا بلدیاتی نظام چل سکے گا؟

سات دسمبر 2013 کو پورے ملک میں سب سے پہلے بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ شروع ہوا تھا اور آخری مرحلہ اٹھائیس جنوری دو ہزاہ پندرہ کو ختم ہو گیا تھا۔ ان سالوں میں بلوچستان کے بلدیاتی نمائندوں کو ان کے اختیارات بھی نہیں مل سکے تھے اب دوبارہ الیکشن کی تیاریاں شروع…

Read more

ساہیوال واقعہ کا دہشت گرد کون؟

وہ ویک اینڈ کا دن تھا گاؤں میں چچا کی شادی تھی بچے بڑے اس شادی کی تیاری تین مہینے سے کر رہے تھے۔ بچوں کے والد نے گاڑی نکالی اور لاہور سے نکل کھڑے ہوئے۔ راستے میں اچانک پولیس کی ایک پک اپ قریب پہنچی اور آپ کی گاڑی پر سیدھی فائرنگ شروع کر…

Read more