قصّہٗ قابیل و ہابیل

تب قابیل نے دیکھا کہ اس کی ہم شیر حسین ہے ہابیل کی ہم شیر سے۔ اس نے اپنی ہم شیر کی خواہش کی اور اسے حسد ہوا ہابیل سے۔ خدائی ضابطے سے وہ اپنی ہم شیر سے نہ مل سکتا تھا۔ تب خدا نے کہا دونوں بھائی نذر پیش کریں۔ ہابیل نے اپنی بھیڑوں کے گلّے سے سب سے اچھی بھیڑ نذر کی، قابیل نے اپنے کھیت سے ردّی غلّہ نکالا۔ دونوں نے ایک اونچی چوٹی پر اپنے نذرانے رکھے اور انتظار کیا کہ خدا کس کی نذر کو قبول کرتاہے۔تب ہی آسمان سے ایک شعلہ لپکا اور ہابیل کی بھیڑ کو کھاگیا۔ قابیل کا غلّہ ویسے ہی پڑا رہا۔ اسے خدا کے حضور ہابیل کی مقبولیت ایک آنکھ نہ بھائی۔ اس نے غُصّے سے تہیہ کیا کہ وہ ہابیل سے بدلہ لے گا اور اسے نہ چھوڑے گا۔

Read more