سُرخ موت کا رقص

تلخیص و ترجمہ: آصف فرّخی سارے دیس پر سُرخ موت کا سایہ تھا۔ سرخ موت، شہر شہر گلی گھوم رہی تھی۔ کوئی اس سے محفوظ نہ تھا۔ کسی قاتل کی کبھی ایسی دہشت نہ چھائی ہوگی، نہ کوئی جلاّدایسا سفّاک ہوا ہوگا۔ سرخ موت آناً فاناً وار کرتی، اچانک اور ناگہانی۔ اس کے شکار ہونے…

Read more