قانون میں ذرا سی تبدیلی اور نیا پاکستان

جنرل پرویز مشرف نے انیس سو ننانوے میں اقتدار سنبھالا تو تمام سینئر سول افسروں کی فائلیں منگوائیں کہ بہترین سروس ریکارڈ کے حامل افراد کے ذریعے ملکی نظام چلایا جائے۔ ان کی حکومت ابھی تازہ دم تھی اور کچھ درشت بھی اس لیے ادھر حکم جاری ہوا اور اگلے روز تمام فائلیں ان کی…

Read more

اب تو کچھ کر لیں!

چھ مہینے ہوتے ہیں کہ حکومت پنجاب کے مشیر برائے ترقی و معاشیات ڈاکٹر سلمان شاہ نے چند صحافیوں کو بلایا کہ انہیں پنجاب کی معاشی منصوبہ بندی کے بارے میں کچھ بتایا جا سکے۔ لاہور میں پنجاب اسمبلی کے سامنے واقع وزیر اعلیٰ کے دفتر کے ایک کمرے میں اس ملاقات کا بندوبست کیا…

Read more

معیشت پر بات سنبھل کر کریں

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں ڈاکٹر محبوب الحق مرحوم پاکستان کے پلاننگ کمیشن میں کام کیا کرتے تھے۔ دنیا کی جانی مانی یونیورسٹیوں سے تعلیم یافتہ تھے اور معاشیات سے انہیں ایسا شغف تھا جو کہیں خال خال ہی ملا کرتا ہے۔ اپنی اعلیٰ تعلیم اور کام سے محبت کی وجہ سے وہ بہت…

Read more

عثمان بزدار یا شہباز شریف؟

دو ہزار اٹھارہ کے عام انتخاب کی کوریج کے لیے میں پاکستان کے شہر شہر گھومتا پھرتا خیبر پختونخوا کے شہر چارسدہ جا پہنچا۔ اس وقت میں جس سے بھی ملتا صرف ایک سوال کرتا تھا کہ کیا وہ وفاقی اور صوبائی حکومت کی کارکردگی سے مطمئن ہے یا نہیں۔ چارسدہ کے مرکزی بازار میں…

Read more

عمران خان کیوں ناکام ہو رہے ہیں؟

دو ہزار آٹھ میں شہباز شریف دوسری بار پنجاب کے وزیر اعلیٰ بنے تو انہوں نے چند ریٹائرڈ بیوروکریٹس کو مشورے کے لیے بلایا۔ اس مجلس میں شامل تمام لوگ ایسے تھے جو حکومتی کاروبار سے اچھی طرح واقف تھے، اس لیے ان کے دیے ہوئے مشورے بیش قیمت تھے اور قابل عمل بھی۔ مجلس…

Read more

خیرات نہیں معیشت

انیس سو انہتر میں جنرل یحییٰ خان نے ملک میں مارشل لاء لگایا تو کئی دن تک سینئر سول افسروں سے ملنا بھی گوارا نہ کیا۔ ان کی ٹیم از خود عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے میں مصروف تھی اور اعلیٰ بیوروکریسی کو ان کی خبریں اخبارات کے ذریعے ہی…

Read more

تھپڑ کے بعد

اتوار کے روز میں سرگودھا سے لاہور کے راستے میں تھا کہ ہمارے ٹی وی پروگرام (اختلافی نوٹ) کے پروڈیوسر علی جان کا فون آیا۔ اس نے بتایا: وفاقی وزیر فواد چودھری نے ٹی وی کے معروف اینکر مبشر لقمان کو بھی تھپڑ مارا ہے۔ لفظ 'بھی‘ میں پوشیدہ اشارہ سمیع ابراہیم کی طرف تھا…

Read more

کوالالمپورسربراہی کانفرنس ، جگ ہنسائی کا آخری واقعہ نہیں 

پچیس تیس سال پہلے کے ہائی سکول کے طلبہ کو کمپیوٹر میسر تھا نہ چوبیسوں گھنٹے چلنے والا ٹی وی۔تازہ معلومات کا واحد ذریعہ اخبارات تھے اور نظریاتی تشکیل کے لیے وہی قدیم کتابیں جنہیں پاکستان بنانے والوں نے پڑھ کر پاکستان بنایا تھا یا پاکستان بنانے کے بعد لکھا تھا۔نئی کتابیں میسر نہ تھیں…

Read more

عدالت نے عرب شیخ کا مرغ ڈھونڈنے کا حکم دیا ہے

ایک عرب قبیلے کے شیخ کو جب معلوم ہوا کہ اس کے جانوروں میں سے ایک مرغا غائب ہے تو اس نے فوری طور پر اپنے ملازم گمشدہ مرغے کی تلاش میں ادھر ادھر دوڑائے ’خود بھی ٹیلوں پر چڑھ کر دیکھا لیکن مرغا نہ ملا۔ رات گئے تک جاری رہنے والی یہ تلاش ختم…

Read more

طلبہ یونین پر غصہ کیوں؟

انیس سو نواسی میں یعنی آج سے تیس سال پہلے پاکستان کے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں یونین کے انتخابات ہوئے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب محترمہ بے نظیر بھٹو نے ابھی اقتدار سنبھالا ہی تھا اور انہوں نے ہی طلبہ یونین پر جنرل ضیاء الحق کی لگائی ہوئی پابندی کا خاتمہ کیا تھا۔ کالجوں…

Read more