کورونا سے مقابلہ: احتیاط یا خوف؟

ذراتصور فرمائیے‘ ایسا غریب خاندان جس کا روزگار ختم ہو جائے! پہلے یہ خاندان اِدھر اُدھر سے قرض لے کر کام چلانے کی کوشش کرے گا‘ پھرصاحب ِ حیثیت رشتے دار اس کی کچھ مدد کریں گے‘ چند ہی دن میں یہ رشتے دار بھی مدد کرنے کے قابل نہ رہیں گے ۔ پھر شرم…

Read more

وبا ہمارا مزاج اور ہمارے تحقیقی ادارے

مجھے نہیں معلوم کوروناوائرس کیا ہے لیکن تمام پاکستانیوں کی طرح میں بھی اس کے خوف میں مبتلا ہوں۔ میں یہ بھی نہیں جانتا کہ اس کا علاج کیا ہے لیکن موبائل فون پر آنے والے جس پیغام میں کورونا کا غلط صحیح علاج بتایا جاتا ہے ‘ میں اسے غور سے سنتا‘ دیکھتا یا…

Read more

نئے صوبے ڈویژن یا مضبوط بلدیاتی نظام ؟

دو ہزار دس کی بات ہے کہ میں ایبٹ آباد میں بابا حیدر زمان (مرحوم) کو ڈھونڈ رہا تھا۔ ان سے فون پر بات ہوتی تو وہ کہتے: میں فلاں جگہ سے نکل کر تمہاری طرف آرہا ہوں۔ کچھ دیر بعد ہی ان کا فون آجاتا کہ راستے میں انہیں ایک جگہ رکنا پڑا ہے،…

Read more

کراچی ، ہماری زندگی میں تو نہیں ٹھیک ہونے والا !

میرے دوست طارق حبیب (جو اسی اخبار میں تناظر کے عنوان سے کالم لکھتے ہیں) ایک زمانے میں ایجوکیشن رپورٹر ہوا کرتے تھے۔ کراچی سمیت پورے صوبہ سندھ کے تعلیمی اداروں کا احوال اپنے اخبار کے قارئین تک پہنچانا ان کی ذمہ داری تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ڈاکٹر عشرت العباد سندھ کے گورنر…

Read more

عمران خان کو دوسرا موقع مل گیا ہے ، اب کچھ کریں

دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن کے بعد تحریک انصاف کی حکومت کو بنے ایک مہینہ ہی ہوا تھا کہ اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سرکاری افسر سے ملاقات ہوئی۔ اِدھر اُدھر کی باتوں کے بعد میں نے نئی حکومت کے طرز عمل کے بارے میں پوچھا تو یکلخت انہوں نے بیوروکریسی کا عمامہ سر پر…

Read more

قانون میں ذرا سی تبدیلی اور نیا پاکستان

جنرل پرویز مشرف نے انیس سو ننانوے میں اقتدار سنبھالا تو تمام سینئر سول افسروں کی فائلیں منگوائیں کہ بہترین سروس ریکارڈ کے حامل افراد کے ذریعے ملکی نظام چلایا جائے۔ ان کی حکومت ابھی تازہ دم تھی اور کچھ درشت بھی اس لیے ادھر حکم جاری ہوا اور اگلے روز تمام فائلیں ان کی…

Read more

اب تو کچھ کر لیں!

چھ مہینے ہوتے ہیں کہ حکومت پنجاب کے مشیر برائے ترقی و معاشیات ڈاکٹر سلمان شاہ نے چند صحافیوں کو بلایا کہ انہیں پنجاب کی معاشی منصوبہ بندی کے بارے میں کچھ بتایا جا سکے۔ لاہور میں پنجاب اسمبلی کے سامنے واقع وزیر اعلیٰ کے دفتر کے ایک کمرے میں اس ملاقات کا بندوبست کیا…

Read more

معیشت پر بات سنبھل کر کریں

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں ڈاکٹر محبوب الحق مرحوم پاکستان کے پلاننگ کمیشن میں کام کیا کرتے تھے۔ دنیا کی جانی مانی یونیورسٹیوں سے تعلیم یافتہ تھے اور معاشیات سے انہیں ایسا شغف تھا جو کہیں خال خال ہی ملا کرتا ہے۔ اپنی اعلیٰ تعلیم اور کام سے محبت کی وجہ سے وہ بہت…

Read more

عثمان بزدار یا شہباز شریف؟

دو ہزار اٹھارہ کے عام انتخاب کی کوریج کے لیے میں پاکستان کے شہر شہر گھومتا پھرتا خیبر پختونخوا کے شہر چارسدہ جا پہنچا۔ اس وقت میں جس سے بھی ملتا صرف ایک سوال کرتا تھا کہ کیا وہ وفاقی اور صوبائی حکومت کی کارکردگی سے مطمئن ہے یا نہیں۔ چارسدہ کے مرکزی بازار میں…

Read more

عمران خان کیوں ناکام ہو رہے ہیں؟

دو ہزار آٹھ میں شہباز شریف دوسری بار پنجاب کے وزیر اعلیٰ بنے تو انہوں نے چند ریٹائرڈ بیوروکریٹس کو مشورے کے لیے بلایا۔ اس مجلس میں شامل تمام لوگ ایسے تھے جو حکومتی کاروبار سے اچھی طرح واقف تھے، اس لیے ان کے دیے ہوئے مشورے بیش قیمت تھے اور قابل عمل بھی۔ مجلس…

Read more