اس بجٹ میں بھی دیوالیہ ادارے ہی پالنے ہیں

آپ کو یاد تو ہوگا کہ پچھلے دور حکومت میں پی آئی اے کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کی بات چلی تھی۔ اس وقت ائیرلائن کے ملازمین کراچی کی سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ ان کی حمایت میں تحریک انصاف آ گئی اور اس پروں والے سفید ہاتھی کو ہمیں اپنے ہی دروازے پر…

Read more

جہاز حادثہ: کون سنتا ہے؟

چار برس ہوتے ہیں کہ نواز شریف وزیر اعظم تھے اور انہیں گلگت بلتستان کونسل کے ایک اجلاس کی صدارت کے لیے گلگت جانا تھا۔ اس وقت ڈان لیکس کے شور میں پاناما کا غل بھی شامل ہوچکا تھا۔ سیاسی اعتبار سے ان کی مشکلات کا آغاز ہو رہا تھا، لیکن وہ پراعتماد نظر آنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے تھے۔ شاید اسی لیے انہوں نے بشمول میرے چند صحافیوں کو اپنے ساتھ سفر کی دعوت دی۔ متعین وقت پر راولپنڈی کے نورخان بیس پر پہنچے تو پتا چلا کہ ہم سب وزیراعظم کے ساتھ پی آئی اے کے ایک چھوٹے طیارے میں جائیں گے۔

Read more

قانون، رویے اور ادارے

یہ ماجرا تیرہویں صدی عیسوی کا ہے۔ مصر کے چیف جسٹس عزالدین بن عبدالعزیز بن عبدالسلام کے پاس زمین کی تقسیم کا ایک مقدمہ آیا۔ اس مقدمے میں چھپا ایک نکتہ زمین کی سرکاری الاٹمنٹ کا بھی تھا۔ عدالت نے اس نکتے کی وضاحت چاہی تو پتا چلا کہ محکمہ مال کے سربراہ نے اس زمین کی الاٹمنٹ کی تھی۔ اس وقت تک مصر میں مملوکوں کے عروج کا آغاز ہو چکا تھا۔ مملوک وہ لوگ تھے جو دنیا کے مختلف علاقوں سے غلام کی حیثیت میں لائے گئے تھے۔

پھر ان غلاموں کو اتنا عروج ملا کہ یہ حکمران ہو گئے۔ چیف جسٹس کی عدالت میں جب محکمہ مال کے سربراہ کی حیثیت کا سوال اٹھا تو معلوم ہوا کہ یہ شخص بھی مملوکوں میں سے ہے، یعنی اسے بھی سرکار نے بطور غلام خریدا تھا۔ اسلامی قوانین کے مطابق غلام اعلیٰ سرکاری ملازمت کا اہل نہیں۔ عزالدین بن عبدالعزیز بن عبدالسلام نے اس نکتے کو بنیاد بنا کر فیصلہ کیا کہ ایک غلام کی طرف سے کی گئی زمین کی الاٹمنٹ ہی غیرآئینی ہے، لہٰذا یہ اراضی واپس حکومت کے سپرد ہو گی۔

Read more

امان اللہ کا ڈراما اور اٹھارہویں ترمیم

پاکستانی تھیٹر کے ناقابل فراموش اداکار امان اللہ خان مرحوم ایک سٹیج ڈرامے میں ایسے فقیر کا کردار کر رہے تھے جو اپنی جھوٹی امارت کے قصے سنا کر ایک لڑکی کو متاثر کرنا چاہتا ہے۔ فقیر (امان اللہ ) کہتا ہے، ”میں تو اتنا امیر آدمی ہوں کہ لاہور کی مال روڈ بھی خریدنے والا تھا بس چھوٹی سی بات پر سودا نہیں ہوسکا“ ۔ لڑکی حیرت سے آنکھیں پھیلا کر پوچھتی ہے، ”کیوں“ ۔ فقیر کہتا ہے، ”میرا مطالبہ تھا اشارے (ٹریفک سگنل) بھی سودے میں شامل ہوں گے، حکومت نے کہا: نہیں، میں نے کہا، فیر رہن دیو (پھررہنے دیں )“ ۔

پنجابی میں ہونے والا یہ مکالمہ پنجاب میں ایک لطیفے کی طرح مقبول ہوا پھر عام بول چال میں ”مال روڈ خرید لیتا، لیکن اشاروں پر بات رہ گئی“ کی صورت میں محاورے کی طرح بولا جانے لگا۔ ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا، یا، نہ نو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی، جیسے اردو محاوروں کا یہ پنجابی ورژن عام آدمی کی زبان پر کچھ عرصہ تو رہا، پھرزبان سے اتر کر ذہن کے اس حصے میں چلا گیا جہاں پڑی یادداشتیں اس وقت اچھل کر باہر آجاتی ہیں جب کوئی واقعہ دہرایا جائے یا کسی نئی شکل میں سامنے آجائے۔

Read more

اٹھارہویں ترمیم: امان اللہ مال روڈ خرید لیتا مگر۔۔۔

پاکستانی تھیٹر کے ناقابل فراموش اداکار امان اللہ خان مرحوم ایک سٹیج ڈرامے میں ایسے فقیر کا کردار کررہے تھے جو اپنی جھوٹی امارت کے قصے سنا کر ایک لڑکی کو متاثر کرنا چاہتا ہے۔ فقیر (امان اللہ ) کہتا ہے‘ '' میں تو اتنا امیر آدمی ہوں کہ لاہور کی مال روڈ بھی خریدنے…

Read more

عبدل کی جلد بازیاں اور بہانے سازیاں!

حکایت کچھ یوں ہے کہ حجاز کی ایک مہربان خاتون کے پاس عبدل نام کا غلام تھا۔ انتہائی کام چور ’بہانہ ساز اور کھانے پینے کا شوقین یہ غلام اپنی مالکن کی نرمی کا پورا فائدہ اٹھاتا۔ جب بھی اسے کوئی کام کہا جاتا تو قصداً اتنے پھوہڑ پن سے کرتا کہ دوبارہ اسے کوئی…

Read more

میجر آفتاب احمد: ایک پاگل کی آپ بیتی

” میں تمہیں گولی مار دوں گا، واپس اپنے مورچے کی طرف چلو“ ، مشرقی پاکستان کے علاقے کاک ڈانگا میں ایک نوجوان کپتان اپنے سے سینئر کپتان کی طرف بندوق تان کر کھڑا تھا۔ سینئر کپتان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس کے مورچہ چھوڑنے کے راستے میں یوں کوئی…

Read more

وزیروں مشیروں سے ذرا پوچھیں کہ آخر کرتے کیا ہو ؟

'یہ وزیروں اور مشیروں کی فوج آخر کرتی کیا ہے؟‘ کورونا پر لیے گئے از خود نوٹس کی سماعت کے دوران یہ سوال پاکستان کے چیف جسٹس صاحب نے اٹھایا۔ یہ ضروری نہیں ہوتا کہ سماعت کے دوران اٹھنے والا ہر سوال عدالتی حکم نامے کا حصہ بھی بنے اس لیے وزیروں‘ مشیروں کے بارے…

Read more

چینی ، یہ دھندہ ہے کچھ گندہ نہیں ہے

دو ہزار پانچ کے پہلے تین مہینوں میں کراچی سٹاک ایکسچینج جس تیزی سے اوپر نیچے ہوئی، اس نے پورے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا لیکن وہ لوگ تو بالکل تباہ ہو گئے جو لالچ میں آکر اپنے اثاثے بیچ کر شیئرز کے دھندے میں آگئے تھے۔ اس کاروبار کے اپنے اصول ہیں اس…

Read more

کورونا سے مقابلہ: احتیاط یا خوف؟

ذراتصور فرمائیے‘ ایسا غریب خاندان جس کا روزگار ختم ہو جائے! پہلے یہ خاندان اِدھر اُدھر سے قرض لے کر کام چلانے کی کوشش کرے گا‘ پھرصاحب ِ حیثیت رشتے دار اس کی کچھ مدد کریں گے‘ چند ہی دن میں یہ رشتے دار بھی مدد کرنے کے قابل نہ رہیں گے ۔ پھر شرم…

Read more