کیا تبدیلی کے غبارے سے ہوا نکلتی جا رہی ہے؟

پہلے 100 روز میں تبدیلی کے بڑے بڑے دعوے، صحت، تعلیم اور روزگار کو عام آدمی کی دہلیز تک پہنچانے کی باتیں، سابقہ حکمرانوں کی طرح قومی خزانے کو سڑکوں، پلوں اور گلیوں کی بجائے عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کر نے کا نعرہ مستانہ لگاتی تبدیلی حکومت اپنے تمام تر نعروں، دعووں اور باتوں کو حقیقت میں تبدیل کرنے پر ناکام و لاچار دکھائی دیتی ہے۔ 100 روزہ پھر 150 روزہ اور اب ایک سال کا وقت دے کر لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا کام جاری ہے۔

حقیقت حال یہ ہے کہ تبدیلی سرکار کے معرض وجود میں آنے سے اب تک ملک میں بے برکتی کا آسیب ہے۔ کاروباری طبقہ اپنے تباہ حال ہوتے کاروبار کو دیکھ کر اور حکمرانوں کی تاجر و کاروباری دشمن پالسییوں کو دیکھ کر پریشان ہیں۔ مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے اور غریب پر زندگی مزید تنگ ہو رہی ہے۔ سونا اور ڈالر بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں جبکہ قرضوں میں 110 ارب کا اضافہ ہو گیا ہے۔ ایشائی ترقیاتی بنک کے مطابق حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے 2020 تک پاکستان کی معاشی ترقی خطے میں سب سے کم رہے گی اور مہنگائی میں اضافہ اور روپے کی قدر میں دباؤ رہے گا۔

Read more