سیاست، صحافت اور شدت پسندی کے تکون کی تفہیم

معروف ادیب رحمٰن عباس لکھتے ہیں ’جس عہد میں ہم سانس لے رہے ہیں اگر اس عہد میں اردو کی کوکھ سے سیاسی ناول پیدا نہ ہوئے تو اردو بیمار زبان تصور کی جائے‘ ۔ پروفیسر ارجمند آرا کے ذریعہ ناول The Ministry Of Utmost Happiness کا اردو کے قالب میں ڈھلنا، نہ صرف رحمٰن صاحب کے لئے تقویت کا سامان ہے بلکہ اردو کے عام قارئین کے لئے بھی خوش آئندبات ہے۔

ارجمند صاحبہ دہلی یونیورسٹی میں اردو زبان و ادب کی پروفیسر ہیں اور ترجمہ نگاری کے فن کی ماہر ہیں۔ رالف رسل کی سوانح سے لے کر انگریزی اور ہندی کی درجنوں کتابوں کو اردو میں منتقل کرنے کا تجربہ رکھتی ہیں۔ دی منسٹری آف اٹموسٹ ہیپی نیس کا ترجمہ بامحاورہ، سلیس اور رواں ہونے کے ساتھ ہی ادبی و تخلیقی معیار کے لحاظ سے اصل سے قریب تر ہے۔ دوران مطالعہ بعض اوقات قاری پر اس کے طبع زادہونے کا خیال گزرنے لگتا ہے کیوں ک خود مصنفہ کی تصدیق کے مطابق ناول کی کہانی پرانی دلی اور کشمیر پر مبنی ہونے کی وجہ کر اس کا کثیر حصہ بنیادی طور سے اردو میں ہی تخلیقی شعور میں نمو پاکر انگریزی میں صفحہ قرطاس پر ابھرا ہے۔

Read more